
سیاستدانوں اور با اثر طبقہ میں ایک دوسرے کو نوازنے کا رواج اتنا بڑھ چکا ہے کہ ایک عام اور مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والے بچے کا قاعدے قانون کے مطابق ترقی کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور سب سے بڑی بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ ہم ایوان اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہر اس غلام کی بات کو مان کر اسکی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں آجکل ڈرون حملوں اور طالبان مذاکرات کے پیچھے پوری قوم کو بیوقوف بنایا جارہا ہے ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت جیسے مسائل سے دوچار ہے تو دوسری طرف حکمرانوں نے اپنی طرف سے دھیان ہٹانے کے لیے ڈرون اور طالبان کو سرگرم کر رکھا ہے۔
ایک طرف امریکی حکام کہتے ہیں کہ ہمیں ڈرون کے سلسلہ میں پاکستانی حکومت کی بھر پور حمایت اور مدد حاصل ہے تو دوسری طرف حکومت ڈرون حملوں میں دہشت گردوں کی ہلاکت پر سراپا احتجاج بن جاتی ہے صرف اپنی دوغلی پالیسیوں کی بدولت عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے اس میں ہماری ایسی سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جو ایک طرف تو دہشت گردوں کے خلاف بول بول کر اپنا حلق خشک کیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف انہی دہشت گردوں کے مارے جانے پر سیخ پا ہورہی ہیں اگر طالبان اتنے ہی محب وطن اور اسلام کے شیدائی ہیں تو ملک میں بیٹھے ہوئے ہر راشی اور کرپٹ افسر کے خلاف کیوں کاروائی نہیں کرتے انہیں مسجدوں،گرجا گھروں میں عبادت کرنے والے معصوم ،بے گناہ اور غریب شہری ہی نظر کیوں آتے ہیں جن پر وہ خود کش حملوں کی آڑ میں قیامت ڈھاتے ہیں کیا۔
یہ سب کاروائیاں اسی لیے تو نہیں کی جاتی کہ عوام کی توجہ حکمرانوں کی عیاشیوں سے ہٹ کر اپنی زندگیاں بچانے پر رہے اور حکمران کھل کر لوٹ مار کا کھیل کھیلتے رہیں غریب عوام کے خون سے رنگی ہوئی دولت سے بیرون ملک جائیدادیں خرید کر اپنے بچوں کو باہر شفٹ کر دیں اگر طالبان میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہے تو وہ پاکستان کے غریب عوام پر بسوں، ویگنوں، مسجدوں، مندروں، بازاروں، درباروں اور چرچ وغیرہ میں حملے کرنے کی بجائے پاکستان کی جڑیں کمزور کرنے والے سیاستدانوں، کرپٹ حکمرانوں اور انکا ساتھ دینے والے افسران کے خلاف اعلان جہاد کریں مگر ایسا نہیں ہوگا کیونکہ سب چور ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
ایک شکار کرتا ہے تو باقی گدھوں کی طرح اپنا اپنا حصہ وصول کرنے پہنچ جاتے ہیں اور پھر یہ سب ملکر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں یہی وجہ ہے پاکستان کو بنے ہوئے 66 سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور یہاں پر آج تک جتنے بھی حکمران آئے نہ صرف انہوں نے اس ملک کو لوٹا بلکہ انکے حواریوں نے بھی کھلے عام پاکستانیوں کے حقوق پر ڈاکے مارے اور آج تک کسی کے خلاف کوئی احتساب نہ ہو سکا اور نہ ہی کسی قومی ڈاکو سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جاسکی کیونکہ ایک ڈاکو کے بعد دوسرا ڈاکو برسر اقتدار ہوتا رہا اور پاکستان کی جڑیں کمزور ہوتی رہی اب وقت یہ آگیا ہے کہ لوٹ مارکرنے والے اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ عوام بے چاری کچھ نہیں کرسکتی جب بھی الیکشن کا ڈرامہ رونما ہوتا ہے پیسے والے کھلے عام ووٹ خریدتے ہیں۔
عوام کو طرح طرح کے لالچ دیے جاتے ہیں اور بلاآخراکثریت میں وہی کامیاب ہوتے ہیں جنکے پیچھے سرمایہ ہوتا ہے باریاں لینے اور بار بار اقتدار میں آنے والے غربت ،مایوسی،بے روزگاری اور مہنگائی میں گردن تک ڈوبی ہوئی عوام کوپھر دبوچ لیتے ہیں انہی کی سازش ہے کہ پستی میں ڈوبی ہوئی عوام کو کہیں ہوش آنہ جائے اسی لیے تو مختلف حیلوں بہانوں سے عوام کو کبھی دہشت گردوں کے آگے ڈال دیتے ہیں تو کبھی ڈرون کے پیچھے لگا دیتے ہیں سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں سرعام گھومنے پھرنے والا ایک دہشت گرد ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تو نظر نہیں آتا مگر امریکہ میں بیٹھے ہوئے امریکی اہلکار پاکستان میں دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر مار رہے ہیں۔
انکے مرنے پر پاکستانی حکمران سراپہ احتجاج بن کر عوام کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں بات پھر وہیں پر آکر ختم ہوتی ہے کہ اگر طالبان دہشت گرد نہیں ہیں تو وہ پاکستان اور پاکستانی قوم پر رحم کھاتے ہوئے ایک کام کریں کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک جس جس نے بھی کرپشن ،فراڈ ،دھوکہ بازی،رشوت اور لوٹ مار کی ہے یا کروانے میں مدد کی ہے۔
انکے خلاف اعلان جہاد کریں اور پھر دیکھیں کہ پاکستان کی 90 فیصد عوام آپکے ساتھ کھڑی ہو گی کونکہ غربت، بے روزگاری، تنگ دستی، فاقہ کشی، ملاوٹ، مہنگی ادویات اور بے بسی کی زندگی سے اب ہر پاکستانی تنگ آچکا ہے اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو پھر بے چاری غریب عوام کا پیچھا چھوڑ دیں۔
جناب یہ تو پہلے ہی اپنوں کے ہاتھوں مری ہوئی ہے اور رہی سہی کسر اب آپ اسلام کے نام پر پوری کر رہے ہیں اگر ایک دوسرے کے مفادات اتنے ہی عزیز ہیں تو پھر اسلام کو تو بدنام نہ کریں یہ زندگی تو عارضی ہے نہ جانے کب اور کہاں ختم ہو جائے۔
تحریر : روہیل اکبر
فون نمبر : 03466444144
