Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اوباما کا خطاب اور دنیا میں امن کا قیام

September 30, 2015 0 1 min read
UN General Assembly Obama Addressing
UN General Assembly Obama Addressing
UN General Assembly Obama Addressing

تحریر: محمد صدیق پرہار
اقوام متحدہ کے ٧٠ ویں اجلاس کے موقع پرامریکی صدر باراک اوباما نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیںجمہوریت کاتحفظ کرناہوگا۔جبکہ اقوام متحدہ کے اصولوںنے جمہوریت کوفروغ دینے میںمدددی ہے۔امریکی صدرکی طرف سے جمہوریت کے تحفظ کاعزم بظاہراچھی بات ہے ۔ تاریخی حقائق اوباما کی اس خواہش کوجھٹلارہے ہیں۔ تاریخی حقائق سامنے رکھنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امریکہ نے اب تک کہاں کہاں جمہوریت کی حمایت کی ہے اور کہاں کہاں آمریت کی سرپرستی کی ہے۔زیادہ دورنہ جائیں گذشتہ پندرہ سال کاریکارڈچیک کرکے دیکھ لیا جائے امریکہ جمہوریت کا کتناحامی ہے۔ انہوں نے جمہوریت کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اصولوں کی بات کی ہے۔یہ اقوام متحدہ کے اصول بھی حسب ضرورت بدلتے رہتے ہیں۔ عملاً دنیاکے مختلف ممالک میں جمہوریت کے حوالے سے اس کے اصول بھی امریکہ کی طرح یکساں نہیں ہیں امریکہ اور اقوام متحدہ جمہوریت کے اتنے ہی خیرخواہ ہیں تووہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پ رعمل کرتے ہوئے اجلاس کے ختم ہونے کے بعد کشمیریوںکوحق خودارادیت دیں۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی کامیابیوں پرغوروفکرکرنے کی ضرورت ہے اورہماری منزل ابھی دورہے۔اقوام کی کامیابیاں کیاہیں اوران پرغورکرنے سے کیاحقائق سامنے آتے ہیں اس کے لیے ہمیں تاریخ کامطالعہ کرناہوگا۔جب تک کشمیریوںکوحق خودارادیت نہیں مل جاتا تب تک اس کی کامیابیاں ادھوری ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم کئی بڑی اقوام کوتباہ ہوتادیکھ رہے ہیں۔کیونکہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیںجب وہ سب کوساتھ لے کرامن کی راہ تلاش کرتی ہیں۔امن کی خواہش کرنے اورامن کے قیام کے لیے کوششیںکرنے میں بہت فرق ہے۔ نائن الیون کے بعدامریکہ نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرامن راہ تلاش کی ہے۔ وہ سب کے سامنے ہے۔افغانستان اور عراق میں وحشیانہ بمباری اورپاکستان میں آئے روزبلکہ ایک ایک روزکئی کئی ڈرون حملے کرکے امریکہ امن کی راہ تلاش کرتا رہا ہے۔ان کوسامنے رکھنے سے امن کی راہ کی تلاش کی حقیقت معلوم کی جاسکتی ہے۔

Nations Destroyed
Nations Destroyed

امریکی صدر کئی بڑی اقوام کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ دنیا میں صرف وہی قومیں تباہ ہوتی ہیں جو دوسری قوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیتی ہیں۔اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات سے روگردانی کرتی ہیں۔ امریکی صدرکاکہنا ہے کہ صرف متحد ہوکر ہم دنیا سے غربت ختم کرسکتے ہیں۔ لیکن دنیا میں لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھایاجارہا ہے۔ دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دینے ،ایٹمی اسلحہ کے ذخائر میں اضافہ اوراس کے استعمال کرنے، کمزور معیشتوں کو سودی قرضوں اور کڑی سے کڑی شرائط میں جکڑنے سے غربت میں اضافہ توہوجاتاہے کمی نہیں ہوتی۔ جیسے میں کہوں ویسے کرتے جائوکی پالیسی سے قوموں کو متحد نہیں کیا جاسکتا۔ متحدہو کر غربت کاخاتمہ کرنے کے لیے امریکہ اورعالمی مالیاتی اداروںکواپنی پالیسیوںکوازسرنواس طرح ترتیب دینا ہوگا کہ اس سے کمزور معیشتوں پر مثبت اثرات پڑیں اوران کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں۔

دنیا میں لوگوں کے خوف کافائدہ کون اٹھارہا ہے۔ اس کی تفصیل میںجانے کی ضرورت نہیں اس بات سے سب اچھی طرح واقف ہیں۔وہ کہتے ہیںکوئی قوم اورملک دہشت گردی اورمالی مسائل سے بچا ہوا نہیں ہے اورامریکہ چاہے کتناہی طاقتورہوامریکہ سمیت دنیاکاکوئی ملک اکیلے دنیاکے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ یہ بات تودرست ہے کہ کوئی ملک تنہادنیا کے مسائل حل نہیں کرسکتا زمینی حقائق یہ بات بھی بتاتے ہیں کہ اکیلاملک دنیاکے مسائل میں اضافہ ضرورکرسکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کوئی قوم اورملک دہشت گردی اورمالی مسائل سے بچاہوانہیں ہے۔یہ بھی امریکی اورعالمی مالیاتی اداروںکی پالیسیوںکاہی نتیجہ ہے۔یہ سب یہی چاہتے ہیں۔تاکہ ان کے مفادات کی تکمیل ہوتی رہے جونہ کبھی ہوئی ہے اورنہ ہی ہوگی۔

امریکی صدرکی اس بات کہ امریکہ سمیت کوئی ملک اکیلے دنیاکے مسائل حل نہیں کرسکتا کوایک او رزاویے سے دیکھاجائے توامریکی صدراپنی بے بسی کااعتراف بھی کررہے ہیں کہ وہ دنیا کی سپرپاورہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔اوباماکاکہنا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں سردجنگ کی طرف لوٹنے کی عکاس نہیں۔کبھی اس ملک کے خلاف پابندیاں اورکبھی اس ملک کے خلاف۔ان عالمی پابندیوںکابھی کوئی معیاراوراصول وضابطہ ہوناچاہیے کہ پابندیاں کب اورکن حالات میں لگائی جائیں گی۔یہ معیار، اصول وضابطے دنیاکے تماممالک کے لیے یکساںہوں۔ایسا نہ ہوجن مخصوص حالات میں ایک ملک کے خلاف پابندیاںلگائی جائیں ایسے ہی مخصوص حالات میں دوسرے ملک کوکھلی چھٹی دے دی جائے جیسا کہ اب تک ہوتارہا ہے۔امریکی صدرکہتے ہیں کہ عراق میں ہم نے سبق سیکھا کہ طاقت اورپیسے کے زور پر دوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیاجاسکتا۔

Iraq And Afghanistan
Iraq And Afghanistan

کیونکہ علاقوں پ رقابض ہونا اب طاقت کی علامت نہیں رہی اب قوموں کی طاقت کے مرکز وہاں کی عوام ہوتے ہیں۔یہ جملہ کہتے ہوئے اوباما نے الفاظ تبدیل کرلیے ہیں۔ انہیں کہناچاہیے تھا کہ طاقت کے زور پر کسی دوسرے ملک پر قبضہ نہیں کیاجاسکتا۔ طاقت کے زور پر کسی دوسرے ملک کواب شکست نہیں دی جاسکتی۔ انہیں یہ اعتراف بھی کرناچاہیے تھا کہ طاقت کے زور پر کسی دوسرے ملک کی عوام پرحکومت نہیں کی جاسکتی۔ امریکہ کویہ سبق عراق سے بھی ملا ہے اور افغانستان سے بھی۔اسے یہی سبق بھارت کو بھی سمجھا دیناچاہیے کہ طاقت کے زور پر کسی ملک ،کسی ریاست، کسی علاقے پرقبضہ زیادہ دیر برقرار نہیں رکھاجاسکتا۔اس لیے وہ طاقت کے زور پر کشمیریوں پرتسلط ختم کرکے انہیں حق خودارادیت کاموقع دے۔وہ یہ بات اسرائیل کوبھی بتادے کہ وہ طاقت کے زور پر فلسطین پرقبضہ ختم کرکے آئندہ فلسطینیوں کواپنی بربریت کانشانہ نہ بنائے۔

امریکہ نے عراق سے سبق سیکھ لیا ہے تواس پرعمل بھی کرے دنیامیں جہاں جہاں بھی اس نے اپنی فوج بھیج رکھی ہے وہ سب واپس بلالے۔وہ یہاںبھی اعتراف کررہے ہیں کہ ہم طاقت کے استعمال کے بعدبھی ناکام رہے ہیں۔امریکی صدریہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ قوموں کی طاقت کامرکزوہاں(ملک ) کے عوام ہوتے ہیں۔ توجن ممالک ،جن علاقوںپردوسرے ملکوں نے قبضہ کررکھا ہے۔جن ملکوںمیں غیرملکی افواج طاقت کے زورپرموجودہیں وہاں کی عوام کی طاقت کوبھی تسلیم کیاجائے اورانہیں بھی ان کے آزادانہ جینے اوررہنے کاحق دیاجائے۔ان کاکہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ عارضی نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ بین الاقوامی نظام کی مضبوطی کاعکاس ہے۔اس معاہدہ سے بین الاقوامی نظام کی مضبوطی کی عکاسی ہوتی ہے یاایرانی قوم کی مضبوطی کاپتہ چلتا ہے یہ وقت آنے پرمعلوم ہوجائے گا۔

اوباماکاکہنا ہے کہ داعش نے اسلام کاچہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ کوشش پہلی بارنہیں ہوئی۔دہشت گردی کواسلام سے جوڑکربھی یہی کوشش کی جاچکی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ مسلمان ممالک میں لڑکر بھی یہی کوشش کی جاچکی ہے۔امریکی صدرکی یہ بات تودرست ہے کہ اسلام ہمدردی اور تحمل کادرس دیتا ہے۔ہمدری مظلوم سے ہوتی ہے ظالم سے نہیں۔ ظالم کوظلم کرنے سے روک کراس سے ہمدری ضرورکی جاسکتی ہے۔دراصل یہ بات کرکے امریکی صدرمسلمان ملکوںکوکہنا چاہتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تحمل سے کام لیں۔جلدبازی، اشتعال انگیزی،ردعمل سے گریز کریں۔ ہماری کارروائیوں کو تحمل سے برداشت کریںاس پرکوئی ردعمل ظاہرنہ کریں۔ اسلام تو اور بھی بہت سے درس دیتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا کو لاحق خطرات سے آگاہ ہیں۔عالمی طاقتوں کی طاقت کے استعمال اوردوسرے ملکوں کی عوام کوطاقت کے زورپرمغلوب کرنے کی پالیسیاں جاری رہیں توان خطرات کوحقیقت کاروپ دھارنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

Risk
Risk

دنیا کو لاحق خطرات کیسے ہیں اور یہ کب کب اورکہاں کہاں نمودا رہوں گے یہ سب اوباما اچھی طرح جانتے ہیں۔ دنیا کو لاحق یہ خطرات کس سے اورکس نوعیت کے ہیں یہ بھی اوبامااچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہریوں کی حفاظت کویقینی بنائیں گے۔جس طرح افغانستان ،عراق، شام، لبنان وغیرہ کے شہریوں کی حفاظت کویقینی بنایاگیا ہے۔امریکہ پچاس ممالک کے ساتھ مل کراقوام متحدہ کی امن فوج میں اضافہ کرے گا۔اوباماکاکہنا ہے کہ شام کے صدربشارالاسدنے اپنے ہی لوگوں پربم گراکرقتل عام کیا۔امریکہ یہی آرڈرپاکستان کوبھی دیتا رہا ہے۔اب دونوں نہ تو غلط ہوسکتے ہیں اورنہ ہی دونوںدرست۔ایک کوغلط اوردوسرے کودرست بھی نہیںماناجاسکتا۔

اوباما کہتے ہیں کہ آمرانہ ادوارہمیشہ ریاست کوکمزورکرتے ہیں۔اورجوآمرانہ ادوارکی سرپرستی کرتے ہیں ان کے بارے میں اوباماکے کیاخیالات ہیں۔کسی ملک میں جمہوریت کی حمایت اورکسی ملک میں آمریت کی سرپرستی۔یہ عالمی طاقتوں کے اپنے ہی مزاج ہیں۔جس طرح کی حکومتیں ان کے مفادات کے لیے موزوںہوتی ہیں یہ اس طرح کی حکومتوںکی تعریف کرنے لگ جاتے ہیں۔باراک اوبامانے کہا کہ امریکہ کوبہت سے خطرات لاحق ہیںجن سے ہم واقف ہیں اپنے وطن کے دفاع کے لیے مجھے کبھی ہچکچاہٹ نہیںہوسکتی۔ضرورت پڑنے پراپنے ملک اور اتحادیوں کا بھرپور دفاع کروں گا۔ خطاب کے شروع میں امن کی باتیں اورآخرمیں دھمکی بھی۔اب امریکہ کو امن کاحامی سمجھاجائے۔

ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے امریکی صدرباراک کے خطاب سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ اب دنیامیں تبدیلی کاعمل شروع ہوچکا ہے۔ عالمی حالات اب بتدریج بدلتے جارہے ہیں۔اس خطاب میں یہ اعتراف بھی موجود ہے کہ دنیامیں اب طاقت کااستعمال کسی بھی دوسرے ملک کے وسائل اورعوام پرتسلط نہیں دلاسکتا۔اس میں یہ خاموش اعتراف بھی موجود ہے کہ جنگیں مسائل کاحل نہیں ہیں۔کسی بھی ملک پرجنگ مسلط کرکے وہاں کے عوام کومغلوب نہیں کیاجاسکتا۔ہم نے امریکی صدرکے اس خطاب کی خبراپنے شہرمیں آنے والے تمام قومی اخبارات میںپڑھی ہے۔ان اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق اس خطاب میں اوباما نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کانام نہیںلیا کہ دہشت گردی کے خلاف جوجنگ امریکہ نے شروع کی تھی۔اس سے امریکہ کوکیاحاصل ہوا ہے۔

Economy
Economy

امریکہ، پاکستان، متاثرہ ممالک سمیت دنیا کی معیشت پراس کے کیااثرات مرتب ہوئے ہیں۔جن مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کرعراق پرحملہ کیاگیا تھا اوردہشت گردی کے خلاف وہاں جنگ لڑی گئی تھی۔ اپنی پسندکی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں سے کتنے مہلک ہتھیاربرآمدہوئے ہیں۔ اس خطاب میں طالبان کانام بھی نہیں لیاگیا اس کی جگہ داعش کانام لیاگیا ہے۔خطاب میں اوباما نے امن کی بات توکی ہے ان قوموں،ریاستوں اورعلاقوںکانام بھی نہیںلیاجوامن کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے ترس رہے ہیں۔طاقت کے استعمال کومسائل کاحل نہ ہونا توکہا گیا ہے۔جوممالک طاقت کااستعمال کررہے ہیں ان کے بارے میںکچھ نہیںکہاگیا۔

اسرائیل، بھارت کو طاقت کا استعمال روکنے کا نہیں کہاگیا۔ مسئلہ کشمیرو فلسطین کی موجودگی، دہشت گردی کے خلاف جنگ جن ممالک میںلڑی گئی ہے وہاںاتحادی افواج کی موجودگی، دنیا میں مہلک سے مہلک ہتھیاروں کی موجودگی اور اسلحہ کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فضا میں دنیا میں امن قائم کرنے کی خواہش کااظہارتوکیاجاسکتا ہے تاہم دنیامیں ان حالات میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ چینی صدرژی چن پنگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دنیا میں امن نہ ہونے کی جووجوہات بتائی ہیں اور جو تجاویز دی ہیں ان وجوہات کو دور کرنے اور تجاویز پر عمل کرنے سے بھی دنیا میں امن قائم کیاجاسکتا ہے۔اوبامااپنے اورچینی صدرکے خطابات کا موازنہ کر لیں۔ بات آسان اور واضح ہوجائے گی۔

Siddique Prihar
Siddique Prihar

تحریر: محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Tags:
Establishment obama Peace World اقوام متحدہ امن اوباما جنرل اسمبلی خطاب دنیا قیام
Group Photo
Previous Post مصطفی آباد/للیانی کی خبریں 30/9/2015
Next Post وزیراعظم کے کسان پیکیج پر الیکشن کمیشن نے عمل درآمد روک دیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close