
کراچی (جیوڈیسک) بلدیہ عظمیٰ کے اعلیٰ حکام کی غفلت کے باعث ٹریفک سگنلوں کو ایل ای ڈی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ سرخ فیتے کا شکار ہو گیا ہے. تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن نے لوڈ شیڈنگ۔
بجلی کی کمی وبیشی اور زائد بلنگ سے نجات حاصل کرنے کیلیے ایک جامع و مربوط منصوبہ تشکیل دیا تھا جس کے تحت 133 ٹریفک سگنل کو ایل ای ڈی کیا جانا تھا، ایل ای ڈی میں بجلی کی کھپت نہایت کم خرچ ہوتی ہے ، ایل ای ڈی بجلی کی اچانک کمی و بیشی میں بلب کی طرح فیوز نہیں ہوتی، مجموعی طور پر اس کی استعداد و زندگی بلب کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت 133 ٹریفک سگنل شہرکی مختلف سڑکوں کی ٹریفک کنٹرول کرنے کیلیے استعمال کیے جارہے ہیں ، ٹریفک سگنلوں کا سالانہ بجلی کا بل 60 لاکھ روپے ہے۔
جب یہ تمام سگنل ایل ای ڈی پرتبدیل ہو جائیں گے تو بلنگ میں 80فیصد کمی آجائے گی، ٹریفک سگنل کو ایل ای ڈی میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر 2 کروڑ روپے اخراجات آئیں گے، منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ایل ای ڈی نصب ٹریفک سگنلوں کو شمسی توانائی میں تبدیل کیا جانا ہے۔
شمسی توانائی پر ایل ای ڈی سے منسلک ٹریفک سگنل چلانا موزوں ترین ہے، یہاں 60 واٹ بلب کی جگہ صرف پانچ واٹ کی ایل ای ڈی استعمال کی جاتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ محکمے نے ایڈمنسٹریٹر رئوف اختر فاروقی کو مکمل بریفنگ بھی دی جاچکی ہے تاہم انھوں نے اس منصوبے کو ابھی تک منظور نہیں کیا ہے۔
