Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آئینہ

October 12, 2014October 12, 2014 0 1 min read
Past
Past
Past

تحریر۔۔۔منشاء فریدی

کہا جاتا ہے کہ تلخ ماضی اور اس تلخ ماضی کی یا دیں عذاب اور غضب ناک ہوتی ہیں ۔ماضی میں واقع ہونے والے حادثات نازل ہونے والے مصائب اور تکالیف مستقل اور حال کے لمحات کو سوگوار کرکے رکھ دیتی ہیں۔ان سوگوار لمحات( ایام)کا علاج و مداواحال اور مستقبل کے خوشگوار سامان قرار پاتے ہیں۔اگر موجودہ اور آنے والے زمانے کو خوشحالی کی طرف گامزن کرنے کے اقدامات نہ کیے جائیں گے تو تلخیوں اور تلخ یادوں سے چھٹکارا اور خلاصی ناممکن ہوجاتی ہے۔

آج اس خطئہ زمین (کہ جہاں ہم(پاکستانی)رہائش پذیر ہیں )کے عوام(جو دوسرے لفظوں میں حیوانوں خصوصاََبھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی شکل میں نااتفاقی کی زندگی گزار رہے ہیں )اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے کی بجائے فرائض سے پہلوتہی کررہے ہیں ۔تلخ ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے کاہلی کا شکار ہیں ۔یہ کاہلی در حقیقت غفلت کا اسم ِثانی ہے۔یہاں ”اگر”سے کام لیا جاتا تو بہتر نتیجہ اخذ ہوسکتا تھا۔وہ اس لئے کہ ” اگر” یہ ادراک کر لیا جاتا کہ توانائی کے ذرائع جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ِ غیر مترقبہ کا درجہ رکھتے ہیں کو ضائع ہونے سے بچایا جاتا۔۔۔تو۔۔حال و ماضی میں ہماری ترقی پر ”ناممکن”جیسی اصطلاحات غالب نہ آسکتی تھیں۔۔۔!اور اس طرح مستقبل بھی روشن ہو جاتا۔

حکمران طبقہ عوام کو بے وقوف بنانے کے تمام تر حربے استعمال کرتا رہتا ہے۔ایک حربہ یہ بھی ہے کہ ”بھارت پاکستان کا پانی (دریا)روکے ہوئے ہے۔جس کے باعث پاکستان میں دریائی پانی شدید قلت اختیار کیئے ہوئے ہے۔۔۔”جھوٹ اور سفید جھوٹ ہے یہ” ۔۔جو دریا بھارت سے گزرتے ہیں تویقینااس نے اس قیمتی وسائل سے استفادہ کرنا ہے لیکن ہر سال جو پانی جوش میں آ کر سیلاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پاکستان اور پاکستانی عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے ۔باغات اور زراعت تباہ کر کے رکھ دیتا ہے ۔شہر کے شہر صفئحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے مویشی(چوپائے) اور گھریلو سازوسامان اور جمع پونجی بہا کر لے جاتا ہے۔قیمتی انسانی جانیں نذر ِ سیلاب ہوجاتی ہیں۔

تعلیمی ادارے اور ہسپتالیں دریا برد ہوجاتی ہیں ۔ان سیلابوں سے معشیت اس قدر تباہ ہوتی ہے کہ بحالی کا عمل ناممکن ہوجاتا ہے ۔ساکنان ِ وطن دربدر ٹھوکریں کھانے کے جبر میں آکر خواہش ِ حیات سے دستبردار ہوکر اہتمامِ مرگ کو ترجیح دیتے ہیں ۔انجام کار یہ بھی خود کشیوں کے رجحان واسباب میں اضافے کا باعث ہونے لگتا ہے ۔ان تمام عواقب کو اگر ہمارے منصوبہ ساز مدِ نظر رکھیں تو حکمت ِ عملیاں وضع کرتے وقت سنجیدہ اور واضح نقصانات سے ناصرف بچا جا سکتا ہے بلکہ توانائی کے بہترین اور اعلیٰ قسم کے ذرائع ”پانی ”سے لاتعداد مفادات بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

دریائی پانی جو زراعت کی پیداوار کے حصول کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ہر سال برسات کے موسم میں سیلاب کی شکل میں نقصانات پہنچاتا ہوا سمندر برد ہوجاتا ہے ۔سمندر کی نذر ہونے والا یہ پانی قلیل مقدار میں نہیں ہوتا بلکہ لاکھوں کیوسک زرخیز پانی سمندر میں ضائع ہوجاتا ہے ۔ جس کا خمیازہ برقی قلت اور نہری پانی کی صورت میں ہم بھگت رہے ہیں ۔یہی پانی جو متعدد نقصانات کا باعث بنتا ہے اگر دریائوں پر بند باندھ کر جوش میں آتے دریائوں کو نکیل ڈال دی جائے تو کیا مضائقہ ۔۔۔۔؟بندوں میں ذخیرہ شدہ پانی کو حسب ِ ضرورت استعمال میں لا کر اس سے زرعی مقاصد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں اور بجلی کی ضرورت نا صرف پوری کی جا سکتی ہے نیز حاصل شدہ برق (بجلی)دیگر ممالک کوبرآمد بھی کی جاسکتی ہے۔

Elections
Elections

مگر یہاں تو ان عقل کے اندھے بادشاہوں کو ”مجنوں نظر آتی ہے اور لیلیٰ نظر آتا ہے ۔۔۔ماضی کی تلخیاں اذہان سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں ۔کیونکہ بجائے اس کے کہ ہم اپنی غلطیوں کو دہرانے کی جرات نہ کریں ذاتی (انفرادی مفادات )حرص اور ہوس جس کا دوسرا نام بد عنوانی (کرپشن)پر نظر مرکوز رکھتے ہیں ۔۔۔!اس کیفیت میں ہم کیونکر ترقی کریں ۔۔۔؟ایسے میں اقتدار پر برجمان پنڈت ہر دور میں اقتدار میں یہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی بند کیے ہوئے ہے۔یہ واویلہ دراصل عوام کو اصل مسائل (انتخابات و اداروں میں وسیع بد عنوانی اور سیاسی اداکاروں کی کذب بیانی جو وہ ہر وقت فرماتے رہتے ہیں )سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہوتی ہیں ۔اس پر یہ کہ ہم (عوام)ہیں اندھا یقین کرلیتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ہر سال جو لاکھوں کیوسک شدید فلڈ آتا ہے

اس کے نقصانات سے کیسے بچا جائے ؟یہ کوئی مشکل اقدامات تو ہیں نہیں ۔۔۔۔۔جوناممکن ہوں ۔۔کئی ڈیمز ہیں جن کے منصوبے اس وقت زیرالتوا ہیں اورحکومتی و سرکاری عدم توجہی کا شکار ہیں ۔۔۔اسی طرح پہاڑی سیلابی ریلے بھی ہرسال بے تحاشہ نقصانات کا باعث بنتے ہیں ۔اس نعمت کو بھی اگر مناسب استعمال میں لاکر (چینلائزکرکے)زراعت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے اور بجلی جیسی توانائی کے حصول کے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں ساتھ ہی موسمی حالات کودیکھا جائے تو روشنی کی شدت اور ہوا کی طاقت سے بھی بجلی (برق)پیدا کر کے وطن کو خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔!شاید یہ بھی ہماری انتہا کی سادگی ہے کہ ان سیاست دانوں کو ہم عقل کے اندھے قرار دیتے ہیں ۔اس سے ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ انھیں اقتدار کے اصولوں اور دساتیر سے ناواقفیت ہے جبکہ یہ سیاسی پنڈت تو وسائل ارضی پر اپنی عیاریوں اور مکاریوں کے ذریعے قابض ہیں جان بوجھ کر عوام کو ایک ظالمانہ اور استحصالی نظام کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے

۔بار برداری کے طور پر عوام کو استعمال کیا جا رہا ہے یعنی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے عیش و عشرت کرنے والے یہ جاگیرداروسرمایہ دار(فرعون صفت )سیاستدان لومڑی کی سی مکاری کے مرتکب ہیں ۔میرے نزدیک یہ عیاری کذب ِ بیانی کے زمرے میں آتی ہے ”کذب بیانی ”وہ جھوٹ جو یہ کذاب عوام کے سامنے بلا خوف وخطربول دیتے ہیں نہ انھیں خوفِ خدا ہوتا ہے اور نہ عوام کے سامنے شرمند ہ ہوتے ہیں ۔۔۔!برقی قلت وتعطل(جس کا دورانیہ ہوش رباء حد تک ہے ۔یوں کہیے کہ پاکستان پانی اور بجلی کے بغیر ناتوں ہے )کہ جس کا اس وقت پاکستان کوسامنا ہے انھی سیاستدانوں کی منافقت کی بناپر ہے۔جنھوں نے محکمے تباہ کرکے رکھ دئیے ہیں۔

طویل ترین خودساختہ لوڈشیڈنگ پیدا کر کے یہ راگ الاپنا کہ پاکستان میں بجلی کی قلت شدت اختیار کرتی جارہی ہے محض ڈرامہ ہے جس کا حقیقی واقعات سے اور زمینی حقائق سے کوئی علاقہ وواسطہ نہ ہے۔ بھارت پر پانی (دریائوں) کی بندش کے الزامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔اس حقیقت بیانی سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہوں ۔مقاصد خاص یہ ہیں کہ اعلیٰ حکام اور منصوبہ سازوں کو مثبت رائے پیش کر سکوں جس کی روشنی میں مناسب حکمت ِ عملی وضع ہوسکے جو روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔بھارتی حکام اور اسٹیبلیشمنٹ تو پاکستان کے روایتی حریف ہیں ۔انھوں نے تو دریائوں پر بند بھی باندھنے ہیں اور اضافی پانی (جوبرسات میں سیلابی شکل اختیار کر لیتا ہے)دریائوں میں چھوڑ بھی دینا ہے۔

خواہ یہ سیلاب پاکستان کو وسیع تباہی سے بھی دو چار کردے ۔ان حالات سے کچھ سیکھنا ہے تو ہمارے بااختیار اداروں (سرکار)کو سیکھنا چاہیے ۔برسرِ اقتدار واختیار طبقات یہ جانتے ہوئے بھی کہ مناسب اقدامات سے پاکستان توانائی کے میدان میں ترقی کا عمل طے کرسکتا ہے دانستہ طور پر عوام کو بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کے ذریعے کمزور کر رہے ہیں تاکہ ایک عام آدمی تعلیمی معاشی اور اقتصادی سطح پر غیر مستحکم رہے طبقئہ اشرافیہ(کا مقابلہ کرسکے )سے اپناحق مانگنے کی جسارت نہ کرسکے ۔موضوع کی مناسبت سے ایک واقعہ کا ذکر کرتا چلوں ۔اس واقعہ کے ذکر سے کسی کی تضحیک مقصود نہیں بحیثیت ایک عام آدمی میرا فرض ہے جو سپردِ قلم کررہا ہوں ورنہ تاریخ مجھے خائن لکھے گی ۔سابق صدرپاکستان فاروق لغاری مرحوم کی والدہ گزشتہ دنوں انتقال کرگئی۔پورے ملک سے وی آئی پی شخصیات کے آنے کا سلسلہ تادمِ تحریر جاری ہے ۔اس موقع پر لواحقین کو میری طرف سے اظہارِ تعزیت اور دعائے مغفرت۔۔۔!موت ایک حقیقت ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں ۔۔۔قرآن مجید نے تو اس بارے صاف صاف واضح کر دیا کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔

جب سے مرحوم فاروق لغاری کی والدہ (سابق وزیرمواصلات اویس لغاری اور ایم پی اے جمال لغاری کی دادی )کی وفات ہوئی ۔تب سے تادم تحریر قصبہ چوٹی زیریں (جو صاحبان موصوف کا آبائی قصبہ ہے ) میں برقی تعطل (بجلی کی لوڈشیڈنگ )نہیں ہوئی۔عوام الناس یعنی قصبہ ہذاکے شہری خوشحال ہیں کیونکہ ان کے کاروباربلا تعطل رواں دواں ہیں ان محدوددنوں میں کہ جب تک وی آئی پی شخصیات جمال لغاری اور اویس لغاری کے ہاں فاتحہ خوانی کے لیے آتی رہیں گی۔۔۔!اس وقت اس مقدس پارلیمنٹ(مقننہ)سے ایک سوال پوچھنے کی ناپاک جُرات کر رہا ہوں کہ کیا ان دنوں بجلی پوری ہوگئی تھی کہ برقی تعطل واقع نہ ہوا۔۔؟اگر ایسا ہے تو زمینی وسائل پر قابض (خدائی دعویٰ کرنے والے) سیاست دان (جاگیردار وسرمایہ دار)طبقے کے گھر قضیئے (اموات)عوام کے لیے خوشحالی و ترقی کا باعث ہیں ۔اگر ہر سردار کے گھر اسی طرح ہر تین چارروز کے وقفہ سے اموات کا سلسلہ چل نکلے تو یقینا عوامی اُمنگیں پوری ہوتی رہیں گی۔

آخر کار ایک دن ایسی ساعت ِ سعید بھی آجائے گی کہ ان قبضہ اور دھاندلی گروپس سے پاکستانیوں کو آزادی نصیب ہوگی ۔۔۔۔!اور وطن ِ عزیز پاکستان توانائی (بجلی)کے شعبے میں خود کفیل ہوکر لازوال عروج پر رسائی حاصل کر لے گا۔پھر یہ ترقی مثالی ترقی کہلائے گی ۔ستم درستم یہ کہ معزز پارلیمنٹیرینز کی دادی کی تکفین وتدفین سے لے کر فاتحہ خوانی اور بعد کی رسومات کے دوران تک واپڈا ضلع ڈیرہ غازیخان کے اعلیٰ افسران بھی چوٹی زیریںمیں برقی تعطل پر قابو پانے کے لیے سردارصاحبان کی کوٹھی کے باہر کھلے آسمان تلے فرائض ِ غیر منصبی سرانجام دیتے رہے ۔صدقے جائیں ان فرض شناس افسران پر کہ جو اپنی سروس(نوکری)کا مقصد سرداروں کی خوشنودی کو قرار دیتے ہیں اور عوام کی کھال ادھیڑنے کو فرضِ اولین ۔۔۔ایسے بے ایمان نظام سرکار پہ لعنت بھجنے کودل کرتا ہے۔۔۔!فقر سے عاری حکمران جو دھوکہ دہی اوربکواسیات بکنے میں کسی قسم کی عارنہیں محسوس کرتے اور سرخرو ہوکر مقننہ میں بیٹھ کر ملک وملت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے میں بھی پس وپیش نہیں کرتے۔

ان کے اصل چہروں سے شناسائی رکھنے کے باوجودبھی ہربار ہم سا دہ لوح ان کی مکاری میں آکر غلطی پر غلطی کیے جا رہے ہیں ۔جس کا خمیازہ متذکرہ بالاسطور میں بیان کردہ موقف کی صورت میں ہم بھگت رہے ہیں ۔ضرورت دیدہء بینا رکھنے کی ہے کہ کس طرح ان عیار جاگیرداروسرمایہ دار سیاستدانوں کی نیتوں کودیکھ سکیں گے۔۔؟اگر ان زمینی یعنی جھوٹے تقدیر بنانے اور لکھنے والوں نے اپنے عمل سے خدائی دعویٰ ترک نہ کیا تو فطری تحریک ضرور ان کی گردن زدنی کرے گی ۔یہ عمل جلدیابادیر نتیجہ خیز ثابت ہوگا ۔آخر میں موضوع کی مناسبت سے حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کا شعر ملاحظہ ہو
مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خودبخودکرتی ہے لالے کی حنا بندی

Mansha Fareedi
Mansha Fareedi

تحریر۔۔۔منشاء فریدی
03336493056

Share this:
Tags:
bitterness impossible prosperity steps truth اقدامات حقیقت خوشحالی ناممکن
Abid Sher Ali
Previous Post تحریک انصاف آئی ڈی پیز کے پیسے جلسوں پر خرچ کر رہی ہے :عابد شیر علی
Next Post محکمہ لوکل ٹیکس کے ایم سی کے ڈائریکٹر اختر شیخ کا ایڈورٹائزرز سے بھاری رقوم کا مطالبہ ایڈورٹائزرز کا وزیر بلدیات شرجیل میمن سے نوٹس لینے کا مطالبہ
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close