
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
اک جاگنے والا میری تقدیر میں ہوتا
اک عالمِ خوبی ہے میسر مگر اے کاش
اس گلی کا علاقہ میری جاگیر میں ہوتا
اس آہوئے رم خوردہ و خوش چشم کی خاطر
اک حلقہ خوشبو میری زنجیر میں ہوتا
مہتاب میں اک چاند سی صورت نظر آتی
نسبت کا شرف سلسلئہ میر سے ہوتا
مرتا بھی جو اس پر تو اُسے مار کے رکھتا
غالب کا چلن عشق کی تقصیر میں ہوتا
اک قامتِ زیبا کا دعوٰی ہے کہ وہ ہے
ہوتا تو مرے حرفِ گرہ گیر میں ہوتا
افتخار عارف
