
تحریر : وقار انساء
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانہ بھی ترقی کرتا گیا پہلے پہل لوگ پیدل سفر کرتے تھے پھر ریل گاڑی بس اور موٹر کار نے اس کی جگہ لے کر سفر کو آسان بنا دیا رابطے کے لئے خط اور پھر جلد رابطے کے لئے تار کا استعمال ہونے لگا ٹیلی فون نے فاصلوں کو سمیٹ دیا۔
دنیا کے حالات جاننے کے لئے ریڈیو استعمال ہوا تو ٹی وی کے رنگا رنگ پروگرام نے اس کی جگہ لے لی موبائل فون نے وقت کے ساتھ اتنی شہرت پائی کہ ہر خاص و عام کے لئے لازم ہو گیا۔
انٹرنیٹ کی ایجاد نے کام کو آسان بنا دیا کسی قسم کی معلومات حاصل کرنے کا یہ حیت انگیز ذریعہ ہے یہ تمام چیزیں ملکون کو ترقی یافتہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ یہ سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔
اس دور میں فیس بک بھی مقبولیت مں اپنا مقام بنا گئی جو بیک وقت کئی کام کرتی ہے آپ دوسرے لوگوں سے رابطے میں رہتے ہین ہر بات سے بروقت باخبر رہتے ہین جوبصورت اور رنگا رنگ پوسٹ پڑھتے ہیں جس سے معلومات اور علم دونوں میں اضافہ ہوتا ہے صرف اسں کا بہترین استعمال آپ کو آنا چاہیے۔
آج کل مطالعہ کا شوق تو بہت کم ہو گیا اس وقت میں فیس بک کا استعمال غنیمت نظر آتا ہے اپنے مطلوبہ موضوع کو کتابوں مین ڈھونڈھنے کا رواج بھی کم ہی ہے آپ کو شاذونادر یی ایسے لوگ ملین گے! یہ بھی درست ہے کہ کتابوں سے محبت کرنے والے لوگ آج بھی موجود ہین لیکن اکثریت اتنا وقت نہیں نکالتی ان کے لئے انٹر نیٹ ايک نعمت ہے۔
آپ دین سے محبت کرنے والے ہین تو اس سے بہترین استفادہ کر سکتے ہیں وہ باتین جو کسی بھی وجہ سے آپ سیکھ نہین پائے اب سيکھ سکتے ہین حالات حاضرہ اور خبروں سے باخبر رہتے ہین فیس بک پر آپ کے ساتھی جو پوسٹ شئیر کرتے ہيں وہ بہت اچھا اثر چھوڑتی ہین یہ الگ بات ہے کہ وہ معیاری ضرور ہونی چاہیے۔
کیونکہ یہ آپ کے ذوق کی عکاسی کرتی ہیں بار بار اچھی پوسٹ پڑھنے سے یہ ذہن پر نقش ہو جاتی ہے وہ تازہ ترین خبر بھی ہو سکتی ہے ادبی یا مذھبی بھی! ان سہولیات کو فضول باتون کی نظر نہ کریں اور نہ ہی اس کا غلط استعمال کریں۔
ان چیزون کے غلط استعمال نے ان پر برائی کی چھاپ بھی لگا دی ہے
کوئی تحریر ہو یا کوئی پوسٹ اس پر رائے ضرور دین لیکن تہذیب کو کبھی مت بھولین اور نہ ہی جنس کے فرق کو نظر انداز کریں کیونکہ آپ کی تحریر ہی آپ کی شخصیت کا اظہار ہے اپنی صلاحیتون کو مثبت کاموں میں صرف کریں چیزیں اچھی یا بری نہیں ہوتیں ان کا استعمال انہین اچھا یا برا بناتا ہے۔
تحریر : وقار انساء
