Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ٹرانس جینڈرز (خواجہ سراوں) کو تلخ معاشرتی رویوں سامنا

February 18, 2018 0 1 min read
Transgender
Transgender
Transgender

تحریر : عبدالجبار خان دریشک
یہ دنیاوی باتیں ہیں، کہ ایک انسان اپنے آپ کو دوسرے انسان سے افضل، برتر، اعلی، بڑا، طاقتور ، خوبصورت ، عالم ، دولت مند اور پتہ نہیں کیا کچھ سمجھتا ہے۔ لیکن جب ایک اعلی منصب کا انسان، اپنے آپ کو افضل سمجھنے کے بعد موت کی آغوش میں جاتا ہے تو وہ مٹی کی چادر اوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس مٹی کا ہی ہو جاتا ہے۔ انسانوں میں ساری تفریق خود انسان کی پیدا کردہ ہے اللہ پاک کے آگے سب انسان برابر ہیں اگر کوئی بلند درجہ رکھتا بھی ہے تو اپنے نیک اعمال کی وجہ سے ، اگر ایک انسان دوسرے سے اعلی ہوتا تو ہر انسان کی پیدائش دوسرے سے مختلف ہوتی کوئی ماں کے پیٹ کی بجائے آسمان سے گرتا تو کوئی پہاڑوں اور پتھروں سے نکلتا۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اللہ پاک نے دین اسلام میں تمام انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ سلوک ، رویے ،اور حقوق بتا دیے ہیں۔ لیکن ہم اکثر جنس کی بنیاد پر ایک دوسرے کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں یہ صورت حال صرف عام انسانوں تک محدود نہیں بلکہ ہم تو معزور افراد کے ساتھ بھیانک سلوک روا رکھتے ہیں۔ اس علاوہ ہمارا معاشرے میں پیدائشی طور پر ٹرانس جینڈر مخنث یا جسے عام زبان میں خواجہ سرا کہا جاتا ہے ان کو انسان ہی تصور نہیں کرتے۔ معزور بچہ یا خواجہ سرا پیدا ہو جائے تو اسے بوجھ سمجھتے ہوئے سب سے پہلے اسے اپنے خاندان والے گھر باہر پھنک دیتے ہیں۔ جب وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے مختلف پیشے اپناتے ہیں وہ باحالت مجبوری پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے شادی بیاہ کے پروگرامز میں ڈانس کرتے ہیں ، گلیوں بازاروں میں بھیک مانگتے ہیں ، باحالت مجبوری جسم فروشی کے گنوانے فعل کی طرف لگ جاتے ہیں۔ تو بھی معاشرہ ان کو قبول نہیں کرتا۔ ان میں سے جو زیادہ خوبصورت ہوگا تو ڈانس پارٹیوں میں اس دوکانداری چلتی ہے اور جو بچارے زیادہ خوبصورت نہیں ہوتے وہ ان ڈانسرز خواجہ سراو ¿ں کی پارٹیوں میں پھنکے جانے والے پیسے اکھٹے کرتے ہیں۔ ایسے خواجہ سرا گرو کی خدمت کے ساتھ اس ڈانسر خواجہ سرا کی خدمت کرتے ہیں اس کے کپڑے دھوتے ہیں، جن کی حیثیت ایک نوکر کی طرح ہوتی ہے اس خدمت کے بدلے انہیں رہنے کے لیے جگہ اور کھانا دیا جاتا ہے۔

مغلیہ دور میں خواجہ سرا شاہی محلوں میں ملکہ اور دیگر شاہی خواتین کی خدمت پر مامور ہوتے تھے۔ اکثر شاہی خاندان میں انہیں سازش میں شامل کیا جاتا تھا کیونکہ یہ بادشاہ ملکہ اور دیگر شاہی خاندان کی راز کی باتوں سے واقف ہوتے تھے۔ سازش کی کامیابی یا ناکامی کے بعد ان میں سے اکثر قید یا پھر قتل کردیے جاتے تھے۔ شاہی محلوں میں رہنے کی وجہ سے ان کو عام ریاعہ سے کوئی زیادہ پریشانی نہیں رہتی تھی ، لیکن آج کے تعلیم یافتہ اور آزاد دور میں ان سے اب بہت برا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ یہ حال صرف ہمارے ملک کا نہیں تقریباً دنیا کے سارے ممالک میں ان کی صورت حال تقریباً ایسی ہے سوائے چند ایک ممالک میں ان کو بہتر حقوق دیے جاتے ہیں۔ ایک تو حکومت کی طرف سے ان کو سہولیات نہیں دی جاتیں تو دوسری طرف معاشرے کے افراد کی تنگی نظری بھی ہے، وہ انہیں بہتر انسان کے طور پر قبول ہی نہیں کرتے۔ ہمارا معاشرہ ان کو ڈانسر ، بھیکاری دیکھنا چاہتا ہے لیکن یہ بچارے جب بھیکاری اور ڈانسر بنتے ہیں تو انہیں پھر بھی قبول نہیں کیا جاتا۔ افسوس تو یہ ہوتا ہے کبھی کسی پرائیویٹ ادارے ، فیکٹری ، شاپنگ سنٹر ، پر کسی نے ان کو نوکری پر نہیں رکھا۔ اگر کوئی خواجہ سرا باعزت روز گار کما بھی رہا ہوتا ہے تو اس کا تمذاق اڑایا جاتا ہے ، اسے ہیجڑا ، کھسرا ، اور پتہ نہیں کیا کچھ بولا جاتا ہے۔

خواجہ سراو ¿ں میں کوئی ایسا قسمت والا ہوگا۔ جو باعزت روزگار کما رہا گا لیکن وہاں بھی اسے معاشرتی رویوں کی تلخیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان کے پاس طاقت اور عقل اتنی عام انسانوں جتنی ہوتی ہے اگر ان کو تعلیم و تربیت دی جائے تو یہ بھی بڑے عہدے حاصل کر کے کامیاب انسان بن کر سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسے ہی بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے ایک خواجہ سرا جوتیا اپنی محنت کے بل بوتے پر سول کورٹ کا جج مقرر ہوئی۔ جوتیا نے جب 2009 میں گھر چھوڑا تو اس کے بعد وہ اترپردپش کے علاقے میں رہنے لگی جہاں وہ دن میں اپنی پڑھائی کے لیے کالج جاتی اور رات کو مختلف تقریبات میں ڈانس کر کے اپنا خرچ پورا کرتی، اس نے مسلسل محنت جاری رکھی اور اسے ایک دن کامیابی مل گئی۔ ہمارے ہاں خواجہ سراو ¿ں کو نوکریوں میں مخصوص کوٹہ تو دیا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ مختلف دفاتر میں تعینات ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جیسے پہلے کیا جاتا تھا۔

اکثر میڈیا میں خواجہ سراو ¿ں پر تشدد کے واقعات کی خبریں رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔ بدمعاش اور غنڈے انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور ان سے باقاعدہ بھتہ وصول کرتے ہیں۔ کچھ سال قبل پشاور میں ایک خواجہ سرا علیشا کو بھتہ نہ دینے پر چھ گولیوں مار دی گئیں۔ جب اسے ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹرز یہ فیصلہ نہ کر سکے اسے کون سے وارڈ میں رکھا جائے زنانہ یا مردانہ جب علیشا کو مردانہ وارڈ لے جایا گیا تو وہاں موجود مردوں نے اسے نکالنے کا کہا ، اتنی دیر میں علیشا کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے ایک انسان کی جان کی پروا نہیں لیکن خود کی اپنی جنسی اجارہ داری قائم رہنی چاہیے۔ ہمارے ملک میں ان کے تحفظ کے لیے قانون تو بنا دیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات صرف ہسپتال تک محدود نہیں انہیں بس ٹرین اور دیگر مقامات پر بھی ایسی پریشانی رہتی ہے انہیں عورت مرد دونوں ہی برداشت نہیں کرتے۔ یہ بچارے جب روزی روٹی کی خاطر پروگرام میں جاتے ہیں تو پولیس انہیں تنگ کرتی ہے۔

ان کو ایمپلی فائیر ایکٹ کی خلاف ورزی پر بند کیا جاتا ہے۔ ان کے پروگرام بند کروائے جاتے ہیں پھر اس سے تنگ ہوکر بھوک کے ہاتھوں مجبور یہ لوگ بھیک مانگتے ہیں۔ یہاں پر میں انڈونیشیا ایک واقعہ بتانا چاہوں گا ، گزشتہ دونوں انڈونیشیا کے صوبے آچے میں پولیس نے درجنوں خواجہ سراو ¿ں کو مختلف بیوٹی پارلروں پر چھاپے مارپکڑا۔ان خواجہ سراو ¿ں نے لڑکوں کے ایک گروپ کو تنگ کیا تھا جس کی شکایت پر پولیس نے کاروائی کی۔ انڈونیشیا صوبے آچے میں اسلامی قوانین نافض ہیں ان خواجہ سراو ¿ں کو کچھ دن پولیس کی تحویل میں رکھا جائے گا جن کو پانچ روزہ تربیت بھی دی جائے گی۔ اس تربیت میں مقامی مولوی حضرات انہیں مردوں کی طرح بولنا اور چلنا سکھانے کے علاوہ اخلاقیات پر درس بھی دیں گے۔ پولیس کے مطابق ہم ان کی ذہنیت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ بہتر انسان بن سکیں۔ انڈونیشیا میں ان کے حقوق کے خیال رکھنے کے ساتھ انہیں باعزت روزگار بھی دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ خواجہ سراوں کے شناختی کارڈ بنانے کے لیے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے فیصلہ دیا تھا۔ جس میں انہیں باعزت روز گار کے ساتھ ان کی فلاح بہبود ، نوکریوں میں کوٹہ اور ووٹ کا حق دیا تھا۔ خواجہ سراو ¿ں کے حقوق کے حوالے اسمبلی میں بل تو متعدد بار پیش کیے گئے لیکن ان پر کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی لیکن اب موجودہ حکومت نے ان حقوق کے تحفظ کا قانون پاس کر دیا ہے اس مجوزہ قانون سے پہلے خواجہ سراوں کو مردم شماری میں بھی شمار کیا گیا جن کا فارم میں علیحدہ خانہ بنایا گیا تھا۔ اب حالیہ دونوں سینیٹ کمیٹی نے خواجہ سراو ں کے حقوق کا مجوزہ بِل منظور کیا ہے۔ سینٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواجہ سراوں کے حقوق کے تحفظ کے قانون کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جس کے تحت خواجہ سراوں کو الیکشن لڑنے اور سرکاری عہدہ رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔ خواجہ سراو ں کو پراپرٹی کی خرید و فروخت اور لیز پر حاصل کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔اس کے علاوہ خواجہ سراو ں کو بھیک مانگے پر مجبور کرنے یا اس کام کے لیے بھرتی کرنے والوں کو چھ ماہ قید اور جرمانہ کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔ ان کو وراثت میں حق ملے دیا جائے گا، اور انہیں قانونی دستاویزات میں اپنی جنس اپنی مرضی کے مطابق لکھوانے کا حق حاصل ہوگا۔ کوئی بھی خواجہ سرا 18 برس کی عمر کے بعد شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس میں خود کو ’میل‘ یا ’فی میل‘ خواجہ سرا کے طور پر درج کروا سکے گا۔ خواجہ سرا ووٹ دینے کے ساتھ قومی، صوبائی اور لوکل گورنمنٹ الیکشن لڑ سکیں گے۔

اس قانون کی روح سے حکومت کو پابند کیا گیا کہ وہ خواجہ سراو ں کیلئے پروٹیکشن سنٹرز، بحالی مراکز بنانے سمیت صحت کی سہولیات فراہم کرے اور خواجہ سراو ں کیلئے تعلیم بالغاں کا اہتمام کرے۔ جرائم میں ملوث خواجہ سراو ں کیلئے علیحدہ حوالات اور جیلوں کا قیام عمل میں لایا جائے ، جبکہ روزگار کمانے میں مدد فراہم کرنے کیلئے خواجہ سراو ں کیلئے ’سپیشل ووکیشنل ٹریننگ سنٹر‘ بنائے جائیں۔ چھوٹا کاروبار شروع کرنے والے خواجہ سراو ں کی آسان قرضوں اور گرانٹس کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جائے۔ تعلیمی اداروں، ملازمت، تجارت کے مواقع، صحت، رہائش اور سفر کی سہولیات میں خواجہ سراو ں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ممانعت ہوگی، جبکہ خواجہ سراو ں کو حراساں کیے جانےسے ممانعت کو بھی قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔قانون میں پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے خواجہ سراو ں کو تعلیم کے یکساں مواقع دینے کے پابند ہیں جبکہ قانون میں حکومت سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ وہ خواجہ سراو ں کو مفت بنیادی تعلیم فراہم کرنے اور ملازمت کے مواقع دینے کے حوالے سے اقدامات کرے۔لیکن اس پر مکمل طور پر کب قانون ساز ی عمل میں لا ئی جاتی ہے کیونکہ ابھی سینٹ کا الیکشن ہو نے جارہا ہے اور اسمبلی کی مدت بھی ختم ہو نے کے نز دیک ہے۔

صوبہ خیبر پختو انخواہ کے خواجہ سراوں نے آئین کے آریٹکل 199 کے تحت پشاور ہائی کورٹ میں اےک رٹ پٹیشن دائر کی ہے جس میں انہوں نے اپنے ووٹ کے حق کو قا نو نی تحفظ فراہم کر نے کا مطالبہ کیا ہے اس رٹ کو معروف قا نون دان گل رحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کیا گیا ہے ۔رٹ میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کے آنے والے الیکشن میں امید واروں کی نامز دگی کے فارم میں مر د اور عورت کے خانوں ساتھ خواجہ سرا کا خانہ بھی شامل کیا جائے ۔ جیسے مر دم شماری میں ان کو الگ پہچان دے کر شمار کیا گیا تھا جبکہ پولنگ اسٹیشن پر بھی انہیں علیحد ہ جگہ اور ان کے لئے الگ عملہ تعینا ت کیا جائے ۔پاکستان میں خواجہ سرا مسلسل اپنے حقوق کی آواز بلند کر رہے ہیں ۔ ان کی اس کو شش کی بنیا د پر ان کے لیے اب کچھ راہیں ہموار ہو رہی ہیں اور آئند ہ الیکشن میں خواجہ سرا کمیو نٹی سے ان کے اپنے امید وار بھی الیکشن میں کھڑے ہو کر اپنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی جستجو جاری رکھیں گے۔

امید کی جاتی ہے حکومت جلد قانو ن سازی مکمل کر کے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ ساتھ ہی جہاں ان کے حقوق اور تحفظ کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے تو اس کے ساتھ معاشرے میں بھی معاشرے میں بھی آگاہی دینی ضروری ہے، کہ خواجہ سراو ں کو معاشرے فرد تسلیم کرتے ہوئے باقی تمام افراد کی طرح ان کو بھی عزت و احترام دیں اور ان کے حقوق کا خیال کریں ، پبلک مقامات آفس دوکان وغیرہ پر ان کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ ان کو کاروباری جہگوں ، فیکٹریوں اور پرائیویٹ اداروں میں نوکری پر رکھا جائے تاکہ یہ لوگ باعزت روزگار کما سکیں۔

Abdul Jabbar Khan
Abdul Jabbar Khan

تحریر : عبدالجبار خان دریشک

Share this:
Tags:
Abdul Jabbar Khan face Islam life social behavior اسلام ڈانس زندگی سامنا
Corruption in Pakistan
Previous Post پاکستان میں کرپشن سے جیل اور جیل سے اسپتال تک سیاست
Next Post ایران کا مسافر طیارہ گر کر تباہ، 66 افراد ہلاک
Iran Passenger Plane Crash

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close