Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نظریہ تعلیم تاریخی پس منظر میں

July 2, 2020 0 1 min read
Education
Education
Education

تحریر : ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری

تعلیم کے لغوی معانی مختلف لغات میں مختلف ہیں۔ مثلاً: پڑھانا، سکھانا، تلقین، ہدایت، تربیت، ناچنے گانے کی مشق کرانا، گھوڑا سدھانا، علم پڑھانا، کسی کو کچھ سکھانا، تادیب، تہذیب، آراستگی، خوش خطی کا نمونہ جس کو دیکھ کر طالب علم سیکھتا ہے، تفہیم، پڑھانا لکھانا پس عربی میں کسی کو کچھ سکھانا اور فارسی میں کچھ سیکھنا، تعلیم ہے۔ 2 جب کہ تصوف میں مرشد کا مرید کو اذکار وافکار وغیرہ سکھانا تعلیم کہلاتا ہے۔

اب میں سطور ذیل میں قدیم نظام ہا ئے تعلیم کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے سپارٹا کا نظام تعلیم:”اہل سپارٹا نے تعلیم کا مقصد تندرست وتوانا افراد تیارکرنا قرار دے رکھا تھا۔ سات سال کی عمرتک گھر پر ہی تعلیم دی جاتی تھی“۔
”اہل ایتھنز نے بھی اہل سپارٹا کی طرح تعلیم کا ایک مقصدفوجی تیار کرنا مقرر کر رکھاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں اعلیٰ تعلیم کاانتظام بھی تھاچناچہ طلبہ کو علم جغرافیہ، فصاحت و بلاغت، علم جراحت اور علم طبقات ا لا رض کی تعلیم دی جاتی تھی البتہ عورتوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلاتے تھے“۔
افلا طون تعلیم و تربیت کا مقصدروح کی نشو و نما اور بالیدگی بیان کرتا ہے۔ وہ ابتدائی تعلیم کو تین درجو ں میں تقسیم کرتا ہے۔

درجہ اول: چھٹے سال کی عمر تک کے بچے
درجہ دوم: چھٹے سے اٹھارہ سال کی عمرتک کے بچے۔
درجہ سوم: ا ٹھا رہ سال سے بیس سال کی عمر تک کے بچے
افلاطون نے اعلیٰ تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا تھا:
جسمانی ا علیٰ تربیت اور اعلیٰ فوجی تربیت
وہ سوسائٹی کو بھی تین طبقات میں بانٹنے کا قائل تھا:
حکمران طبقہ، فوجی طبقہ، مزدور اور پیشہ ور لوگ

ارسطو کے نزدیک تعلیم کا مقصد انسان کو تہذیب سکھانا ہے۔ وہ عقل انسانی کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے:
عقل فعال اور عقل انفعال
اس نے عمر کے لحاظ سے تین درجے بنا رکھے تھے
بچپن سے تیرہ سال تک
تیرہ سے اکیس سال تک
اکیس سے باقی زندگی تک

اسلام میں تعلیم کا مفہوم

تعلیم کے معنی و مفہوم سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کو علم سیکھنے اور اسے استعمال کرنے کی جو صلاحیت ودیعت ہوئی ہے وہ نہ صرف اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی تلافی کرتی ہے بلکہ اس کی عظمت کا سبب اور علامت بھی ہے ا سی لیے رب کائنات نے علم کا حصول ہر مردوزن پر فرض کیا اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجے جو لوگوں کو خداکی عبادت کی تعلیم دیتے یہی نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کو حکم دیا کہ ”پڑھو“، اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو، جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو۔ اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا۔

ان دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیم ایک ایسا سلسلہ ہے جو روز ِازل سے جاری ہے، جو ہر دور میں ہر امت اورہر فرد کی ضرورت رہا ہے اور اس کا مقصود یہی رہا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہی دلائی جائے انسان کا انسان سےاور انسان کا خدا سے جو تعلق ہے اسے سمجھایا جائے اور انسان کو فطرت کے ان اسرار و رموزسے واقفیت دلائی جائے جن سے یہ و اقف نہیں ہے۔پس یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قرآنی احکامات کے مطابق علم روشنی ہے اور تعلیم وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان کو علم حاصل ہوتا ہے، ارشاد ربانی ہے
وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لائے۔
روشنی اپنی ماہیت کے اعتبار سے موجودات کو ان کے اصل رنگ وروپ اور خدوخال میں پیش کرتی ہے جب کہ علم کی روشنی انسان میں موجودات واحساسات کا ادراک پیدا کرتی ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے
جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے کیا برابر ہو سکتے ہیں؟
کیا برابر ہو سکتا ہے اندھا اور آنکھ والا
پیغمبر ﷺ نے فرمایا:
عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے
امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ اسلاف کا کہنا ہے کہ عالم کی دو رکعت نماز جاہل کی سال بھر کی عبادت سے افضل ہے اس واسطے کہ جاہل اپنے عمل کی آفتو ں کو نہیں پہچان سکتا اور اغراض سے عمل کی آمیزش کیسے پاک ہو، اسے معلوم نہیں وہ بے چارہ سب ہی اعمال کو خالص سمجھتا ہے اس لیے کہ عبادت کاکھوٹا پن سونے کے کھوٹے پن کی مانند ہے اور کبھی صراف بھی سونا پرکھنے میں غلطی کرگزرتا ہے البتہ کامل صراف اسے پرکھ لیتا ہے، رہ گئے جاہل تو اتنی بات وہ بھی جانتے ہیں کہ سوناوہی ہے جو زرد رنگ کا ہو اور عبادت کا کھوٹا پن جس سے اخلاص ضائع ہوتا ہے اس کے چاردرجے ہیں بعض ان میں سے بہت پوشیدہ ہیں ان درجات کو ہم ریا کی صورت پر فرض کرتے ہیں۔ اس معاملے میں کہ کون سا علم حاصل کرنا فرض ہے اہلِ علم میں اختلاف ہے، متکلیمین کا کہنایہ ہے کہ اس سے مراد و ہ علم ہے جس سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو، فقہا کا خیال ہے کہ اس سے مراد خالصتاً علمِ فقہ ہے کیونکہ یہی وہ علم ہے جس کی بدولت انسان حلال اور حرام میں تمیز کرسکتاہے، محدث کہتے ہیں کہ تفسیر و حدیث ہیکہ علومِ دینیہ کی اصل یہی ہیں، صوفیا کے نزدیک اس سے مراد احوالِ دل کا علم ہے کیونکہ دل اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہو تا ہے کہ تمام علوم اپنی اپنی جگہ اہم اور خاص ہیں اور سب کا حاصل کرنا واجب ہے۔

پس اسلام جس قسم کے انسانی معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے ا س کا مکمل قیام تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ دور نبویﷺ میں اسلام کا نظام تعلیم قرآن و حدیث کی تعلیم پر مشتمل تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں اس میں وسعت آئی اور فقہ، ادب، لغت اور شعر و سخن بھی تعلیم کا حصہ قرار دے دیے گئے۔ مختصر یہ کہ مسلمانوں نے ہر شعبہ علم میں ترقی کی اور نئے نئے علوم بھی ایجاد کیے۔
امام غزالیؒ پہلے ماہر تعلیم ہیں جنہو ں نے باقاعدہ نظام و نصابِ تعلیم مرتب کیا۔ انہوں نے علم کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
علم محمود: وہ علوم جو ہر لحاظ سے پسندیدہ ہیں جیسے: مذہبی علم، ارکان اسلام وغیرہ اور
علم مذموم: ایسے علوم جن سے نقصان کا اندیشہ ہوجیسے:سحر، نجوم وغیرہ۔
امام صاحب نے علم محمود کی بھی دو قسمیں بتائیں ہیں:فرض عین اور فرض کفایہ؛ پس ان کا خیال ہے کہ طلبہ کو ذہنی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔

علامہ ابن خلدون تعلیم کو فطری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایک صنعت قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کی درج ذیل دو قسمیں بیان کی ہیں:عقلی علوم اور نفلی علوم
شاہ ولی اللہؒ کا خیال ہے کہ دینی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جانی چاہیے اور طلبہ کو ایسے فنون یا پیشے سکھائے جائیں کہ جن سے ان کے معاشی مسائل بھی کسی قدر کمہوجائیں۔ سرسید احمد خاں کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو انگریزی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جب کہ علماء اس کے خلاف تھے۔

اب میں علامہ اقبالؒکا نظریہ تعلیم آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ علامہ اقبا ل ؒکے نظریہ تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان کے دور کے سیاسی حالات و واقعات کو مدنظر رکھنا ہو گا جن سے حضرت علامہ اقبال ؒ کا واسطہ پڑا۔ اس دور میں مسلمان زبوں حالی کا شکار تھے اور انہیں ہر طرف مایوسیو ں کے گہرے بادل نظر آ تے تھے۔ ایسے مایوس کن اور غیر یقینی دور میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی نگاہیں ان ہی کی طرف اٹھتی تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی اس حالت کو سمجھتے ہوئے ایک مکمل فلسفہ تعلیم پیش کیاکہ جسے اگر من وعن مملکت ِ خداداد میں نافذ کردیا جاتا تو آج ہم جن مسائل کا شکار ہیں، ان سے بچ جاتے کیو نکہ افراد کی زندگی کی عمارت تعلیم وتربیت ہی سے تعمیر ہوتی ہے اور قومیں اپنے تعلیمی فلسفے کی پختگی کی بد ولت ہی عروج حاصل کرتی ہیں۔

علامہ اقبال ؒکے دور میں دو نظام ہائے تعلیم مروج تھے، ایک قدیم دینی مدارس کا نظام جس میں قرآن و حدیث، فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن علومِ جدیدہ کما حقہُ نہیں پڑھائے جاتے تھے دوسرا انگریز کا نظام ِ تعلیم تھا جس میں یہ خامی تھی کہ اسلامی علوم و فنون کو کلیۃً نظر انداز کیا جاتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمارا نظام تعلیم ایسا ہو کہ جس سے نئی نسل اسلام کے نصب العین کے مطابق دنیا کی رہنمائی کے قابل ہو سکے اور مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز ہو سکیں اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام علوم میں ہمارا نقطہ نظر اسلامی نقطہ نظر ہواور اس کی روشنی میں عملی زندگی میں اپنے لیے روشن مستقبل کے لیے اسلامی انقلاب برپا کیا جا سکے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کو یہ بات اور کرائی جا سکے کہ علو م جدیدہ دراصل اسلام ہی کی بدولت معرض وجود میں آئے ہیں۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ دہلی اپریل 1911ء میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے حکیم الاّمت نے فرمایا میں دعوے سے کہ سکتا ہو ں کہ اسلام مغربی تہذیب کے تمام عمدہ اصولوں کا سر چشمہ ہے۔ پندرہویں صدی عیسوی میں جب سے کہ یورپ کی ترقی کا آغاز ہوا، یورپ میں علم کا چرچا مسلمانوں ہی کی یونیورسٹیوں سے ہواتھا۔ ۔ ۔ ۔ کسی یورپین کا یہ کہنا کہ اسلام اور علوم جدیدہ یکجا نہیں ہو سکتے سراسر ناواقفیت پر مبنی ہے اور مجھے تعجب ہے کہ علوم اسلام اور تاریخ اسلام کے موجود ہونے کے باوجود کیونکر کہ سکتا ہے کہ علوم جدیدہ اور اسلام ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ بیکن، ڈی کارٹاور مل یورپ کے سب سے بڑے فلاسفر مانے جاتے ہیں جن کے فلسفہ کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ڈی کارٹ کا میتھڈ امام غزالیؒ کی احیا العلوم میں موجود ہے اور ان دونوں میں اس قدر تطابق ہے کہ ایک انگریزی مؤرخ نے لکھا ہے کہ اگر ڈی کارٹ عربی جانتا ہو تا توہم ضرور اعتراف کرتے کہ ڈی کارٹ سرقہ کا مرتکب ہوا ہے۔ بیکن خود ایک اسلامی یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ تھا۔ جان اسٹیوارٹ مل نے منطق کی شکل اوّل پر جو اعتراض کیا ہے بعینہ وہی اعتراض امام فخرالدین رازی ؒنے بھی کیا تھا اور مل کے فلسفہ کے تمام بنیادی اصول شیخ بو علی سینا کی مشہورکتاب شفا میں موجود ہیں۔ غرض یہ کہ تمام وہ اصول جن پر علوم جدیدہ کی بنیاد ہے مسلمانوں کے فیض کا نتیجہ ہیں بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ کہ نہ صرف علوم جدیدہ کے لحاظ سے بلکہ انسان کی زندگی کا کوئی پہلو اور اچھا پہلو ایسا نہیں ہے جس پر اسلام نے بے انتہا روح پرور اثر نہ ڈالا ہو۔

ابھی ابھی جو اقتباس میں نے آ پ کے سامنے پیش کیا ہے اس پر غورو خوض کرنے سے پتا چلتا ہے کہ علامہ اقبال اسلامی نظریہئ تعلیم کے کس قدر قائل ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی فلسفہ تعلیم ہی مسلمانوں کے مرض کا علاج ہے ا ور وہ تعلیم جو مذہب اور اخلاق سے دور لے جائے وہ مسلمانوں کے لیے زہر سے کم نہیں۔وہ تعلیمِ مغرب کو صرف اس لیے نا پسند کرتے ہیں کہ اسے حاصل کرنے کے بعد نوجوان اسلامی اقدار کی بجائے انگریزی اقدار کے مداح نظر آتے ہیں، اسی لیے فرماتے ہیں:

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ

علامہ اقبالؒ کا خیال یہ تھا کہ نوجوان صحابہ کرام کی عملی تصویریں بنیں اور ان کا ہر عمل سیرتِ مصطفوی ﷺ کا آئینہ دار ہو۔نوجوانوں کا کوئی فعل شریعت مطاہرہ کے خلاف نہ ہو، ان کا کردار اتنا مضبوط اور مستحکم ہو جائے کہ اغیار اس سے سبق لیں، نوجوانوں کی خودی اتنی اجاگر ہو جائے کہ ان کے سامنے دنیوی اشیا کی کوئی اہمیت نہ رہے، ان کے پیشِ نظر اگر کچھ رہے تو عشقِ مصطفوی ﷺ کی حدت وحرارت اور گرمی ہو، وہ اسے اپنا سرمایہئحیات تصور کریں اور ایسی تعلیم جس کی وجہ سے مسلمان نوجوان الحاد کا شکار ہو جائیں وہ زہر سے کم نہیں۔اسی لیے وہ مسلمانوں کو انتباہ کرتے ہو ئے ایسی تعلیم کی ضرر رسائی سے آگاہی دلاتے ہوئے کہتے ہیں:

خوش تو ہم بھی ہیں جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا ا لحاد بھی ساتھ
گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آ ئی ہے مگر تیشہ فرہاد بھی ساتھ
تخمِ دیگر بکف آ ر یم و بکاریم زنو
کانچہ شتیم ز خجلت نتواں کرد درو

علامہ اقبال جدید تعلیم کے خلاف نہیں کیونکہ انہوں نے خودبھی اس تعلیم سے استفادہ کیا تھا لیکن ان پراس تعلیم کا کوئی اثر نہ ہوا تھاعلامہ کو تہذیب مغرب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ضرور ملاتھا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ وہ اپنے بیٹے جاوید کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
چنانچہ اقبال اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو علم خودی کو بلند کرتا ہے اور سوزِدل سے معمور ہوتا ہے وہی علم قابل ِقدر ہے لیکن صرف علم ہی سے عرفان ذات نہیں ہوتا اور محض علم روحانی اقدار کے بغیر کسی کام کا نہیں۔زندگی میں ایسی تعلیم وتر بیت کارآمد ہے جو عشق اور عقل دونوں کے توازن سے پیدا ہواسی طرح زندگی سدھر سکتی ہے اور انسان مرد کامل کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، اقبال کہتے ہیں:24
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوز ِ دماغ
اقبال کہتے ہیں کہ صحیح معنو ں میں علم اس وقت علم بنتا ہے جب یقین کے درجے کو پہنچ جاتا ہے اور انسان خودی کے تینوں مراحل (اطاعت ِالٰہی، ضبط ِ نفس اور نیابت ِالٰہی) طے کرکے مقامِ مردِ مومن کو پہنچ جاتا ہے اور پھر اس کی نگاہوں سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ وہ ایسی تعلیم کے سخت خلاف ہیں جسے حا صل کرنے کے بعد انسان نہ صرف بے رہرو ہو جائے بلکہ صداقت، عدالت، شجاعت اور امامت کا درس تک فراموش کر بیٹھے اور حالت یہ ہو جائے کہ وہ اپنی تخلیق کا مقصد تک بھلا بیٹھے۔اسی لیے کہتے ہیں۔

علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے، لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

علامہ اقبال ؒ بیک وقت تعلیمِ مغرب کی ضرر رسائیاں بھی ہمارے سامنے لاتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں اس طرح ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم مغربی تعلیم کے ہر دو پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد اپنے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار کریں۔علامہؒ، سرسید احمد خاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کی ان کا خیال یہ تھا کہ مذہبی تعلیم چھوڑ کر زمانے کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے کیونکہ دنیوی ترقی اسی طرح میسّر آسکتی ہے۔ان کا خیال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں تعلیم قوم کی بیماریوں کا علاج ہے۔بانگِ درا کی نظم’مسلمان اور تعلیم ِ جدید‘میں کہتے ہیں:26
مرشد کی تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر!
لازم ہے رہرو کے لیے دنیا میں سامانِ سفر
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملّت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر
لیکن جب وہ تعلیمِ مغرب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ:27
رہبر کے ایما سے ہوا تعلیم کا سودا مجھے
واجب ہے صحر ا گرد پر تعمیلِ فرما ن ِخضر
لیکن نگاہِ نکتہ بیں دیکھے زبوں بختی مری
”رفتم کہ خار از پاکشم، محمل نہاں شد از نظر

علامہ اقبال کے نزدیک مغربی تعلیم کی بنیاد مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے اور اس میں روحانیت اور وجدانیت کی نشو و نمااور ترقی کا سامان موجود نہیں ہے۔ اس تعلیم نے ہمیں غلامی پر قانع ہونا سکھایا۔ اپنے اسلاف کے کارنامو ں پر فخر کرنے کی بجائے انگریز ی تہذیب پر ناز کرنا سکھایا اور اس نے دل میں اس بات کو ڈال دیا کہ اگر دولت ہے تو سب کچھ ہے، دولت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال صرف اس تعلیم کے خلاف تھے جو مسلمانوں کو مذہب سے بے گانہ کردے۔ وہ چاہتے تھے کہ علوم ِ جدیدہ کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی ضرورحاصل کی جانی چا ہیے اور اس کا اثر اتنا راسخ ہو نا چاہیے کہ مغربی تعلیم ان کے عقائد میں رخنہ نہ ڈال سکے۔ کیونکہ وہ جا ن گئے تھے کہ یورپین مسلمانوں کے دل سے کسی طرح روح محمد نکال دینا چاہتے ہیں، کہتے ہیں:28
یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح ِمحمد اس کے جسم سے نکال دو

ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہو ئے انہوں نے ایک تعلیمی پالیسی مرتب کر دی تھی کہ جس پر اگر عمل کرلیا جاتا تو آج ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہو تے، افسوس صد افسوس کہ ان کے خیالاتِ عالیہ سے استفادہ کرنے کی باتیں تو کی گئیں مگر ان پر عمل کرنے کی کوششیں نہیں کی گیئں۔ان کا تعلیمی میدان میں تجربہ بہت وسیع تھا۔ وہ پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور اورینٹل کالج سے منسلک رہے بعد ازاں ان کا تعلق مختلف یونیورسٹیوں سے بھی رہا1900.ء سے لے کر آخر عمر تک وہ مڈ ل، انٹرنس، ایف۔اے، ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے پرچے مرتب کرتے رہے۔ پنجاب، علی گڑھ، ا لہ آباد، ناگ پور اور دہلی یونیورسٹیوں کے ممتحن رہے۔علاوہ ازیں پنجاب یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے ممبر بھی رہے۔

Dr. Muhammad Riaz Chaudhry
Dr. Muhammad Riaz Chaudhry

تحریر : ڈاکٹر محمد ریاض چوہدری

Share this:
Tags:
civilization education History system teaching Theory تاریخی تعلیم تہذیب سکھانا نظام نظریہ
School
Previous Post 7 جولائی کو ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ متوقع
Next Post شن بو کو ایسوسی ایشن آف کراٹے ڈو پاکستان کے تحت کلر بیلٹ ٹیسٹ و ایوارڈ تقریب
Ceremony

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close