Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے

March 21, 2015March 21, 2015 0 1 min read
23 March
23 March
23 March

تحریر : انجینئر ذیشان وارث
پھل ہو، پھول یا کوئی درخت، اس کے ذائقے، خوشبو اور بناوٹ کا انحصار ان باتوں پر ہوا کرتا ہے کہ بیج کس معیار کا استعمال ہوا، زمین کتنی زرخیز تھی یاجس جگہ وہ بیج بویاگیا وہاں کے موسمی حالات کیاتھے۔ انہی عناصر ترکیبی کاکمال ہے کہ آنکھ دیکھتی ہے کہ دیودار کاتناور درخت پہاڑ کا سینہ چیر کر ایستادہ ہے اوربے آب وگیاہ صحرا میں کیکٹس زندگی کے ساتھ ناطہ جوڑے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں تجربہ اس بات کابھی شاہد ہے کہ کبھی کسی نے پیازبوکرگلاب کاشت نہیں کیے…بالکل اسی طرح کسی قوم کی تشکیل میں مذہب،سیاست،تہذیب اور سماج کے متعلق اس قوم کے نظریات،اس کے تہذیبی و معاشرتی خدوخال کے معمار ہوا کرتے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ اس کے مستقبل کے کردار کی پیشین گوئی بھی کرتے ہیں۔ گویا وطن،ملک یاقوم نظریے کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں لیکن نظریہ ہے کیا؟ ماہرلسانیات ویبسٹر(Webster) کے مطابق ”کسی تہذیبی،سیاسی یا معاشرتی تحریک کاعام منصوبے یا لائحہ عمل بارے علمی بیان نظریہ کہلاتاہے۔” (نظریہ پاکستان۔ حمید رضا صدیقی) نظریہ کسی قوم کے اجتماعی اورانفرادی رجحانات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان راستوںکو متعین کرتاہے جن پر چل کر اس قوم نے اپنے مستقبل کی صورت گری کرنا ہوتی ہے۔لہٰذا نظریہ قوموں کی زندگی میںانتہائی اہمیت کاحامل ہواکرتاہے۔

یہ نظریہ کسی فرد کی فکراور سوچ ہوتی ہے جو اسے ایک قطعہ ارض پرثابت قدم رکھتی ہے لیکن جب نظریہ دم توڑجائے اورفکر بکھرجائے تووطن کی حیثیت زمین کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ بانیان پاکستان نے جب پاکستان کامطالبہ کیاتواس کی بنیاد دوقومی نظریہ یا نظریہ اسلام پر رکھی جسے نظریہ پاکستان کہاجاتاہے کہ”اسلام کاپیش کردہ سیاسی،معاشرتی اورتہذیبی لائحہ عمل ہی مسلمانانِ برصغیر کا دستور العمل اورنظریہ حیات ہے لہٰذا یہ ہندؤوں کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتے،انہیں ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے جس کی بنیاد جغرافیائی حدبندیوں پرمشتمل”قومی ریاست” کے بجائے نظریہ اسلام پرقائم کردہ ایک”نظریاتی ریاست” پرہو جہاں وہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں بسرکرسکیں۔” یہ وہ بیانیہ ہے جسے برصغیر کے مسلم رہنماؤں کی طرف سے باربار نہ صرف دہرایاگیا بلکہ وہ اس کے ساتھ دلائل کے میدان میں بھی اترے اور اس کابھرپور دفاع کیا۔بانیٔ پاکستان محمدعلی جناح فرماتے ہیں: ”ہم پاکستان انگریزوں کے ظلم کی وجہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں نہ ہندوکی مکاری کے ڈرسے، بلکہ ہم پاکستان اس لیے حاصل کرناچاہتے ہیں کہ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے۔”(علی گڑھ یونیورسٹی میں خطاب۔ 1944ئ) پاکستان کے قومی شاعر،مفکر اسلام اور عظیم فلسفی علامہ اقبال اپنے مشہور خطبہ الٰہ آباد میں فرماتے ہیں:

”اسلام کا عقیدہ ہے کہ مذہب کوفرد اورریاست کی زندگی میں بے انتہااہمیت حاصل ہے۔”اسی خطبہ میں آگے چل کر فرماتے ہیں ”لہٰذا مسلمانوں کا مطالبہ’ کہ برصغیر میں ایک مسلم ہندوستان (اس وقت تک پاکستان کا نام تجویز نہیں ہواتھا) قائم کیاجائے بالکل حق بجانب ہے۔” یہمطالبہ کہ برصغیرمیں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی بنیاد نظریہ اسلام ہونی چاہئے، مذکورہ بالادونوں راہنماؤں کاہی نہ تھا بلکہ ہرمسلمان کایہی مطالبہ تھا ،سوائے ان چیدہ چیدہ راہنماؤں کے جو اسلام کی اصل روح سے ناواقف رہتے ہوئے جغرافیائی حدبندیوں پرمشتمل ایک قومی ریاست کے قائل تھے اور نظریہ پاکستان کومحض سیاسی مسئلہ سمجھتے تھے۔ مسلمان رہنماؤں کے سختی سے نظریہ پاکستان پر کاربند رہنے کی دوبنیادی وجوہات تھیں۔ -1 قیام پاکستان -2 استحکام پاکستان یہ بات ان عظیم راہنماؤں پراظہرامن الشمس تھی کہ نظریے کے بغیر پاکستان کا قیام ممکن تھا، نہ اس کا استحکام۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سخت ترین آزمائشوں اور مشکلات کاسامنا کرنے کے باوجود اس بیانیے کوفروغ دیاکہ مسلمان اگر ہندؤوں سے علیحدہ ہو کر ایک نئی مملکت قائم کرناچاہتے ہیں تواس کی بنیاد اسلام ہونا چاہیے، کیونکہ یہ وہ واحدنکتہ ہے جس پرمختلف رنگ،نسل اور زبان سے تعلق رکھنے والے مسلمان اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ محمد علی جناح فرماتے ہیں:”وہ کون سارشتہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان جسد واحد ہیں،وہ کون سی چٹان ہے جس پراس امت کی بنیاد استوار ہے،وہ کون سالنگرہے جس پرا س امت کی کشتی محفوظ کی گئی ہے ،وہ رشتہ،وہ لنگر،وہ چٹان اسلام ہے۔” (1943ء کو کراچی میں بانیٔ پاکستان کا خطاب) اسلام یانظریہ پاکستان کے بغیر نئی مملکت کاقیام ناممکن تھااور یہ نکتہ ”نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے” کاپہلاحصہ ہے،اس ضمن میں جوبات اس چیزپراستدلال کرتی ہے کہ ”نظریہ پاکستان”ہی قیام پاکستان کاسبب ہے،وہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے بعد پہلی ریاست جس کے لیے جغرافیہ کو مذہب کی بنیاد پرتقسیم کیاگیا ،پاکستان ہے۔ برصغیرکے دواہم صوبوں پنجاب اور بنگال کو خالص مذہبی بنیادوں پر ہند و پنجاب، مسلم پنجاب اور ہندوبنگال ،مسلم بنگال میں تقسیم کیاگیااور یہ بیسویں صدی کاحیرت انگیز ترین واقعہ ہے۔

Pakistan
Pakistan

یہی وہ کارنامہ ہے جس پرامریکی مصنف سٹینلے والپرٹ اپنی کتاب”جناح آف پاکستان” کے دیباچے میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتاہے کہ”جناح وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کارخ موڑ دیا۔” یوں 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے فتح حاصل کی اور حصول پاکستان کی منزل کو پالیا۔گویا ”نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے” کاپہلاحصہ یعنی اسلامی پاکستان کاقیام تکمیل کوپہنچ گیا۔ ”نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے” کا دوسرا نکتہ ہے کہ جس طرح پاکستان کاقیام نظریہ پاکستان کا مرہون منت ہے ،اسی طرح ”استحکام پاکستان” بھی نظریہ پاکستان میں ہی مضمرہے۔ ہم اس بات سے واقف ہوں یا نہ ہوں لیکن ہمارا دشمن اس بات سے بخوبی واقف رہا اور اب بھی ہے۔ چنانچہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی نظریہ پاکستان بارے شکوک وشبہات پیداکرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن بیدار مغز قیادت ان سازشوں کا پوراپورا ادراک رکھتی تھی۔ چنانچہ بانیٔ پاکستان نے 25جنوری 1948ء میں فرمایا: ”یہ کہاجاتاہے کہ پاکستان میں اسلامی شریعت نافذ نہیں ہوگی،یہ شرارتی عناصر کاپروپیگنڈہ ہے ۔میں انہیں کہتاہوں کہ وہ اس سے بازآجائیں۔” سوچنے کی بات ہے کہ کیاہم بھی ایسے شرارتی عناصر سے باخبرہیں؟ اس کے بعدلسانیت کے تعصبات کے خلاف قائد نے21مارچ 1948ء کو اپنے پیغام میں کہا:”میں آپ کو پنجابی،سندھی ، بنگالی،بلوچی اور پٹھان کہنے سے منع کرتاہوں۔ آخر یہ کہنے میں کیالطف ہے کہ میں سندھی،پنجابی، بلوچی یا پٹھان ہوں ۔ہم صرف مسلمان ہیں۔”

قائداعظم کی وفات کے بعد بھی ان کے جانشینوں نے نظریہ پاکستان سے صرف نظرنہ کیابلکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام کے نام پربننے والے اس ملک کا استحکام نظریہ پاکستان سے ہی وابستہ ہے۔ اس ضمن میں 12مارچ 1948ء کو ”قراردادِمقاصد” منظورکی گئی جس میںاس ملک کواسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے پر زور دیاگیا اور یہ قرارداد مقاصد اب آئین ِمیں بطورِ دیباچہ شامل ہے۔ ”اسی سال مسلم لیگ کے صدر چودھری خلیق الزماں نے اعلان کیاکہ پاکستان جملہ مسلمان ممالک کو اسلامائزیشن کے عمل میں شامل کرلے گااور ”پین اسلامک” (کل اسلامی) تشخص تشکیل دیاجائے گا۔اسلام کی بین الاقوامیت کوفروغ دینے کے لیے حکومت پاکستان نے کراچی میں”مسلم کانفرنس” کاانعقادکیا اور”موتمر عالم الاسلامی” نامی تنظیم کی تشکیل کی گئی۔نومبر1949ء میں 18مسلم ممالک نے کراچی میں”عالمی اسلامی اقتصادی کانفرنس منعقدکی۔” (پاکستان:فوج اور مسجد کے درمیان ۔حسین حقانی) مذکورہ بالا تمام اقدامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہمارے راہنما اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ پاکستان کی بقاء نظریہ پاکستان سے منسلک رہنے میں ہی ہے۔ یہ بات صرف تصوراتی حدتک ہی درست نہیں بلکہ اپناطبعی وجودبھی منواچکی ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ جب چندراہنماؤں نے نظریہ پاکستان کو پس پشت ڈال کر لسانیت اورعلاقائیت کی سیاست کواپناشعار بنایا توپاکستان کی بقاخطرے میں پڑگئی۔ 1971ء کاسانحہ سقوطِ ڈھاکہ نظریہ پاکستان سے فرار کی سزاہی تھاکہ ہماراایک بازوہم سے جداہوگیا۔ لسانیت اورفرقہ واریت کاجوبیج اس وقت ملک میں بویا گیا اس کی بدولت ”سندھو دیش ”اور ”آزادبلوچستان” کے نعرے ایجادہوئے۔ ان نعروں نے نہ صر ف پاکستان میں افراتفری کاسماں پیداکیا بلکہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو سازشیں کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے۔ انہی سازشوں کے نتیجے میں بلوچستان میں چندمفاد پرستوں کے ہاتھوں ناپا ک دشمن نے بغاوت برپاکی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے یہ نادان دوست علاقائیت اور لسانیت کی روش چھوڑ کرنظریہ پاکستان کواپنی سیاست کی بنیاد بناتے تو ہندو بنئے کوسازش کرنے کی جسارت نہ ہوتی مگر وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا صرف یہ فتنہ ہی پاکستان کی بقاء کو خطرے میں ڈالے ہوئے نہیں بلکہ الحاد،سیکولرازم اور”روشن خیالی” جیسے نت نئے فتنے بھی ملک کی نظریاتی اساس کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ نوجوان نسل کو اسلام سے دور کرکے انہیں غلیظ مغربی تہذیب کادلدادہ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ذرائع ابلاغ اوراین جی اوز کو استعمال کیا جاتاہے۔ جن کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کے قاتل، خونی بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانے اور کشمیر میں اس کے مظالم پرپردہ ڈالنے کے لیے ”امن کے تماشے” لگائے جاتے ہیں اور ”خیرسگالی” وفود کاتبادلہ کیاجاتاہے جو قوم کو بتاتے ہیں کہ ہمارے درمیان توایک ”لکیر” آگئی ہے جس نے ہمیں جدا کردیا۔ورنہ ہماری ثقافت اورتہذیب تو ایک ہی ہے۔ہم ہی تو ”گنگاجمنا” تہذیب کے وارث ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر عساکر پاکستان کوکمزور کرنے اور بھارتی جارحیت کی طرف سے ان کی توجہ ہٹانے کے لیے ملک میں تکفیر کافتنہ کھڑاکیاگیا۔

Islam
Islam

اسلام سے محبت رکھنے والے کچھ نوجوان نام نہاد”مجاہدین” کے ہاتھوں اپنوں کے ہی خلاف استعمال ہوئے۔”ایمان” تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے جھنڈے تلے لڑنے والی افواج کے خلاف کفر کے ”انڈین میڈیا” فتوے لگا کربقائے پاکستان کو خطرے سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان سب فتنوں سے چھٹکارے کاایک ہی حل ہے کہ قوم کو نظریہ پاکستان پراسی طرح اکٹھاکیاجائے جس طرح یہ قوم سرسٹھ سال پہلے بابائے قوم کی قیادت میں ”پاکستان کامطلب کیا؟ لاالٰہ الااللہ” کے نعرے پر اکٹھی ہوئی۔نوجوان نسل کو یہ باو رکراناہوگا کہ دشمن کے ساتھ ہماری سرحد صرف ”لکیر” نہیں بلکہ آگ کا وہ دریاہے جسے ہمارے اجداد نے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر عبور کیا۔ ہمارے قابل تقلید کرداربھارت کے فلمی ہیرو نہیں بلکہ مجاہدین اسلام ہونے چاہئیں۔ انہیں اس بات کااحساس دلانا ہوگا کہ ”آپ نے ہی نہ صرف اس ملک کی حفاظت کرنی ہے بلکہ ہندوستان کے ظلم میں جکڑے کشمیریوں کو آزاد کروا کر نظریہ پاکستان کی تکمیل بھی۔” علاوہ ازیں روس،امریکہ اوربھارت جیسے اسلام کے دشمنوں کے دانت کھٹے کرنے والی افواج پاکستان کے خلاف بپافتنہ تکفیر کامقابلہ بھی نظریہ پاکستان کی”تلوار” سے ہی کرناہے اور نوجوانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ ہمارے عساکر پاکستان کے محافظ ہیں جو عالم اسلام کاواحد سہارا ہے۔ گویا وہ نکتہ جس پرپوری قوم اکٹھی ہوکر دشمن کامقابلہ کرسکتی ہے، ”نظریہ پاکستان ” ہے اور یہی ”بقائے پاکستان” کی ضمانت ہے۔ کیونکہ پاکستان میں رام راج چل سکتاہے نہ سامراج ،یہاںچلے گا تو صرف اسلام راج !
بقول اقبال
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں

تحریر : انجینئر ذیشان وارث

Share this:
Tags:
Earth flowers mountain pakistan quality Theory پاکستان پھول پہاڑ تجربہ زمین معیار نظریہ
Sulat Mirza
Previous Post صولت مرزا تم تو میرئے ہیرو ہو
Next Post برصغیر کی سیاسی تاریخ پر اثرات کا جائزہ
Quaid-e-Azam

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close