Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کھلونا

November 27, 2018 0 1 min read
Khilona
Khilona
Khilona

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اُس کا اندرونی کرب اُس کی ویران آنکھوں میں ساون بھادوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا ‘امید کی ایک کرن کے لیے وہ دربدر ٹھوکریں کھاتی پھر رہی تھی ہر گزرتا لمحہ ہزاروں ٹن وزن مزید اُس کے نازک وجود پر گرا دیتا ‘وہ چلتی پھرتی بے بسی ‘ بے کسی ‘ لاچارگی کی تصویر تھی ‘ کٹی پتنگ کی طرح معاشرے کی تندو تیز ہوائوں کے رحم و کرم پر تھی ‘ وہ نازک کلی جس نے چشم تر کے ساتھ جب اِس سنگ و خشت سے بنی ہوئی دھرتی پر قدم رکھا ہو گا تو اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اُسے بنا جرم کے ساری زندگی صلیب پر نازک جسم کے ساتھ لٹکنا ہو گا ‘ زندگی چندسانسوں کے عوض اُس سے اتنی بھاری قیمت وصول کر لے گی یہ تو اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا’ اپنے ناتواں نازک کمزورجسم کی بقا ء کے لیے روٹی کے چند ٹکڑوں کے لیے چار دیواری میں رہنے کے لیے مو ہنجودوڑو جیسے مردہ معاشرے کے زندہ درندوں سے جان بچانے کے لیے اُس اتنی بھاری قیمت دینا ہو گا یہ تو اُس نے چشم تصور میں بھی کبھی نہ سو چا ہوگا ‘ زندگی اتنی سفاک بے رحم ہو گی اِس کا گما ن بھی نہ کیا ہو گا۔

اگر یہی کچھ اُس کے ساتھ ہونا تھا اربوں کے اِس ہجوم میں اگر وہ نہ بھی آتی تو کو نسا گلشنِ زندگی کا رنگ پھیکا پڑ جا نا تھا کونسا گردش افلاس نے رک جانا تھا تا ریخ کے اوراق سے وہ تو ایک نقطہ سے بھی کم ویلیو رکھتی تھی اُس کی اوقات ایک کنکری سے بھی کم تھی کسی خشک پتے سے بھی کم ‘ اربوں کھربوں پتوں میںاگر ایک پتے کا اضافہ نہ ہو تا تو کونسی قیامت آجانی تھی ‘ دنیا کے ہر ملک میں لاکھوں کھلونوں کی پیداوار ہر لمحے کے ساتھ جاری تھی تو اِن کروڑوں کھلونوں کی موجودگی میں گوشت پوست کا بیکار کھلونا بنا نا خالق کائنات کی کونسی مجبوری تھی اگر اُسے کھلونا بنانا خدا کی مرضی ہی تھی تو حساس دماغ دل نہ دیتا تا کہ زمانے کے ظلم و ستم آسانی سے سہہ سکتی ‘ اگر خدا نے اُسے جلتے سلگتے آگ برساتے سورج کے نیچے ریگستان میں نو کیلی کر چیوں پر ننگے سر ننگے پائوں دوڑانا ہی تھا تو مضبوط جسم سخت دل تو دیتا ‘ نر م نازک پتلیوں کی مانند لڑکی میرے سامنے حسرت ویاس کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔

اُس کی آنکھوں میں صحرائوں ‘قبرستانوں کا سناٹا ‘جسم کی رگوں میں خون کی جگہ خو ف و دہشت بے بسی دوڑ رہی تھی میرے پاس اُسے اُس کے گھر کام کر نے والی لا ئی تھی جو مجھے جانتی تھی وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئی اُس کی عمر پچیس سال کے لگ بھگ ہو گی نازم اندام کمزور جسم ایم بی اے پاس لڑکی پہلے تو وہ بو لنے کو تیا ر ہی نہیں تھی پھر اُس کے ساتھ آئی ہوئی کام کر نے والی نے مجھے بتا یا صاحب کی بھانجی آپ سے ٹھیک ہو ئی تھی اِس لیے میں اِس پر ہو تا ظلم برداشت نہ کر سکی اور اِسے لے کر آپ کے پاس آگئی ‘ساتھ آئی عورت اُسے بار بار ہمت حو صلہ دے رہی تھی کہ بھٹی صاحب سے بات کرو یہ تمہارے مسئلے کا کو ئی نہ کو ئی حل ضرور نکالیں گے لیکن وہ سراپا خوف و حزن بیٹھی تھی میں اُس کے انگ انگ سے ٹپکتا خو ف دیکھ رہا تھا اِس لیے میں نے حوصلہ کیا اِدھر اُدھر کی باتیں کیں بار بار کہا تم میری سگی بیٹیوں کی طرح ہو ‘ میری بیٹی بھی تمہار ی طرح ہے تو آہستہ آہستہ اُس نے بولنا شروع کیا پھر اُس نے ملتجی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہو ئے کہا آپ میرا ساتھ دیں گے۔

ناں تو میں نے وعدہ کیا بیٹی میں تمہارا ساتھ دوں گا تو اُس نے قطرہ قطرہ لہو ٹپکتی اپنی داستان غم شروع کی سر میرا تعلق گجرات کے قریب ایک گائوں سے ہے میں ماں کے پیٹ میں تھی تو میرا والد میری ماں کو بے رحم بانجھ معاشرے کے رحم و کرم پر تنہا چھوڑ کر اگلے جہاں کو سدھار گیا ‘ میری ولادت کے وقت دوران زچگی میری پیدائش پر میری کمزور ی اور خون زیا دہ بہہ جانے کی وجہ سے زندگی اور سانس کا رشتہ برقرار نہ رکھ سکی وہ بھی خالق حقیقی سے جاملی ‘ اب میں یتیمی کی چادر میں لپٹی اِس سفاک معاشرے میں ایک اور یتیم کا اضافہ کر چکی تھی میری ایک خالہ اور ایک چچا تھے میری خالہ جوانی میں ہی بیوگی کا ما تمی لباس پہن چکی تھی پرائمری سکول میں ٹیچر تھی اب میں اُس کی بیوگی اور تنہائی کا سہارا بن چکی تھی اب خالہ تھی اور میں تھی قافلہ شب و روز اپنی سمت ہمیشہ کی طرح گامزن تھا میں بچپن سے جوانی میںداخل ہو گی خالہ کی رگوں میں خوف اور بیوگی دوڑتی تھی کیونکہ وہ خود خوفزدہ تھی اِس لیے وہ مجھے بھی ڈر اور خوف کے لیکچر دیتی رہتی کہ کسی سے لڑنا نہیں کسی سے بد تمیزی نہیں کر نی ہر کسی کی بات ماننی ہے ہما رے سر پر مرد کا سہارا نہیں ہے اِس لیے ہم ضد لڑائی جھگڑے کا حق نہیں رکھتیں اِس لیے اِسی خو ف کی امر بیل میںلپٹی میں بچپن کے آنگن سے جوانی کے صحن میں آگئی کھیل کود کا وقت نہیں تھا۔

کتابیں ہی میری دوست تھیں ‘ دن رات کتابوں سے دوستی کی وجہ سے میں ہر کلاس میں اچھے نمبروں بلکہ وظیفے پر پاس ہو تی چلی گئی جب میں کالج پہنچی تو اچانک چچا جان اور چچی جان کی نوازشوں محبتوں کا دور شروع ہو گیا ‘ چچا جان نے اچانک مجھ پر محبت رحم کرم کے پھول نچھاور کر نے شروع کر دئیے اور خالہ بہت خو ش کہ شکر خدا کا کسی مرد کا سایہ ہمارے سروں پر بھی سائبان بن کر پڑا تو چچا اور چچی آئے دن آتے پیسے تحائف دے جاتے ہم اِس خو ش فہمی میں مبتلا کہ خدا کا خوف آیا ہے میں یو نیورسٹی آئی تو چچا جان نے میرا خرچ اٹھا نا شروع کر دیا اِسی دوران چچا نے اعلان کیا کہ تم میری بیٹی ہو میں تمہاری شادی کسی غیر کے ساتھ نہیں کر سکتا تم میرا خون ہو تم میرے ہی گھر میں رہو گی خا لہ نے سجدہ شکر ادا کیا میرا ایک کلاس فیلو مجھے پسند کر تا تھا لیکن میرا سارا دھیان تو صرف پڑھائی پر تھا میں نے اُسے بتا دیا کہ میری ماں خالہ کی خواہش اور چچا کی مر ضی میں میں بھی خوش ہو وہ بہت رنجیدہ ہوا لیکن میں نے اُسے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

میرے چچا کا بیٹا میٹرک پاس تھا دنیا سے الگ تھلگ وہ کاروبار اور گھر تک ہی محدود تھا وہ فیملی میںکم ہی آتا تھا رشتہ دار وں کے بغیر اُس نے اپنی ہی الگ دنیا بسائی ہو ئی تھی وہ کاروبار اور اپنی تنہائی میں گم تھا میری ایم بی اے کی ڈگری مکمل ہو ئی تو چچا جان نے دونوں طرف کا خر چ اٹھا یا اور میں بہو بن کر چچا کے گھر میں آگئی بعد میں پتا چلا کہ میں تو جہنم میں آگئی ہوں شادی کے ہنگاموں میں پتہ ہی نہ چلا ‘ دس دن گزر گئے میرا خاوند اپنی ہی دنیا میں مست ‘ میں بھی دنیا داری سے واقف نہ تھی جب شادی کے ہنگامے سرد پڑ گئے تو میرے میاں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا مجھے اب پتہ چلا کہ وہ شدید ڈپریشن کا شکاراور نفسیاتی مریض تھا اُسے دورہ بھی پڑجاتا تھا ایک رات وہ کمپیوٹر پر بیٹھا تھا کہ اچانک گر کر بے ہوش ہو گیا ہاتھ پائوں مارنے شروع کر دئیے ‘ میں گھبرا گئی خود کو شش کی لیکن اُس کی حالت خراب ہو ئی پھرمیں دوڑ کر چچی چچا کو بلا لائی انہوں نے اُسے اٹھا کر بیڈ پر ڈالا پانی اور دوائی اُس کے منہ میں ڈالی کچھ دیر بعد میاں ہو ش میں آگیا تو چچا چچی مجھے لے کر بیٹھ گئے اب چچا نے بو لنا شروع کیا بیٹی اِس کو پرابلم ہے اِس کو کبھی کبھی دورہ پڑ جاتا ہے اِس کا علاج جا ری ہے تم گھبرانا نہیں جلد ہی یہ ٹھیک ہو جائے گا اورتم نے اِس بیما ری کا ذکر کبھی بھول کر بھی کسی سے نہیں کرنا۔

یہ ہما رے گھر کا معاملہ ہے گھر کی بات گھر سے باہر نہیں جا نی چاہیے اِسی دوران میری چچی نے کہا دیکھو تمہار آگا پیچھا تو ہے نہیںنہ ہی تمہارا کوئی والی وارث ہے ہم نے تمہیں پناہ دی ہے تمہیں بہو بنا کر لائے ہیں یہ ہما را تم پر احسان ہے ورنہ تمہاری جیسی بے آسرا لڑکیوں کو کون اپنی بہو بناتا ہے میں خا موشی سے چچا چچی کے فرمان سنتی رہی ایک کے بعد میرے میاں کا درندی صفت روپ سامنے آیا وہ مجھے بے لباس کر کے میرے جسم کو سگریٹ سے داغتا ‘تنگ کرتا ‘ایسی جانوروں والی حرکت کرتا کہ میں بیان نہیں کر ستی ساری رات تنگ کرتا رہتا اِسی دوران یہ پتہ چلا کی جب چچا چچی کو پتہ چلا کہ اُن کا بیٹا نفسیاتی مریض اور معذور ہے تو انہوں نے پلان کے تحت مجھے بہو کے لیے چنا اِس منصوبے کی تکمیل کے لیے انہوں نے مجھے چنا میرے اوپر ہاتھ رکھا نوازشات کیں شادی کے خر چے اٹھا ئے ‘بقول بیٹے کے اُسے ایک کھلونا چاہیے تھا جو ماں باپ کے طاقت کے بل بو تے پر میری شکل میں اُسے مہیا کر دیا وہ ساری رات نازک پرندے کی طرح میرے پر نو چتا رہتا میں بے بس کمزور پر ندے کی طرح اُس کی گرفت میں پھڑ پھڑاتی اپنی وہ بار بار کہتا تم میرا کھلونا ہوں میں تمہارے ساتھ اسی طرح کھیلوں گا جنسی طور پر وہ نامرد تھا شادی کے قابل نہ تھا لیکن اپنی ناآسودہ خوا ہشوں کی تکمیل درندگی سے کرتا کہ میرا جسم روح تار تار ہو جاتے چھ ماہ تک میں یہ ظلم برداشت کر تی رہی ظلم اور گھٹن کی وجہ سے میرے چہرے پر زردی جسم کمزور ہو نا شروع ہو گیا تو خالہ بار بار پو چھتی کہ تمہیں کیا ہوا ہے تم زندہ لاش کیوں بنتی جا رہی ہو تو میں ٹال مٹول کر دیتی کہ خالہ بھی میرے درد میں شامل نہ ہو کر تڑپیں گی لیکن ایک دن میرے جسم پر خراشیں دیکھ کر خالہ تڑپ گئیں میرے سر پر قرآن رکھا اور پو چھا سچ سچ بتائو تو میں نے ساری بات کھول کر بتا دی خالہ نے چچا سے لڑائی کی ‘ ظلم روکنے کو کہا تو چچا نے بھی یہی کہا کہ ہم اپنے بیٹے کے لیے کھلونا لا ئے ہیں یتیم بیٹی سے کہو اُس کا کھلونابن کر زندگی گزار ے ‘ خالہ نے یہ سنا تو چند دنوں میں ہی اِس غم کے بوجھ کو برداشت نہ کر تے ہوئے موت کی وادی میں اُتر گئیں اور مجھے بے رحم معاشرے کے درندوں کے حوالے کر گئیں۔

Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti
Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share this:
Tags:
life oppression Society toy universe زندگی ظلم کائنات کھلونا معاشرے
Death
Previous Post موت کا علاج نہیں
Next Post شیشے کے مکانات
Sad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close