Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جوناگڑھ بھولی بسری کہانی کیوں؟

March 14, 2016 0 1 min read
Junagarh
Before 1947, India
Before 1947, India

تحریر: شہزاد حسین بھٹی
تقسیم ہند 1947ء سے قبل ہندوستان میں 562 نوابی ریاستیں موجود تھیں جو کہ برطانوی ہندوستان کا حصہ نہیں تھیں جن میں سے صرف 14 ریاستیں پاکستان سے متصل تھیں۔ اس بنا پر ریاستوں کے الحاق کا مسئلہ ہندوستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔جب ہندوستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر دو واضح حصوں میں تقسیم ہوا تو قانون آزادی ہند 1947ء کی رو سے ہندوستان کی مقامی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ جغرافیائی حیثیت اور عوامی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں۔1947 ء میں ہندوستان کی تقسیم کے فوری بعد بہت تیزی سے تبدیلیاں آئیں اور سکم کے علاوہ تمام نوابی ریاستوں نے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا یا انہیں فتح اور ان پر قبضہ کر لیا گیا۔1748ء میں ریاست جونا گڑھ (Junagadh State) کا قیام عمل میں آیا۔ 1807ء میں یہ برطانوی زیر حمایت ریاست بن گئی۔ 1818ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا لیکن سوراشرا کا علاقہ برطانوی راج کے انتظامیہ کے براہ راست تحت کبھی نہیں آیا۔

اس کے بجائے برطانیہ نے اسے ایک سو سے زیادہ نوابی ریاستوں میں تقسیم کر دیا، جو کہ 1947ء تک قائم رہیں۔ موجودہ پرانا شہر جو کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران ترقی پایا سابقہ نوابی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس ریاست کے نواب کو 13 توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ تقسیم ہند،(14 اگست 1947ء )، کے وقت اس ریاست کے نواب محمد مہابت خان جی سوم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے جس پر بھارت نے شدید واویلا کیا۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے (15 ستمبر، 1947ء ) کو اس کی منظوری دے دی گئی۔ریاست جوناگڑھ چار ہزار میل پر مشتمل ہے ۔نواب کا مؤقف تھا کہ اگرچہ ریاست جوناگڑھ کا خشکی کا کوئی راستہ پاکستان سے نہیں ملتا مگر سمندر کے ذریعے یہ تعلق ممکن ہے کیونکہ اس ریاست کا کراچی سے سمند ری فاصلہ 480 کلومیٹر ہے۔اس ریاست کے ماتحت دوریاستیں تھیں (1)منگروال (2)بابری آباد۔ ان دوریاستوں نے اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا جس پر نواب جونا گڑھ نے ان دونوں ریاستوں کے خلاف فوجی کاروائی شروع کردی۔ان دونوں ریاستوں کے حکمرانوں نے حکومت ہندوستان سے مدد کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی ہندوستان نے 9 نومبر، 1947ء جب اس ریاست کے نواب کراچی میں قائد اعظم سے ملاقات کے لیے آئے ہوئے تھے، جوناگڑھ میں اپنی فوجیں داخل کردیں اور بزور قوت جوناگڑھ کو اپنی عملداری میں داخل کرلیا۔اس دوران ایک جلاوطن گروپ نے ایک عارضی حکومت قائم کی جس کا سربراہ سمل داس گاندھی (Samaldas Gandhi) کو مقرر کیاگیا جو مہاتما گاندھی کا بھتیجا تھا۔

Pakistan
Pakistan

سرحدوں کی حد بندی کے دوران ایک طرف برطانوی ماہر قانون ” ریڈ کلف “نے انتہائی جانب داری سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بد دیانتی کا مظاہرہ کیا، تو دوسری طرف بھارت نے بھی ریاستوں کے الحاق میں نت نئے مسائل کو جنم دیا۔ جنوبی ہند کی دو بڑی ریاستوں ٹراونکور اور حیدر آباد دکن نے خود مختار رہنے کا فیصلہ کیا، لیکن بھارت نے قانون آزادی ہند 1947ء کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ان ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔ ظلم پر ظلم یہ ہوا کہ جوناگڑھ، مناوادر، منگرول اور کشمیر کی ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، لیکن بھارت سرکار ان فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوئی۔ آج جونا گڑھ پر بھارتی تسلط اور ناجائز قبضے کو تقریباً 69 برس ہو چکے ہیں ، لیکن کراچی میں مقیم جوناگڑھی عوام بھارتی جبر و تسلط کو بھول نہ سکے۔ نواب مہابت خانجی کے پوتے نواب جہانگیر خانجی اب بھی جوناگڑھ کی آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے چند سال قبل 15 ستمبر کو یوم الحاق جوناگڑھ کی مناسبت سے کراچی کے جوناگڑھ لان میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ میں اقتدار کا خواہش مند نہیں لیکن جوناگڑھ پر بھارت کی طرف سے کیے گئے ناجائز قبضے کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کو خوشحال ملک دیکھنا چاہتا ہوں جس میں ریاست جوناگڑھ کا مدغم ہونا باعث اعزاز ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے پہل جونا گڑھ پاکستان کے نقشے پر کشمیر کی طرح شامل تھا مگر اب نجانے کیوں اسے پاکستانی نقشے سے نکال دیا گیا ہے۔پہلے تعلیمی نصاب میں بھی اسکا ذکر ملتا تھا اب وہ بھی نہیں ہے۔

ریاست جونا گڑھ کا معاملہ آغاز ہی سے سیاسی سردمہری کا شکار ہے۔ کشمیر کیلئے تحریک حریت پوری دنیا میں معروف ہے مگر جونا گڑھ کیلئے کوئی خاص اہتمام پاکستانی حکومتوں کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ریاست جونا گڑھ کے نواب مہابت خان کے بعد ان کے بیٹے اور اب پوتے نواب محمد جہانگیر خانجی تک ایک ایسی مرکزی شخصیت ہیں کہ وہ خود اکیلے ایک تحریک حریت کی طرح ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے استحقاق پر قائم ہیں اور جونا گڑھ کے الحاق کو ہی اپنی زندگی کا مقصد و منشاء سمجھتے ہیں۔ یہ معاملہ ان کی وجہ سے زندہ ہے۔ وہ جہاں ہوں جس محفل میں ہوں’ نواب آف جونا گڑھ کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ وہ پاکستانی ہیں اور جونا گڑھ کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے فروری 1971ء میں جونا گڑھ کے مسئلے کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کرکے اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ مسئلہ کشمیر بھی حل نہیں ہوا۔ عالمی برادری کا ضمیر اس معاملے میں مردہ ہوچکا ہے اور پاکستانی حکومتیں بے عملی کا شکار ہیں۔ دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو ایسے ہی جونا گڑھ بھی ایک بھولی بسری کہانی بن گیا ہے۔

Azad Kashmir
Azad Kashmir

یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی تو کبھی مشرقی پاکستان کو یاد نہیں کرتے، جونا گڑھ تو پاکستان کا حصہ ہی نہیں بنا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کا راگ الاپنے والے اور امن کی آشا کی تحریک چلانے والے فارن فنڈڈ لوگ اس ملک کے باشندے کہلوانے کے مستحق نہیں ہیں۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اسلام آباد میں کشمیر ہاوس کی طرح جونا گڑھ ہاوس بھی قائم کیا جائے۔ تحمل اور تدبر کے امتزاج سے بنے ہوئے مزاج والے دھیمی اور مستحکم شخصیت کے مالک نواب محمد جہانگیر خانجی ایک پرامن ریاست کی طرح کے آدمی ہیں۔ ان کی شخصیت کسی طور بھی آزاد کشمیر سے کم نہیں۔ ان کے پاس زمین نہیں مگر زمانہ تو ہے۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں مگر ان کے وجود میں جونا گڑھ کیلئے آرزوئیں وجد کرتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے اور یہ ان کہانیوںکے خمیر ضمیر میں ہیں۔ 4 ہزار میل پر پھیلی ہوئی ریاست کے ساتھ 100 میل کا سمندری ساحل واقع ہے جو کراچی سے صرف 200 میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ پاکستان کی تیسری بندرگاہ بھی بن سکتا تھا اور یہ گوادر اور کراچی سے کم بندرگاہ نہ ہوتی۔ یہ بات تجارتی مفادات کے علاوہ عسکری معاملات کیلئے کس قدر اہم ہوتی۔ پھر پاکستانی بحریہ بھارتی بحریہ سے بڑھ کر ہوتی۔

اب بھی جب پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے تو نواب صاحب کیلئے بھی اچھے دن آتے ہیں۔ ورنہ نواب آف جونا گڑھ کی حیثیت سے ان کیلئے مراعات وہی ہیں جو قیام پاکستان کے وقت تھیں اور وہ اتنی زیادہ نہ تھیں۔ اب اس صورتحال میں گزارہ مشکل ہے مگر نواب صاحب اپنے وقار اور اعتبار کے حوالے سے اس ضمن میں خاموش ہیں اور یہ بڑے لوگوں کی نشانی ہے مگر ہماری حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بڑے لوگوں کا خیال رکھیں اور اگر ان کے لیے اور کچھ نہیں کرسکتیں تو کم از کم انہیں پروٹوکول تو دیں تاکہ اسی بہانے جونا گڑھ کا مسئلہ بھی تازہ رہے۔
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

جونا گڑھ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی اہم یادگار بنائی جائے۔ اس وقت بھارت سے جونا گڑھ کے حوالے سے بات کرنا ضروری ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ جونا گڑھ کے مسئلے پر ہندوستان سے واضح مذاکرات کرے۔ تعلیمی اداروں میں جونا گڑھ کے طلبہ کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی جائیں۔ کیونکہ جونا گڑھ نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کر کے بہت عظیم قربانی دی ہے ہمارا المیہ یہ ہے کہ پڑھے لکھے افراد جونا گڑھ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ تعلیمی اداروں میں کوئی خاص مضامین نہیں رکھے گئے ،جو کہ قابل افسوس بات ہے۔ جونا گڑھ کے ایشو کو تازہ رکھنے کے لیے ایک میوزیم بنایا جائے جہاں پر جوناگڑھ سے متعلق چیزوں کو جگہ دی جائے۔

Junagarh
Junagarh

جوناگڑھ کے حوالے سے ایک قرارداد سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں اب بھی موجود ہے، پاکستان مسئلہ کشمیر کی طرح یہ معاملہ بھی عالمی سطح پراٹھائے جبکہ اقوام متحدہ بھارتی تسلط ختم کرائے کیونکہ نواب مہابت خان جی نے الحاق کے وقت دفاع ،خارجہ اور مواصلات کے شعبے پاکستان کے حوالے کیے تھے ۔نواب جہانگیر خان جی کے مطابق انہوں نے 2010 ء میں پاکستان کی وزارت خارجہ کو خط لکھا،جس کے جواب میںانہوں نے واضح کیاکہ ہم جوناگڑھ کومقبوضہ ریاست گردانتے ہیں اور اس مقدمے کی حمایت کرتے ہیں۔ 1972 کے صدارتی آرڈرمیں قیام پاکستان کے وقت موجود تمام ریاستوں کے حکمرانوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیالیکن جوناگڑھ کا مقدمہ مختلف ہے کیونکہ دیگر ریاستوں کی طرح اس کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہیں ہوسکا حالانکہ وہ آئینی طور پراس کاحصہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ قیام پاکستان سے آج تک کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی بھی مسئلہ بات چیت سے حل نہیں ہوا ماسوائے 1971ء میں جب نوے ہزار جنگی قیدیوں کا مسئلہ بھٹو صاحب نے نہایت دانشمندی سے حل کرایا ۔اس میں انکی سیاست کے ساتھ انکی خوش قسمتی کا بھی بڑا عمل دخل تھا کیونکہ اندرا گاندھی فتح کے نشے سے سرشار تھی اور اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو سنبھالنا بھی ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا۔ بہر کیف جو ہونا تھا ہو چکا۔ اب کشمیر ہو یا مناوا یا جونا گڑھ ، انکے حصول کے لیے ہمیں مذاکرات کی اہمیت سے انکا رنہیں مگر اسکی کامیابی کے لیے ہر طرح پہلے سے تیاری کرنا ہو گی۔ مذاکرات تب ہی کامیاب ہوتے ہیں جب طاقت کا توازن برابر ہو۔ہمیں مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ ریاست حیدرآباد اورجونا گڑھ کو بھی اُجاگر کرنیکی ضرورت ہے۔ آخر یہ ہمارے سیاستدان اور بیورکریٹ جو خود کو سقراط، بقراط اور افلاطون سمجھتے ہیں یہ کس دن کام آئیں گے؟ کیا یہ صرف عوام پر حکمرانی اور لوٹ مار کے لیے سیاست کرتے ہیں؟

Shahzad Hussain Bhatti
Shahzad Hussain Bhatti

تحریر: شہزاد حسین بھٹی

Share this:
Tags:
India United Kingdom برطانیہ بھارت کلومیٹر
FC Soldiers
Previous Post کوئٹہ : اسمنگلی روڈ پر سرچ آپریشن، 24 مشتبہ افغان باشندے زیر حراست
Next Post غیرت کے نام پر غیرت کا قتل
Honor killing

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close