Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غلامی کی نشانی

October 13, 2020 0 1 min read
Slavery
Slavery
Slavery

تحریر : نزہت جہاں ناز

قارئین!۔۔۔ ہمارا معاشرہ اگر آج بھی غلامی کی زنجیروں سے خود کو آزاد نہیں کرپایا تو یقیناً یہ اس کی اپنی سوچ، اپنی فکر اور اپنے خیال کے زاویے ہیں کہ جن کے باعث تمام تر آزادی کے باوجود وہ خود کو پابندِ سلاسِل پاتا ہے۔

اگر ہم اپنے اس معاشرے کا سرسری سا جائزہ لیں تو یہاں ایک طرف تو ہماری عوام ہے جو ظاہری ہیت و صورت میں تو آزاد ہے مگر جس کی ذہنی و قلبی قوتیں سلب ہوچکی ہیں وہ سنتی ہے تو دوسروں کے کانوں سے ، بولتی ہے تو اوروں کی زبان سے اور دیکھتی ہے تو وہ جو اسے دوسرے دکھانا چاہیں یعنی اس کی اپنی کوئی سوچ یا فکر ہے ہی نہیں اور اس کی یہ حالت محض زبان کے معاملے ہی میں نہیں بلکہ زندگی کے بیشتر معاملات میں ہے جن میں مذہبی اور تہذیبی تصورات بھی شامل ہیں۔۔۔ دوسری طرف ہیں ہمارے وہ حکمران جنھوں نے اپنی عیاشی اور نفسانی خواہشات کے بحرِ عمیق میں ڈوب کر قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔ اب ایسی صورت حال میں یہ حکمران بہت آرام سے عوام پر راج کرسکتے ہیں اور اپنے کسی عمل کے لیے اس کے سامنے جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔ ہاں مگر خیال رہے کہ حکمران بھی عوام ہی میں سے نکل کر منظرِ عام پر آتے ہیں لہذا جب تک ہر انسان انفرادی طور پر اپنی کردارسازی نہیں کرتا ، مکافاتِ عمل کے نتیجے میں اس پر ایسے ہی حکمران مسلط کیے جاتے رہیں گے۔

ان حکمرانوں نے جہاں عوام پر اور مظالم ڈھائے ، ان ہی میں سے ایک ، نظامِ تعلیم کے سلسلے میں ، غیر ذمہ دارانہ رویہ ، اپنانا بھی ہے کہ جس کے باعث اپنی قومی زبان کو عمومی سطح پر ذریعہء تعلیم نہ بنا کر ، انھوں نے ملک میں دو مختلف طبقات کو جنم دے دیا ہے ، جس کی وجہ سے نہ تو نظامِ تعلیم ہی مؤثر اور فعّال بن سکا اور نہ ہی معیارِ تعلیم کی آبیاری ہوسکی۔

ہماری قومی زبان اردو اگر ابتداء ہی سے وطن میں موجود تمام تر تعلیمی اداروں میں یکساں طور پر رائج ہو کر ذریعہء تعلیم و تدریس بنتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہمارے وطن کی بیشتر آبادی جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم کی روشنی سے منور ہوتی اور ہمارا یہ وطن بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوتا۔اب یہ اور بات ہے کہ ہماری قوم کے اس عمومی زوال کا باعث محض اک زبانِ غیر ہی نہیں بلکہ اور کئی عوامل بھی ہیں جو فی الحال زیرِ بحث نہیں۔

پھر اردو کے اس زوال کی ایک وجہ رومن اردو بھی بن گئی ہے۔ ہماری نئی نسل چاہے انگریزی کی استعداد حاصل کرے یا نہ کرے مگر اردو کو انگریزی اسکرپٹ میں لکھ کر اردو کی رہی سہی پہچان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی۔ نتیجتاً وہ فی زمانہ اردو سے بھی اتنی ہی نابلد ہوچکی ہے جتنی کہ انگریزی سے۔ اب نہ ہی وہ اردو زبان میں میسّر علم کے ذخائر سے آشنا ہوسکتی ہے نہ ہی ان سے مستفید!۔۔۔ایسا غیر علمی و غیر تحقیقی رویّہ ہماری قوم کو مزید جہالت کے اندھیروں میں دھکیلتا چلا جا رہا ہے جو نہ صرف ہمارے آج کے لیے نقصاندہ ہے بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ غلامی کی سب سے بڑی وجہ ہی جہالت ہوتی ہے۔ ایک مخصوص طبقہ اگر غیر اقوام کی ٹیکنالوجی سے مستفید ہوکر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے جبکہ عمومی طور پر عوام غربت کی تاریکیوں سے باہر نہ آسکے تو ہم کیسے ایک تابناک مستقبل کے خواب دیکھ سکتے ہیں اور کیسے خود کو ان غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرسکتے ہیں؟

اردو کو ہر سطح پر رائج و قائم کرنے کے لیے ماشاءاللہ جتنی تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں ، ان شاء اللہ امید ہے کہ ایک روز ان کوششوں سے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔

مگر خیال رہے کہ اپنی قومی زباں کی ترویج و ترقی اک علٰیحدہ عمل ہے اور تنگ نظری سے کام لینا اک اور فعل۔۔۔
اردو کو بحیثیت قومی زباں جو اہمیت حاصل ہے یقیناً کسی اور زباں کو نہیں اور پھر جو نرم گفتاری و شیریں لب و لہجہ ہمیں اردو زباں عطا کرتی ہے کوئی اور زباں اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے دلوں میں اتنی گنجائش ہی نہ پائیں کہ اور زبانوں کو بھی اس میں جگہ دے سکیں۔ اور پھر انگریزی تو وہ زباں ہے جس سے کچھ الفاظ شروع ہی سے اردو زباں نے بھی مستعار لیے ہیں ، اور یہ کوئی غیر مناسب بات بھی نہیں۔ زمانہء قدیم سے یہ ہوتا آیا ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کی مدد سے آگے بڑھتی رہی ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں طبقاتی تفاوت کی باعث انگریزی کو لے کر قوم میں یہ منفی ردّ عمل بیدار ہُوا ہو ورنہ اگر وسیع النّظری کا مظاہرہ کیا جائے تو بہر حال یہ ایک ایسی زباں رہی ہے جو عرصہء دراز سے وطن میں رائج ہے اور ہم مکمل طور پر اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں کرسکتے۔ نیز شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے ایسے کئی شاعر و ادیب ہیں جنھوں نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب کو بھی ذریعہء اظہار بنایا ہے۔ کیا وہ اپنی تخلیقات ادبی حلقوں میں شئیر کرنے کے مجاز نہیں؟ انھیں لے کر آخر وہ کہاں جائیں گے جبکہ ان کی تعلیم و تربیت بھی اِسی ملک میں ہوئی ہے۔ ہم اس حقیقت سے قطعی انکار نہیں کر سکتے کہ بہرحال انگریزی زباں ہمارے کئی شعبہ ہائے زندگی میں ہنوز زیرِ استعمال ہے!۔

علم کا تعلق بھی زباں سے پہلے قلب و ذہن اور قلم سے ہوتا ہے لہٰذا انگریزی بولنے کے لیے بھی پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں اور پڑھا لکھا ہونے کے لیے انگریزی بولنا بھی قطعی ضروری نہیں۔ ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم اپنے اندر صبر ، برداشت ، اور انسانیت جیسے اوصاف کی پرورش کریں اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم رنگ و نسل ، لسانی ، صوبائی ، دینی اور مسلکی تفرقّات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بنیادوں پر اپنی طرزِ فکر کی تشکیلِ نو کریں اور اپنے طرزِ عمل سے اسے ثابت بھی کریں۔ یہ یقیناً اللہ کی مدد اور اس کے کلام سے استفادے کے بغیر نا ممکن ہے کیونکہ کلامِ الٰہی کی بنیاد ہی بعد از توحید کے ، تزکیہء نفس ، عدل و انصاف اور حقوق العباد پر قائم و دائم ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اہنے مسائل کا حل اس کی مدد کے بغیر تلاش بھی کریں اور منزلِ مقصود تک بھی جا پہنچیں؟۔۔۔۔

ایک طرف تو ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو انگریزی کے استعمال کو اپنے لیے تعظیم و تکریم کا باعث سمجھتا ہے اور دوسری طرف وہ ادبی حلقہ جو انگریزی کے نام سے بھی بدکتا ہے یہ دونوں ہی شدت پسندانہ رویے ہیں۔ زبانیں ہمیشہ اقوام کے تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہوتی ہیں مگر ان ہی اقوام کے عروج و زوال کا موجب ہمیشہ ان کا اخلاق و کردار رہا ہے۔ اسے زندگی کی جانب ہمارا سطحی رویہ کہیے کہ ہم زبان و ادب کو لے کر تو بے حد جذباتی ہیں مگر باطنی تطہیر اور اخلاقی پاکیزگی کے معاملے میں بالکل کورے!۔۔یقیناً ہم میں ایسے بھی نیک اطوار لوگ موجود ہیں کہ جن کے دم سے دنیا رواں دواں ہے مگر ایک بے حد محدود و مستثنیٰ طبقے کے کردار و اخلاقیات سے پورے معاشرے کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا!۔۔

تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اخلاق و کردار کی از سرِ نو تشکیل کی جائے یہ محض زبان و ادب کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ پورے معاشرے کے ارتقاء کا معاملہ ہے جب ہم عقل و فہم اور علم و عمل کو بروئے کار لاکر خلوصِ نیت سے اپنی نسلوں کی تربیت اور کردارسازی کا فریضہ انجام دیں گے تبھی ہم دنیا میں اک مضبوط قوم بن کر ابھریں گے اور سر اٹھا کر دوسری اقوام کے مقابل کھڑے ہوسکیں گے !

جہاں تک طبقاتی فرق کی بات ہے وہ دنیا میں ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا کیوں کہ یہ خالقِ کائنات کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور اسے کسی بھی ایک طبقے کو دوسرے پر برتری ظاہر کرنے اور دوسرے کو احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کے لیے نہیں بنا گیا بلکہ ہر ایک کی دوسرے سے آزمائش کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ ہمارے گاوں اور قصبوں میں کون سی انگریزی زباں بولی جاتی ہے مگر وڈیروں اور چودھریوں نے کیا اپنی جاگیروں اور اختیار کے بل بوتے پر غریب عوام کا چین و سکوں برباد نہیں کیا؟

بےشک ہمیں چاہیے کہ اردو کی دفتری اور آئینی حیثیت کے لیے جد و جہد کریں اسے ذریعہء تعلیم بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں کیونکہ اور دیگر عوامل کی طرح یہ بھی ملک و قوم کی ترقی کا باعث ہے ہمارا قومی تشخص ہے مگر خیال رہے کہ ذریعہءِ تعلیم کے حوالے سےصرف اک زبان کی تبدیلی ہی کافی نہیں بلکہ مکمل طور پر اس پورے تعلیمی نظام کے ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے موجود رہیں گے جہاں ایک جانب کچھ طلباء سے بھاری رقوم کے بدلے اعلیٰ تعلیمیافتہ اساتذہ کی سرپرستی میں انھیں دنیا کے بہترین علمی و تحقیقی نصاب سے روشناس کیا جاتا رہے گا اور دوسری طرف باقی طلباء کو مفت تعلیمی اداروں میں کم تنخواہوں پر ملازم ایسے اساتذہ کے سپرد کیا جاتا رہے گا جو خود بھی سرکاری درسگاہوں سے پڑھ کر نکلے ہوں تو طلباء کے درمیان معیارِ تعلیم کو لے کر وہی تفریقی فضا باقی رہے گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سارے ملک میں بنیادی تعلیم کا معیار یکساں ہو جو نئی نسل کے تمام افراد کو بنا کسی امتیاز کے اور بغیر کسی رقم کی وصولی کے فراہم کیا جائے تاکہ ملک و قوم کا ہر بچہ بنیادی علم سے بہرہ ور ہو اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے متعلق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بھی بذاتِ خود اہل ہو۔ تبھی ہم اس ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کی تعلیم و تدریس کو جب تک بنیادی نصاب میں لازم نہیں کیا جائے گا اخلاقی پستی ہمارے معاشرے میں یوں ہی سر چڑھ کر بولتی رہے گی۔

اکثر و بیشتر ہم زبان کے حوالے سے چین اور جاپان کی مثال دیتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اقوام اپنے مزاج میں کس قدر محنتی اور پھرتیلے ہیں۔ ہماری قوم کی طرح کاہلی ، سست روی اور عیش پسندی کا شکار نہیں۔ یہاں بھی جن طلباء نے اردو میڈیم ہوتے ہوئے بھی انتھک محنت کی انھوں نے اس کا ثمر پایا اور زندگی میں کوئی نہ کوئی اعلیٰ مقام پانے میں کامیاب ہوگئے۔

اکثر ادبی حلقوں میں انگریزی کے ساتھ جو ناروا سلوک جاری و ساری ہے وہ یقیناً بے جا ہے کیونکہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہم نے اپنی سگی اولاد کی نشو نما کے لیے سوتیلی اولاد کو دربدر کردیا ہو۔ یہ رویہ حق و انصاف کے منافی ہے اور ادب بھی تہزیب و تمدن کا ہی ایک شاخسانہ ہے۔ اس میں اخلاق کے تمامتر اصول ملحوظِ خاطر رکھے جاتے ہیں اور یقیناً انگریزی زبان سے اردو ادب کو کوئی خوف و خطر بھی لاحق نہیں ؛ اردو کا مقام اپنی جگہ بلند ہے ایسے میں یہ تعصّبانہ رویّہ ، یہ جارحانہ سلوک اس بات کا غمّاز ہے کہ ہم کسی شدید احساسِ کمتری میں مبتلا ہیں ورنہ جس طرح اور صوبائی اور علاقائی زبانیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہوں تو ہم ان کا جواب دینے سے معذرت کرلیتے ہیں یا ایسی کوئی پوسٹ دیکھ کر اس سے صرفِ نظر کر جاتے ہیں ، اگر ہم آنکھوں سے تعصب کا چشمہ اتار کر دیکھیں تو بالکل یہی معاملہ انگریزی کے ساتھ بھی ہوگا۔۔۔

مگر ہم اتنے بے ضمیر او ر ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ ان ہی غیروں کی ایجاد کی ہوئی اور چیزوں سے دن رات مستفید ہوتے ہیں ، ان ہی کی محنت سے حاصل کیے ہوئے علم ، ان ہی کے تجربات اور دریافت شدہ حقائق کی بدولت ایک آرامدہ طرزِ زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور طعن و تشنیع سے بھی انھیں اور ان کی زبان کو ہی نوازتے ہیں۔ ارے اگر اتنے ہی غیرتمند ہیں تو کیوں نہیں ان کی سب چیزوں کو ٹھوکر مار دیتے مگر کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں ؟ کیا ہمیں ہمارے عیش و عشرت اس کی اجازت دیں گے ؟ اب تو عام ضرویاتِ زندگی کے لیے بھی ہم ان ہی کے محتاج ہوگئے ہیں اور اس میں ہماری سست مزاجی اور غفلت کا بڑا عمل دخل ہے۔ مگر پھر بھی ہمیں ہوش نہیں آتا نہ تو ہم اپنے آپ کو بدلنے کو تیار ہیں نہ ہی اپنے اللہ کی بات ماننے کو ! جو قوم اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی چند روزہ زندگی اور اس کی عطا کی ہوئی نعمتوں اور صلاحیتوں کی قدر نہ کرسکے اور اسے طعن و تشنیع ، لعنت و پھٹکار ، غیبت و چغلی اور الزامات و بہتان تراشی جیسے قبیح اعمال کی نذر کردے وہ زندگی میں کیا ترقی کرے گی؟

دنیا پر کی گئی مسلمانوں کی چھ سو سال پر محیط شاندار حکومت کے تاریخی اندراج کے بعد آج اس ذلت و پسپائی کا موجب بھی ہمارے اپنے اعمال ہیں جن میں مذکورہ بالا اوصاف کے علاوہ مال کی محبت سرِ فہرست ہے جس کے لیے ہم اپنے ضمیر کی تجارت سے بھی دریغ نہیں کرتے ، لہٰذا ہم اس کا الزام کسی اور کے سر دیں تو یہ ہمیں زیب نہیں دیتا۔ آج جو دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں وہ اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر کر رہے ہیں۔اسی سبب سے ان کی زبان بھی آج دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی ضرورت بن چکی ہے۔ ایسے میں اس سے دامن بچانے یا اس کی نفی کرنے کی بجائے اسے اپنے ہمراہ لے کے چلنے میں ہی علمی و عملی بہت سے فوائد پوشیدہ ہیں جو دنیاوی کاروبار کے لیے ازحد ضروری ہیں۔

تو قائین یہاں استدلالی طور پر اردو کے ادبی و تمدنی مقام کا جو تحریری جائزہ لیا گیا ہے اس کے سبب امید ہے کہ ہم سب تعصب سے بالاتر ہو کر اپنے رویے پر نظرِ ثانی کریں گے اور یاد رہے غلامی زبانوں کی ترویج و تبلیغ سے نہیں ذہنوں کی معذوری سے وجود میں آتی ہے۔ ہماری نظر ، ہمارے دل اگر سمندروں کی سی وسعت اختیار کر لیں تو وہ پانی کے قطروں سے بھی گوہرِ نایاب تشکیل دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔

Nuzhat Jhan Ara
Nuzhat Jhan Ara

تحریر : نزہت جہاں ناز

Share this:
Tags:
desires life people Religion Society Thought خواہشات زندگی سوچ عوام مذہبی معاشرہ
Prisoners
Previous Post قیدی بھی توجہ کے مستحق ہیں
Next Post کے الیکٹرک کے تانے بانے ممبئی سے ملیں گے، چیف جسٹس
Supreme Court

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close