Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اکیسویں صدی کے استاد کے تقاضے

October 4, 2017 0 1 min read
Teachers
Teachers
Teachers

تحریر : محمد نورالہدیٰ
پاکستان میں ہر سال عالمی یوم اساتذہ منایا جاتا ہے جس میں مختلف اساتذہ تنظیمیں اور ادارے اس دن کی مناسبت سے تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں اور اساتذہ کی اہمیت اور توقیر کا احساس بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر تقاریب کا دائرہ کار سرکاری اساتذہ کو ڈسکس کرنے تک محدود رہتا ہے ۔ ہمارے ہاں گذشتہ ایک دھائی سے ”یوم اساتذہ” منایا جارہا ہے مگر سرکاری اساتذہ ہی کی مناسبت سے تقاریر ، ریلیاں اور مطالبات کئے جاتے ہیں ۔ شازوناظر ہی کوئی تقریب ایسی ہوتی ہے جس میں سرکاری کے ساتھ ساتھ نجی اساتذہ کو بھی زیر بحث لایا جاتا ہے ۔ یعنی یوم اساتذہ کا مقصد شاید سرکاری اساتذہ کے مسائل ہی ڈسکس کرنا رہ گیا ہے حالانکہ ان کی تعداد صرف ساڑھے تین لاکھ ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں فرائض سرانجام دینے والے اساتذہ کی تعداد اس سے تین گنا زیادہ ہے ۔ ان نجی اساتذہ کا مقدمہ کوئی نہیں لڑتا ، حالانکہ مراعات کے معاملے میں وہ بھی سمندر میں نہیں نہا رہے ۔
امر واقع یہ ہے کہ بالخصوص ابتدائی کلاسز کیلئے استاد چاہے نجی تعلیمی ادارے سے وابستہ ہو ، یا سرکاری سے ، مسائل سب کے ایک سے ہیں ۔ اگرچہ کالج اور یونیورسٹی لیول پر بھی اساتذہ کے ساتھ سلوک مذکورہ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے ، تاہم بہتر ضرور ہے ۔

استاد انسان سازی کرتے ہیں اور اس صنعت میں وہ اس مزدور یا ورکر کی سی حیثیت رکھتے ہیں جس سے کام تو پورا لیاجاتا ہے مگر معاوضہ اس کی محنت کے مطابق نہیں دیا جاتا ۔ اس کے باوجود اپنی مصنوعات تیار کرنے کے معاملے میں وہ بے ایمانی سے کام نہیں لیتا ، مگر معاشرے میں اپنے سٹیٹس پر کڑھتا ضرور ہے ۔

ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سے ہر سال لاکھوں طلبہ و طالبات گریجویشن اور ماسٹرز کے امتحانات پاس کرتے ہیں مگر مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ان میں سے بیشتر مایوس ہوکر معاشرے کیلئے درد سر بن جاتے ہیں ۔ کچھ بیرون ممالک چلے جاتے ہیں ، کچھ خوش قسمتی سے چھوٹے موٹے روزگار سے منسلک ہوجاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں ، وہ بوجوہ اپنے لئے تدریش کا پیشہ چن لیتے ہیں ۔ وگرنہ ہمارا مجموعی مزاج یہی ہے کہ ہمارا طالبعلم ڈاکٹر اور انجینئر بننے کا خواب تو دیکھے گا مگر پیشہ پیغمبری سے منسلک ہونے کا کبھی نہیں سوچتا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس شعبے میں ترقی دکھائی نہیں دیتی …یعنی آج جو لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں ان میں سے کم از کم 70 فیصد اپنی خوشی اور شوق سے نہیں بلکہ باامر مجبوری ٹیچر بنے ہیں مگر اپنے پیشے سے انصاف کررہے ہیں ۔ آج تعلیمی اداروں میں جتنے بھی ایجوکیٹرز بھرتی ہورہے ہیں ، کوئی بھی ماسٹرز سے کم نہیں ہے۔ لہذا انہیں یوں نظرانداز کرنا سراسر زیادتی ہے ۔

استاد کی حیثیت کسی بھی طرح کسی بیوروکریٹ سے کم نہیں … بیوروکریٹ اگر حکومتی امور نبٹانے اور ملک کے انتظامی معاملات چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تو استاد بھی قوم کے وہ معمار تیار کرتا ہے ، جو ملکی ترقی کا پہیہ گھماتے ہیں … انہی معماروں میں سے بعدازاں کوئی بیوروکریٹ بنتا ہے تو کوئی صدر ، وزیراعظم سمیت دیگر اہم عہدوں پر فائز ہوتا ہے ۔

یہ اکیسویں صدی ہے اور ہم ایک انتہائی ترقی یافتہ دور میں سانس لے رہے ہیں ۔ اس دور کے تقاضوں کو پورا کئے بغیر اس میں جینا بہت مشکل ہے ۔ نجی تعلیمی اداروں سے وابستہ ایک عام سکول کا ٹیچر جتنی تنخواہ لے رہا ہے ، وہ یہاں بتانا بھی میں اس کا استحصال سمجھتا ہوں … یوں کہئے کہ اس کا مشاہرہ حکومت کی جانب سے ایک مزدور کی طے کردہ ماہانہ اجرت سے بھی کم ہوتا ہے ۔ البتہ ان کی نسبت جو سکول کسی چین کے ساتھ ہیں ، ان میں ٹیچر کا مشاہرہ پھر بھی مناسب کہا جاسکتا ہے ، مگر بہتر نہیں ، تاہم اصل مسئلہ مراعات کا ہے ۔ محض تنخواہ ہی سب کچھ نہیں ہوتی ، اس کے علاوہ بھی زندگی میں بہت کچھ ہے ۔ اسے صحت کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں ، اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی اسے ادا کرنا ہوتے ہیں ، بیشتر اساتذہ ”پردیسی” ہوتے ہیں ، انہیں رہائشی اخراجات کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے ۔ یہ تمام امور محض ایک لگی لپٹی تنخواہ میں پورے نہیں ہوپاتے ۔ اس کی محنت کے عوض دیا گیا معاوضہ تو محض یوٹلیٹی بلز اتارنے میں ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ جو جمع پونجی بچ جاتی ہے وہ گھر کا کرایہ ادا کرنے میں نکل جاتی ہے ۔ اس دوران اگر خدانخواستہ اسے یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ اس امتحان سے نکل سکے … سرکاری تعلیمی اداروں میں اگرچہ میڈیکل الائونس اور ہائوس رینٹ کی سہولت موجود ہے ، لیکن یہ رقم اس قدر محدود ہوتی ہے کہ میڈکل الائونس ایک ہفتہ کی ادویات بھی پوری نہیں کرپاتا جبکہ رہائشی الائونس کرایہ کے گھر میں مقیم استاد کے 10 دن کے کرائے کے برابر بھی نہیں ہوتا … نجی تعلیمی اداروںکے اساتذہ کو یہ سہولت بھی میسر نہیں ہے ۔ ممکن ہے کچھ جگہوں پر میڈکل انشورنس وغیرہ کے نام پر اساتذہ کو یہ سہولت حاصل ہو ، مگر مجموعی طور پر ایسا نہیں ہے ۔ اگرچہ ہر استاد ڈیوٹی اوقات کے بعد ٹیوشن پڑھا کر اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر مہنگائی اور افراتفری کے اس دور میں وہ محض 50 فیصد ہی کامیاب ہوپاتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنے معاشرتی اور معاشی استحصال کے باوجود وہ قومی تعمیر میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔

یہ استاد ہی ہے جس نے طالبعلم کو زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھایا ، سوچ اور فکر کی راہ متعین کی ، اعتماد دیا ، زندگی کی گٹھیاں سلجھانے کے گر بتائے ، محبتوں کے ساتھ اس وقت پہلا سبق پڑھایا جب ہم کچھ نہیں جانتے تھے ، ان پڑھ اور جاہل تھے ، انہوں نے ہمیں جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر اجالے کے سفر پر گامزن کیا … اپنی صلاحیتیں ہم پر صرف کیں اور ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم مضبوط کردار اور مثبت روایات کے امین اور معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں ۔ تف ہے کہ آج استاد کو محض درانتی اور کھرپا بنانے والا کاریگر سمجھ لیا گیا ہے جو ایک لگی بندھی ڈگر کے ساتھ دیہاڑی پر درانتیاں بناتا چلا جائے ۔

نجی اساتذہ کا سب سے بڑا مسئلہ جاب سیکورٹی اور اس کے بعد تنخواہ ہے ۔ ایک پوش علاقے کے عام سے سکول میں ٹیچر کی تنخواہ 10 سے 12 ہزار تک ہوتی ہے جبکہ کئی سکول اس سے بھی کم دے رہے ہیں ۔ بڑے بڑے تعلیمی نیٹ ورک بھی استاد کے استحصال کے معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ بالخصوص دیہاتوں میں سرکاری و نجی دونوں طرز کے اساتذہ کو اپنے پیشہ ورانہ معمولات نبھانے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اول تو وہ شہری طرز کی سہولیات سے ہی محروم ہیں ۔ دوسرا ، انہیں جاگیرداری اور زمینداری نظام نے ترقی سے روک رکھا ہے ۔ دیہی سرمایہ دار انہیں ذاتی ملازم یا کمی کمین کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے تنخواہ ادا کرنے کی پابندی سے گریزاں ہوتے ہیں ۔ حالانکہ دیہی اساتذہ کو اگر شہری اساتذہ کے برابر سمجھا جائے اور انہیں سہولیات دی جائیں تو نہ صرف ڈراپ آئوٹ ریشو میں کمی واقع ہوسکتی ہے بلکہ معیار تعلیم اور سرکاری سکولوں کی حالت زار کی بہتری بھی ممکن ہے ۔

طرفہ تماشہ تو یہ بھی ہے کہ اس وقت پرائیویٹ سکول ایجوکیشن ایک بزنس بن چکا ہے ۔ ہر گلی محلے میں سکول کھلے ہوئے ہیں اور یہ سب سے آسان بزنس تصور ہوتا ہے … مگر درحقیقت یہ ایک ”سفید ہاتھی” ہے جسے قابو کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ تمام رجسٹرڈ و غیر رجسٹرڈ سرکاری و نجی اداروں کو ایجوکیشن منسٹری اور ایک مشترکہ سسٹم کے تابع لایا جائے … اس سسٹم کے تحت جو مراعات سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو میسر ہیں ، نجی اداروں کو بھی مجبور کیا جائے کہ وہ مکمل نہ سہی ، کم از کم ان کا نصف ضرور ادا کریں ۔ اس ضمن میں ایک شرح طے کی جاسکتی ہے جو آدھی حکومت اور آدھی متعلقہ تعلیمی ادارہ اپنے استاد کو دے … جو نجی ادارے اپنا یہ ”خسارہ” طلباء سے نکالنے کی کوشش کریں ، مذکورہ سسٹم کے تحت حکومت ان کے خلاف اپنے اختیارات استعمال کرنے سے گریز نہ کرے ۔

مختصر یہ کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نجی اور سرکاری دونوں اساتذہ کیلئے مشترکہ سروس اسٹرکچر بنایا جائے … حکومت نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی تفریق سے بے نیاز ہوکر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرے … اچھی کارکردگی دکھانے والے اساتذہ حوصلہ افزائی کیلئے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی سطح پر ان کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے اور نہ صرف سالانہ بنیادوں پر حسن کارکردگی ایوارڈز سے نوازا جائے بلکہ ان کے نام تجویز کرکے ایوان صدر بھیجے جائیں جہاں قومی دن کے موقع پر قومی ہیروئوں کو ایوارڈ دیا جاتا ہے … نیز دونوں طرز کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے والے انہیں خصوصی الائونس دینے کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم کے لئے کوٹہ مختص کیا جائے … ان کے اہل خانہ کو صحت کے مسائل سے نبٹنے کے لئے سوشل سیکورٹی کے تحت میڈیکل اور پنشن کی سہولت دینے کے لئے قانون سازی کی جائے … اور صحافی کالونی اور دیگر رہائشی سکیموں کی طرح اساتذہ کے لئے بھی تحصیل اور ضلعی سطح پر رہائشی کالونیاں بنائی جائیں۔

Muhammad Noor-Ul-Huda
Muhammad Noor-Ul-Huda

تحریر : محمد نورالہدیٰ

Share this:
Tags:
Importance Muhammad Noor-Ul-Huda pakistan Requirements teacher اُستاد اہمیت پاکستان تعلیم تقاضے
Traffic Accidents
Previous Post روڈ سیفٹی اقدامات کی ضرورت
Next Post حلف نامہ و اقرار نامہ میں فرق
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close