Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قرآنِ مجید پڑھنے والوں سے چند سوالات

March 24, 2014 0 1 min read
Hadeeth
Holy Quran
Holy Quran

سے زیادہ اہمیت دینے کو تیارنہیں ہوسکی ہے کتاب پڑھنے کے چار طریقے ہوتے ہیں(١)کتاب کے متن کو سرسری اندازسے پڑھنا(٢)متن کوسمجھ کرپڑھنا(٣)لفظوں کے مزاج اورمتن سے جھانکتے مطالب کواپنے اندرجذب اور محسوس کرنا (٤) احساس کے بعدکسی تخلیقی عمل کا پیدا کرنا۔ دنیا کی کوئی بھی کتاب ہو،ان میں سے کسی ایک مرحلے سے ضرورگزرتی ہے۔ کتاب کے بغیر انسانی زندگی بے کیف ہے،بے روح ہے ،بے نورہے،بے معنی ہے، بے مغز ہے اوربے رونق ،کیوں کہ ترقی کے تمام سوتے کتاب کے متن سے ہی پھوٹتے ہیں۔ترقی کے لیے کتاب کاصرف مطالعہ کافی نہیں ہوتا،اسے سمجھ کرپڑھنابھی کافی نہیں حتیٰ کہ متن کی داخلی ہئیتوں تک پہنچنا بھی کافی نہیں بلکہ اسے محسوس کرکے تخلیقی سطح پراس کااظہار ضروری ہوتاہے ۔آپ کوئی بھی ایسا انسان نہیں دکھاسکتے جس کی ترقی کاسفرکتاب کے بغیر شروع ہواہو۔ آج جوبھی قومیں یاافرادتخلیق و اختراع کی چوٹی پرکھڑے ہوئے ہیں ان کاخمیرکتاب کے متن ہی سے اٹھاہے ۔ہماری کم نصیبی کہ کتاب کے ساتھ ہماری وابستگی ایسی نہیں ہے اس لیے ترقی بھی دوسروں کامقدر چمکارہی ہے۔ آج ہم جس کتاب کی بات کر رہے ہیں یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے بلکہ یہ وہ کتاب ہے جوساری کتابوں کا ماخذ و مرجع ہے اورجسے اُم الکتاب کی حیثیت حاصل تھی ،حاصل ہے اورحاصل رہے گی۔مقامِ افسوس ہے کہ اس اُم الکتاب یعنی قرآنِ مجیدکے ساتھ ہماراتعلق افہام و تفہیم کابھی نہیں ہے ،تخلیقی اوراختراعی نوعیت کاربط توبہت بعدکی چیز ہے۔

بلاشبہہ قرآنِ مجید سے مریض شفاپاتے ہیں،ا س کی برکتوں سے بگڑے کام سنورجاتے ہیں اوراس کی تلاوت سے آنے والے مصائب اپناراستہ بدل لیتے ہیں ۔ ہمیں سوچناچاہیے کہ جب قرآنِ مجیدکی تلاوت سے زندگیاں بدل سکتی ہیں تو اس کی داخلی اورمعنوی کیفیات کوجذب کرکے زندگیاں کیوں نہیں بدل سکتیں؟ہمارے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے یااسے ایساسمجھنے پر مجبور کردیا گیا ہے کہ قرآن محض تلاوت کی کتاب ہے،اس کی آیات جھاڑ پھونک اور نظرِ بد دور کرنے کے لیے اتری ہیں، اس کی تلاوت سے ثواب ملتا ہے اور دوکان و مکان میں خیروبرکت اترتی ہے اورا س سے روحوں کو ایصال ثواب کیاجاتاہے وغیرہ وغیرہ۔بلاشبہہ قرآن ان ساری خصوصیات کا بھی حامل ہے مگر اس کامقصدِنزول ان حیثیتوں سے کہیں بالاتر ہے ۔ اگر آپ نے قرآنِ کریم کومحض تلاوت کرنے اورثواب کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے تویقین کرلیجیے کہ ہم نے قرآن کے نزول کامطلب ہی نہیں سمجھاہے ۔

قرآنِ مجیدکواپنامرکزِحیات اورسرچشمۂ ہدایت تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے سمجھ کرپڑھاجائے ،اس کے اندرچھپی ہوئی حقیقتوں اورحکمتوں کومحسوس کیاجائے اورپھرعملی سطح پراسے دنیاکے سامنے پیش کیا جائے ۔جب تک ہم اسے Absorb کرنا نہیں سیکھیں گے تب تک اپنی عظمتِ رفتہ کی گردِراہ کوبھی نہیں پاسکیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآنی مطالب کے اس احساس وانجذاب کا مطلب کیاہے اوریہ کیفیت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

بغیرعربی زبان کے قرآنِ کریم کی صحیح تفہیم ممکن ہی نہیں ۔آج قرآنِ کریم کے بہت سارے تراجم مارکیٹ میں ضروردستیاب ہیں اس کے ذریعے بہت سارے باذوق حضرات قرآنِ کریم کوسمجھنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیںلیکن قرآن کی روح دراصل عربی زبان میں ہے۔ دنیا کی کسی کتاب کاکسی بھی زبان میں ترجمہ ہوجائے لیکن وہ اصل کے برابرکبھی نہیں ہوسکتا۔جوچاشنی اصلِ کتاب کے مطالعے سے محسوس ہوسکتی ہے وہ ان کے تراجم پڑھنے سے کبھی نہیں ہوسکتی کیوں کہ اصلِ متن اوراصلِ مصنف کے پیچھے ایک پوراپس منظرہوتاہے ، اس متن میں اس ماحول کی خوشبوئیں بھری ہوتی ہیں۔ مترجم لاکھ کوشش کرلے وہ ویسا ماحول اور ویسی فضاکبھی نہیں پیداکر سکتا۔اصلِ کتاب پڑھے بغیرہم چاہے کتنے ہی تراجم پڑھ ڈالیں، اگر ہم باذوق ہیں تویقین مانیے ہمیںتشنہ لبی کا احساس ہمیشہ ستاتارہے گا۔

Prayers
Prayers

ہم روزانہ پانچ وقت کی نمازیں پابندی سے پڑھتے ہیں، نماز میں سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں،نمازکے بعد دعائیں مانگتے ہیں اور روزانہ یاکبھی کبھار قرآنِ کریم کی تلاوت بھی کرلیتے ہیںلیکن ہمارے پلّے کچھ بھی نہیں پڑتاتوہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے رب کے حضورکیسے حاضر ہو سکتے ہیں؟ہمیںنمازوںمیں لطف اس لیے نہیں آتا کہ عربی زبان ہمارے لیے اجنبی بن گئی ہے ۔ اگرہم عربی زبان سے واقف ہو جائیں تویقین کرلیجیے ہمیں عبادات میں بڑالطف آئے گا۔ ہماری نماز کبھی بے روح نہیں ہوگی ،ہماراحج محض حج نہیں رہ جائے گا بلکہ اِیفاے عہدکا مظہربن جائے گا۔ہم اس وقت محسوس کر سکیں گے کہ ہم خداسے کیا باتیں کررہے ہیں۔ہم یہ جان سکیں گے کہ خداسے ہمارے تعلق کی بنیادیں کیا ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے :أنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأنَّکَ تَرَاہُ، نْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَنَّہُ یَرَاکَ(بخاری)یعنی عبادت ایسے کروکہ تم خداکودیکھ رہے اگراتنانہ بھی ہوسکے تو اس طرح کروکہ خداتمہیں دیکھ رہاہے۔یہ حدیث روحانیت اور تصوف کی اصل ہے ۔ہم نمازسے غیرمحسوس طورپر روحا نیت کی طرف قدم بڑھانے لگتے ہیں اوراس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہوکہ ہم جوکچھ خداکے حضورپیش کررہے ہیں ، اس کا مطلب کیا ہے ۔

نمازوں میںہماراجی اسی لیے بھٹکتاہے کہ ہم جو سورتیں یاآیات تلاوت کرتے ہیں انہیں سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔اگرہم سورتوں اور آیات کے مزاج کومحسوس کرنے لگیں تویقینا ہمارے دل خشیتِ الٰہی سے بھرجائیں گے ،پھر ہماری نمازیں محض اٹھک بیٹھک کاتماشانہیں بلکہ تقربِ الٰہی کازینہ بن جائیں گی۔اسے ایک محسوس مثال سے سمجھتے چلیں۔

آپ کسی جلسہ گاہ یاسیمینارہال میں بیٹھے ہوں ۔کوئی خطیب انگریزی یاعربی میں تقریرکررہاہوتوآپ چاہے کتنے بھی شوقین ہوں تھوڑی دیرکے بعدضروربورہو جائیں گے اورچاہیں گے کہ جلد سے جلدفاضل خطیب اپنی تقریرختم کرے اورکوئی اردوزبان یا جس زبان سے آپ کی اچھی طرح آشنائی ہے، اس میں تقریرکرے اورجب آپ کی پسندیدہ زبان میں تقریر ہونے لگے گی توآپ کی ساری توجہات اسی طر ف مرکوزہوجائیں گی ۔آپ نہ صرف اسے سنیں گے بلکہ اسے محسوس بھی کریں گے ۔
آپ اپنے Boss،کسی امیر،کسی آفیسریامنسٹرکے پاس درخواست لے کرجائیں اوراس سے اپنامدعابیان کریں توضروری ہے کہ جس مدعاکوآپ بیان کررہے ہیں اسے اچھی طرح سمجھنے پربھی قادر ہوں تبھی آپ اپنادردِدل اس کے سامنے اچھے ڈھنگ سے بیان کرسکیں گے۔بلا تمثیل نمازبھی ایک قسم کی دعاہی ہے ۔جب تک آپ کویہ معلوم نہیں ہوگا کہ آپ اپنے رب سے کیامانگ رہے ہیں اورنمازمیں اپنے پروردگار سے کیاباتیں کررہے ہیں تب تک معرفت ربانی کاحصول ناممکن ہے کیوں کہ عربی زبان مسلمانوں کو اپنی صحیح شناخت تک پہنچادیتی ہے اورانسان پرسے اس کی ذات پرپڑے ہوئے پردے گرادیتی ہے اس کے بعداپنے رب کی شناخت ومعرفت اورقربت کافاصلہ بس دوچارقدم ہی رہ جاتا ہے۔حدیث شریف: مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہُ(حلےة الاولیاء وطبقات الاصفیائ:ج:١٣،ص:٢٠٨) کاغالباًایک مقصدیہ بھی ہےمسلمانوں کاتصورِقرآن صرف ثواب تک محدودکیوں ہے ،یہ بات سمجھ سے بالاترہے ۔

اگرہم ثواب کی نیت سے پڑھیں گے تو صرف ثواب ہی پائیں گے اوراگراس کے مفہوم کوسمجھ کر،اسے جذب کرکے اورجذب ومحسوس کرنے کے بعدتخلیقی سطح پربیدارہونے کی نیت سے پڑھیں گے توتلاوت کاتوثواب ملے گاہی ترقی کے رازبھی کھلتے چلے جائیں گے ۔ کبھی غورکیاکہ قرآنِ کریم کے صرف تیس پارے ہی کیوں ہیں۔؟راقم الحرو ف نے یہ بات کسی مستند کتابِ سیرت یاتفسیرمیں نہیں پڑھی مگرقیاس یہ ہے کہ ممکن ہے اس میں ایک حکمت یہ بھی ہوکہ مہینہ تیس دن کاہوتاہے اس لیے پارے بھی تیس ہی رکھے گئے تاکہ بندہ روزانہ ایک ایک پارہ تلاوت کرے اوراس کے مفہوم کواپنے عمل میں ڈھالنے کے لیے کوشاں ہو۔اگرہم روزانہ ایک ایک پارے کی تلاوت کرتے ہیں تویہ حددرجہ مبارک بادی کی بات ہے لیکن یہ پڑھنااور تلاوت کرناسعادت مندیوں ،برکتوں اور ترقیوں سے اسی وقت ہم آغوش ہوسکے گی جب ہم پر کامیابیو ں کے دروازے وا ہونے کا آغازہوجائے اوریہ آغازاسی وقت ہوگا جب ہم مطالعے کا چوتھا طریقہ اپنائیں گے۔ اگرہم مطالعے کا تیسراطریقہ اپنارہے ہیںیعنی قرآن کے مفہوم کواپنے اندر محسوس کر رہے ہیں تومبارک ہوکہ ہم نے ترقی کا پہلازینہ طے کر لیاہے لیکن ابھی بھی کامیابی وترقی کے سارے زینے عبورکرنے کاوقت نہیں آیا،یہ ترقی اسی وقت دستک دے گی جب ہم لَعَلَّھُمْ ےَتَفَکَّرُوْنَجیسی آیتوں کے تقاضے پورا کرنے کی پوزیشن میں آجائیں جس کی طرف قرآن نے بار ہا ترغیب دی ہے ۔

لیکن ذرارُکیے ،قرآن کریم کو سمجھیے ضرورکہ فہمِ قرآن ہمارا دینی حق ہے اوریہ حق ہم سے کوئی چھین نہیں سکتامگراس کامطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ ہم قرآن کی باتوں کواپنے خیالا ت ورجحانات کے ترازو میں تول کراس کے مطابق فیصلہ کرنے لگیں۔قرآن ایک ایسا سمندر ہے جس کی حیرت ناکیاں کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں ۔ قرآن کی بہت ساری باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آئیں گی اورہماراذہن مفہوم کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے گا تو قرآن کے ماہرین سے رجوع کرنا ہوگا ۔ بغیر علما سے رجوع کیے ہوئے ہمیں اپنی طر ف سے کوئی مطلب اخذ کرنے کی کوشش ہرگزہرگز نہیں کرنی چاہیے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی قومی زبان اردوہے مگرناچیزراقم الحرو ف کاطالب علمانہ خیال ہے کہ مسلمانوں کی قومی زبان عربی ہے صرف عربی۔علاقائی زبانیں یایوںکہہ لیجیے کہ مادری زبانیں توکچھ اور ہوسکتی ہیں مگرقومی زبان عربی ہی ہے ۔جیسے ہمارے برِصغیرمیں اردو بولی جاتی ہے اس لیے علمانے یہاں کے شہریوں کی آسانی کے لیے اسلامیا ت کاایک کثیر سرمایہ اردو میں منتقل کردیاہے۔اس حیثیت سے اردو برِصغیر میں اسلام کی نمائندہ زبان بن گئی ہے مگریہ قومی زبان نہیں ہے ۔ ہم عصری ترقی کے لیے دنیاکی دیگر زبانوں میں عبور حاصل کریں تاکہ معاشی طورپرخودکفیل ہوسکیںمگردین میں کمال پیدا کرنے کے لیے عربی زبان لازماًسیکھیں ۔یہ بات گرہ باندھ لینے کی ہے کہ بغیرعربی زبان کے دین کی روح سے آگاہی ہوہی نہیںسکتی ۔عربی کل بھی ضروری تھی ، آج بھی ضروری ہے اورکل بھی ضروری رہے گی ۔ہم یقینا مسلمان ہیں اورقرآن وحدیث کے بغیر زندگی کاسفرکامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتے کیوں کہ ہمارے دین کی اصل اوربنیادی کتابیں عربی میں ہیں۔ ہم اگر ضعیف العمرہیں،کاروباری اور ملازمتی الجھنوں میں الجھے ہوئے ہیں، ایسے مسائل کے شکارہیں کہ ہمارے پاس وقت ہی نہیں توکوئی بات نہیں مگرعربی سیکھنے کی کوشش ضرورکریں اور آج ہی یہ عہدلے کراٹھیں کہ ہم خودتوعربی نہ سیکھ سکے مگراپنے بچوں اور ماتحتو ںکوعربی ضرور سکھائیں گے ۔ اگرہم اپنے بچوںکو عالمِ دین بناتے ہیں تو سبحان اللہ،ماشاء اللہ اگرنہیں بناتے تو کم ازکم عربی زبان وادب توانہیں سکھاہی دیںتاکہ وہ اسلامی روایتوں اور اپنے اسلاف کی قدروں کے حقیقی امین ووارث کی حیثیت سے زندگی گزار سکیں۔
ہم چاہے طالب علم ہوں،استاذہوں،تاجرہوں ،ملازم ہوں، کتاب کے بغیرایک قدم چلناتودرکنارقدم اٹھانے سے پہلے ہمیں سوبار سوچنا پڑے گا۔ ہم جوبھی کتاب پڑھتے ہیں سمجھ کرپڑھتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہم مطالعے کا تیسرااورچوتھاطریقہ نہیں اپناتے مگر اتنا توجانتے ہی ہیں کہ ہمارے زیر مطالعہ کتاب میں لکھاکیاہے ۔

اس کے بغیرہم نہ امتحان میں کامیاب ہو سکتے ہیں،نہ پڑھا سکتے ہیں،نہ تجارت کرسکتے ہیں اورنہ ملازمت۔ان معاملا ت میں توہمارا شعورہماراساتھ دیتاہے مگرجب ہم قرآن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیںتواسے چوم چاٹ کر، ایک رکوع،ایک سورت یا ایک پارے کی تلاوت کرکے جزدان میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دیتے ہیں۔دل پرہاتھ رکھ کربتائیے کیاایسانہیں کرتے ؟ سوال یہ ہے کہ قرآن کے اوراق کھولتے وقت ہماراوہ شعور اورسمجھ داری کہاں چلی جاتی ہے جو تعلیم ،تدریس ،تجار ت اور ملازمت میں ہمارے ساتھ سائے کی طرح لگی رہتی ہے ۔ہم روزانہ اخباربھی ضرورپڑھتے ہیںاور بڑے لطف اور دل چسپی سے پڑھتے ہیں۔ہم اردوداں ہیں توانگریزی اخبار پڑھنے سے الجھن ہوتی ہے اوراگر انگریزی داں ہیں تواردوکی طرف دیکھتے بھی نہیںکیوں کہ اجنبی زبانو ں میں ہمیں صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ کچھ لکھاہے ،کیالکھاہے اس کی خبرنہیں ہوتی ۔معمولی اخبارکوصرف اس لیے سمجھ کرپڑھتے ہیں کہ ہمیں حالات کی آگاہی ہوتی رہے اورہم Updateرہ سکیں لیکن ہم اپنے دستورِحیات یعنی قرآن کومحض تلاوت اورثواب کے لیے پڑھتے ہیں۔ فیاللاسف۔ آخر اللہ کے کلام کے ساتھ ہی ایساسلوک کرنے کی وجہ کیاہے ؟ بغیرسمجھے تلاوت بھی کارِخیرہے مگریہ قرآن کی برکتوں کا صرف ایک فی صدحصہ ہے ،اس کے نناوے فی صد برکتیں اس کے مفہومات کوعمل واختراع اورتحقیق وتخلیق کی سطح پرپروان چڑھانے میں ہیں۔

Hadeeth
Hadeeth

ہمارادعویٰ کہ قرآنِ کریم ہماراآئین ہے ،منشورہے ،دستورِ حیات ہے، اسی وقت صحیح ہوسکے گاجب ہم ا س سے استفادے کے لائق بن جائیں اوراس کے مطالب کوعملی سطح پر نافذ کردیں۔ شاعرِ ِمشرق ڈاکٹراقبال کہتے ہیں :تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواںہے مگرصاحبِ کتاب نہیںیہاں ”صاحبِ کتاب”دراصل قرآن کاعملی اورتخلیقی اندازہے ۔اقبال نے اس شعرمیں ترقی اورکامیابی کارازہمارے حوالے کردیا ہے ۔ ترقی کے پیچھے کتاب ہی ہوتی ہے۔کامیاب آدمی ”کتاب خواں” نہیں ”صاحبِ کتاب ”ہوتاہے ۔”کتاب خواں”کتاب کوصرف Enjoyکرتاہے ،Absorbنہیں کرپاتاجب کہ ”صاحبِ کتاب’ ‘ اسے Absorbکرتاہے اوریہی کامیابی کاپہلازینہ ہوتاہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو”کتاب خوانی ” سے زیادہ ”صاحبِ کتاب”ہونے کی توفیق ارزاں فرمائے ۔
چلتے چلتے ایک بات اورعرض کردوں۔اگرآپ درس نظامی کے فارغ التحصیل ہیں،علماے دین میں شمارہوتے ہیںمگرعربی زبان سے واقفیت نہیں رکھتے توآپ کواپنے دعوی پرنظرثانی کرناچاہیے۔عالم دین کاصحیح مطلب یہ ہے کہ وہ براہ راست قرآن وحدیث سے استفادہ کرنے پرقادر ہو، صلاحیتوں کے اعتبارسے کم یازیادہ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ عالموں کوعربی پرمکمل قدرت اور اس زبان میں لکھنے پرپوراعبور ہولیکن کم ازکم اتناتوہوناہی چاہیے کہ اسے عربی کتابوں کوسمجھنے میں دقت نہ ہو۔حدیث ، فقہ ،سیرت ،تفسیر، تاریخ اوران سے متعلقہ علوم کااصل ذخیرہ عربی زبان میں ہے اوریہ اتنازیادہ ہے کہ اردواورفارسی زبان میں لکھاجانے والا سرمایہ اس کاایک فی صدبھی نہیں ہے۔بڑے بڑے مفکرین اور دانشور کہتے ہیںکہ اگر آپ باذوق ہیں، محقق ہیں،عالم دین ہیں اور کسی موضوع پرکچھ لکھناچاہتے ہیںتوآپ کو اصل اورماخذکی کتابوں کا رجوع کرنا چاہیے۔ اگرآپ عربی مدرسے سے فراغت حاصل کرنے اوروہاں نو دس سال صرف کرنے کے باوجود براہ راست عربی سے استفاد ہ نہیں کر پاتے تومعاف کیجیے آپ عالم توہیں مگر عالمِ دین نہیں ہیں۔ ع رکھیوغالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف

تحریر:صادق رضامصباحی،ممبئی
رابطہ:09619034199

Share this:
Tags:
QUESTIONS reading پڑھنے چند سوالات
Previous Post کروڑ لعل عیسن میں آوارہ کتوں کی بہتات۔ کئی افراد زخمی
Next Post آئی ایم ایف پر انحصار کرنے اور نوٹ چھاپنے سے معیشت کمزور ہو گی

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close