Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم جیتیں گے‎

February 18, 2017 0 1 min read
Sehwan Sharif Blast
Sehwan Sharif Blast
Sehwan Sharif Blast

تحریر : عماد ظفر
سیہون شریف میں شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے نے جہاں بے شمار معصوم اور بے گناہ زائرین کی جانیں لیں وہاں پورے وطن کو ایک سوگ کی کیفیت میں بھی مبتلا کر دیا. جس قدر بے رحمی سے دربار میں موجود زائرین کے خون سے ہولی کھیلی گئی اس کی مزمت کیلئے شاہد الفاظ کافی ہو ہی نہیں سکتے.پچھلے چند روز میں دہشت گردی کی تازہ لہر نے ایک بار پھر وطن عزیز کی فضا کو خوف وحبس میں مبتلا کر دیا ہے. دہشت گردوں کا ایک خاص وقت میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں کو ٹارگٹ کرنا اور پھر سہیون میں مزار پر حملہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد پھر سے منظم ہو کر ریاست پاکستان کو ایک بڑا چیلنج دینے والے ہیں.پچھلے کچھ عرصے میں دہشت گردوں نے دوبارہ سے منظم ہو کر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کیسے اور کس کے تعاون سے کی اس کو جاننا اور سمجھنا زیادہ مشکل نہیں. طالبان کے مختلف گروہوں کو استعمال کرنا افغانستان بھارت یا ایران کیلیے زیادہ مشکل نہیں ہے.مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ان تینوں ممالک سے ہمارے تعلقات کچھ خاص نہیں ہیں اور پس پردہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں ہوتی ہی رہتی ہیں. ان دہشت گرد حملوں میں جو ایک نیا زاویہ آیا ہے وہ مزاروں کو نشانہ بنا کر وطن عزیز میں مسلکی اور فرقہ واریت شدت پسندی کو ہوا دینے سے متعلق ہے .یہ پہلو نہ صرف بے حد خطرناک ہے بلکہ اس کے انتہائی خوفناک اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

دہشت گردی کا شکار معاشرہ اگر گروہی یا مسلکی تقسیم کا شکار ہو جائے تو اس کو ختم کرنا آسان ہو جاتا ہے.اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاست پاکستان کو اس وقت جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ دہشت گردوں کے خاتمے کے علاوہ یہ بھی ہے کہ کیسے معاشرے کو تقسیم سے بچایا جا سکے .دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاک فوج کو اب افغانستان کی سرزمین پر خفیہ آپریشن لانچ کرنے پڑیں گے کہ طالبان کے زیادہ تر گروہ افغانستان کی سرزمین سے کاروائیاں کرتے ہیں.پاک فوج کی ان کاروائیوں کے جواب میں نہ صرف افغانستان سے بھی جواب آئے گا بلکہ ایران اور بھارت کو بھی وطن عزیز میں مزید دخل اندازی کا موقع ملے گا. یہ جنگ تین مختلف محاذوں پر پاک فوج کو لڑنی ہے جو کہ کسی بھی طور آسان کام نہیں ہے.ٹی وی سکرینوں پر گلے پھاڑنا یا تجزیے لکھنا یا پھر کمپیوٹر اور موبائل کی سکرینوں سے پاک فوج پر طنز و تنقید کے نشتر برسانا بے حد آسان کام پے لیکن میدان میں دہشت گردوں کا سامنا کرنا اور ان کو ان کے بلوں میں گھس کر مارنا دراصل ہمت اور بہادری ہے.پاک فوج کے جوان ویسے بھی پالیسیاں نہیں بناتے. جن آمروں نے دہشت گردوں کو پالنے کی پالیسیاں بنائیں ان کا موجودہ فوج اور اس کی کمان سے کوئی تعلق نہیں.اس لیئے شاید ہمیں اپنی فوج کی پشت پر کھڑے ہو کر اس کی حوصلہ افزائی کی اشد ضرورت ہے۔

آنے والے کچھ روز میں ہماری افواج کو بے حد کڑوے اور حساس فیصلے کرنے ہوں گے یہ فیصلے شاید مستقبل قریب میں بہت سے ایسے شدت پسند گروہوں کو بھی ہمارے خلاف کاروائیوں پر اکسائیں گے جو ابھی تک خاموش بیٹھے ہیں.یعنی اس جنگ میں شاید بے حد تکلیف دہ لمحات ابھی مزید آئیں گے.لیکن چاہے آپ پر جنگ مسلط کی جائے یا آپ اسے شروع کریں دونوں ہی صورتوں میں پھر نقصان کی پرواہ کیئے بنا اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے. چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں یہ تلخ سانحات برداشت کرنے ہوں گے.دوسری جانب سیاسی حکومت کو بھی اقدامات اٹھانے ہوں گے. جیسے ملک اسحاق کا ان کاؤنٹر کیا گیا ٹھیک ویسے ہی بہت سے شدت پسندوں اور جہادی اثاثوں کو اب تلف کرنا ہو گا. ان کی اموات سے جو دباؤ یا تقسیم معاشرے کے مختلف طبقہ فکر کے لوگوں میں پیدا ہو گی اس کو احسن طریقے سے سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ہی ختم کر سکیں گی. شدت پسندی کے خاتمے کیلیۓ بے حد تلخ سیاسی فیصلے جو عام آدمی کے نظریات سے متصادم ہیں اب جلد یا بدیر لینے ہوں گے.یقینا ایسے فیصلوں کا سیاسی نقصان سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں ہو گا لیکن اگر تھوڑے سے سیاسی نقصان کے بدلے وطن عزیز سے شدت پسندی کے ناسور کا خاتمہ ہو سکے تو یہ سودا ہرگز بھی برا نہیں ہے. کچھ ذمہ داریاں بطور شہری ہم لوگوں کی بھی ہیں کہ بجائے ہر دھماکے کے بعد ہم اپنے اپنے سیاسی نظریاتی یا مسلکی وابستگیوں کے تابع ہو کر ریاست اور ایک دوسرے پر طنز و تنقید کے نشتر برسانا بند کریں۔

Terrorism
Terrorism

دور جدید میں پراپیگینڈہ کی جنگ کسی بھی لڑائی میں بے انتہا اہمیت کی حامل ہوتی ہے.اس پراپیگینڈے کا شکار ہو کر کسی بھی دوسرے نظریے سے تعلق رکھنے والے فرد یا گروہ سے لڑ کر منقسم ہو کر ہم محض اپنا ہی نقصان کرتے ہیں. اسی طرح وہ حضرات جو ایسے سانحات ہوتے ہی مائیک یا قلم لیکر حکومت اور فوج پر چڑھ دوڑتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ نہ تو کوئی بھی حکومت جان بوجھ کر اپنے شہریوں کو مرنے دیتی ہے اور نہ ہی کوئی فوج کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کو جانتے بوجھتے عوامی مقامات یا مقدس مقامات پر دھاوا بولنے کی اجازت دیتی ہے. یقینا ہمارا اختلاف فوج کے سابقہ آمروں ریٹائرڈ جرنیلوں اور پالیسی سازوں یا وطن عزیز کے سابقہ سیاسی راہنماؤں سے ہے اور رہے گا جن کی غلط پالیسیوں اور غلط بیانیے قائم کرنے کی وجہ سے ہم یہ سب بھگت رہے ہیں لیکن اس جنگ کی ڈائنامکس کو بھی سمجھنا بے حد ضروری ہے. یہ جنگ نظریات کے ساتھ ہے اور بدقسمتی سے ہم تیسری دنیا کا ایک ملک ہیں جہاں اکثر نظریات کی چھتری تلے دنیا کے مختلف ممالک بھی اپنی اپنی پراکسی جنگیں لڑتے ہیں.نظریات کو شکست دینے اور انہیں بدلنے میں دہائیاں درکار ہوتی ہیں. سوچ اور نظریے کی یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں ایک جانب زندگی کی حقیقتوں سے منہ موڑے نفرتوں اور موت کو گلے لگانے والا نظریہ ہے اور دوسری جانب زندگی کی تمازتوں اور اجالوں کا علم تھامے سوچ. یقینا اس جنگ کو نظریاتی محاز پر ہی لڑ کر جیتا جا سکتا ہے. کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں ہے. ہمارا مقابلہ کسی بیرونی دشمن یا بیرونی فوج سے نہیں بلکہ اپنے درمیان بسنے والے اپنے ہی جیسے دکھائی دینے والے بھٹکے ہوئے اور گمراه گروہوں سے ہے.یہ گروہ کبھی خود اور کبھی دشمن طاقتوں کا آلہ کار بن کر کاروائیاں کرتے ہیں. یہ ایسے گروہ ہیں جو کسی بھی جنگی ضابطے یا قانون کو نہیں مانتے. اور اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کیلئے کسی حد تک بھی گربھی سکتے ہیں. سوچ کی لڑائی سب سے کڑی ،طویل اور صبر آزما ہوتی ہے. اعصاب کو شل کر دینے والی اس لڑائی کو نظریاتی محاز پر ہم سب مل کر ہی جیت سکتے ہیں. جہاں ریاست کو اس نظریاتی اور سوچ کے محاذ پر جاری جنگ میں بے پناہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے وہیں ہم سب کو بھی بطور معاشرہ اپنے اپنے حصے کا فرض نبھانے کی ضرورت ہے۔

ہم دہشت گردی کا واقعہ ہوتے ہی طنز و تنقید کے نشتر اٹھائے فورا اپنی اپنی سوچ کو درست ثابت کرنے نکل آتے ہیں اور ریاستی اداروں کو مجرم ٹھہراتے ہوئے نادانستگی میں مزید تقسیم ہوتے ہوئے دہشت گردوں کی ہی مدد کر دیتے ہیں.ہمیں بطور معاشرہ اس امر کے ادراک کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ایک آئیڈیل معاشرے یا آئیڈیل حالات و واقعات کے پس منظر میں نہیں رہتے. ایک جنگ سے نبرد آزما قوم کو اس شعوری ڈینائل میں پڑے رہنا کوئی مدد یا مثبت نتیجہ نہیں دے سکتا. عہد گم گشتہ یا گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا لیکن ہم سب اس ماضی سے سیکھتے ہوئے اپنے حال کو درست کرتے ہوئے آنے والے کل کو محفوظ ضرور بنا سکتے ہیں. ہم سب کو اس ضمن میں تلخ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار اس نظریے اور سوچ کے خلاف ادا کرنا ضروری ہے جو تاریکی سے پیار کرتا ہے اور اجالوں سے نفرت. یہ یقینا آسان کام نہیں ہےکیونکہ ہم نے لاتعداد بچوں اور بے گناہوں کی لاشیں اس جنگ کے دوران کاندھوں پر اٹھائیں ہیں اور شاید مزید اور بھی اٹھانا پڑیں. لیکن کیا ہم خوف کا شکار ہو کر اپنے بچوں کو گھروں میں قید کر لیں۔

خود زندگی کی تمام مسرتوں یا تفریحات سے منہ موڑ لیں.یا پھر ایسے ہی ایک دوسرے پر تنقید کرتے ان دہشت گردوں کے وجود کا باعث کبھی اپنی ہی فوج، گزشتہ پالیسیوں یا بیرونی سازشوں پر ڈال کر مزید تقسیم ہوتے جائیں؟ موجودہ حالات یا اس دہشت گردی کی جنگ میں حصہ لینا نہ لینا ہمارا فیصلہ نہیں تھا لیکن ہم نے یہ فیصلہ خود کرنا ہے کہ کیا ہم نے محض ڈر کر نوحہ خواں بن کر اور طنزو تنقید کے نشتر برسا کر خود کو اور اپنے بچوں کو خوف کی فضا میں سانس لیتے رہنے دینا ہے یا پھر ایسے پر امن معاشرے میں بسنا ہے جہاں زندگی اپنی تمام تر تکالیف اور مصائب کے باوجود مسکراتی گنگناتی اور رواں دواں رہے. کہتے ہیں کہ طویل سے طویل رات کی بھی صبح ہوتی ہے .ہر جنگ کا ایک اختتام ہوتا ہے. ہم نہیں تو ہمارے بچے یقینا ایک پرامن اور مثالی معاشرہ ضرور دیکھنے پائیں گے. بس ہمیں یقین کی ضرورت ہے اور اپنی اپنی سطح پر اپنے اپنے کردار کو نبھانے کی.ریاست اور ریاستی اداروں کو اپنی اپنی زمہ داریوں کا احساس دلانا ایک اچھا پہلو ہے اور ان پر تنقید ہم کرتے ہی رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے .لیکن اس جنگ کو جیتنے اور امن کی جانب لوٹنے کے لیئے مشکل حالات میں ہم سب کو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کی رمق کا ساتھ دینا ہو گا نا کہ نفرت اورجہالت کے اندھیروں کا. یہ لڑائی ہمیں جیتنی ہے اور ہم جیتیں گے بس یقین اور حوصلہ مضبوط رکھنا ہو گا۔

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
against blast innocent Patriotic Sehwan Sharif terrorism war win جنگ جیتیں خلاف دھماکے دہشت گردی سیہون شریف مزار معصوم وطن
Sehwan Sharif Blast
Previous Post چوہدری عابد رضا کا سیہون شریف دربار میں ہونے والی دہشت گردی کی بھرپور الفاظ میں مذمت
Next Post لاشیں اٹھانے کا سلسلہ کب تھمے گا؟؟؟
Blast Victims

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close