
میری طرف آنے سے پہلے مجھکو تو بتلانا تھا
کیوں چپکے سے آئے تم کیا میرا گھر ویرانہ تھا
آپ جسے کہتے ہیں الفت کہہ لیجئے حق آپکو ہے
ورنہ میرے محبوب حقیقت یہ ہے دل بہلانا تھا
کیوں آئے تم میری طرف پھر قدموں کی بوجھل چاپ کے ساتھ
زخم کے ٹانکے توڑنے والے جا کر پھر نہ آنا تھا
صبح کی روشن دیوی مجھکو لاکھ صدائیں دیتی رہی
لیکن تیری یاد کا عالم ہوش کسے پھر آنا تھا
دنیا دیکھی تم کو دیکھا اور سہانے سپنے بھی
سپنا ٹوٹا دل بھی ٹوٹا اب کس کو پچھتانا تھا
تم جو کبھی چاہو تو اپنا دل ہی نہیں جاں نذر کروں
شمع کی لو پر جلنے والا پروانہ، پروانہ تھا
آپ نہیں کوئی اور ہی ہو گا راہ میں جس نے روک لیا
مجھکو یوں لگتا ہے جیسے کچھ جانا پہچانا تھا
تیری گلی میں جو بھی آیا اپنے آپ کو بھول گیا
پھر بھی زریں تیرے گلستان دل میں ویرانہ تھا
ایک تڑپن آس سہسا زریں کے لئے سرمایہ ہے
جس کی خاطر ذرّہ ذرہّ روز ازل دیوانہ تھا
شاعرہ : زریں قمر
