Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

طالبان کی پاکستان میں حکومت

October 30, 2015October 30, 2015 0 1 min read
Taliban
Taliban
Taliban

تحریر: مسز جمشید خاکوانی
طالبان گروپ طرز حکمرانی پر زیادہ زور دیتے ہیں لیکن ہمارے سامنے ایسا کوئی رول ماڈل موجود نہیں ہے کہ اسے مثال بنائی جا سکے۔ اس وقت دنیا کے چوالیس ممالک بادشاہت کے ماتحت ہیں بادشاہت ایک روائتی بادشاہ انہ خودمختار حکومتی نظام ہے۔ برونائی، عمان، سعودی عرب، قطر، ویٹیکن سٹی، سوازی لینڈ وغیرہ ممالک میں خودمختار بادشاہت قائم ہے۔

اسلام میں اسلامی مر کزیت کو قائم رکھنے کے لیئے خلفا مقرر کیے جاتے رہے ہیں۔خلافت راشدہ ، خلافت امیہ خلافت عباسیہ ،خلافت عثمانیہ، خلافت فاطمیہ ،خلافت موحدین اسلامی طرزحکومت کہلائی جاتی رہی ہیں لیکن ان کا طرزحکمرانی سب خلافتوں سے فرق رہا ہے اور خلافت صرف ایک مملکت پر محدود نہیں تھی بلکہ مختلف مملکتوں کے مجموعے پر حکمران کو خلیفہ کہا جاتا تھا ۔ جو دوسرے ملک کے حکمران کو خلعت حکمرانی کا حق تضویض کرتا تھا ۔کچھ اسلامی ممالک میںطرزحکمرانی میں قانون ساز ادارے کو پارلیمان مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے۔

جیسے آذربائیجان میں ملی مجلس،ایران میں مجلس شورائی اسلامی ،ترکی میں ترکیہ ببوک ملت مجلسی،عمان میں مجلس عمان، سعودی عرب میں مجلس سعودی عرب، ترکمانستان میںخلق مصالحتی یا مجلس، ازبکستان میں اولی مجلس،، انڈونیشیا میں عوامی مشاورتی مجلس ، قازقستان میں مجلس اور پاکستانی پارلیمان کو مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے ۔جمہوریت آمریت کی ضد ہے ۔جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں،با لواسطہ جمہوریت،اور بلاواسطہ جمہوریت ۔بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افرادکی رائے سے ہوتا ہے چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ ۔اچھے برے کا فیصلہ عوام کی رائے پر مبنی ہوتا ہے۔

جمہوریہ طرز حکومت میںعوام کا منتخب نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے یعنی وہ بادشاہ نہیں منتخب عوامی نمائندہ ہوتا ہے ۔جمہوری طرز حکومت میں دوجماعتی نظام بھی ہے یعنی جس ملک کی پارلیمان مین صرف دو جماعتوں کو اثر و نفوذ حاصل ہو ۔ان مین سے ہی ایک اپنی اکثریت کی بنا پر حکومت بناتی ہے اور دوسری حزب مخالف کا کردار ادا کرتی ہے ۔امریکہ اور برطانیہ میں عملی طور پر دو پارٹی سسٹم رائج ہے پارلیمانی نظام ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں ایک کابینہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک پارلیمنٹ کے تحت کام کرتی ہے ۔اس نظام میں اختیارات عموماً وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں ۔پارلیمانی نظام میں ایک ایوانی پارلیمنٹ بھی ہوتی ہے جیسے البانیہ ،بنگلہ دیش،بلغاریہ ڈنمارک اور سری لنکا سمیت چوالیس کے قریب ممالک میں ایک ایوانی پارلیمنٹ ہے۔

Democracy
Democracy

جبکہ دو ایوانی پارلیمنٹ جسے ہم پاکستان میں قومی اسمبلی اور سینٹ،بھارت میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا ،برطانیہ میںہائوس آف لارڈاور ہائوس آف کامنس کے نام سے جانتے ہیں، تینتیس ممالک میں دو ایوانی نظام قائم ہے ۔ظاہر ہے کسی بھی مملکت کے اداروں ،منصوبوں اور خیالات کو ظاہر کرنے اوراس کا نظام چلانے کے لیئے حکومت کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے اچھی حکومت ملک کی فلاح و بہبہود اور بری حکومت ملک کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہے ایک اچھی حکومت کا بنیادی کام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ،ملک کو بیرونی دشمنوں کے حملوں سے بچانا ،اندرونی جھگڑے طے کرنا ،ملک میں عدل و انصاف، اخلاقی و اجتماعی ترقی کے لیے قوانین بنانا اور رائج کرنا ،ترقی اور معاشرتی اصلاح کی کوششیں کرنا ہوتا ہے۔

یعنی ایک حکومت کی تشکیل میں کتنے عناصر کام کرتے ہیںکتنے اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں،کروڑوں لوگوں کی توقعات اور تحفضات ان چند درجن یا چند سو لوگوں سے وابستہ ہوتی ہیں گویا وہ اپنے ہاتھ کاٹ کر ان کو پانچ سال کے لیے کلی اختیار تھما دیتے ہیں کہ وہ انھیں ایک مھفوظ زندگی فراہم کریں گے ۔لیکن اگر وہی حکومتیں ہی ان کے جان و مال کی دشمن بن جائیں یا انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں پھر ایسی بدنصیب عوام کہاں جائے اور ایسے کرپٹ اور عاقبت نا اندیش حکمرانوں سے کیا سلوک کیا جانا چاہیے،اس پر بعد میں بات کرتے ہیں ۔فی لحال ہم طالبانی نظام پر بات کرتے ہیں جس کو وہ شرعی نظام کا نا م دیتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں اکثر وہی لوگ ہی ظالم بن کر ابھرے جو کبھی مظلوم رہ چکے تھے ،کیونکہ جو دکھ سہتا ہے وہ دکھ دیتا بھی ہے اس لیے ظلم سہنے کو کفر قرار دیا گیا ہے ،اور نہ کسی کا حق چھینو ، نہ کسی کو اپنا حق چھیننے دو ۔یہ اللہ تعالٰے کے واضح احکام ہیں اسی لیے آنکھ کے بدلے آنکھ ،کان کے بدلے کان اور خون کے بدلے خون کو حق قرار دیا گیا ۔اگر کسی کو اس کا حق نہ ملے تو وہ سیدھی راہ سے بھٹک بھی سکتا ہے ،بدلے کی طاقت رکھتا ہوگا تو قانون اپنے ہاتھ میں لے لے گا ،اگر بدلے کی طاقت نہ ہوگی تو کسی طاقتور کی پناہ میں چلا جائے گا یا اپنے جیسے اور لوگوں کا ساتھ ملتے ہی گروہ بنا لے گا یوں ظلم انڈے بچے جننے لگتا ہے اور اگر کوئی روکنے والا نہ رہے تو پھر اسی طرح کے واقعات اور دہشت گرد کاروائیاں وجود میں آتی ہیں جس طرح کی آج کل ہمارے ملک میں ہو رہی ہیں۔ہمارے ملک میں بھی لوگ فکری طور پر دو حصوں میں بٹ گئے ہیںایک وہ جو اسلامی شریعہ نافذ ہونے کے خواہش مند ہیں ایک وہ جو دنیا کے ساتھ چلنے اور ترقی میں حصہ دار بننے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اسلام اپنی مرضی سے زندگی گذارنے کا حق دیتا ہے مگر حلال و حرام کے فرق کے ساتھ ،کسی دوسرے کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیتا اگر صرف ان دو باتوں کی تشریح کرنے بیٹھیں تو یہ اتنے وسیع معنوں میں آتے ہیں کہ آپ سالوں ان پر لکھتے رہیں یہ ختم نہیں ہو سکتے۔ایک طرف تو طالبان خود کو شریعت کا داعی کہتے ہیں اور اس کو پوری دنیا میں رائج کرنے کے خواہش مند بھی ہیں ۔دوسری طرف ان کے کارنامے کیا ایسے ہیں کہ انھیںپوری دنیا توکیا صرف ایک ملک کی ہی حکومت سونپی جا سکے ؟؟؟ سب سے بڑی بات یہ کہ ان کے نزدیک شریعت کی تعریف کیا ہے ؟وہ اسلام جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے کیا وہ اسلام انہیں اجازت دیتا ہے کہ وہ مائوں کے جوان بیٹوں کو جن کی پیشانیوں پہ وہ آیت الکرسی اور دعائیں پھونک کر باہر جانے دیتی ہیں وہ ان پیشانیوں میں گولیاں ماریں جن بیٹوں کے سروں کے صدقے اتارتی ہیں ان جوان کڑیل بیٹوں کے اترے ہوئے سر انھوں نے کیسے دیکھے ہونگے کیسے انھوں نے وہ جانوروں کی طرح گھسیٹی جانے والی لاشیں دیکھی ہونگی کیا ایف سی کے جوان کسی ماں کے جنے نہیں تھے ؟ کسی نہ کسی ماں نے تو ان طالبان کو بھی جنا ہو گا لیکن ان کی تربیت نہیں کی ہوگی۔

میں نے ان کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ ماضی سے ناواقف ہیں۔مستقبل ان کے لیے کیا لا رہا ہے اس کی پیش بینی سے قاصر ہیں۔ان کے لیے جو کچھ ہے وہ حال ہے انہیں جنگ نے یتیم کر دیا ان کی جڑیں نہیں ،وہ ہمہ وقت مضطرب اور پریشان رہتے ہیں ۔ان کے پاس روزگار نہیں وہ اقتصادی محرومی کا شکار ہیں ،وہ جنگ کی تعریف کرتے ہیں کہ انھیں اسی سبب ایک مشغلہ ملا ہوا ہے (یعنی لوگوں کے سر کاٹنا ایک مشغلہ ہے )انہیں خود شناسی بھی نہیں ان کی دلچسپی اور وابستگی اسلام سے ہے وہ اپنے ہر دکھ کا مداوہ اور ہر مشکل کا حل اسی میں دیکھتے ہیں (کاش وہ اسلام کو سمجھ بھی لیتے ) وہ اپنے گائوں کے مدرسے اور استادوں کی باتوں کو یاد کرنے اور دہرانے میں سکون محسوس کرتے ہیں وہ اپنے اجداد کے روائیتی پیشوں سے بھی نابلد ہیں کاشتکاری کس طرح کی جاتی ہے ،مویشی کس طرح پالے جاتے ہیں ،دستکاریاں کیسے ہوتی ہیں ۔ جنھوں نے مائووں ،بہنوں،خالہ زاد، چچا زاد بہنوں میں سے کوئی رشتہ دیکھا یا جانا ہی نہ ہو ہم ان میں انسانی رویے کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟زیادہ تر نے زندگی مدرسوں میں تعلیم پاتے یا مہاجر کیمپوں میں پرورش پاتے گذاری ۔ وہ بھی اس حالت میں کہ وہاں مرد اور عورتیں الگ الگ خانوں میں بٹی ہوئی تھیں کیمپوں میں خواتین رشتہ داروں کی آمد کو بہت محدود کر دیا گیا تھا ۔پشتون معاشرے میں ویسے ہی اس قسم کی پابندیاں بہت ہیں قریبی رشتہ دار مرد اور عورتیں آپس میں ملتے جلتے تھے مگر طالبان کی اکثریت جو کہ یتیموں پہ مشتمل تھی ان کو عورتوں کی رفاقت کا کچھ پتہ نہیں تھا۔

Terrorism
Terrorism

جن ملائوں نے انہیں پرھایا تھا وہ اس پر زور دیتے تھے کہ عورت سے بچو عورت ترغیب دیتی ہے اور اللہ کی راہ سے ہٹاتی ہے ۔چنانچہ جب طالبان قندھار میں داخل ہوئے تو انہوں نے عورتوں کو گھروں کے اندر پابند کر دیا ،گھروں سے باہر کام کرنے کو روک دیا ، سکول جانے اور خریداری کرنے کے لیے بازار جانے سے روک دیا ،سچ تو یہ ہے کہ وہ عورت سے خائف تھے لہذا انہوں نے انہیں گھروں میں بند کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور ملائوں کے فتووں پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا جنھوں نے نہ حضور ۖ کی زندگی کو ان کے آگے مثال بنا کے رکھا کہ وہ کس طرح عورت کے حقوق کی تلقین کرتے تھے نہ انہوں نے صحابہ کرام کی زندگیوں کو سامنے رکھا نہ ہی انہوں نے اصل اسلام کی روح کو پرکھا کہ جس دین میں تعلیم حاصل کرنے یا دنیاوی کاروبار کرنے میں مرد عورت کی کوئی تصخیص نہیں۔یہی وجہ ہے کہ عورتوں کا استحصال طالبان اور سابق مجاہدین کے عقیدے اور بنیاد کی پرکھ اور تفہیم کا میعار بن گیا۔

طالبان براہ راست ان فوجی و دینی ضابطوں پر کاربند ہو گئے جو اسلام کے خلاف لڑی جانے والی صلیبی جنگوں کا محور تسلیم کیے جاتے تھے ۔ڈسپلن برقرار رکھنا،جوش و جذبے اور بے رحمی کے ساتھاپنے مقاصد حاصل کرنا۔(شائداسی جوش جذبے اور بے رحمی کو پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا جب وہ ایف سی کے جوانوں کی سر بریدہ لاشیں سڑک کنارے ڈالتے ہوئے جیس کا مظاہرہ وہ کر رہے تھے) ہم مشرف کو جتنے مرضی الزام دے لیں جتنے ٹرائل کر لیں ایک دن سب کو وہی کرنا ہے جو مشرف کرنے پر مجبور ہوا تھا ، کہانی شروع تو روس نے کی ک وہ افغانستان پہ چڑھ دوڑا دوسرا مکروہ کردار امریکہ کا تھا جس نے اسلام کے نام پر مجاہدین بنائے ان کے ذریعے روس کو توڑا ،مقاصد پورے ہونے کے بعد چلتا بنا،اس وقت افغان جنگ میں جو بچے یتیم ہوئے ان کے جہاز بھر بھر کے لے جائے گئے (تاریخ کا یہ سچ بھی کبھی نہ کبھی سامنے آ جائے گا )چونکہ ان کا مصرف صرف یہی تھا کہ ان کو جہادی ٹریننگ دی جائے جب وہ ٹرینڈ ہو جائیں تب ان کی برین واشنگ کر کے مسلمان فوج کے سامنے کھڑا کر دیا جائے ۔یہاں ہمارے نام نہاد علماء خصوصاً مولانا فضل ا لرحمٰن کا کردار نہایت بھیانک ہے جنھوں نے امریکہ سے ڈالر بٹور کر اپنے ہی ملک و فوج کو تباہ کیا بلا شبہ پشتون علاقوں میں مولانا کا بہت اسر و رسوخ تھا اور ہے ۔ لیکن انہوں نے کبھی کوئی مثبت رول ادا کرنے سے گریز کیا ۔لال مسجد میں بھی دوغلا کردار ادا کیا اور آج بھی وہ اپنے گیم پلان میں مصروف ہیں۔

امریکہ کی پالیسی بیشتر غلط مفروضوں پر منحصر اور مبنی رہی ہے امریکی سفارت کاروں کو یقین تھا کہ طالبان افغانستان میں امریکہ کے بنیادی مقاصد پورے کرنے کا وسیلہ ثابت ہونگے ان کا خیال تھا وہ منشیات اور غلط کاروں کو ختم کر دیں گے یہ ایک مسلمہ بھول پن تھا جس نے طالبان کے گرد ایک معاشرتی ہیولا سا بنا دیا تھا 1995 میں جب طالبان نے ہرات پر قبضہ کیا اور ہزاروں لڑکیوں کو اسکولوں سے نکال باہر کیا تو امریکہ مہر بہ لب رہا اس نے طالبان پر تنقید کا ایک لفظ نہ کہا وہ درحقیقت ایران کے گلے میں پھندہ سخت ہوتے دیکھنا چاھتا تھا امریکہ کا طالبان کو ان کے گرد گھیرہ تنگ کرنے کے لیے استعمال کرنے کا مقصد اس کی کم نگاہی و کم نظری کا مجاذ تھا کیونکہ اس کا مطلب ایران کو پاکستان کے خلاف اور شیعوں کو سنیوں کے خلاف اور پشتونوں کو غیر پشتونوں کے خلاف صف آرا کرنا تھا ۔ایران امریکہ کے سخت خلاف تھا ۔سی آئی اے طالبان کی مدد کر رہی تھی ساتھ ہی طالبان کے مخالف اتحاد کو ہتھیار فراہم کر رہی تھی۔

ایک ایرانی سفارت کار نے کہا امریکی پالیسی ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم روس سے مل جائیں اور پاکستان ،سعودی عرب اور طالبان کے خلاف اتحاد کا ساتھ دیں ۔۔۔سو یہ اسی تباہ کن پالیسی کا تسلسل ہے جو عذر گناہ کے طور پر مشرف کے سر تھوپ دی گئی کیونکہ مشرف ایک کمانڈو کے طور اس پالیسی کو مکمل طور پہ سمجھ گئے تھے اور وہ اپنے طور پر اس کا توڑ کر رہے تھے ۔جس میں انہیں کچھ سابق کرداروں کی مخالفت کا بھی سامنا ہوا جو بالواسطہ طور پر امریکی پلاننگ کا حصہ تھے ۔۔ اور مشرف اور پاک آرمی کی کی کردارکشی کا سبب بھی بنے ،پاک آرمی اور آئی ایس آئی کو غیر موثر کرنا امریکہ کا اولین خواب تھا جو کچھ اپنوں اور کچھ بیگانوں کی مدد سے اسے پورا ہوتا نظر آیا ۔سوچنے کی بات ہے طالبان امریکہ کے دشمن ہوتے تو پاکستان کی بربادی کے درپے کیوں ہوتے ؟ڈرون حملے ہی ان کی ناراضگی کا سبب تھے تو ڈروں حملے رک جانے کے باوجود اور مذاکراتی عمل شروع ہونے کے باوجود وہ قتل و غارت روک کیوں نہیں رہے ؟ اور ان کا تازہ ترین کارنامہ (ایف سی جوانوں کا قتل ) کس کھاتے میں جائے گا ؟ وہ کس قسم کی شرعی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ؟ اور کیا وہ اپنی شریعت کے مطابق بیس کروڑ انسانوں پر حکومت کر سکتے ہیں ؟ جس شریعت کے ساتھ وہ صرف افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکے ۔۔ کیا پکستان کا کوئی بھی شہری یہ سوچ سکتا ہے کہ اس ملک کے ہر شہر کے ہر چوک پہ پھانسی گھاٹ کھلے ہوں ؟ خواتین گھروں میں بند ہو جائیں بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند ہوں ۔خوف کا جن ہر شہر ،گائوں قصبے گلی کوچوں میں ناچتا پھرتا ہو روز بکروں کی جگہ جوان زبح کیئے جائیں ،دنیا کی بہترین آرمی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور پاکستانی عوام کے تحفظ سے ہاتھ کھینچ لے تا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طالبان اپنی شریعت نافذ کر سکیں۔کیا ہم ایسی حکومت کے لیے تیار ہیں ؟؟؟

Mrs. Jamshed Khakwani
Mrs. Jamshed Khakwani

تحریر: مسز جمشید خاکوانی

Share this:
Tags:
afghanistan countries Governance government law Mrs. Jamshed Khakwani pakistan taliban پاکستان حکومت طالبان قانون ممالک
Sports Football Club
Previous Post کالونی اسپورٹس کا سندھ فٹ بال ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری رحیم بخش بلوچ کو مبارکباد
Next Post عمران خان اور ریحام کا باہمی مشاورت سے طلاق پر اتفاق

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close