
اسلام آباد (جیوڈیسک) جمعیت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے دورہ افغانستان سے پاکستان کیلئے وہ کچھ حاصل کیا ہے جو آٹھ سالوں میں سفارتکاری کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس سے فائدہ اٹھاتی ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور ہمارا ایک ہی موقف ہے کہ ہم خطہ میں بیرونی مداخلت پسند نہیں کرتے بلکہ اس کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ ہمارے دورہ کی برکت سے افغان امریکہ معاہدہ موخر ہوا اور معاملہ لویہ جرگہ کے حوالے کر دیا گیا۔
افغانستان کے تین روزہ دورہ سے واپسی پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ افغانستان پر امریکی فوج کشی کے پہلے بھی مخالف تھے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ غیر ملکی افواج خطہ کو چھوڑ دیں۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرکے سنگین غلطی کی تھی کیونکہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ جنگ مزید مسائل پیدا کر دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دورہ افغانستان انتہائی کامیاب رہا ہے جو کام پاکستان کی سفارتکاری گزشتہ 8 برسوں میں نہیں کر سکی ہم نے 3 روز میں کر دیا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے تمام پاکستانی قیدیوں کو بلا مشروط رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر فہرست موجود ہوتی تو انہیں تھما دیتا۔ اب حکومت پاکستان کا کام ہے وہ اس مفاہمت سے فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ افغان حکومت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں کیونکہ سابقہ طالبان حکومت پاکستان کی حامی تھی جبکہ افغانستان میں امریکی موجودگی کے بعد آنے والی حکومت پرو ہندوستان ہے۔
پاکستان کی سفارتی گرفت بھی افغانستان میں کمزور پڑ چکی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دورہ افغانستان سے قبل وزیراعظم میاں نواز شریف کو اعتماد میں لیا تھا جنہوں نے میرے دورہ افغانستان کی بھرپور حمایت کی تھی جبکہ دورہ سے قبل سیکرٹری خارجہ نے افغانستان بارے خارجہ پالیسی کے اہم امور سے بھی آگاہ کیا تھا اور مختصر بریفنگ دی تھی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان نے جے یو آئی ف کے دورہ افغانستان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طالبان اس دورے کی اہمیت جان جائینگے کیونکہ ہم نے طالبان کی خاطر پوری دنیا کو ناراض کیا ہے۔ ہم طالبان کی خیر خواہی چاہتے ہیں۔ ہمارے دل طالبان کے ساتھ دھڑکتے ہیں البتہ طالبان سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث کچھ ابہام پیدا ہو جاتا ہے جسے براہ راست رابطوں سے ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان اور ہمارا ایک ہی موقف ہے کہ ہم خطہ میں بیرونی مداخلت پسند نہیں کرتے بلکہ اس کا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور امریکیوں کا انخلا ہمارا اولین مطالبہ ہے۔
