
11 جنوری کی رات مسعود احمد بھٹی سمیت پانچ افراد کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ اس ممکن کو نا ممکن تصور کر رہے تھے کمیونکہ مسعود احمد بھٹی کوئی معمولی شخص نہ تھا، سخت حفاختی انتظامات میں اسے قتل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن تسلیم کر نے سے قاصر تھے۔ مسعود احمد بھٹی کے قتل سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے وہ کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ مسعود احمد بھٹی نواحی گائوں ستوکی میں 11 نومبر 1971کو نزیر احمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری سکول، میٹرک رائو خانوالہ اور گریجویشن دیال سنگھ کالج لاہور سے کی۔
اپنی سیاست کا آغاز 2001 کو بلدیاتی الیکشن میں یونین کونسل دفتوہ میں حصہ لیکر کیا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ جبکہ دوسری بار 2005 کو دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ انتہائی مضبوط اصاب کے مالک اور اپنے دوستوں کی مدد کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ بطور ناظم انہوں نے اپنے یونین کونسل ہی نہیں بلکہ حلقہ پی پی 175 میں اپنا ایک وسیع حلقہ اخباب بنا لیا اور انتہائی کم عرصہ میں بہت نام اور مقام بنا لیا، جس کی وجہ سے حلقہ کے دوست احباب نے 2008 کے جزل الیکشن میں حصہ لینے کا مشورہ دیا او انہوں نے ناظم سے سیٹ سے مستعفی ہو کر الیکشن میں حصہ لیا اور پہلی ہی بار آزاد حیثیت سے 15880 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ 2013 کے جزل الیکشن میں تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے 29816 ووٹ حاصل کر کے دوبارہ دوسری پوزیشن حاصل کی۔ مسعود احمد بھٹی پنجاب بھر میں سب سے کم مارجن پر دوسرے نمبر پر آنے والے تحریک انصاف کے واحد امیدوار تھے۔ مسعود احمد بھٹی مقامی سیاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ مسعود احمد بھٹی پڑھے لکھے اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے وہ ہمیشہ اپنے دوستوں اور ووٹرو سپورٹروں کی ہر مشکل میں دل و جان سے ان کی خدمت کیلئے کوشاں رہتے تھے۔
وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں اور ووٹروں، سپورٹروں کیلئے جان بھی دینے کو تیار ہوں مصطفی آباد کے نواحی گائوں دفتوہ میں دو خاندانوں صادق عرف شادو بھٹی گروپ او سراجدین عرف سرجا بھٹی گروپ کی آپس میں درینہ دشمنی چلی آ رہی تھی۔ صادق عرف شادو بھٹی گروپ کے مسعود احمد بھٹی سے دوستانہ تعلقات تھے اور وہ ان کے ووٹرز و سپورٹرز بھی تھے۔ صادق عرف شادو بھٹی گروپ کا مالک بھٹی قتل ہو گیا جس کا مقدمہ سرجا بھٹی گروپ کے 9 افراد کے خلاف درج ہوا جس میں سے 8 افراد با عزت بری جبکہ ایک کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ بعد ازاں ڈھائی ماہ قبل سرجا بھٹی اور اس کا بیٹے فیاض بھٹی کو بھی شادو بھٹی گروپ نے قتل کر دیا۔ جس میں شادو بھٹی گروپ کے خالد عرف شیری اور محمد نواز دونوں بھاری اشتہاری جبکہ دیگر ایف آئی آر کے دیگر نامزد ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ سرجا بھٹی گروپ کو مسعود احمد بھٹی کی طرف سے شادو بھٹی گروپ کی حمایت ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔
سرجا بھٹی اور اس کے بیٹے فیاض بھٹی کے قتل میں مسعود احمد بھٹی کو بھی قصور وار تصور کر تے تھے اسی رنجش کی وجہ سے وہ مسعود احمد بھٹی کے جانی دشمن بن گئے تھے، 11جنوری کو مسعود احمد بھٹی اپنے دوست چوہدری ضیا ایڈووکیٹ، گن مینوں امیر علی، خالد، بابر، محمد یعقوب عرف صاحب ودیگر رشتہ داروں کے ہمراہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر محفل میلاد کے سلسلے میں جا رہے تھے کہ جب مسعود احمد بھٹی کی گاڑی نے ٹول پلازہ مصطفی آباد کراس کیا تو ان کا تعاقب کرنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوارصبح صادق مسلح M- 16رائفل اور محمد ریاض، مقصود، معشوق، ارشد عرف بلی، راشد عرف شیدو، اشرف، اسلم، حمید پانڈوکی والا، انور سندھوپورے والا، چھ کس نامعلوم مسلح کلاشنکوف نے گاڑی کے سامنے آکر اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔
جس کے نتیجے میں مسعود احمد بھٹی، ساتھی چوہدری ضیااللہ ایڈووکیٹ، امیر علی، گن مین خالد اور بابر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ جبکہ یعقوب عرف صاحب شدید زخمی ہو گئے۔ یعقوب عرف صاحب کے مطابق فائرنگ کے دوران گاڑی کا دروزہ کھلنے سے میں گاڑی سے نیچے گھر گیا تھا جس کی وجہ سے بچ گیا۔ مسعود احمد بھٹی کو نواحی گائوں ستوکی میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا جبکہ دیگر فوت شدگان کو بھی ان کے آبائی دیہات میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی جماعتوں کے نمائندوں اور صحافیوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ڈی پی او قصور جواد قمر نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف افسران پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو کہ تا حال کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں یکسر ناکام ہیں۔ ورثہ کے علاوہ ملزمان کی عدم گرفتاری پر حلقہ میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس لرزہ خیز جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیںپر ہر شخص افسردہ ہے اور ملزمان کی گرفتاری کی اطلاع سننے کیلئے بے چین ہے۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
تحریر: محمد عمران سلفی
0334/0300/7575126
