
روم (جیوڈیسک) اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے یہ امدادی مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب دو روز قبل اقوام متحدہ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شام میں بے گھر ہونے والے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو خوراک کی فراہمی میں ناکام رہے ہیں۔
عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت لبنان، اردن، ترکی، عراق اور مصر میں لاکھوں شامی پناہ گزین نہایت کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ رواں دسمبر میں عالمی ادارہ خوراک کو شامی پناہ گزینوں کی خاطر 64 ملین ڈالر کی رقم درکار ہوگی۔ نئی مہم کے تحت دنیا بھر میں ہر شخص سے ایک ڈالر عطیہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کی خاتون ڈائریکٹر آرتھرن کوزان نے روم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم شامی پناہ گزینوں کیلئے ساری دنیا سے امداد کی اپیل کر رہے ہیں کیونکہ یہ انسانی بقاء کا مسئلہ ہے۔
شام میں جاری جنگ سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈالر کوئی بڑی رقم نہیں لیکن اس سے ایک پناہ گزین کی خوراک کا انتظام ہونے سے اس کی زندگی بچ سکتی ہے۔
ڈونرز ممالک کی امداد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈونر ملک کو پریشانی میں ڈالنے کے بجائے صرف امداد کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 64 ملین افراد ایک ایک ڈالر دیں تو ہمارا ہدف پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ صارفین سے اپیل کی کہ وہ بھی عطیات جمع کرنے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان کی مہم کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔
