Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کیا تھر پاکستان کے لیئے گیم چینجر بننے جا رہا ہے

November 28, 2017 0 1 min read
Coal Mine Project
Coal Mine Project
Coal Mine Project

تحریر : محمد ارشد قریشی
اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز پر حکمرانی کرنے والی ہر حکومت ملک میں توانائی کی کمی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیئے کوشاں رہی لیکن ان کی ترجیحات میں کافی غلطیاں نظر آئیں ۔ جس سے ایسا تاثر ملتا رہا جیسے کہ کسی بادشاہ کے ہاتھ دولت تو آگئی لیکن استمال کرنے کا طریقہ نہ آیا اور ادھر ادھر فضول چیزوں پر دولت لٹا کر تباہ کردی اور اگر دولت قرض لے کر ہاتھ آئی تو پھر رعایا کو اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔

بدقسمتی سے ایسا ہی کچھ تھر میں کوئلے کے ذخائر کے ساتھ بھی کافی عرصہ ہوتا رہا مفلوک الحال تھر کی زمین کالہ سونا اگلنے کو تیار رہی مگر حکمرانوں کو شائید اس کالے سونے میں بھی چمکتی چاندی نظر آنے لگی ان ذخائر میں ملکی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد کی بھاگ دوڑ نظر آنے لگی ۔ایک اندازےکے مطابق تھر میں پائے جانے والے کوئلے کی ذخائر 175 بلین ٹن ہیں جو دنیا میں کوئلے کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتا ہے ، یہی وجہہ ہے کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر سعودی عرب اور ایران میں پائے جانے والے موجودہ تیل کے ذخائر سے بھی زیادہ ہیں جو کہ گیس میں تبدیل ہونے پر 2000 ٹریلین کیوبک فٹ کے برابر ہوگا جو پاکستان کے اب تک کے تمام ذخائر سے 68 گناہ زیادہ ہے ۔وطن عزیز پر رب کائینات کی مہربانی کے یہ دنیا میں پائی جانے والی کوئلے کی کانوں سے اس طرح بھی مختلف اور سہل ہے کہ ریگستانی ہموار زمین کے نیچے یہ ذخائر موجود ہیں ہموار زمین کے نیچے معدنیات کا ہونا خود ایک نعمت ہے ۔

کوئلہ بجلی بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس وقت دنیا کی کل بجلی کی پیداوار کا 04.6 فیصد کوئلے سے بنتا ہے ۔ اگر ہم ان ممالک جن کو اللہ تعالی نے کوئلے کی دولت سے مالا مال کیا ہے ان کی بجلی کی پیداوا ری تناسب کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ پولینڈ ، ساؤتھ افریقہ،چین ، بھارت ، آسٹریلیا ،قازقستان،جرمنی ، امریکہ ، برطانیہ، ترکی ، یوکرائن، منگولیا،ہانگ کانگ ،سربیا،بوسنیا اور جاپان میں کوئلے سے بجلی بنانے کا تناسب 55 فیصد سے 99 فیصد تک ہے ۔ تمام ایشیائی ممالک میں منگولیا کوئلے سے سب سے زیادہ بجلی بنانے والا ملک ہے جس کی پیداوار 92.2 فیصد ہے جب کہ منگولیا کے پاس 162 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں ۔اسی طرح یورپی ممالک میں سب سے زیادہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا ملک پولینڈ ہے جو 83 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کرتا ہے ۔اگر اس بین الاقوامی تناسب کا موازنہ وطن عزیز سے کیا جائے تو سر پیٹنے کے سو ائے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ بہت بڑا کوئلہ کا ذخیرہ ہمارے ملک میں موجود ہے اور جسے دریافت کیئے ہوئے بھی ایک زمانہ گذر گیا اس کے باوجود ہم کوئلے سے آٹے میں نمک برابر بجلی پیدا کررہے ہیں ۔

تھر میں کوئلے کی کانیں سن 1991ء میں جیوولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی ) اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی جانب سے دریافت کی گئیں جو دنیا میں 119 ممالک میں پائے جانے والے کوئلے کے ذخائر میں ساتویں نمبر پر قرار دی گئیں ، تھر میں بڑے پیمانے پر کوئلے کی کانوں کی دریافت کے بعد سے ہی آسٹریلیا، جاپان،چین اور بھارت کے سرمایہ کاروں کی نظریں اس حوالے سے شروع ہونے والے منصوبوں پر لگی رہیں ۔ دریافت کے بعد ایک طویل عرصے تک اس پر کوئی کام نہ کرنے کی وجہہ اس قدرتی خزانے پر ملکیت کی رسہ کشی تھی ایک طویل عرصہ ضائع کرنے کے بعد سترہ جون 2009 کو سندھ حکومت کی جانب سے باضابطہ ایک اعلان سامنے آیا جس میں عندیہ دیا گیا کہ تھر کول کا معاملہ حتمی طور پر طے پاچکا ہے جس کے مطابق حکومتِ سندھ تھر میں دریافت ہونے والے کوئلے کی کانوں کو اپنی ملکیت میں رکھےگی ، اسی خاطر وزیر اعلی سندھ کی سربراہی میں تھرکول انرجی بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا اور منصوبے کو جامشورو یونیورسٹی کے حوالے کیاگیا ، یونیورسٹی کے پاس اس منصوبے کے لیئے درکار مہارت کا فقدان تھا جس وجہہ سے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر مزید طوالت کی جانب چلا گیا۔

تھر کول میں واقع کوئلے کے ذخیرے کو تیرہ بلاکوں میں تقسیم کیا گیا ہے جوتین فیز پر مشتمل ہیں سن 2010 سے 2012 تک کے لیے پہلے بلاک میں ڈاکٹر ثمر مبارک کی زیر قیادت منصوبہ شروع کیا گیا جس کا تخمینہ 9 بلین روپے تھا جس سے 28 مئی 2015 سے بجلی کی پیداوار شروع کی گئی لیکن ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ اسی دن سے اس پروجیکٹ کے لیئے فنڈنگ روک دی گئی اور 2017 تک اس منصوبے کے لیئے 03 بلین کی فنڈنگ ہوئی جس سے صرف 150 میگاواٹس بجلی پیدا کی جارہی تھی جو کہ ان کے منصوبے میں استمال ہونے والی بجلی کی ہی مانگ پوری کرنے کے قابل تھی ۔منصوبے کی فنڈنگ رکنے کے بعد ڈاکٹر ثمر مبارک نے تھر کول کے مزید بلاکوں میں شروع ہونے والے منصوبوں کے بارے میں حیران کن انکشافات کیئے کہ مزید جن بلاک میں کام شروع کیا گیا ہے وہاں ایمپورٹڈ کوئلے سے بجلی بنائی جائے گی جسے پورٹ قاسم سے تھرلایا جائے گا ۔جب کہ حکومت کی جانب سے اس بات کو یکسر مسترد کیا گیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ زیر غور ہے ایسا کیوں کر ممکن ہے کہ ہم اپنا بہترین کوئلہ بجلی کی پیداوار کے لیئے استمال کرنے کے بجائے باہر سے کوئلہ لے کر استمال کریں ۔

مئی 2013 میں سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی ( ایس ای سی ایم سی ) کے ذریعے بلاک ٹو کے منصوبے پر کام کرانے کا فیصلہ کیا گیا یہ فیصلہ اس نوعیت سے ایک منفرد فیصلہ تھا کہ پوری دنیا میں کوئلہ نکالنے کے منصوبے پر کام حکومتیں خود کرتی ہیں ۔ ایس ای سی ایم سی نے سندھ حکومت کی شراکت سے بلاک ٹو میں کام شروع کیا ہے جس کا رقبہ 98 مربع کلومیٹر ہے ایس ای سی ایم سی کے مطابق یہاں سے نکلنے والے کوئلے سے 5000 میگاواٹ بجلی بنائی جاسکے گی جو آئیندہ 50 سالوں کی ضرورت پوری کرے گی اس منصوبے کا کل تخمینہ 50 بلین ڈالر ہوگا ۔منصوبے کی مطابق فیز ون سے 03 جون 2019 کو بجلی کی سپلائی شروع ہوجائے گی جو کہ 660 میگاواٹ ہوگی جب کہ 2020 سے 2021 میں فیز ٹو اور تھر ی سے 1650 میگاواٹ پیداوار ہوگی جس سے مجموعی پیداوار بڑھ کر 2310 میگا واٹ ہوجائیگی اسی طرح 2022 سے 2023 میں مجموعی پیداوار 3630 میگاواٹ اور 2024 سے 2025 تک یہ پیداوار 5000 میگاواٹ ہوجائے گی ۔ ایس ای سی ایم سی کی مطابق بتایا گیا ہے کہ امید ہے 2028 میں منصوبے کے لیئے جو قرض لیا گیا ہے وہ واپس کردیا جائے اور 2029 سے بجلی مزید سستے نرخوں میں عوام تک پہنچنا شروع ہوجائی گی ۔

ایس ای سی ایم سی کی مطابق وہ فیز ون میں جس بلاک میں کام کررہی وہ تھرکول ذخائر کا ایک فیصد ہے جس سے 1.57 بلین ٹن کوئلہ برآمد کیا جائے اس بلاک میں کوئلہ 160 میٹر زیر زمین ہے جب کہ اب تک تقریباً 134 میٹر تک کھدائی کردی گئی ہے ۔ کوئلہ کی لیئر سے اوپر قریب 30 سے 34 فٹ موٹی پانی کی لئیر بھی موجود ہے اس لئیر سے 25 فیصد پانی نکال لیا گیا ہے ۔ تھر میں دریافت ہونے والا کوئلہ لگنائٹ کہلاتا ہے اس کوئلے میں سلفر کی مقدار 1.07 فیصد ، راکھ 7.8 فیصد اور نمی کی مقدار 49 فیصد ہے ۔ ایس ای سی ایم سی کے مطابق کسی بھی کول پاور پلانٹ کو چلانے کے لیئے پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور یہاں پائے جانے والے کوئلے کے ذخائر کے اوپر ہی پانی موجود ہے ورنہ تھر میں بھاری مقدار میں پانی کا ذخیرہ کرنا بھی ایک بڑا کام ہے اللہ نے ہمیں کول پلانٹ شروع کرنے کے تمام قدرتی ذرائع بھی فراہم کردئیے ہم اسی کول مائن سے نکلے ہوئے پانی کا ذخیرہ کررہے ہیں جو پلانٹ کو چلانے میں استمال کیا جائے گا منصوبے سے حاصل ہونے والے پانی کے ذخیرے کو گورانو کے علاقے میں گورانو ڈیم میں دوسال کے لیئے محفوظ کیا جائے گا جو کہ پلانٹ میں استمال کیا جاسکے گا۔ اس شعبہ میں کام کرنے والی جرمنی کی مشہور کمپنی آر ڈبلیو او کا ماننا ہے کہ کوئلہ کی کانوں کے اوپر سے حاصل ہونے والا پانی قدرتی ہوتا ہے اس میں کوئی کیمکل شامل نہیں ہوتا اس لیئے یہ نمکین ہوتا ہے زہریلا نہیں ۔ اینگرو کی جانب سے اس علاقے میں کئی پانی کے کنوئیں کھودے گئے ہیں جن سے حاصل پانی سے تجرباتی طور پر اس سال پہلی مرتبہ تھر کے علاقے میں کپاس کاشت کی گئی جس کے اچھے نتائج آئے ۔ جب کہ مختلف فلاحی تنظیموں اور ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر میں سینکڑوں پانی کے کنوئیں دوسرے علاقوں میں بھی کھودے گئے ہیں ۔ پلانٹ میں کوئلے کو جلانے سے جو راکھ پیدا ہوگی اس کے لیئے بھی دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے رابطہ کیا ہے جس سے ملک میں ذرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اس کوئلے کی راکھ سے دنیا کی بہترین ٹائلز اور اینٹیں بنائی جاتی ہیں جب کہ دیگر اشیاء کے بنانے میں بھی استمال کی جاتی ہے ۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک بھی کوئلے سے ہی بجلی پیدا کررہے ہیں وہاں بھی ان پلانٹس کی وجہہ سے آلودگی میں اضافہ نہیں ہوا کیوں کہ اس سے پیدا ہونی والی آلودگی کو زیرو فیصد کرنے کے اقدامات کیئے جاتے ہیں ۔

اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں صحافیوں کے وفد کے ساتھ ایک مطالعاتی دورے پر تھر کول جانے کا اتفاق ہوا جس کے دوران کئی حقائق سامنے آئے اور تھرکول بلاک ٹو میں جاری کام کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ ذہن میں اس منصوبے کے حوالے سے کئی سوالات تھے جن کے جوابات وہاں جاکر ملے اور افسوس اس امر پر ہوا کہ اگر تھرکول میں کوئلے کی دریافت کے فوری بعد توانائی کی کمی اور بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر منصوبے پر کام شروع کردیا جاتا تو اب تک ناصرف وطن عزیز بجلی کی پیداوار میں ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوتا بلکہ عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارا مل چکا ہوتا اور سستی بجلی بھی میسرہوتی ، تھر کا علاقہ ایک سیاحتی مرکز بن چکا ہوتا مقامی لوگوں کو مزید روزگار میسر آتا اور ملک مزید خوشحالی کی راہوں پر چل نکلتا ۔

ان منصوبے کے شروع ہونے میں سب سے اہم سوالات یہ بھی تھے کہ اللہ نے جن تھر کے باسیوں کے قدموں کے نیچے سے کالا سونا نکالا اس معدنی ذخیرہ سے ان کی حالاتِ زندگی میں بھی کوئی تبدیلی آئی گی کہ نہیں۔ اس حوالے سے تھرپارکر میں کئی اقدامات قابل اطمینان نظر آئے اور دلی تسلی بھی ہوئی ۔تھر کول کے مقام پر جو گاؤں آباد تھے انہیں متبادل گھر دینے کا اعلان کیا گیا اس کے لیے ایک ماڈل ولیج بنایا جارہا ہے جب کہ ماڈل ہوم تیار ہوچکا ہے جس کا ڈیزائن مقامی لوگوں کی منشاء کے مطابق بنایا گیا ہے جس میں تھر کا ثقافتی چونرا بھی بنایا گیا ہے اس ماڈل ولیج کے ہر گھر کا کل رقبہ 1000 مربع فٹ ہے جو متاثرہ 174 خاندانوں کو دئیے جائینگے یہ گھر خاندان کے ہر شادی شدہ مرد کو دیا جائےگا یعنی اگر وہ پہلے ایک گھر میں چار شادی شدہ افراد رہتے تھے اب چاروں افراد کو نئے گھر دئیے جائینگے ۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندانوں کو 130،000 روپے کے شئیر بھی دئیے جائیں گے جس میں ہرسال اضافہ بھی ہوگا۔اس وقت جاری منصوبے میں 576 مقامی افراد کو مختلف شعبوں میں روزگار دئیے گئے ہیں جب کہ 742 افراد کو روزگار کی لیئے ٹریننگ دی جارہی ہے ۔جن میں پندرہ خواتین ڈرائیور بھی ہیں ۔منصوبے میں تقریباً 1600 چینی بھی کام کررہے ہیں جن کے تعداد آگے چل کر 25 سو ہوجائیگی۔

ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر میں گرین پارک، تھر ملین ٹری پروجیکٹ،ون ہوم ون ٹری پروجیکٹ ، کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے شجرکاری کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ اس علاقے میں تین آر او پلانٹ قائم کیئے گئے ہیں جن سے 20000 گیلن یومیہ پانی گورانوں کے علاقے میں واقع تین بڑے دیہاتوں کو دیا جارہا ہے ، چوتھا آر او پلانٹ جو اتنی ہی مقدار میں پانی فراہم کرے گا تیاری کے مراحل میں ہے جب کہ پانچواں آر او پلانٹ ستمبر 2017 سے 5000 گیلن یومیہ پانی فراہم کررہا ہے ۔ تھر کول کان سے متاثرہ تین گاؤں کے کل 5200 لوگ ہیں ۔حکومت سندھ کی جانب سے ننگر پارکر میں محکمہ سندھ ٹورزم ڈویلپمنٹ کی جانب سے اگست 2017 میں ایک خوبصورت گیسٹ ہاوس تعمیر کیا گیا ہے جس میں تمام سہولیات موجود ہیں اس گیسٹ ہاوس کو بھی تھر کے روایتی گھروں چونرا طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔

تھر کی خوشحالی کے لیئے تھر فاونڈیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جو تھر کی خوشحالی کے لیئے مصروفِ عمل ہے ۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت کئی اسکول شروع کیئے گئے ہیں 2018 سے مزید اسکولوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس میں 12000 تھر کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا، جب کہ تھر میں بہت سے گاؤں میں کئی ایسے سرکاری اسکول تعمیر ہیں جہاں اسکول کی عمارتیں تو موجود ہیں مگر فنڈز کے نہ ہونے سے تعلیمی سلسلہ شروع نہیں کیا جاسکا ، ایس ای سی ایم سی کی جانب سے حکومتِ سندھ کو درخواست کی گئی ہے کہ ایسے تمام اسکولوں کو تھر فاؤنڈیشن گود لینے کو تیار ہے تاکہ بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں ، اسی طرح دی سیٹیزنز فاؤنڈیشن ( ٹی سی ایف ) کے تحت اینگرو کے اشتراک سے اسلام کوٹ میں 05 ٹی سی ایف یونٹ زیر تعمیر ہیں جب کہ ایک پرائمری اسکول اگست 2017 سے شروع کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع عمر کوٹ میں واقع مشہور قلعہ جو خستہ حالی کا شکار ہےاسے بھی ایس ای سی ایم سی کی جانب سے دوبارہ اس کی اصل شکل میں لانے کا منصوبہ ہے ۔ ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر کے مقامی فنکاروں کو بھی پروموٹ کیا جارہا ہے جس کی تازہ مثال مائی دھائی کی ہے جو کوک اسٹوڈیو تک پہنچی ہیں۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت تھاریو ہا لیپوٹو گاؤں میں ماروی جو کہ تھر کی ایک مشہور لوک داستان عمر و ماروی کا کردار ہے ان کے نام سے ماروی کلینک سن 2015 سے دو شفٹوں میں کام کررہا ہے جس میں 50 او پی ڈی کام کررہی ہیں اور یومیہ علاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ میڈیسن بھی فراہم کی جارہی ہے فروری 2017 سے ماروی کلینک کو انڈس اسپتال کے تعاون سے مزید بہتر کیا گیا جس میں 1300 مریضوں کا ماہانہ علاج کیاجاتا ہے جس میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ تھر فاؤنڈیشن کے تحت انڈس اسپتال کے تعاون سے ایک 100 بیڈجدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال بنایا جارہا ہے ۔

تھرپارکر میں ان تمام سہولیات کے علاوہ حکومتِ سندھ نےبھی مقامی لوگوں کے لیئے بہت سی سہولیات فراہم کی ہیں جن میں گذشتہ نو سالوں میں 1.5 بلین روپے کے ترقیاتی کام کرائے گئے ہیں 5000 لوگوں کو میرٹ پر روزگار فراہم کیا گیا 150 میڈیکل ڈاکٹروں اور 25 ویٹنری ڈاکٹروں کو کنٹریٹ پر بھرتی کیا گیا ، مٹھی جو تھر پار کر کا صد رمقام ہے اس میں واقع مٹھی اسپتال کو مزید فعال کیا گیا ۔ تھرپارکر میں 1300 کلو میٹر کی پختہ سڑکیں تعمیر کی گئیں۔مٹھی میں ایگریکلچر یونیورسٹی کے کیمپس کی منظوری لی جاچکی ہے جس پر جلد کام شروع ہونے والا ہے ۔ایک طویل سڑک کراچی سے تھر کول تک بنائی گئی ہے۔اسلام کوٹ ، چھاچھرو،چیلھار،ننگرپارکر، کالوئی اور ڈپلو میں سولر اسٹریٹ لائٹ تنصیب کی گئی ہیں ۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی علاقے کی ترقی میں مقامی لوگوں کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے اگر انہیں بنیادی سہولیات میسر ہونگی تو وہ ملکی ترقی میں اپنا بہتر سے بہتر کردار ادا کرسکیں گے ۔بلاشبہ آج کا تھرپارکر گذرے ہوئے کل کے تھرپارکر سے مختلف اور بہتر نظر آتا ہے ، آج تھر پارکر میں کئی جگہہ پانی کا ذخیرہ بھی نظر آتا ہے تو تھر کے جانور بھی صحت مند نظر آتے ہیں تھر میں جگہہ جگہہ ہریالی بھی دیکھائی دیتی ہے ۔ تھر کول پاور پلانٹ سے 03 جون 2019 کو بجلی کی فراہمی شروع ہوجائیگی اسی کے ساتھ پاور پلانٹ میں لگی دیو ہیکل چمنی دھواں اگلنا شروع کردے گی ۔تھر کے لوگ اس حوالے سے ابھی بھی خوف میں مبتلا ہیں کہ کیا ہوگا کہیں آلودگی مزید بڑھ تو نہیں جائیگی ، تھرکول سے جو پانی نکال کر ذخیرہ کیا جارہا ہے اس سے ہمارے پانی کے کنوئیں زہریلے تو نہیں ہونگے، تھر میں پائے جانے والے نایاب نسل کے پرندے جن میں موروں کو نہایت اہمیت حاصل ہے ان کی ہلاکتیں تو شروع نہیں ہوجائینگی ۔تھری لوگوں کے ان خدشات کو دور کرنے کے لیئے ان میں مزیدشعور کی بیداری نہایت ضروری ہے ۔ دنیا بھر میں کو ل پاور پلانٹ کی چمنی 110 میٹر تک کی اونچائی کی ہوتی ہے جب کہ تھرکول پاور پلانٹ کی چمنی دنیا کی سب ے اونچی چمنی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اونچائی اس لیئے بڑھائی گئی ہے تاکہ آلودگی زمین کے قریب نہ ہو۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چمنی چاہے جتنی بلند ہو اس سے نکلنے والے دھوئیں کے اثرات زمین پر ضرور ہونگے، اس لیئے پلانٹ کی چمنی سے نکلنے والے دھوئیں کو زیرو آلودگی پر لانے کی ضرورت ہے جس طرح چین نے تجرباتی طور پر بیجنگ اور دوسرے شہروں میں فضائی آلودگی کھانے والے ٹاور نصب کیئے ہیں جو نہ صرف ماحول کو گرد و غبار کو صاف کرتے ہیں بلکہ ان کے فلٹر سے فضائی آلودگی صاف کرنے سے جو کاربن حاصل ہوتا ہے اس سے مختلف زیورات بنائے جارہے ہیں ۔اگر تھر میں اس طرح چینی طرز کے فلٹر نصب کردئیے جائیں تو نہ صرف ممکنہ فضائی آلودگی کو ختم کیا جاسکے گا بلکہ تھر کی خواتین کو حاصل کردہ کاربن سے زیورات بنانے کا ہنر سکھا کر روزگار فراہم کیا جاسکے گا۔ تھر میں مصنوعی طریقہ سے بارش کے انتظامات بھی مکمل رکھنے ہونگے تاکہ بوقت ضرورت اس طریقے کو بھی استمال کیا جاسکے ۔میں نے تھر جا کر ماحولیات، صحت اور تعلیم کے حوالے سے جو ترقیاتی کام دیکھے اور اس حوالے سے جو منصوبے جاری ہیں اگر وہ من و عن جاری رہتے ہوئے مکمل ہوجاتے ہیں تو یقین جانیں پھر یہ کہنا بجا ہوگا کہ تھر کے باسیوں کو جو سبز باغ دیکھائے تھے وہ حقیقت کا روپ دھار گئے۔

اس دورے کے دوران جہاں بہت سے سوالات کے جواب مجھے مل گئے ، وہیں کئی جواب ابھی باقی ہیں جنہیں صرف آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے ۔ میں خوش امیدی کا قائل ایک پر امید انسان ہوں ۔ دیر آید درست آید اگر کوئی ملک کو خوشحالی کی راہ پر لے کر جاتا ہے تو ہمیں اس کام کی تعریف کرنی چاہیئے اور اس کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیئے تاکہ وہ ملک کے بہترین مفاد میں بخیر خوبی پایہ تکمیل کو پہنچے ۔ دوسری صورت میں قلم کی طاقت ہمارے پاس ہے جس طرح آج اچھے کاموں کو یہ قلم سراہ رہا ہے خدانا خواستہ کل وعدہ خلافی یاکسی بھی غلط کام پر یہی قلم ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہو گا۔

Muhammad Arshad Qureshi
Muhammad Arshad Qureshi

تحریر : محمد ارشد قریشی

Share this:
Tags:
america Governance governors Muhammad Arshad Qureshi pakistan third امریکہ پاکستان تھر حکمرانوں حکمرانی مسئلے
Supreme Court
Previous Post اداروں میں مثالی ہم آہنگی کی ضرورت
Next Post لاقانونیت کے دور میں ‘یوم قانون’ کا انعقاد
Law

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close