Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے

August 9, 2015August 9, 2015 0 1 min read
Pakistan
Pakistan History
Pakistan History

تحریر: فیصل ندیم
یہ بیسویں صدی کے اوائل کے ہندوستان کا ایک منظر ہے ایک نعرہ ہندوستان کے درودیوار کو دہلائے جارہا ہے۔
لے کے رہیں گے پاکستان بٹ کر رہے گا ہندوستان
مسلمانان ہند کی زبان پرموجود اس نعرہ کے پیچھے برصغیر کی تاریخ کا مکمل نچوڑ موجود ہے۔ وہ تاریخ کہ جس میں کبھی مسلمان اس خطہ کے حاکم تھے۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی اور انگریز ہندو گٹھ جوڑ نے اس ہندوستان میں ان کے لیے ان کی شناخت قائم رکھنا بھی مسئلہ بنادیا تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی بقاء صرف اتحاد و اتفاق میں نظر آتی تھی اور یہ اتحاد و اتفاق انہیں کسی علاقائی یا لسانی شناخت کے بجائے صرف اپنے دین میں دکھائی دیتا تھا ۔ اسی لیے انہوں نے اپنے مجوزہ وطن پاکستان کو اسلام کے نام سے منسلک کردیا اور اب ان کی زبانوں پر ایک ہی نعرہ تھا…

پاکستان کا مطلب کیا؟لا الہ الا اللہ۔ یہ نعرہ ہندووں کے لیے کسی تازیانہ سے کم نہ تھا۔ اکھنڈ بھارت کا خواب ہندو کو خطرے میں دکھائی دے رہا تھا۔ مسلمانوں کو ہندو سے جدا کرتا یہ نعرہ اکھنڈ بھارت کے قیام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بننے جارہا تھا۔ اس نعرے کے ردعمل میں دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے گئے۔ اسلام کے نام پر پاکستان کا مطالبہ وہ جرم تھا کہ جس کی پاداش میں متعصب ہندوؤں نے ہندوستان کے طول و عرض میں مسلمانوں کے لہو کی ہولی کھیلنا شروع کردی ۔ ہندومسلم آبادیوں پر حملہ آور ہونے لگے ۔ان سفاکانہ حملوں میں مرد، عورتیں و بچے سب ہی ان کا نشانہ تھے۔ صدیوں سے مسلمانوں کی حاکمیت تلے دبے رہنے والے ہندو انگریز کے ساتھ مل کر ہر سطح پر مسلمانوں کا استحصال کرنے میں مصروف تھے۔ مسلمان اپنے ساتھ ہونے والے اس بدترین سلوک کے سبب بڑی بے چینی کے عالم میں تھے اور یہی بے چینی اس نعرے کی تخلیق کا سبب بنی تھی۔

زندگی کے ہر شعبہ میں مذہبی تعصب کے شکار مسلمان اپنے آپ کو سارے ہندوستانی معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کررہے تھے۔ تحریک پاکستان میں مسلمانوں کی آبادیوں کی آبادیاں تہہ تیغ کرکے بھی ہندو دہشت گرد مسلمانوں کے جذبہ حریت کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ قائداعظم محمدعلی جناح کی بیدار مغز اور جرات مند قیادت میں ایک آزاد اسلامی مملکت بہت جلد وجود میں آچکی تھی۔ نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے۔ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر دنیا کے نقشے پر ابھرنے والا پاکستان برصغیر ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز تھا۔ قیام پاکستان کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں نے پوری کوشش کی تھی کہ نومولود پاکستان کو ایسی کسمپرسی کی حالت میں آزاد کیا جائے کہ حالات کی تنگی کے سبب یہ بہت جلد اپنی آزاد حیثیت کھو کر ہندوستان میں ضم ہونے پر مجبور ہوجائے۔

Gurdaspur
Gurdaspur

یہی وجہ تھی کہ اثاثوں کی تقسیم ہو یا سرحدوں کا تعین ہر جگہ انگریز ہندو گٹھ جوڑ نے اپنا رنگ دکھا کر پاکستان کو بے دست و پا کرنے کی کوشش کی مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل ضلع گرداس پور صرف اس لیے بھارت میں شامل کردیا گیا کہ ہندوستان کو کشمیر کا راستہ میسر آسکے اور یہی وہ راستہ تھا جس کے ذریعہ بھارت نے جموں کشمیر میں اپنی فوج داخل کرکے جموں کشمیر کی عظیم مسلم اکثریت کی تمام تر امنگوں کو اپنے غاصبانہ فوجی قبضہ تلے کچل دیا ۔ ہندوستان کی جانب سے نت نئے تنازعات کو جنم دے کر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی قیام پاکستان سے ہی انڈین پالیسی کا حصہ تھی۔ اپنے قیام کے پہلے 25 سالوں میں پاکستان کو تین مرتبہ بھارتی فوجی جارحیت کے نتیجے میں ہولناک جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ پاکستان مخالف بھارتی سازشوں کا شاخسانہ ہی تھا جس کے سبب پاکستان اپنے مشرقی بازو سے محروم ہوگیا۔مکتی باہنی کی صورت میں یہ انڈین ”را” کے ایجنٹس تھے جو دو طرفہ قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے مشرقی پاکستان میں بنگالی اور غیر بنگالی کی تفریق پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ پاکستانی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب کا سیاہ ترین حصہ ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی کا وہ بیان تھا جس میں اس نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس عظیم سانحہ کے رونما ہونے پر ایک طرف ہندوستان میں خوشیوں کے شادیانے بجائے جارہے تھے تو دوسری طرف پاکستان کے ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب لٹی پٹی پاکستانی قوم میں شدت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہورہا تھا کہ اپنی سرحد پر موجود بھارت جیسے کمینے دشمن سے روایتی طریقے سے نمٹنا ممکن نہیں۔

یہ آغاز تھا مملکت خداداد پاکستان کی ازسرِنو بنیادوں پر تعمیر کا ،گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کا اعلان دنیا کے لیے کسی اچنبھے کا باعث ہوگا، لیکن حقیقت میں یہ ایک بدترین دشمن سے مقابلے کے لیے پاکستانی غیور عوام کی بھرپور تیاریوں کے عزم کا اظہار تھا ۔اور پھر اس تیاری کا آغاز کردیا گیا۔ ہر وقت دشمنی پر آمادہ ہندوستان کی مسلسل دشمنی نے پاکستانی قوم کے ارادوں کے لیے مہمیز کا کام کیا اور پاکستانی قوم جلد ہی سانحہ مشرقی پاکستان میں لگے شدید جھٹکوں سے سنبھلتی دکھائی دینے لگی ۔ امریکہ جیسے مطلب کے یاروں سے دامن چھڑوا کر دفاعی خود انحصاری کے حصول کی طرف بڑھتے قدموں کا نتیجہ ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابیوں کی صورت نکلتا دکھائی دینے لگا۔ ایک مضبوط پاکستان کو ابھرتے دیکھ کر خطے میں موجود وہ اقوام جو عرصہ دراز سے بھارتی ظلم و زیادتی کا شکار تھیں۔

Anarchy
Anarchy

اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے میدان عمل میں اترنے لگیں کشمیر، بھارتی پنجاب، میزو رام، ناگا لینڈ، منی پور اور متعدد دیگر نام نہاد بھارتی ریاستوں میں بھارتی جابرانہ قبضے کے خلاف بڑی مضبوط اور توانا آوازیں اٹھنے لگیں ۔ یہی وہ وقت تھا کہ جب بھارت کو اپنا وجود بکھرتا دکھائی دینے لگا ۔ اس ساری صورتحال میں اپنے کیے گئے جرائم کا ادراک کرنے کی بجائے بھارت اپنی دگرگوں حالت کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے لگا ۔ اور ایک بار پھر اس نے اپنے مجرمانہ ماضی کو دہرانے کی تیاری کرنا شروع کردی اور پاکستان میں اسلام اور پاکستان بیزار لوگوں کو تیار کرکے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرنا شروع کردی۔ اس وقت کے پاکستان اور 1971 کے پاکستان میں بڑا فرق تھا اس لیے کثیر سرمایہ کاری اور بڑی تگ و دو کے باوجود بھارت اپنے ارادوں میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

ایسے میں بزدل بھارتی سورماؤں نے بہادر پاکستانی قوم کو خوفزدہ کرنے کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا 1998 کے 5 ایٹمی دھماکے پاکستانی قوم کے لیے بڑا سخت بھارتی پیغام تھا۔ اس اقدام کے بعد بھارتی منصوبہ سازوں کا یہ خیال تھا کہ پاکستانی بھارتی ایٹم سے ڈر جائیں گے اور یک دم ہتھیار ڈال کر بھارت کے سامنے جھک جائیں گے ۔ لیکن ایک بار پھر دنیا ان کم عقل منصوبہ سازوں کے منصوبہ جات کو پاکستانی عوام کے جذبوں کے سمندر میں غرق ہوتا دیکھ رہی تھی امریکی صدر کلنٹن کی تمام تر ترغیبات اور دھمکیوں کو چٹکیوں میں اڑا تے ہوئے کیے گئے سات ایٹمی دھماکے ساری دنیا کو حیران کرنے کا باعث تھے۔ ہم نیپال بھوٹان مالدیپ اور بنگلہ دیش نہیں پاکستان ہیں اور ہم ہر بھارتی اینٹ کا جواب خالص پاکستانی پتھر سے دینا جانتے ہیں یہ تھا وہ پاکستانی عزم جس نے دنیا کے طول و عرض میں بستی ساری امت مسلمہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔

اسی بیچ دنیا میں ایک عظیم واقعہ رونما ہوگیا۔ 11 ستمبر 2001 دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ میں مختلف مقامات پر ایک ہی وقت میں ہوائی جہازوں کے ذریعہ ہونے والے خودکش حملوں نے ساری دنیا پر گویا سکوت طاری کردیا۔ اپنی طاقت کے نشے میں بری طرح غرق امریکہ ان حملوں کے بعد کسی بپھرے ہوئے سانڈ کی مانند دکھائی دے رہا تھا انتقام انتقام کی صدائیں امریکہ کے طول و عرض سے بلند ہورہی تھیں اجلاس پر اجلاس منعقد کئے جارہے تھے ان حملوں کے ذمہ دار کون ہوسکتے ہیں اس کا فیصلہ کیا جارہا تھا۔

اور ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بغیر کوئی مقدمہ چلائے بغیر ثبوت و شواہد پیش کیے مجرم مسلمان تھے۔ دنیا میں ایک پسماندہ ترین ملک میں قائم ایک کمزور حکومت دنیا پر حکومت کرتے ان فراعین وقت کا ہدف تھی افغانستان کے سربراہ مملکت ملا عمر کیلئے مطالبات کی فہرست جاری کی جاچکی تھی اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کئے جانے کے علاوہ تمام تر مطالبات کو من و عن ماننے کے احکامات جاری ہورہے تھے اس ساری مہم کے اہداف میں سے ایک بہت بڑا ہدف پاکستان بھی تھا اپنی اسلامی جہادی شناخت کے ساتھ دن بہ دن مضبوط ہوتا پاکستان کفر کی آنکھ میں کھٹکتا کانٹا ہی تو تھا رعونت اور تکبر سے بھرے امریکی پاکستان کے سر پر کھڑے پاکستان کی سرحد پر موجود پاکستان کی اتحادی طالبان حکومت کے خلاف تعاون کے طلبگار تھے انکار کی صورت میں پتھر کے دور میں بھیج دینے کا عندیہ دیا جارہا تھا پاکستان کیلئے ایک اور بہت بڑا مسئلہ اس کا بد ترین دشمن ہندوستان تھا جو اپنے تمام تر وسائل لئے امریکہ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا اسے یہ باور کروانے کی کوشش کررہا تھا کہ مسئلہ افغانستان میں نہیں پاکستان میں ہے اس لئے حملہ بھی پاکستان پر ہی ہونا چاہئے۔

America
America

40 سے زیادہ ممالک کا اتحاد اور پھر ہندوستان ۔ پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے مشکل ترین دور سے گذر رہا تھا اور پھر حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے پاکستانی حکام ایک مشکل ترین فیصلہ کا اعلان کررہے تھے افغانستان کے خلاف امریکہ اور اس کے حواریوں کا ساتھ دیا جائے گا۔ یہ پاکستان کی ہمیشہ کی طے شدہ خارجی پالیسی کا ایک بہت بڑا یوٹرن تھا خود امریکی بھی اس حیران کن یوٹرن پر حیران تھے۔ اور پھر 40 سے زائد ملکوں نے پوری طاقت کے ساتھ افغانستان پر حملہ کردیا افغانستان کے چپہ چپہ پر آگ و آہن کی بارش کی جارہی تھی جارح افواج نے افغانستان کو تجربہ گاہ سمجھتے ہوئے ہر طرح کا جدید اسلحہ یہاں استعمال کر دیا۔

افغانستان کا پڑوسی پاکستان فطری طور پر اس بدترین صورتحال کے متاثرین میں سر فہرست تھا ایک طرف امریکی اور ان کے اتحادی پاکستان کے شہروں دیہاتوں میں پاگل کتے کی طرح دوڑے پھر رہے تھے تو دوسری طرف افغانستان میں بے دردی سے قتل ہوتے مسلمانوں کی کٹی پھٹی لاشیں پاکستانی مسلمانوں کے غم و غصہ میں اضافہ کررہی تھیں پاکستانی عوام امریکہ اور اس کے حواریوں کے ساتھ پاکستانی حکومت کو بھی برابر کا مجرم قرار دے رہے تھے ایک لاوا تھا جو پاکستانی عوام کے قلوب و اذہان میں پک رہا تھا ان بدترین حالات میں پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغانستان میں امریکیوں کو اپنی وفاداریوں کا یقین دلواتے ہوئے اپنی جگہ بنانے میں مصروف تھا پاکستان کی سرحد کے ساتھ افغانستان میں انڈین قونصل خانوں کی صورت میں دہشتگردی کے اڈے قائم کئے جارہے تھے یہ پاکستان کے خلاف ایک نئی جنگ کی تیاری تھی۔

حالات کے جبر کی وجہ سے بظاہر کفر کی صفوں میں کھڑے پاکستان کیلئے یہ بڑا کڑا وقت تھا ایک دفعہ پھر پاکستانی جغرافیہ بہت بڑے خطرے سے دوچار تھا اس خطرے کا مقابلہ میدان میں کھڑے ہوکر ہی کیا جاسکتا تھا اور پاکستانی ادارے پاکستان کی بقا کیلئے اس مشکل ترین صورتحال میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کررہے تھے۔ جنگ کے ابتدائی جھٹکوں سے سنبھلنے کے بعد صف بندی کا آغاز کردیا گیا اور بہت جلد دنیا افغانستان کی سرزمین پر ایک اور عظیم جنگ کے مناظر دیکھ رہی تھی جدید ترین اسلحہ اور ان گنت وسائل سے لیس دنیا کی سپر پاور اپنے اتحادیوں سمیت افغان مجاہدین کے ہاتھوں پٹنے کے بعد خاک چاٹنے پر مجبور تھی۔ پاکستان کو انتہاء آسانی کے ساتھ ہتھیار ڈال کر اپنی صفوں میں کھڑا دیکھ کر پھولے نہ سماتے امریکیوں پر بھی حقیقت بہت جلد آشکار ہونے لگی وہ جان چکے تھے کہ پاکستان ان کا حلیف نہیں حریف ہے لیکن جنگ اس حصہ میں داخل ہوچکی تھی کہ امریکی کسی بھی طرح کھل کر دنیا کے سامنے اس حقیقت کا اظہار نہیں کرسکتے تھے افغانستان میں ان کے خلاف جاری مزاحمت کے خلاف اصل کردار پاکستان کا ہے۔

افغانستان میں بری طرح پٹتے امریکیوں کو اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ دکھائی دیا تو انہوں پاکستان کو اس کی حرکتوں کی سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہندوستان اس عمل میں امریکہ کا فطری اتحادی تھا۔ امریکن سی آئی اے اور انڈین را کے گٹھ جوڑ کے اثرات اس وقت دنیا کے سامنے آنا شروع ہوگئے جب پاکستان میں ایسے گروپس وجود میں آنا شروع ہوگئے جو دیگر تمام جہادی گروپس کے مقابلے میں بظاہر زیادہ شدت پسند تھے لیکن ان کا ہدف امریکہ انڈیا یا دیگر کافر ملک نہیں بلکہ مسلمان پاکستان تھا۔

Suicide Attacks
Suicide Attacks

پاکستان پر کفر سے اتحاد کا الزام لگانے والے یہ نام نہاد عسکریت پسند کافروں کی گود میں بیٹھ کر پوری قوت سے پاکستان پر حملہ آور ہوگئے اب خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا ایک لا متناہی سلسلہ پاکستان میں شروع ہوچکا تھا ۔ مساجد، مدارس ،اسکولوں اور بازاروں میں ہونے والے بم دھماکوں کا شکار اکثر پاکستان کے نہتے عوام تھے۔ایسی کیفیت میں سی آئی اے اور را کا اگلا خطرناک وار یہ تھا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ غیر ملکی میڈیا کے ساتھ ملکی میڈیا میں اپنا زرخرید صحافیوں کے ذریعہ پاکستان کے ناکام ریاست ہونے کا پروپیگنڈہ کرکے اس کے ایٹمی پروگرام پر بھی سوالات اٹھائے جانے لگے۔

یہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے اعصاب کا کڑا امتحان تھا ایک طرف افغانستان کی جنگ کی صورتحال جہاں ناکامی کی صورت میں پاکستانی سرزمین کے کھلے میدان جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ اور دوسری طرف پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی دہشتگردی اور اس کے نتیجہ میں مسلسل معصوم جانوں کا زیاں اور پھر درست طور پر بکرے کی ماں سے نمٹنے کا فیصلہ کرکے مجاہدین اسلام نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف اپنے حملوں کو تیز سے تیز تر کردیا۔ ان حملوں کا نتیجہ بہت جلد امریکی واویلے کی صورت میں آنے لگا،ہر روز امریکہ پہنچتے امریکی فوجیوں کے تابوت امریکی عوام کو امریکی فوج کی فتوحات کی داستانوں سے متضاد کوئی اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔

امریکی کبھی بھی اس طرح اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھانے کے عادی نہی تھے یہی وجہ تھی کہ پورے امریکہ میں افغان جنگ کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے امریکی رائے عامہ انتہائی تیزی سے اپنی حکومت کے خلاف ہونے لگی کثیر جنگی اخراجات کے بوجھ تلے دبی امریکی معیشت کی زبوں حالی امریکہ کیلئے مرے پر سو درے کی مصداق تھی۔ امریکی خوشنودی کے حصول کیلئے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اترنے والے امریکی اتحادیوں کی حالت اس سے زیادہ پتلی تھی افغان مجاہدین کے ہاتھوں گرنے والی چند لاشوں نے ہی ان کا نشہ ہرن کردیا تھا اور یہ امریکی حواری جتنی تیزی کے ساتھ آئے تھے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ واپسی کے لئے سامان باندھنے لگے۔

اس عظیم الشان فتح کے بعد دنیا میں پاکستان کی حیثیت کا بدل جانا یقینا” ایک فطری امر تھا۔ دنیا ایک سخت جان بہادر اور میدانوں میں کھڑے ہوکر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن سے انتہاء بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑ کر فتح حاصل کرتے پاکستان کو اس کا حقیقی مقام و مرتبہ دینے پر مجبور تھی۔ پاکستان کی یہ شاندار کیفیت پاکستان کے ازلی اور کمینے دشمن ہندوستان کے نزدیک قطعی طور پر ناقابل قبول تھی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو ایک بار پھر ٹوٹتا دیکھنے کے خواب دیکھتے ہندوستانی اتنے زیادہ بوکھلا چکے تھے کہ وہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کرنے پر مجبور ہوچکے تھے۔

Modi
Modi

بھارتی گجرات کے قصائی کے طور پر معروف نریندر مودی کا وزیراعظم کے طور پر انتخاب جس کیلئے مودی کی اہلیت کا معیار صرف اور صرف پاکستان دشمنی تھی۔ مودی نے آتے ہی اپنی کم ظرف فطرت کے مطابق پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ شروع کردیا اپنی انتخابی مہم میں پاکستان کو سبق سکھانے کو دعوے کرنے والے مودی کو اس وقت بڑی ہی خفت اٹھانی پڑی جب پاکستان کی جانب سے اس کی ہر حرکت کا سخت ترین جواب آنے کے بعد اس کو رسوا ہو کر پیچھے ہٹنا پڑا بیرونی خطرات سے بہت حد تک نمٹ لینے کے بعد پاکستان کا اگلا ہدف اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کی صفائی تھا آپریشن ضرب عضب کے نام سے اس صفائی کے آغاز کے ساتھ ہی انڈین بوکھلاہٹ کا اظہار بین الاقوامی سرحد پر چھیڑ چھاڑ کے زریعہ ہونے لگا لیکن یہاں بھی مودی سرکار کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی جہاں پاکستان کی بہادر افواج نے اپنی سرحدوں پر انڈینز کو منہ توڑ جواب دیا۔

ساتھ ہی آپریشن ضرب عضب کی رفتار کو تیز کرکے پاکستان کے اندر غیر ملکی گماشتوں کو ٹھکانے لگانے کا کام بھی انتہاء تیز کردیا گیا۔ ایسے میں کھلے میدان میں کھلی شکست سے دوچار بزدل دشمن نے انتہا درجہ کی کمینگی کا اظہار کرتے ہوئے پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے نہتے نونہالوں پر حملہ کردیا چھوٹے چھوٹے ننھے پھول جیسے معصوموں کو چہروں پر گولیاں مار کر شہید کرنے والے سفاک ترین مجرم کسی بھی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں تھے تین اور چار سال کے بچوں کی خون میں تربتر لاشیں قوم سے بہت سخت انتقام کا تقاضہ کررہی تھیں اور پھر اس انتقام لینے کا پورے ملک میں آغاز کردیا گیا دہشتگردوں اور ان کے ہمدردوں پر پاک سر زمین تنگ ہونے لگی دور حاضر کے ان سفاک ترین فرعونوں کو ان کے خفیہ بلوں سے نکال نکال کر مارا جانے لگا اور برسوں کے گند کی صفائی کا وہ کام جس کیلئے عام حالات میں شاید سالوں درکار تھے۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے نونہالوں کی قربانی کے سبب دنوں میں ہونے لگا برسوں سے لسانیت صوبائیت اور فرقہ واریت میں بٹی قوم ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہوکر پاکستان آرمی کے شیروں کو پاکستان کو غیر ملکی ایجنٹوں سے پاک کرنے کا مینڈیٹ دے رہی تھی۔ مسلمانوں کا اتحاد ہمیشہ اپنے اندر عظیم ترین نتائج سموئے ہوتا ہے ایسا ہی کچھ پاکستانیوں کے ساتھ بھی ہورہا تھا دنوں میں امن و امان اور معیشت کی حالت سنبھلنے لگی پاکستان کی معاشی ترقی کا عظیم منصوبہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری بھی انہی دنوں میں قوم کے سامنے پیش کرکے اس پر فوری کام شروع کردیا گیا پاکستان کی اقتصادی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی گوادر پورٹ کے فعال ہونے کی خوشخبری بھی انہی دنوں میں قوم نے سنی ہے۔ کل ہماری شکست و ریخت کی باتیں کرنے والے آج ہمیں مستقبل کی سپر پاور کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں یہ سب کچھ بہت کچھ قربان کرنے کے بعد حاصل کیا گیا ہے اور ترقی اور عزتوں کے حصول کے اس عظیم سفر میں زرا برابر بھی کوتاہی ہماری راہ کھوٹی کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

Pakistan
Pakistan

عظمتوں اور رفعتوں کے حصول کے اس سفر میں ہمیں بہت زیادہ چوکنا رہنا پڑے گا ہمارا مکار دشمن ماضی میں ہمیں لسانی صوبائی اور فرقہ وارانہ جھگڑوں میں مبتلا کرکے ہماری صفوں میں انتشار پیدا کرتا رہا ہے اپنی منزل کے حصول کیلئے ہمیں ہر طرح کے انتشار سے بچ کر اتفاق و اتحاد کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا اور اس مقصد کے حصول کا سب سے آسان راستہ پاکستانیوں میں نظریہ پاکستان کا نئے سرے سے احیاء ہے پاکستان کی بقا کیلئے ہمیں ہر طرح کے لسانی گروہی اور فرقہ وارانہ تضادات کو رد کرکے اپنی گلی کوچوں میں ایک بار پھر وہی نعرہ مستانہ لگانا پڑے گا جو کل پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں ہمارے پرکھوں نے لگایا تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ، تیرا میرا رشتہ کیا، لا الہ الا اللہ، اسلام زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔

تحریر: فیصل ندیم

Share this:
Tags:
Indian Muslim subcontinent برصغیر مسلمانان نظریہ پاکستان ہندوستان
US Court
Previous Post حقانی نیٹ ورک کے رکن سابق روسی کمانڈر پر امریکی عدالت میں فرد جرم عائد
Next Post پہلوان گوٹھ کی گلیاں سیوریج کے گندے پانی کے جوہڑ میں تبدیل
Sewage

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close