
ہو، احساس اُس کو کیا بھلا
ہم سے بھی نہ ہو سکا گلہ
نہ پو چھا اُس نے ایک بار
تم رو ئے کیوں تھے بار بار
کیسے کا ٹیں اتنی دوریاں
در میاں میں تھیں مجبوریاں
نہ وقت میر ے پاس تھا
دل بھی بڑا بے آس تھا
خوابوں کی رُت میں سو گئے
تم بھی پرائے ہو گئے
اب کیا کروں پردیس میں
جب کھو گئے وہ دیس میں
کیوں کاٹا اتنا انتظار
ملا پھر بھی ناں و صال یار

تحریر:مسز جمشید خاکوانی
