Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تحصیل جتوئی کی تاریخی اور جغرافیہ پہچان

October 19, 2017 0 1 min read
Jatoi District
 Jatoi District
Jatoi District

تحریر: عارف رمضان جتوئی
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی 4 تحصیلوں میں سے ایک تحصیل جتوئی ہے۔ جتوئی کی 16 یونین کونسلیں ہیں۔ بنیادی طور پر جتوئی قبیلے کی وجہ سے جتوئی کا نام پڑا جو کہ بذات خود ایک طویل تاریخ ہے۔ جتوئی بلوچوں کے بڑے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ ہے۔ جتوئی قبیلہ بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں بڑی تعداد میں موجود ہے۔ صوبہ سندھ کے ضلع و شہر نوشہروفیروز سے ملحق شہر نیو جتوئی اور پرانا جتوئی بھی بہت مشہور ہے اور یہاں کے جتوئی بھی کافی نام و مقام رکھتے ہیں۔تحصیل جتوئی کی آبادی غیر محتاط اندازے کے مطابق 7ملین ہے۔ ملحقہ علاقہ جات جھگی والا، میرانی ، سبائے والا ، پرمٹ چوک، شہر سلطان ، کلروالی ، قادر پور ، بکائنی ، بیٹ میر ہزار، لنڈی پتافی اور رامپور شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جتوئی شہر پہلے علی پور تحصیل میں شامل تھا۔
جتوئی ایک ذرخیز تحصیل ہے۔ شہریوں کے بڑے معاشی ذریعے صرف دو ہی ہیں۔ ایک ذراعت اور دوسرا مویشی پالنا۔ 90 کی دہائی تک تحصیل جتوئی کی بیشتر زرعی زمین سیم کی وجہ سے ناقابل کاشت رہی۔ ذراعت کی وجہ سے جتوئی کا نہری نظام بھی کافی منظم ہے۔ چودھری برادران کے دور حکومت میں پنجاب بھر میں نہری نظام بہت مظبوط اور پختہ ہوا۔ اسی منصوبے کے تحت جتوئی کی نہر کو بھی پکا اور نالیوں کو پختہ بنایا گیا۔ جس سے پانی ضائع اور چوری ہونے کے امکانات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ جتوئی کو مرکزی تین نہریں سراب کرتی ہیں۔ جن میں سہراب نہر جو جتوئی شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ لنڈا نالا جسے ماضی میں غلاظت سے پاک نہر کے طور پر جانا جاتا تھا تاہم اب آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہی نہر کے پانی میں گٹر لائن ڈال دی گئی ہے ۔ یہ نہر جتوئی شہر کے مشرقی جانب واقع ہے۔ تیسری نہر سونی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جتوئی شہر کے مغرب کی جانب لنڈی پتافی کی جانب ہے۔

دریائے سندھ جسے انڈس ریور بھی کہا جاتا ہے وہ بھی جتوئی کے مغرب کی جانب سے مظفر گڑھ کی جانب سے آتا ہے اور جتوئی کے مغربی جانب سے ہوتا ہوا صوبہ سندھ کی طرف نکل جاتا ہے۔ دریا سندھ بنیادی طور پر ایک چین سے آتا ہے اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا یہ دریا جتوئی کے پاس سے گزرتا ہے سندھ میں ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب یعنی سمندر میں جاگرتا ہے۔ جتوئی کے مغربی جانب دریا ئے جہلم واقع ہے۔
دونوں دریاﺅں کے بیچوں بیچ یہ تحصیل ملکی نظام سے بالکل ہٹ کر ہے۔ جتوئی اگرچے ایک بڑے روٹ کے درمیان واقع ہے تاہم تحصیل کی حدود میں وہ روٹ تو آتا مگر شہر سے کوسوں دور سے بائی پاس ہوتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر بہاولپورکی جانب سے کوئی مظفر گڑھ یا ڈیرہ غازی خان جانا چاہے تو وہ اس روٹ کا استعمال کرتا ہے۔ مگر علی پور سے ہوتے ہوئے پرانا چوک پرمٹ اور موجودہ نصیرآباد چوک سے ہوتے ہوئے مظفر گڑھ کی جانب نکل جاتا ہے۔ اس طرح اگر شاہ جمال والا روڈ بھی جائیں تو بھی گرڈ چوک سے بغیر کسی اسٹاپ کے گاڑی نکل جاتی ہے تاہم یہ روڈ ون وے کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ اس وجہ سے نہ صرف اس تحصیل کو گم نامی کا سامنا ہے بلکہ کسی معروف روٹ یہاں سے نہ گزرنے کی وجہ سے اس تحصیل کو کسی بھی قسم کا کوئی بزنس نہیں ملتا۔ یہ تحصیل اپنی طور پر جو کھیتی باڑی کرتی ہے اس پر ہی تمام تر نظام زندگی چلتا ہے۔

بہاولپور اور خان پور سے آنے والی ٹرانسپورٹ اگر راجن پور یا ڈیرہ غازی خان کی طرف جانا چاہیے تو ٹرانسپورٹ موجودہ صورتحال میں جتوئی شہر سے گزرنے کے بجائے بائی پاس ہوتی ہوئی پہلے مظفر گڑھ جائے گی پھر دریائے سندھ کے پل سے گزرتی ہوئی سیدھی ڈیرہ غازی خان جائے گی۔ اس طرح وہیں سے یہ ٹرانسپورٹ سخی سرور اور داجل، جام پور کی طرف جائے گی۔ اس لحاظ سے یہ روٹ کافی طویل ہوجاتا ہے تاہم کبھی حکومتوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس روٹ کے استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے جتوئی سے ایک ڈبل روڈ نکالا جائے جو دریائے سندھ سے ہوتا ہوا سیدھا ڈیرہ غازی خان جائے۔ اگر یہ روٹ نکال لیا جائے تو یقینا آدھا سفر اور فیول اس روٹ سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے جتوئی کو بھی ایک اچھا خاصا بزنس مل جاتا۔ تاہم جتوئی کی فلاح اور ترقی کا بھلا کوئی کیوں سوچے گا۔ سب کو روپیہ پیسا مل جاتا ہے اور اس سے ان کے کام چل جاتے ہیں۔

اگر اس روٹ کو لودھراں سے نکالا جاتا تو یہ روٹ جلال پور پیر والا سے ہوتا ہوا دریائے جہلم (پتن) پر پل بنا کر اسے چوک پرمٹ سے گزارتے ہوئے سیدھا جتوئی اور پھر جتوئی سے دریائے سندھ پر پل سے گزارتے ہوئے ڈیرہ غازی خان لایا جاتا تو یقینا آدھے سے بھی کم ٹائم اور فیول میں یہ سفر اس قدر آسان ہوجاتا ہے۔ مگر بات وہیں ہے کہ یہ سب کوئی کیوں کرے گا۔ اگر تصور کیا جائے کہ یہ روٹ بن جاتا تو جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والا شہر جتوئی ہوتا اور سب سے بہترین روٹس میں سے یہ روٹ ہوتا۔ اب اسی روٹ کو نیشنل یعنی علاقائی سطح سے نکال کر قومی سطح پر دیکھا جائے تو یہ روٹ سندھ کو پنجاب سے گزارتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک رسائی دیتا۔

یہ تو تھی روٹس کی بات اب اگر شہر کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو جتوئی میں ترقیاتی کام تو کبھی سننے کو نہیں ملے۔ ایک مرتبہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں سیوریج کے نظام پر کچھ کام شروع کیا تو گیا تاہم نہر سہراب اور جھگی والا روڈ کی اطرف اور بیچوں بیچ کھدائی کرکے وہ کھڈے ویسے کے ویسے ادھوری حالت میں پڑے رہ گئے اور آج تک سیوریج کا نظام مکمل تو کیا وہ کھڈے بھی واپس بھرنے کوئی نہیں آیا۔ ایک طرف سیوریج کا نظام انتہائی بری حالت میں ہے تو دوسری طرف شہر بھر کا سیوریج جتوئی کی مین نہر سہراب میں گھرتا ہے۔ اس لحاظ سے پورا شہر بدبو کی زد میں ہی رہتا ہے اور پھر یہیں پانی کھیتوں کے لیے کسانوں کو میسر آتا ہے جو ان کی صحت کے لیے بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔

شہر کے اندرونی اسٹرکچر کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے ہی تاہم جھگی والا روڈ کی حالت بھی اپنی کسمپرسی کا رونا رورہی ہے۔ جتوئی کی سبزی منڈی بھی جھگی والا روڈ پر واقع ہے۔ جھگی والا روڈ جتوئی کے لیے ایک اہم ترین روڈ کے طور پر اپنی سفری خدمات تو پیش کر رہا ہے تاہم پہلی بار بننے کے بعد شاید ہی اس پر کبھی کوئی کام ہوا ہو۔ روڈ کی حالت یہ ہے کہ وہاں پر سائیکل سوار کا گزرنا بھی محال ہے۔ تاہم اس پر کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے بڑے کوچز اور بسیں چل رہی ہیں۔ ایک طرف روڈ کی حالت یہ ہے کہ وہاں پر حادثات کسی بھی وقت ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں اور دوسری بھاری ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس پر آج تک نہ تو کسی پرائیویٹ اور نہ سرکاری سطح پر کام کیا گیا اور نہ آئندہ کے کسی پروجیکٹ کا حصہ یہ روڈ ہے۔

جتوئی کی تاریخی حیثیت پاکستان کے قیام سے قبل کی ہے۔ انگریز دور کا یہ ایک تاریخی شہر ہے جس میں آج بھی بھارت کے صوبہ راجھستان اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والوں کے خاندان یہاں بسے ہوئے ہیں۔ یہ نہ صرف اس دور کی عمارتیں بھی ابھی تک یہاں موجود ہیں بلکہ آدھے شہر پر رنگڑوں کی آباد کار موجود ہیں اور بازار میں انہیں کی دکانیں ہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ بازاری نظام دیہی نظام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے تو بازاری نظام راﺅ ، رانا اور راجپوتوں کے پاس ہے۔ اس لحاظ سے بنیے والا دماغ اور راجوں والی سوچ اب بھی جتوئی کے بازاروں اور گلی کوچوں میں دیکھائی دیتی ہے۔
جتوئی شہر میں تعلیم کا نظام سرکاری و نجی لحاظ سے کافی مضبوط اور منظم ہے۔ ہائی اسکول گزلز اور بوائے بھی موجود ہے۔ دونوں اسکول تاریخی اعتبار سے بہت پرانے ہیں۔ اسکولز میں جھگی والا، شاہجمال، لنڈی پتافی، شاہر سلطان تک سے طلبہ و طالبات یہاں سے پڑھ کر ملکی ستارے بن چکے ہیں۔ ہائی اسکول فار بوائز تاریخی اسکول جس وقت اس ایک تعلیمی عمارت کے علاوہ کوئی دوسری تعلیمی عمارت نہیں ہوا کرتی تھی۔ دونوں ہائی اسکول چھوٹا شہر میں واقعے ہیں۔ یہ چھوٹا شہر شہریوں کی اپنی اندرونی تقسیم ہے۔ چھوٹا شہر اسپتال روڈ سہراب نہر سے شروع ہوتا ہے مین بازار تک رہتا ہے۔

انگریز دور میں اس اسکول کی عمارت کچی ہوتی تھی۔ ہائی اسکول چکور انداز میں بنایا گیا تھا۔ یعنی چار اطراف میں اس کے کمرے ہوا کرتے تھے۔ ہر کمرے کے عقب میں لوہے کے دروازوں کی ایک کھڑکی ہوا کرتھی ۔ اس کھڑی کی دوسری جانب ایک طرف جتوئی کا پرانا تھانا اور دوسری جانب جتوئی کا پرانا اسپتال ہوا کرتا تھا۔ اس وقت کے پولیس اہلکار ہندو اور مسلم دونوں ایک ساتھ ہی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے اور آج کے سر، ٹیچر کی جگہ اس وقت کے ماسٹر اور مولوی کہا جاتا تھا جبکہ پولیس اہلکار سمیت دیگر سرکاری محکموں پر تعینات افراد ان پڑھ ہوا کرتے تھے۔ جس دور میں یہ عمارت کچی ہوا کرتی تھی اس وقت کے اساتذہ کے دل طلبہ کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے کے لیے اس قدر پختہ ہوا کرتے تھے کہ چھٹی کی گھنٹی کب بجتی تھی شاید طلبہ کو اس بات کا احساس نہ ہونے دیا جاتا تھا۔ ایک گھنٹے تک تعلیم بدستور جاتی رہتی تھی۔

جتوئی میں سرکاری اسپتال تو شروع سے موجود ہے تاہم کالج اور عدالتی نظام 2010ءکے بعد ہی یہاں بنے ہیں۔ اس سے قبل سیکنڈری تعلیم اور عدالت کے لیے ملحقہ شہر علی پور یا پھر ضلع مظفر گڑھ گھنٹوں کی مسافت پر موجود تھے۔ اس لحاظ سے 2010ءسے قبل جتوئی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اس وقت دو کالج ایک لڑکیوں اور دوسرا لڑکوں کے لیے بنا دیے گئے ہیں۔ لڑکیوں کا کالج گرڈ چوک سے شاہجمال کی جانب جاتے ہوئے راستے پر بھٹہ چوک سے پہلے واقع ہے۔ جبکہ لڑکوں کا کالج گریڈ چوک بجلی گھر کے برابر میں جتوئی روڈ پر واقع ہے۔ حال ہی میں (2016ئ) میں پنجاب حکومت کی جانب سے اراضی ریکارڈ سینٹر کا قیام کیا گیا جس کی خوبصورت عمارت بھی تعمیر کردی گئی ہے۔

سیاسی میدان میں جتوئی سب سے آگے رہا ہے۔ متعدد وفاقی و صوبائی وزرا اس تحصیل سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ ہر حکومت میں تحصیل جتوئی سے کوئی نہ کوئی وزیر رہا ہے مگر ترقی ناپید ہی رہی ہے۔ جتوئی کی سیاست بھی ضلع مظفر گڑھ میں نمایاں رہی ہے۔ سیاست کے لحاظ سے جتوئی تحصیل میں جتوئی قبیلہ سرداروں کے طور پر ہر دور میں موجود رہا ہے۔ ابتدائی دنوں میں سردار کوڑے خان جتوئی برطانیہ حکومت کے دور میں پورے ضلع مظفر گڑھ پر اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ سردار کوڑے خان نے اپنی جائیداد اور زمینوں کو انگریز سرکار کو دینے کی بجائے غرابا مسکین کو دینے کو ترجیح دی تھی۔ ان کے بعد انگریز حکومت نصر اللہ خان جتوئی کی نظامت سونپ کر چلتے بنے۔ ان کے بعد سردار نذر محمد خان جتوئی بطور پاکستان پیپلز پارٹی لیڈر جتوئی کے حکمران رہے۔ ان کی حکمرانی نا صرف انتظامی امور میں ہوا کرتی تھی بلکہ عوامی سطح پر شہر بھر سے لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے آیا کرتے تھے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سردار عبد القیوم خان جتوئی اور سردار پپو خان جتوئی نے بطور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ یوسف رضا گیلانی کے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر تعیناتی کے وقت سردار عبد القیوم خان جتوئی وفاقی وزیر برائے دفاعی پیدوار بھی رہے۔ سردار عبد القیوم خان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سردار معظم علی خان جتوئی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر مملکت برائے خوراک بنے۔ حال ہی میں سردار معظم علی خان جتوئی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ سردار عبد القیوم خان کے رشتے دار خان محمد خان جتوئی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ گویا جتوئی میں جتوئی قبیلے کی سیاست کسی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں رہی بلکہ بکھرتی جارہی ہے۔ جبکہ جتوئی خاندان کے مقابلے میں بخاری خاندان ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن جیتتا اور ہارتا آیا ہے۔

جتوئی تحصیل کی حدود میں بننے والی مسجد سیکنة الصغریٰ جتوئی کی پہچان بن چکی ہے۔ یہ مسجد کوٹلہ رحیم علی شاہ کے ایک چھوٹے سے گاو ¿ںمیں واقع ہے۔ مسجد کا سنگ بنیاد 2006 ءمیں رکھا گیا اور اسے ڈیڑھ سال کے مختصر عرصہ میں مکمل کرلیا گیا۔ مسجد کی تعمیر میں ترک انجینئرز نے اہم کردار ادا کیا۔اس مسجد میں کی جانے والی خطاطی، منفرد نقش و نگار اور پودوں سے بنائے گئے اللہ اور محمد کے اسمائے گرامی پر آنے والوں کی خاص توجہ رہتی ہے۔52 کنال کے رقبہ پر تعمیر کی گئی مسجد کے بلند و بالا مینار اس کی خاص پہچان ہیں۔مکمل ایئر کنڈیشنڈ و زلزلہ پروف اس مسجد میں 4ہزار افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی ہے جس میں بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرنے والے مقامی رہائشی امریکا میں ایک اعلیٰ سطح ہارٹ سرجن ہیں۔

جتوئی ثقافت اور کلچر کے اعتبار سے سرائیکی ہیں۔ سرائیکی زبان بولی جاتی ہے تاہم پنجابی اور رانگڑی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پٹھانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں پر بستی ہے اور اب ان کی زبان بھی سرائیکی ہوچکی ہے۔ جتوئیوں کا نہ تو کلچر ڈے منایا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی خاص ثقافتی دن ہے۔ اگر کہیں تھا بھی تو اس محرومیوں کی وجہ سے وہ اب نہیں رہا۔ جتوئی میں غیر معروفیت کی زندگی بسر کرتے یہ شہری پنجابی تو ہیں مگر سرائیکی، سندھی، پنجابی یا کسی بھی قسم کی حکومتوں نے کبھی یہاں کے لیے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ جتوئی شہر کو موجودہ صورت میں لاکھڑا کرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کا اہم کردار ہے۔ یہ دونوں مرکز اور صوبیت میں رہے تاہم کبھی جنوبی پنجاب کے فلاح و ترقی کے لیے نہیں سوچا گیا۔ یہ سلسلہ کب تک رہے گا کچھ معلوم نہیں تاہم جتوئی شہر کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ انہیں ان کے حصے کا پانی اور بجٹ دیا جائے۔

نوٹ: اس مضمون میں بہت سی اہم ترین معلومات اور باتیں تاحال باقی ہیں۔ مزید معلومات کی فراہمی کے بعد اس پر مزید کام کیا جائے گا۔ انشاءاللہ

Arif Jatoi
Arif Jatoi

تحریر: عارف رمضان جتوئی
Arif.jatoi1990@gmail.com
www.facebook.com/arif.ramzan.j

Share this:
Tags:
Arif Jatoi Historical identity pakistan پاکستان پہچان تاریخی
Islam
Previous Post اسلام اور امن کا پیغام
Next Post شرک سب سے بڑا گناہ
Shirk

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close