
یہ دو اجتماعی المیے آج کے عہد میں سانس لیتے ہر انسان کا براہ راست ذاتی دکھ بن کر رہ گئے ہیں ۔ایک ایسا ناسور جو سرطان کی طرح اپنی جڑیں پھیلاتا اور گہرے سے گہرا ہوتا چلا جا رہاہے۔ان میں سے ایک دہشت گردی ہے اور دوسرا دہشت گردی کے سدِ باب کے لئے اس سے بھی بڑھ کر کی جانے والی دہشت گردی ہے۔ظلم کی اس چکی کے دو مضبوط ترین پاٹ اس دینا کے باسیوں کو جی بھر کر کچلتے پھرتے ہیں ۔کیسا بد ترین المیہ ہے کہ جس کے سبب بیمار پڑتے ہیں دوا بھی اسی عطار کے لونڈے سے لینے پر مجبور ہیں ۔ایسے میں مریض کی کیفیت کیا ہوگی؟اور وہ کس کرب سے گزر تا ہوگا ؟، یہ جاننا ہرگزدشوار ہے نہ اس کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت کہ ہمارے قرب و جوار میں ایسے لوگ بکثرت موجود ہیں جو اس فتنے کا شکار ہو چکے ہیں ۔کہتے ہیںدہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا (کہ ہر معاشرے میں ایسے انتہا پرست وشدت پسند عناصر بہر طور موجود ہوتے ہیں جو دلیل کا جواب گالی سے یا گولی سے دے کر مخالفین کا منہ بند کرنے میں یدِطولی رکھتے ہیں ) ہاں دہشت گردوں کا ضرور ہوتا ہے (اور دنیا کی نظر میں ہر دہشت گرد صرف مسلمان ہی ہو سکتا ہے )یہ اور بات کہ ان دہشت گردوں کو کوئی ”اون”(سوائے پاکستان کے ) نہیں کرتاکہ آج کل انہیں عاق کر دینے کا رواج ہے ۔ لیکن ہم نے تو اپنے ہاں ہمیشہ سے الٹی گنگا بہتے دیکھی ہے۔اور دنیا بجا طور پر یہ اعتراف کھلے بندوں کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے اور یہ بھی کہ اونٹ کی طرح اسکی بھی کوئی کل سیدھی نہیں۔
ہم نے اقوام عالم میں اپنی جو شناخت قائم کی ہے اسکے بعد یہ امید رکھنا کہ دنیا ہمارے بارے میں مثبت طر ز سے سوچے گی یا ہمدردانہ رویہ رکھے گی،محض خوش فہمی ہو گی۔ ہمارے اسی قومی تشخص نے ہمیں عالمی برادری میں بہت حد تک تنہائی کا شکار کر دیا ہے ۔اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہمیں نہ تو اس کی پرواہ ہے نہ ہم اس تاثر کی نفی کرنے کی کسی کوشش کا کبھی حصہ رہے ہیں ۔ مغربی دنیا میں مسلمان ممالک بالعموم اور پاکستان بالخصوص دہشت گردی اور دہشت گردوں کے بہت بڑے ایکسپوٹر ہیں جہاں دہشت گرد اور دہشت گردی کے فروغ و نشر و اشاعت کے لئے حالات انتہائی سازگار ہیں پاکستانی سرزمیں کا موسم اور طبعی حالات اس قسم کے ”پودوں ” کی آبیاری کے لئے انتہائی موزوں ہے ۔سویہ خود رو پودوں کی طرح آپ سے آپ پروان چڑھتے ہیں اور تو اور بعض دفعہ بعض علاقوں میں تو” سرکاری سرپرستی” نہ ہونے کے باوجود بھی اس کو بڑی تیزی سے پروان چڑھتے اور تناور درخت بنتے دیکھا گیا ہے۔ ہماری یہ امتیازی خصوصیات ہمارے ان بھائیوں کے لئے کس قدر ”فخرو انبساط” کا باعث ہیں یہ تو کبھی کوئی انہی سے پوچھے اس سارے تاثر کے فروغ میں ہمارے یہاں کے برقی میڈیا کے کچھ عناصر نے جو ”مثالی ”کردار ادا کیا ہے وہ محتاجِ بیاں ہرگز نہیں۔ کہتے ہیں احمق کو دشمن کی حاجت نہیں رہتی۔ سو ملکی برقی میڈیا کی موجودگی میں ہماری قوم کو کسی بد خواہ کی ضرورت سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ پاکستانی اس پر جتنا بھی” فخر” کریں کم ہے۔ صرف اجمل قصاب ہی کی مثال کافی و وافی ہے کہ کس پھرتی سے ہم نے اسے پاکستانی ثابت کیا اور کس طرح ہم نے ” ہمیشہ سب سے تیز اورسب سے آگے ” کے جلی عنوانات کے تحت اس کارنامے کا کریڈٹ لیا اور اب تک لے رہے ہیں (بجائے شرمندہ ہونے اور اپنی غلطی کے برملا اعتراف ومعذرت کرنے کے)۔میں کپتان کے اس خیال کاپرجوش حامی رہا ہوںکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔اور یہ کہ یہ امریکی جنگ ہم نے خوامخوا ہ اپنے گلے میں ڈھول کی طرح ڈالی ہوئی ہے جسے بجاتے رہنے میں سراسر ہمارااپنا نقصان ہے اور ہمیں جتنا جلدی ممکن ہو اس سے خود کو علیحدہ کر لینا چاہئے۔
حالیہ اے پی سی کے مشترکہ اعلامیے میں بھی یہی روح کارفرما دکھائی دیتی ہے میں حیران ہوں کہ اچانک کیا ایسا ہوا کہ مجھے ایک عام پاکستانی شہری کی حیثیت سے یہ خدشہ سا ہونے کہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے مزاکرات کی بات بجا سہی لیکن یہ سب اتنا سادہ بھی نہیں ہے کہ اسے آسانی سے ہضم کر لیا جائے اور پھر کچھ ایسی خبریں آنے لگیں کہ جس نے میرے باطنی خدشات کو مزید بڑھاوا دیا گرفتار طالبان کی رہائی اور پاک فوج کے جوانوں کی المناک ہلاکت کی خبریں ایک ساتھ آئیں تب اندرنی بے چینی کی وجہ سمجھ میں آنے لگی اور پھر پشاور کے المناک سانحے نے کچھ بھی غیر واضح نہ رہنے دیا ۔(اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہو گی )۔ کچھ عناصر، جو اس کو غلط رنگ دیکر پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرانا چاہتے تھے، ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی ہے کچھ پر تشدد واقعات ضرور رونما ہوئے جو ناپسندیدہ تویقیناً ہیں لیکن ہم پاکستانی تو اب اس کے بھی عادی ہو چلے ہیں۔ احتجاج امریکہ کے خلاف ہوتا ہے اور املاک اپنے ہی کسی بھائی کی جل جاتی ہے تو یہ عیسائی بھی تو پاکستانی ہی ہیں۔ایک سے جذبات وہی ایک سا جذباتی انداز۔ مقام شکر ہے کہ حالات اب معمول پر آ گئے ہیں۔عوام کو حکمرانوں کی حواس باختہ سنجیدگی سے نہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے مکمل خاتمے سے غرض ہے۔ اسی ایک مقصد کیلئے عام نے انہیں ” تاریخی مینڈٹ” دیا تھا۔ لیکن افسوس عوام کی تمام تر خواہشات نقش بر آب ثابت ہوئیں اوراب تک انہیں اس خواب کے بدلے عذاب سمیٹنا پڑا ہے۔ پچھلی حکومت کو کوسنے والوں کو اب چھپنے کی جگہ کہیں نہیں ملتی المیہ تو یہ ہے کہ مذاکرات کا متفقہ اعلامیہ جاری کرنے والوں نے ایک بے کار کی مشق پر سو دن ضائع کر دئیے۔
کاش کوئی ان سے پوچھے کہ حضور یہی کچھ توآپ آج سے چار ماہ قبل بھی اپنے انتخابی جلسوں میں بھی فرمایا کرتے تھے، تو پھر اس میں نیا کیا ہے؟اگرآپ کو قوم کا درد ہوتا تو آپ مزید جانوں کے ضیاع سے بہت پہلے دہشت گردوں کے خلاف کچھ نہ کچھ تو اب تک کرچکے ہوتے۔سیاستدانوں کا میلہ لگانے سے کتنا بہتر یہ ہوتا کہ گذشتہ حکومت کے ذمہ داران کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل تیار کرتے اور انکے تجربات اور ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے پہلے سے زیادہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ میدان عمل میں آتے۔افسوس ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور اتنا قیمتی وقت ضائع کر دیا گیا۔طے شدہ پلان دیکھ کر بے اختیار سر پیٹنے کو دل کرتا ہے کہ” اپنے لوگوں ” سے کوئی بھی بات منوائے بغیر مذاکرات کی پیش کش کر دی گئی ۔اور نہیں تو سیزفائر ہی کی شرط منوالی جاتی۔اس طرح کم از کم حکومت وقت کو غیر سنجیدہ کہنے والوں کی بھی سنجیدگی کا کچھ تو ایکسپوز ہوپاتی۔ فیصلے کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ جیسے ہماری سلامتی پر مامور ادارے بھی اب جان چھڑانے کے چکر میں ہیں ۔یہ بات اعتراف شکست کی علامت نہیں تو اور کیاہے؟اگر ان کے پاس بھی عوام کی تسلی و تشفی کا کوئی سامان نہیں تو عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہوگی کہ انہیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر یکتا و تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔اگر ان اداروں کے پاس بھی پچھلی حکومت کی طرح کچھ نہیں ہے سوائے اپنی بے مثال قربانیوں کے ورد کے، تو کیا یہ کہنا نا مناسب ہوگا کہ قوم کا آدھے سے زیادہ بجٹ خرچ کرنے والے یہ ادارے آخر کس مرض کی دوا ہیں؟اور یہ بھی کہ انکی موجودگی کا آخر جواز کیا ہے؟باتیں تلخ ضرور ہیں لیکن کیا کیا جائے جب دنیا کی بہترین فوج اور انٹیلی جینس ایجنسیاں”مٹھی بھر” آستین کے سانپوں کے ہاتھوں ہر محاذ پر شکست کھاتی اور پسپا ہوتی دکھائی دے گی تو کہنا ہی پڑے گا
کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا کہ تمام ریاستی ادارے ،میڈیا اور سول سوسائٹی صرف سر جوڑ کر نہ بیٹھیں بلکہ کندھے سے کندھا ملااور اپنی ذات سے بلند ہو کر قیام ِامن کے لئے جہادکریں کہ جس سے دہشت پسندی، انتہا پسندی، شدت پسندی، تعصب پسندی اور دہشت گردی جیسی انسانیت کش سوچیں اور کاروائیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نابود ہو کر رہ جائیں۔یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے جسے ہم سب نے مل کر اور اخلاص کے ساتھ حل کرنا اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کرنی ہے ایک ایسا پاکستان جس کے لئے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی ۔اگر ان کا خون رائیگاں گیا تو ہمارے خون سے کوچہ و بازار رنگین ہوتے رہیں یہاں موت کاگدھ انسانی وجود نوچتا رہے گا۔بکرے کی ماں نے ہمت نہ کی تو ایک کے بعد ایک کی باری آتی جائے گی ۔جب مرنا ہی مقدر ٹھہر اہے تولڑ کر کیوں نہ مرا جائے۔ امام حریت و غیرت مولا حسین کے اس فرمان کی روشنی میں اپنے جسم نابود کیوں نہ کئے جائیں جسکا مفہوم کچھ اس یوں ہے کہ یہ جسم فنا ہونے کے لئے ہیں تو پھر خدا کی راہ میں فنا ہونے بہتر اور کیا صورت ہو گی؟
تحریر:صفدر علی حیدری
