Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تلنگانہ میں اردو ذریعے تعلیم سے روزگار کے مواقع مسائل اور امکانات

November 26, 2016 0 1 min read
Telangana State Academy
Telangana State Academy
Telangana State Academy

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
تلنگانہ ہندوستان کے نقشے پر ابھرنے والی29ویں ریاست ہے اور اس علاقے کے سبھی اضلاع میں لوگ اردو با آسانی بولتے اور سمجھتے ہیں۔اس علاقے میں ریاست کی تشکیل کے بعد اردو کا فروغ ہورہا ہے اور یہاں اردو سے روزگار کے مواقع پہلے سے زیادہ ہیں آئیے دیکھیں کہ اردو ذریعے تعلیم سے تلنگانہ میں کون لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی سماجی اور معاشی حیثیت کیا ہے۔ حکومت اور عوامی اداروں کی جانب سے انہیں روزگار اور ملازمت حاصل کرنے کے کیا مواقع دستیاب ہیں اور کیا مواقع متوقع ہوسکتے ہیں۔ جب اردو کی بات ہوتی ہے تو کچھ دل خوش کن باتیں ہوتی ہیں کچھ قراردادیں منظور ہوتی ہیں اور کچھ وعدے ارادے ہوتے ہیں لیکن عملی کام کچھ نہیں ہوتا۔ اردو عالمی سطح پر ایک مقبول زبان ہے۔ برصغیر کے کروڑوں عوام کی مادری زبان ہے۔ چونکہ اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے تو کچھ فرقہ پرست ذہن رکھنے والوں نے اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا اور اسی مریضانہ ذہنیت پر عمل کرتے ہوئے ارباب اقتدار نے ہرزمانے میں اردو کے ساتھ نا انصافی کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اردو اپنی مقبولیت کے گراف کو اونچا کرتی ہی گئی۔

آج ہندوستان کا سیکولر طبقہ یہ بات مانتا ہے کہ اردو مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوستان اور سارے عالم کی ایک مقبول زبان ہے۔میں اپنے موضوع پر آندھرا پردیش اور موجودہ علاقہ تلنگانہ کی حد تک بات کرتا ہوں۔ یہاں تعلیمی نظام 10+2+3رائج ہے۔ یعنی ہائی اسکول میں دسویں جماعت تک اس کے بعد انٹر کے دو سال اور ڈگری کے تین سال۔ ذریعے تعلیم کے بارے میں ماہرین تعلیم کی یہ متفقہ رائے ہے کہ بچے کی ابتدائی تعلیم کم از کم مادری زبان میں ہونا چاہئے۔ بچہ اپنے گھر سے فطری طور پر مادری زبان سیکھ کر آتا ہے۔ اگر اس کی ابتدائی تعلیم مادری زبان سے شروع ہو تو اسے پھر سے انڈے یا سیب کو انگریزی ‘تلگو یا ہندی میں کیا کہتے ہیں دماغ لڑانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ سائینس ریاضی اور سماجی علوم کو بھی اپنی مادری زبان میں پڑھتے ہوئے ترقی کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چین جاپان روس ‘امریکہ اور فرانس جیسی ترقی یافتہ قومیں اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتی ہیں یہ اور بات ہے کہ انگریزی کی عالمی مقبولیت کے سبب اب چینیوں اور جاپانیوں کو انگریزی سیکھنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ انگریز حکمران رہے تھے اس لئے انہوں نے جاتے جاتے انگریزی کا چلن ہندوستان میں عام کردیا۔

انہوں نے حکومت چلانے اور عدلیہ کے جو قوانین بنائے وہ سب انگریزی میں تھے۔ اور آزادی کے بعد بد قسمتی سے سرکاری کام کاج اور دفتری کاروائی انگریزی میں ہونے سے ہندوستان میں انگریزی ذریعے تعلیم کو حصول روزگار اور ترقی کا پہلا اور بنیادی ذریعہ تسلیم کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے CBSCتعلیمی اداروں کی سرپرستی اور خانگی سطح پر انگریزی میڈیم تعلیمی اداروں کو پروان چڑھنے کی کھلی چھوٹ دینے سے گذشتہ بیس سال میں ہندوستان میں تعلیم کے شعبے میں بڑا نقصان ہوا ہے۔اور ماہرین تعلیم کی رائے کے باجود ملک کا دولت مند اور متوسط طبقہ اپنے بچوں کو مادری زبان اردو یا کوئی اور زبان ہو غیر فطری انگریزی میڈیم سے تعلیم دلانے لگا ہے۔ اور کوا چلا ہنس کی چال نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے کہ مصداق ان انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچے معیار کے اعتبار سے پیچھے رہ گئے۔ جب کہ مادری زبان کے مدارس صرف سرکاری مدارس رہ گئے جہاں غریب اور متوسط گھرانے کے طلبا پڑھنے لگے۔ جن کے معاشی اور معاشرتی حالات ایسے رہے کہ وہ بچے اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے نہیں کر پارہے ہیں۔

Telangana Exams
Telangana Exams

آج جب ہم ہمارے تعلیمی نظام پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تلنگانہ کے علاقے میں اردو بولنے والے کثرت کے علاقوں میں بے شمار اردو میڈیم مدارس ہیں۔ لیکن ہر سال داخلوں کے موقع پر اساتذہ کو گلی گلی پھر کر بچوں کو اسکول میں داخلہ دلانے کے لئے راغب کرنا پڑتا ہے جب کہ حکومت نے دوپہر کے کھانے کی اسکیم بھی چلا رکھی ہے۔ اب یہ ماحول بنادیا گیا ہے کہ جس کے پاس دولت نہیں وہ ان اردو مڈیم اسکولوں میں برائے نام اپنے بچوں کا داخلہ کراتے ہیں اور کسی طرح ہائی اسکول اور انٹر تک یہ بچے اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آج ان اسکولوں میں لڑکیوں کا تناسب تو حوصلہ افزا ہے لیکن لڑکوں کی تعداد نہیں کے برابر ہے۔ جن والدین کے پاس کچھ پیسے ہیں وہ اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں بھاری بھاری فیس دے کر پڑھا رہے ہیں۔ اردو میڈیم سے پڑھنے والے طالب علم کو یہ کہہ کر مایوس کیا جاتا ہے کہ اردو سے پڑھ کر اسے کیا ملے گا۔ اور اردو میں اعلیٰ تعلیم کہاں ہے۔ جب کہ آزادی سے بہت قبل نظام حیدرآباد میر عثمان علی خان نے مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت دیکھتے ہوئے حیدرآباد میں عظیم مادر علمیہ جامعہ عثمانیہ قائم کی تھی اور اس یونیورسٹی میں روایتی’فنی اور تمام سائینسی مضامین کی اعلیٰ تعلیم صرف اردو میں دی جاتی تھی۔ تعلیم کے لئے درکار اہم ضرورت نصابی اور دیگر نصابی کتابوں کی دستیابی کے لئے دارلترجمہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی اور اس کے درالترجمہ نے جو کام اردو میں کیا تھا اس کے ثمرات آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں اردو ذریعے تعلیم کے فروغ کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔

عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغین انگریزی کے بھی ماہر ہوا کرتے تھے اور وہ اس زمانے کے آئی سی ایس امتحان میں بھی کامیاب ہوتے تھے اور دنیا بھر میں عثمانیہ کے ع کا نام روشن کرتے تھے۔ عزیز احمد’ ڈاکٹر حمید اللہ ‘ہاشم علی اختر اور بے شمار فارغین عثمانیہ نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے کے باجود دنیا بھر میں نام روشن کیا۔ آزادی کے بعد عثمانیہ سے اردو ذریعے تعلیم کو ایک سازش کے تحت ختم کردیا گیا۔ اور اب اردو جامعہ عثمانیہ کی سنگی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ رہی ہے۔ اردو سے اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اہلیان اردو کی خواہش پر حیدرآباد میں اردو کی مرکزی یونیورسٹی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی قائم ہوئی ہے۔جس میں اردو میں روایتی کورسز کے ساتھ فنی اور عصری علوم کی تعلیم دی جارہی ہے اور بہت جلد اس یونیورسٹی میں طب’طبعیات’کیمیا’ریاضی کے شعبے بھی قائم ہونگے اس کے لئے ایک مرتبہ پھر دارلترجمے کی ضرورت ہوگی۔ جس کو یونیورسٹی کے ارباب مجاز ملحوظ رکھیں۔

جب یہ یونیورسٹی مکمل طور پر کام کرنے لگے گی تب اردو ذریعے تعلیم سے آگے بڑھنے والے طالب علم کو عصری حالات سے ہم آہنگ ہونے کا بھر پور موقع ملے گا۔ اب جہاں تک اردو سے سرکاری ملازمتیں ملنے اور روزگار کا مواقع کا معاملہ ہے جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ تدریس کے شعبے میں اردو میڈیم کے طالب علموں کے لئے سرکاری ملازمت میں داخل ہونے کے خاطر خواہ مواقع دستیاب ہیں۔اردو میڈیم سے انٹر کے بعد طلبا ڈائٹ سیٹ کامیاب کریں اور ٹی ٹی سی کی تربیت حاصل کریں تو وہ ایس جی ٹی جائیداد کے اہل ہوسکتے ہیں جس میں ابتدائی تنخواہ 25ہزار تک ہے۔ حیدرآباد کے مقابلے میں تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں اس جانب رجحان ذیادہ ہے اور ہزاروں طلبا وطالبات اردو میڈیم اس لئے پڑھتے ہیں کہ انہیں ٹیچر کی سرکاری نوکری ملے۔ حیدرآباد میں اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر طلباء ڈگری کے بعد بی ایڈ کریں تو انہیں اسکول اسسٹنٹ کے ہائی اسکول ٹیچر بننے کے مواقع ہیں ۔ جس میں جائیدادیں کم ہیں۔ سائینس سے پڑھنے والے طلبا کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر یا انجینیر بنیں۔ ایم بی بی ایس میں نشستیں محدود ہیں اور اردو میڈیم کا طالب علم ایم بی بی ایس کے معیار کو نہیں پہونچ سکتا۔ ایسے طلبا کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بی یو ایم ایس ایک ایسا کورس ہے جس میں اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے طلباء ڈاکٹر بن سکتے ہیں اور ایم ڈی بھی کر سکتے ہیں۔

SVS Medical College
SVS Medical College

حیدرآباد کے یونانی میڈیکل کالج اور کرنول کے عبدالحق یونانی کالج میں 50-50نشستیں دستیاب ہیں۔ جس کے لئے صرف ایک یا دو ہزار طلباء ہی انٹرنس لکھ رہے ہیں اس جانب عوامی شعور بیداری کی ضرورت ہے ۔ حیدرآباد میں سیاست ہال میں اس کی کوچنگ دی جاتی ہے۔ اضلاع میں سائینس کے لیکچررس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طلبا کو اس کورس کی جانب راغب کریں۔ کیونکہ بی یو ایم ایس کے بعد جونیر میڈیکل آفیسر کے نام سے سرکاری ملازمتیں بھی ہیں۔ اور بہت سے یونانی ڈاکٹرس آج سماج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انگریزی میں مہارت حاصل کرتے ہوئے اردو میڈیم ریاضی کے طلبا انجینیرنگ اور پالی ٹیکنیک میں جا سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں تین شعبے ایسے ہیں جس میں ملازمت کے مواقع ذیادہ ہیں وہ بزنس’جرنلزم اور قانون کے ہیں۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں اردو میں ایم بی اے کی سہولت ہے اور وہاں کے شعبہ جرنلزم میں اردو میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی تعلیم دی جارہی ہے۔ اگر طالب علم میں انگریزی کا ذوق ہو اور وہ اردو میڈیم سے بھی ایم بی اے کرے تو اپنی ذاتی قابلیت اور مہارت کی بیناد پر ایم بی اے کی بنیاد پر ملازمت حاصل کر سکتا ہے۔

جرنلزم شعبے میں جو طالب علم اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے قومی و بین الاقوامی صحافتی اداروں میں ملازمت حاصل کر رہے ہیں۔ بی بی سی ‘ڈوئشے ویلے جرمنی’ریڈیو جاپان وغیرہ میں اردو صحافیوں کے لئے مواقع ہیں۔ حیدرآباد میں ای ٹی وی کے علاوہ ساکشی’ایچ ایم ٹی وی ‘4وی’روبی اور دیگر چینلوں پر خبریں پڑھنے اور پردے کے پیچھے خبرین بنانے کے لئے ماہر صحافیوں کو ملازمت کے مواقع مل رہے ہیں۔ اردو کے بڑے اخبارات سیاست’منصف’اعتماد’سہارا’رہنمائے دکن وغیرہ میں رپورٹر اور سب ایڈیٹر کے لئے اچھے مواقع دستیاب ہیں۔ جرنلزم سے جڑا ہوا ایک اور شعبہ اردو کمپیوٹنگ اور ڈی ٹی پی کا ہے۔اگر کسی کو اردو ٹائپنگ اور ڈیزائننگ میں مہارت ہو تو اسے اخباری اداروں میں پر کشش تنخواہ پر ملازمت مل رہی ہے اس کے علاوہ خود سے ڈی ٹی پی اور ڈیزائیننگ کرتے ہوئے روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے۔ چھتہ بازار اور لکڑی کا پل کے اشاعتی اداروں میں اردو کے ماہرین ہیں لیکن بہت کم ہیں اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔ اردو اکیڈیمی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے کمپیوٹر کے ادارے طلباکو اردو کمپیوٹر سکھا رہے ہیں۔ جہاں تک قانون کے شعبے کی بات ہے اگر اردو میڈیم کا طالب علم انگریزی سے قانون کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اچھا قانون داں بن سکتا ہے۔

آج نلسار یونیورسٹی کے فارغین کو سالانہ ایک کروڑ سے ذیادہ تنخواہ آفر کی جارہی ہے۔ انٹر یا ڈگری تک اردو میڈیم پڑھنے والا طالب علم ریلوے اور بنکنگ کے امتحان لکھتے ہوئے بھی بہت سے روزگارکے مواقع سے استفادہ کر سکتا ہے۔ اس کے لئے بر وقت معلومات رکھنے کی ضرورت ہے۔ آئی اے ایس کی تعلیم ملک کی سب سے اعزازی تعلیم ہے۔ اردو میڈیم کے طالب علم اس جانب توجہ ہی نہیں کرتے کہ انہیں اس جانب راغب کرنے والے کوئی نہیں ۔ ملک میں ہر سال جو ایک ہزار کے قریب آئی اے اے ایس منتخب ہوتے ہیں ان میں صرف 30-40اردو جاننے والے ہوتے ہیں ۔ جب کہ آئی اے ایس میں ایک پرچہ اختیاری مضمون کا ہوتا ہے جس میں اردو اختیاری مضمون لیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں کشمیر کے شاہ فیصل نے اردو اختیاری مضمون لیتے ہوئے آئی اے ایس کامیاب کیا تھا۔ حیدرآباد میں مولانا آزاد اردو یونیورسٹی اور اقلیتی بہبود کے ادارے CDEMکے تحت ہر سال منتخب امیدواروں کو آئی اے ایس کی کوچنگ دی جارہی ہے لیکن اس کے ثمرات آنا باقی ہیں۔ بہر حال اردو میڈیم کا طالب علم باوقار آئی اے ایس بننے کا خواب دیکھے تب ہی وہ حقیقت تک پہونچ سکتا ہے۔

Urdu
Urdu

اردو میڈیم سے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں روایتی کورسز میں کامرس’تاریخ ‘پبلک اڈمنسٹریشن اور نامپلی کالج میں معاشیات میں ایم اے کی تعلیم کی سہولت ہے جس کی بنیاد پر طلبا لیکچرر بن سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش کی تمام ہی جامعات میں اردو مضمون کا شعبہ ہے جہاں پی ایچ ڈی تک اردو کی تعلیم ہے جس کی بنیاد پر طلباجونیر و ڈگری کالج میں لیکچرر بن سکتے ہیں اور یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بن سکتے ہیں اور ہمارے سامنے مثال ہے کہ ساتاواہانا یونیورسٹی کریم نگر اور تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد میں طلبا اردو کے شعبوں میں لیکچرر کے عہدوں پر فائز ہیں۔اردو میں پی جی والوں کے لئے جے آر ایف اور نیٹ امتحان ہیں جس میں کامیابی کے بعد ترقی کے مواقع ہیں۔ مرکزی یونیورسٹیوں میں اردو میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کو ماہانہ آٹھ ہزار اسکالر شپ دی جارہی ہے۔ جسے ریاستی یونیورسٹیوں میں توسیع دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا آزاد نیشنل ایجوکیشن فائونڈیشن دہلی کی جانب سے ہر سال اردو میڈیم سے پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا یا اقلیتی طلبا کو ماہانہ بیس ہزار اسکالر شپ دی جارہی ہے اور حیدرآباد میں کئی طلبا اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اضلاع کے طالب علموں کو اس جانب رہبری کرانے کی ضرورت ہے۔

اردو میڈیم سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر کوئی طالب علم انگریزی میڈیم سے ڈگری اور بی ایڈ کرتا ہے تو اسے حکومت کی جانب سے نئے شروع کردہ ماڈل اسکولوں میں ملازمت دی جارہی ہے۔ ملازمت کے ان مواقع کے علاوہ اردو میڈیم طالب علم کو اپنی ذاتی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر خانگی شعبے میں بھی بھر پور مواقع ہیں۔ ترجمہ بھی ان دنوں ایک فن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ انگریزی سے اردو یا عربی یا مقامی زبان سے اردو کے مترجمین کے لئے ملازمت کے مواقع دستیاب ہیں۔ حکومت یا بنکوں سے قرض حاصل کرتے ہوئے اردو کا طالب علم کوئی بھی کاروبار یا ادارہ کھول سکتا ہے۔واضح رہے کہ زبان کی مہارت بے کار نہیں جاتی اگر کسی کو اچھا بولنے آئے تو وہ موجودہ میڈیا کلچر میں آرجے اور وی جے بن سکتا ہے۔ حیدرآباد سے کچھ نوجوان اس شعبے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ جاب ورک کے عنوان پر بہت سا کام روزگار دلا سکتا ہے۔ اور لوگ یہ کام کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو میڈیم کے طالب علم کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کی رہبری کی جائے اور خود طالب علم بھی اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرے کہ ٹاپ کی پوزیشن اس کی ہوگی۔

یہ حقیقیت ہے کہ اردو میڈیم والوں کے لئے مواقع کم ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اور اردو کے فروغ کا نعرہ دینے والے سنجیدگی سے حکومت کی سطح پر اقدامات کریں۔ زبان اور زبان والوں کی ترقی کے لئے حکومت کی سرپرستی ضروری ہے۔ آنے والے تلنگانہ میں اردو کو لازمی طور پر ریاست کی دوسری سرکاری زبان بنایا جائے اور حکومت کے کام اردو میں بھی ہوں تب اردو ذریعے تعلیم سے ترقی ممکن ہوگی۔ اس بات کو شدت سے اٹھایا جائے کہ اردو والوں کو جیسے تلگو لازمی پڑھائی جارہی ہے ویسے ہی تلگو والوں کو بھی لازمی طور پر اردو پڑھایا جائے اس سے بھی اردو کی ترقی ممکن ہوگی جیسے عثمانیہ یونیورسٹی کے دور اول میں ہوا تھا کہ سب اردو میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ بہر حال یہ چند معلومات تھیں جس سے امکان ہے کہ اردو میڈیم کے طالب علم کو رہبری ہوگی۔

Aslam Faroqui
Aslam Faroqui

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

Share this:
Tags:
employment India issues scope state telangana Urdu اردو امکانات تعلیم تلنگانہ روزگار ریاست مسائل ہندوستان
M Imran Salfi
Previous Post مرکز الایمان کے زیراہتمام عبدالمنان راسخ ہفتہ کو بعد نماز مغرب خطاب فرمائیں گے
Next Post فیڈل کاسترو 90 برس کی عمر میں چل بسے
Fidel Castro

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close