Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

منفرد مقام

April 2, 2014 0 1 min read
Tariq Butt
General Zia-ul-Haq
General Zia-ul-Haq

٥ جولائی ١٩٧٧ کو جنرل ضیا الحق نے شب خون کے ذ ریعے پاکستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذولفقار علی بھٹوکی حکومت کوختم کر کے ملک پر مارشل لا مسلط کر دیا۔شب خون مارتے وقت جنرل ضیا الحق کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ ذولفقار علی بھٹو اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں لہذا ان سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ جنرل ضیا الحق کو ملک کی ساری اپوزیشن جماعتوں کی در پردہ حمائت حاصل تھی اور امریکہ بہادر بھی اس کی پشت پر کھڑا تھا لہذا اسے ذولفقار علی بھٹو کے وجود سے واقعی کوئی خطرہ نہیں ہونا چائیے تھا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ذولفقار علی بھٹو اب بھی پاکستانی سیاست کا سب سے مضبوط کردار تھا اور اس کی مقبولیت اب بھی اپنی انتہائوں کو چھو رہی تھی۔ جنرل ضیا الحق نے ٩٠ دنوں میں انتخا بات کروانے کے اپنے وعدے کو ایفا کرنے کیلئے ا نتخا بات کا اعلان بھی کر رکھا تھا لیکن پی پی پی کے جلسوں کا حجم دیکھ کر اسے اپنے وعدے سے مکر جانا پڑا تھاکیونکہ خفیہ اداروں نے اسے خبر دے دی تھی کہ ذولفقار علی بھٹو کی پی پی پی کو مجوزہ انتخابات میں شکست دینا ممکن نہیں ہے کیونکہ پی پی پی کے جیالے بھٹو کا ساتھ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

یہ وہ دور تھا جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو میدانِ سیاست میں وارد ہو چکی تھیں اور عوام کی بے پناہ محبت کا مرکز بنی ہوئی تھیں(۔بھٹو کی تصویر۔ بے نظیر۔بے نظیر۔) اس وقت بڑا مقبول نعرہ تھا اور یہی نعرہ جنرل ضیا الحق کو سب سے زیادہ نا پسند تھا۔ ناصر باغ لاہور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے عظیم الشان جلسے نے انتخابات کے انعقاد کے سارے منصوبوں، خوا ہشوں اور انتظامات کے تابو ت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی کیونکہ انتخا بات میں مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں رہا تھا لہذا انتخا بات غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہوگئے تھے۔اپوزیشن نے بھی سکھ کا سا نس لیا تھا کہ انتخا بات ملتوی ہو گئے ہیں کیونکہ اس طرح انتخابات میں شکست کی صورت میں اس کی جو مٹی پلید ہونی تھی اس سے وہ بچ گئی تھی۔اسی نے دھاندلی کے الزامات لگا کر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے میں فوجی جنتا کا ساتھ دیا تھا لہذا شکست کی صورت میں دھاندلی کے الزامات میں کوئی صداقت باقی نہ رہتی اور یوں اپوزیشن سرِ عام رسوا ہو کر اپنا وقار کھو بیٹھتی۔انتخا با ت تو ملتوی ہو گئے لیکن اس کے بعد جیالوں کی محبت کا جو امتحان شروع ہوا وہ ہنوز جاری ہے۔پہلے غیروں نے انھیں بے رحمی سے پھینٹا اور پھر اپنوں نے بھی خوب رسوا کیا ۔جیالوں کو اگر جنرل ضیا الحق نے جسمانی اذیتیں دیں تو احساسات کے تازیانے لگانے میں پی پی پی کی قیادت نے بھی کوئی کسرنہ چھوڑی۔

پاکستانی سیاست میں وفا ، دوستی اور قربانی کا کوئی تصور نہیں تھا کیونکہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی ایسا لیڈر منظرِ عام پر نہیں آیا تھا جو واقعی عوامی امنگوں کا ترجمان ہوتا اور لوگ اس سے محبت کرتے۔شائد یہی وجہ ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد سیاست ڈرائنگ روموں کی زینت بن گئی اور سارے فیصلے ڈرائنگ روموں میں ہونے لگے۔وقفوں وقفوں سے حکومتوں کی تبدیلی ایک عام معمول بن گیا جس کے پیشِ نظر بھار ت کے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یہ بیان دینا پڑا کہ میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزرائے اعظم بدلے جاتے ہیں۔سیاست کا یہ رنگ اس وقت تک جاری رہا جب جنرل محمد ایوب خان نے اکتوبر ١٩٥٨ کو ملک پر پہلا مارشل لا نافذ کر کے اختیا رات اپنے ہا تھو ں میں لے لئےَ۔اس مارشل لا کے خلاف کسی جانب سے بھی کوئی مظاہرہ دیکھنے میں نہ آیا اور نہ ہی کسی عوامی فورم سے اس کی مذمت ہوئی جس سے بخو بی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کی نظر میں سیاست دانوں کا احترم اور مقام کس درجے کا تھا۔

سیاست کا یہی پسِ منظر تھا جو جنرل ضیا لحق کے ذہن میں تھا اور اسی کے پیشِ نظر اس نے اقتدار پر قبضہ بھی کیا تھا لیکن اسے کیا خبر تھی کہ ذولفقار علی بھٹو نے سیاست کے سارے مروجہ ضا بطے بدل دئے ہیں اور عوام مارشل لا کے خلاف جدو جہد کرنے کیلئے تیار ہیں ۔جیلوں، کوڑوں اور پھانسیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا جس میں ہر اس شخص کو جس کا کسی نہ کسی انداز میں ذولفقار علی بھٹو سے کوئی تعلق تھا اسے تشدد کا نشانہ بنا کر اس پر عرصہ حیا ت تنگ کیا گیا ۔ ظلم و جبر کی یہ بے رحم داستان اس وقت تک جاری رہی جب جنرل ضیا ا لحق ایک ہوائی حادثے کا شکار ہو کر اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گیا۔

Zulfiqar Ali Bhutto
Zulfiqar Ali Bhutto

ذولفقار علی بھٹو کوئی عام سیاست دان نہیں تھے وہ ایک ایسے سیاستدان تھے جنھوں نے برِ صغیر پا ک وہند میں ذات پات کے بتوں کو پاش پاش کر کے یہاں کے رہنے والوں کو انسا نی مساوات اور برابری کی نئی دنیا سے روشناس کرایا تھا۔انسانیت پر اس کا یہ ا حسانِ عظیم ہے کہ اس نے اونچ نیچ کی زنجیروں کو توڑ کر انسانوں کو دوسرے انسانوں کی غلا می سے نجات دلا ئی تھی۔یہ جنگ اس کی جنگ نہیں تھی کیونکہ وہ تو ذاتی طور پر خوشخا ل گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور وہ ذات پات کی تقسیم سے متاثر بھی نہیں تھا لہذا اس جنگ کی شروعات نہ کر کے اسے بے شمارفوائد مل سکتے تھے کیونکہ اس کا تعلق بھی طبقہ اشرافیہ سے تھا لیکن اس کے سامنے اپنی ذات نہیں بلکہ انسانیت کی تکریم کا معاملہ تھا اور وہ تکریمِ انسانیت کیلئے ہر چیز کو قربان کر سکتا تھا۔یہ جنگ در اصل پوری انسانیت کی جنگ تھی، وہ اس جنگ کا میرِ کارواں تھا اور وہ اسے ہر حال میں جیتنا چاہتا تھا چاہے اس میں اسے اپنی زندگی کا خراج ہی کیوں نہ دینا پڑے ۔ بہر حال اس جنگ میں جب جان دینے کا مرحلہ آیا تو وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر اپنے چاہنے والوں کی نگاہوں میں ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا کیونکہ مقصد کے حصول کے سامنے اس کی اپنی جان کی قربانی بے معنی ہو چکی تھی۔وہ تو بہت دور دیکھ رہا تھا۔اسے تو پوری کی پوری انسانیت کی رہائی کی فکر دامن گیر تھی لہذا وہ اپنی ذات کے حصار سے بہت بلند ہو چکا تھا۔ذات پات کے مکرو ہ کلچر سے رہائی پانے والوںکیلئے ذولفقار علی بھٹو ایک ایسا نجات دھندہ تھا جس کیلئے وہ لوگ اپنی عزیز ترین متاع بھی قربان کر سکتے تھے کیونکہ انسانوں کو غلامی سے رہائی دلانے کا احسان ان کی نظر میں دنیا کی ہر نعمت سے بڑا تھا۔وہ زندانوں میں گیا تو یہ لوگ زندانوں میں چلے گئے،وہ اسیرقفس ہوا تووہ بھی اسیر قفس ہو گئے ، وہ سرِ دار جھول گیا تو انھوں نے بھی پھانسی کے پھندوں کو چوم کر گلے کا ہار بنا لیا۔ گویا انھوں نے اپنی حیاتی اس کے نام وقف کر دی تھی کیونکہ ان کا ایمان تھا کہ آزادی اور حریت کی یہ زندگی ذولفقار علی بھٹو کی عطا کردہ ہے لہذا اس کی عطا کردہ فکر کی خاطر جان کی قربانی کوئی بڑا سودا نہیں ہے اور انھوں نے اس سودے کی حقانیت ثابت کرنے کیلئے متاعِ جان کو سرِ عام لٹایا تھا اور پورا عالم قربانی کے اس منظر کا چشم دید گواہ تھا ۔

ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت محترمہ بے نظیر بھٹو کی ذا ت کا حصہ بنی تو جیالے محترمہ بے نظیر بھٹو کے گرد جمع ہو گئے اور اس کی ذا ت میں ذولفقار علی بھٹو کو تلاش کرنے لگے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جیالوں کو مایوس نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ مل کر جمہوریت کی ایسی جنگ لڑی کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔جیالوں کا وعدہ تھا کہ کچھ بھی ہوجائے ووٹ بھٹو کا ہی رہیگا ا اور اس وعدے کی انھوں نے ہمیشہ لاج رکھی۔ ان کی وعدہ ایفائی ہی بھٹو ازم کی اصل طاقت بنی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا ووٹ بینک ذولفقار علی بھٹو کا عطا کردہ تھا ۔ محبت کی عطائیں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔اس میں کوئی شور شرابہ ،واویلا اور اعتراض نہیں کیا کرتا بلکہ چپ چاپ چاہنے والے کی چاہت کاحصہ بن جاتا ہے۔ ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧ کو اس ووٹ بینک کی حامل سیاستدان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی بھٹو خاندان کی اس عوامی سیاست کا بھی خا تمہ ہوگیا جس کا آغاز ٣٠ نومبر ١٩٦٧کو ہوا تھا۔

جیالوںکی محبت بھٹو خاندان کے ساتھ تھی کیونکہ بھٹو خاندان نے ان کی خا طر موت کو گلے لگایا تھا۔ دل کا دل کے ساتھ ایک رشتہ تھا جو تمام ہوا۔دل سے دل کی ہمکلامی تما م ہوئی تو محبت بھی قصہ پارینہ بنتی گئی ۔ اب پی پی پی کی قیادت ایسے ہاتھوں میں ہے جس کا عوام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے لیکن بھٹو کا نام اب بھی استعمال ہوتاہے کیونکہ ووٹ بھٹو کے نام کو ملتے ہیں۔١١مئی ٢٠١٣ کے انتخا بات میں لوگوں نے اس بار بھٹو کے نعرے پر ووٹ نہ دے کر پارٹی قیادت سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا کیونکہ انھیں بھٹو کی فلاسفی، نظریات، افکار اوراندازِ سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ لو گ بھٹو سے محبت نہیں کرتے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی محبت کو رسوا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ کسی شخص کے کٹر مخالفین جب اسے دادو تحسین سے نوازنے لگ جائیں تو سمجھ لو وہ شخص حیاتِ جاوداں کا حامل ہو گیا ہے اور ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے ۔وہ ا پنی زندگی میں متنازع تھا تبھی تو اس کے خلاف قومی اتحاد نے تحریک چلائی تھی لیکن اس کی پھانسی نے اسے غیر متنازع بنا دیا ہے اور اب اس کے عدو بھی اس کا نام شہیدِ جمہوریت کہہ کر لیتے ہیں ۔مجھے یقین ہے کہ ایک وقت ایسا آئیگا جب قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کی طرح ذولفقار علی بھٹو کے نام پر ووٹ نہیں مانگے جا ئیں گئے بلکہ جمہوریت کی بقا اور اسکی ترویج میں بھٹو کی عظیم الشان جدو جہد کا ذکر کر کے اسے خراجِ تحسین پیش کیا جایا کریگا ۔ اسطرح ذولفقار علی بھٹو ایک ایسے مقام پر فائز ہو جائیگا جہاں وہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا قائد ہو گا۔خدا کرے کہ یہ مقام اسے جلد مل جائے کیونکہ وہ اس منفرد مقام کا پوری طرح سے اہل بھی ہے اور حق دار بھی ہے۔ جمہوریت اور عوام کی خاطر اس کی بیش بہا قربانیوں کا تقاضہ ہے کہ اسے اس منفرد مقام سے سرفراز کیا جائے۔

Tariq Butt
Tariq Butt

تحریر:طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
defeat election location news unique انتخابات خبر شکست مقام منفرد
Bal Thackeray
Previous Post ہندو انتہا پسند بال ٹھاکرے کا بیٹا بھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف باپ کے نقش قدم پر
Next Post بھارتی عوام نے مجھے سوچ سے زیادہ پیار دیا، علی ظفر
Ali Zafar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close