
تحریر : ریاض احمد ملک
ہمارے وطن عزیز کو بے شمار قسم کی دہشت گردی کا سامنا ہے اس بیماری میں ہم محترم ضیاء الحق کی مہربانیوں سے مبیلا ہوئے یہ ناسور آہستہ آہستہ پروان چڑھتا رہا اور جب جنرل مشرف کو اقتدار ملا تو یہ ناسور ایک بری قسم کے کینسر میں تبدیل ہو چکا تھا کوئی دن ایسا نہ گیا جب ہمارے ملک کے کسی شہر میں دھماکہ نہ ہوا ہو یہ دھماکے کون کرتا ہے ہم اس کی وجہ کو ہم نہ سمجھ پائے اور ہم نے مدارس اور مساجد کو دہشت گردوں کی کمین گاہیں سمجھنا شروع کیا اور ان کو تباہ کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہ چھوڑی ہم نے مساجد کے سامنے بندے ماترم لکھنے کی تیاریاں بھی شروع کر دیں۔
آخر یہ سب کون اور کیاں کرا رہا تھا اس کے پیچھے کون سے ہاتھ کام کر رہے تھے ہم نے کبھی نہ سوچا اور دہشت گردی کی وہ جنگ جو ہماری کبھی نہ تھی اس کی لپیٹ میں ہم خود آگئے ملک بھر میں خود کش دھماکے شروع ہو گئے جس میں ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہو گئیں اور ہزاروں افراد معذور ہو گئے ہم نے کیوں نہ سوچا کہ مساجد میں دھماکے کون کر سکتا ہے کیا کوئی مسلمان مسجد کو نشانہ بنا سکتا ہے کیا کوئی مسلمان مسجد میں نماز پڑھنے والوں کو مارنے کی جرات کر سکتا ہے پھر بھی ہم بھی مساجد و مدارس کو نشانہ بناتے رہے اور دہشت گرد بھی یہی کام سرانجام دیتے رہے گویا ہم اور دہشت گر بلکل ایک جیسا ہی کام کر رہے تھے تو اس نیماری سے چھٹکارا ممکن ہو سکتا تھا بلکل بھی نہیں جب مشرف نے اقتدار سمبھالا تو ہماری قوم نے مٹھائیاں تقسم کیں اور جب اس کا نتیجہ نکلنا شروع ہوا تو پورا ملک آگ و خون میں نہا رہا تھا ہم اس سے چھٹکارا چاہتے تھے مگر وہ ہاتھ جو اس جیسے لوگوں سے کام لینا چاہتے تھے انہوں نے اس کو کسی کمبل کی طرح ہمیں چمٹا دیا جب وہ ایک حد عبور کر کے یہودی لابی کو اور اس کے طور و طریقے ہم پر مسلط کرنے پر اترا تو دیر آئے درست آئے ہمیں ہوش آہی گیا اور اس کو ہم نے اقتدار سے الگ کیا تو اس کے بھائی محترم زرداری صاحب بھی ایسے ہی آئے جیسے جنرل ایوب کے بعد جنرل یحیٰ نے اقتدار سمبھالا انہوں نے دعوے تو بہت کئے مگر کام کچھ بھی نہ کیا مشرف کا مشن وہ آگے چلاتے رہے۔
ان کے دور اقتدار میں پورے ملک میں بجلی بانٹی گئی مگر ایک یونٹ بھی بجلی پیدا نہ کی گئی زرداری نے بھی وہی طریقہ اپنائے رکھا جس سے ملک میں بجلی کا بحران پیدا ہو گیا اس کے بعد کئی ہاتھ سوئی گیس کو تباہ کرنے میں لگے اور انہوں نے اپنا منشور مکمل کر لیا اور پاکستان کو دھماکوں کے بعد اس دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد میاں برادران کی باری آئی تو انہوں نے ملک میں اس سارے تباہ شدہ املاک کو کچھ سنوارنا شروع کیا ابھی ان کے منصوبے شروع ہی ہوئے تھے کہ پھر کچھ نادیدہ ہاتھوں نے اپنا ہوم ورک شروع کر دیا سب سے پہلے بابائے تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کا پروگرام بنایا تو محترم عمران خان نے بھی ان کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار کے ایوانوں میں آنے کا خواب دیکھنا شروع کیا اور دھرنا پروگرام جس میں نیا پاکستان کی بنیاد رھی اور عوام کو بتایا کہ قائداعظم کے پاکستان سے اظہار لا تعلقی کرتے ہوئے وہ پاکستان قوم کو دیکھایا جس میں ان کی بیٹیاں سر بازار ناچ رہی تھیں روزانہ کنجر پروگرام کے زرئعے حکومت کے کاتمے کی نوید سناتے رہے اسی دوران ملک کی تاریخ میں پہلی بار قوم کے نونہالوں کو خون میں نہلا دیا گیا وہ کون تھے جنہوں نے ہماری قوم پر کاری ضرب لگائی ہماری حکومت اور آرمینے دہشت گردوں کے بارے میں درست فیصلے کئے جو بہت پہلے ہو جاتے تو آج ملک امن کا گہوارہ بن چکا ہوتا مگر ہم سوچتے بہت دیر سے ہیںیا ہماری سوچنے کی حس کسی اور کے قبضے میں ہوتی ہے خیر میرا پالا روزانہ ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو نواز شریف کے مخالفوں میں شامل ہوتے ہیں۔
کسی کا خیال ہے کہ ججوں کو نواز شریف نے حکم دیا کہ ممتاز قادری کو پھانسی دو اور کسی کا خیال ہے کہ نواز شریف ملک کو لوٹ رہا ہے پاناما لیک کا خصوصی حوالہ دیا جاتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس کی تحقیقات ہو رہیں ہیں نتیجہ ضرور نکلے گا اس وقت ہمارے ملک میں ایک اور دہشت گردی کا حملہ نونہالوں پر ہو رہا ہے یہ ہے بچوں کے اغوا کا سلسلہ جس کو سمبھالنا پولیس کا کام ہے جو بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ اغوا کا کوئی واقعہ نہیں ہواآئی جی پنجاب نے بھی کچھ فگر سامنے لائے جن میں کتنے بچے گھر سے بھاگ گئے اور برآمد ہوئے سیالکوٹ لاہور اور دیگر شہروں میں بھی بچوں کے اغوا کی صدائیں سنائی دینا شروع ہو گئیں۔
پولیس کے مظابق یہ افوائیں ہیں مگر پولیس نے کسی افوا ساز کو پکڑا یہ بڑا اہم سوال ہے اگر نہیں تو کیوں گذشتہ روز سے بوچھال کلاں میں ایک واقعہ پیش آیا جمیل نامی شخص کے دو بیٹوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی وہ بچ گئے کیونکہ ایک بزرگ شخص جو موقع پر آ نکلا یہ شور ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ بوچھال کلاں کی ایک بزرگ خاتوں نے انکشاف کیا کہ اس نے گلی میں دو برقعہ پوش لوگوں کو دیکھا اس کے بلانے پر وہ بھاگ نکلے میں نے بارہا کوشش کی کہ پولیس کو اطلاع دی جائے مگر عوام کا اعتماد پولیس سے اس قدر اٹھ چکا ہے کہ وہ پولیس کو اطلاع دینا اپنے لئے مصیبت سمجھتے ہیں گذشتہ روز بوچھال کلاں میں ہیتیں لڑکیاں جو نجی سکول میں زیر تعلیم ہیں چھٹی کے بعد گھر جا رہی تھیں کہ ان پر تین افراد نے جھپٹا مارا تو وہ ایک گھر میں گھس گئیں گھر والوں کے بعد محلہ دار بھی نکل آئے۔
مساجد میں اعلانات ہوئے فون پر میسج چل نکلے تو میں نے ڈی پی او چکوال سے بذرئعہ میسج رابطہ کیا جس کے بعد ہل چل تو مچی مگر پولیس کے مطابق اس وقت تک کوئی بات سچ نہیں مانی جا سکتی جب تک اس کی رپورٹ درج نہ ہو اب مسلہ اور سنگین ہو گیا ہے کہ عوام پولیس کے پاس جانا نہیں چاہتے پولیس خود اس معاملے پر غور کرنا نہیں چاہتی اور یہ نسخہ بتا دیا جاتا ہے کہ ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں اب حالت یہ ہے کہ بچے کسی اجنبی کو دیکھ لیں تو خوف زدہ ہو جاتے ہیں بچیاں سکول اور ٹیوشن سینٹر جانے سے گریزاں ہیں۔
اکثر بچیاں تو تعلیم کا سلسلہ ترک کرنے کا بھی سوچ رہی ہیں شائد یہ بھی افواہ ہی ہو مگر نہیں جناب یہ سچ ہے اب ہمیں کیا کرنا ہے جس سے بچوں پر طاری یہ خوف ختم ہو سکے شائد ہمیں افواج پاکستان کو ہی دعوت دینا پڑے کہ وہی نونہالوں میں پیدا خوف کو دور کریں کیونکہ پولیس یا تو یہ کام کرنا نہیں چاہتی یا پھر کوئی ہاتھ انہیں ایسا کرنے سے روک رہے ہوں۔
تحریر : ریاض احمد ملک بوچھال کلاں
03348732994malikriaz57@gmail,com
