تم نا سمجھو میری بات تو کوئی سمجھے کیا
تم نا جانو کہ ہمدم تم ہو میرے کیا
تم ہو تو نگاہوں سے سجود ہو جائیں
تم ہو تو پھر اور کسی کو دیکھے کیا
تم ہو تو پھر پھولوں میں بٹھا کر تم کو
دنیا کے ہنگاموں کو کوئی سوچے کیا
یہ فراق پیشانی ، یہ نگاہیں یہ تبسم
تم ہو تو پھر اور کسی کو چاہے کیا
چاند بھی کاسہ لیے ٹھہراہے تمھیں دیکھنے کو
ہم سے نا چیز کو، کوئی دیکھے کیا
تحریر : عائشہ سردار (فیصل آباد)
