وقفِ دہلیز و بام ٹھہرے ہیں
خواہشوں کے غلام ٹھہرے ہیں
کتنے عالی مقام ٹھہرے ہیں
حرف و ایقان بیچنے والے
کس قدر نیک نام ٹھہرے ہیں
تیری محفل میں تشنگانِ وفا
اب بھی محرومِ جام ٹھہرے ہیں
جلتے رہتے ہیں پر ہوائوں کے
کیسے موسم مدام ٹھہرے ہیں
ہم تیری ظلمتوں کی بستی میں
مثلِ ماہِ تمام ٹھہرے ہیں
اب بھی ساحل فراق کے مارے
وقفِ دہلیز و بام ٹھہرے ہیں
ساحل منیر
