Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اتحاد امت وقت کی ضرورت

March 11, 2015March 11, 2015 0 1 min read
Unity
Unity
Unity

تحریر : علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی
جب انسانیت نے ارتقاء کی آخری منزل میں قدم رکھا ۔ذہن انسانی عروج کو پہنچ چکا ،تو سلسلہ رشد و ہدایت کی آخری کڑی ہادی کامل و اکمل ،رسول معظم و محتشم ،فخر آدم و بنی آدم،خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور خالق و مالک نے صراحت کے ساتھ اعلان فرما دیا کہ اب ہمارے مبعوث کئے ہوئے پیغمبر کی تصدیق نہ کسی قوم و آبادی تک محدود ہے ،نہ جغرافیائی حدود کی کوئی تقسیم ہے اور نہ ہی یہ آخری پیغام زمانہ کی قید و بند میں محصور ہے ۔بلکہ اب جب تک خدا کی خدائی قائم ہے ،یہی پیغام رشد و ہدایت ہی صراط مستقیم کا ضامن ہے ۔کیونکہ آنے والے ہادیٔ کل حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرما دیا ہے یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ جَمِیْعًا0 ”اے لوگو! میں تم میں سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں ۔” (پارہ نمبر9سورة الاعراف آیت نمبر58) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ۔وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَافَّةً الِّلنَّاس۔”اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام انسانوں کے لئے خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا بھیجا ہے ۔”(پارہ 22سورة السبا آیت نمبر28) اب اس اعلان کے بعد نسل انسانی صرف دو گروہوں میں منقسم ہو گی ۔مومن اور کافر ،چنانچہ نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت میں رنگ و نسل و زبان و وطن کے نام پر قائم کی گئی تمام تفریقات کی نفی اور نظریاتی قومیت کے اثبات کا اعلان ہے ۔ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھنے والا خواہ کالا ہو یا گورا ،مشرق کا رہنے والا ہو یا مغرب کا، عربی ہو یا عجمی ،جو زبان بھی وہ بولتا ہے اور جو بھی رنگ اس کا ہے وہ ایک عالم گیر امت مسلمہ کافرد ہے ،اسلام کے نزدیک صرف دو قومیں اور دو طبقے ہیں ۔حزب اللہ اور حزب الشیطان ۔جس نے اقرار توحید و رسالت کیا وہ حزب اللہ میں شامل ہو گیا اور جس نے انکار کیا وہ حزب الشیطٰن کی فہرست میں داخل ہو گیا ۔تاریخ اسلام پر ایک نظر ڈالئے ،حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فارس کے رہنے والے ہیں مگر وحدت کے سبب عظیم اعزاز سے سرفراز کئے جاتے ہیں ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ کے رہنے والے ہیں مگر اسلام نے انہیں عزت واحترام کے اس مقام پر فائز کیا کہ امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور با واز بلند فرماتے ہیں :” بلال رضی اللہ عنہ ہمارے آقا ہیں اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ہیں ۔” پوری نوع انسانی کی یک جہتی ہو یا صرف ملت اسلامیہ کا اتفاق و اتحاد ،اگر بنظر غائر جائزہ لیں تو چند بنیادی عناصر ہیں جو اتحاد و اتفاق کی فضا کو منتشر کرنے کا سبب بنتے ہیں اور وہ معروف ہیں ۔یعنی نسلی تمیز و تفاخر ،علاقائی حد بندیاں ،لسانی کشمکش اور مذہبی منافرت۔

جو لوگ دین اسلام کے پیرو کار ہیں ان کی یک جہتی اور اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کے لئے داعی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاکیزہ اُسوہ سے ان عناصر کی بیخ کنی کر دی جو امت کا شیرازہ منتشر کرتے تھے ۔آپ نے ان ھٰذا اُمتکم امة واحدہفرما کرامت کے افراد کو ایک تسبیح کے دانوں کی طرح یکجا کر دیا اورلَا فَرْقْ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ وَلَا عَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ اِلَّا بِالتَّقْویٰ ۔۔الآخر ”عربی کو عجمی پر عجمی کو عربی پر سرخ کو کالے پر اور کالے کو سر خ پر کوئی فضیلتنہیں ۔سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہے ۔اور آدم علیہ السلام مٹی سے ہیں ۔” کا انقلاب آفرین فرمان سناکر رنگ و نسل کے تمام تفاخر کو خاک میں ملا دیا ۔اسی طرح حبشہ کے رہنے والے سیاہ فام غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور فارس سے تشریف لانے والے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کو سینہ نبوت سے لگا کر علاقائی بنیادوں پر پیدا ہونے والے امتیازات کو فلسفہ اسلام سے یکسر خارج کر دیا ۔ فتح مکہ کے موقع پر اخوت اسلامی اور جغرافیائی حدود سے ماوراء اور اسلامی معاشرے کے قیام اور نظریہ پر یقین و پختگی کی بنیاد پر ایک نئی قوم کے قیام کا فقید المثال عملی مظاہرہ چشم فلک نے دیکھا ۔آج کا دن تاریخ اسلام کی عظمت و جلالت کا دن ہے ۔ دشمنان اسلام کی ایذاء رسانیوں سے تنگ آکر اپنے آبائی شہر مکة المکرمہ کو خیر آباد کہنے والے ،چھپ چھپ کر ہجرت کرنے والے آج پوری شان کے ساتھ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہو رہے ہیں ۔آج ان فاتحین میں عرب کے مختلف علاقوں کے لوگ مختلف نسل اور نسب رکھنے والے شامل ہیں ۔کعبة اللہ کے سامنے عجیب منظر ہے ۔جلیل القدر صحابہ ،محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہیں ۔حضرت ابو بکر و عمر ،عثمان و علی رضی اللہ عنہم اجمعین سب ہی موجود ہیں ۔رؤساء قریش بھی موجود ہیں ۔موافق و مخالف ،دوست و دشمن کے مجمع میں جب زبان رسالتۖ سے یہ ارشاد جاری ہوتا ہے کہ اے بلال ! کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اللہ رب العزت کی تکبیر و تقدیس کا غلغلہ بلند کرو ۔اذان دو تو فلسفہ اسلام کے اس عملی نمونہ کو دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے گالیاں دینے والے عتاب ابن اسود پکار اٹھتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! تھوڑی دیر پہلے مجھے آپ سے زیادہ کسی اور سے نفرت نہ تھی اور اب آپ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں ۔ الغرض اسلام ملت اسلامیہ میں یک جہتی کی وہ فضا دیکھنے کا خواہاں ہے جو ان تمام تفرقات سے پاک ہو ،جہاں اخوت ہو ، مروت ہو ،محبت اور پیار ہو ، مسلمان جذبہ ایثار سے سرشار ہو ،ایک کا دکھ ،سب کا دکھ اور ایک کی خوشی سب کی خوشی کا ساماں ہو۔اسی نقطۂ اخوت کو قرآن حکیم نے اس طرح بیان کیا ۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة ۔”بے شک مومن بھائی بھائی ہیں ۔”(پارہ نمبر26سورة الحجرات آیت نمبر10) بلکہ اس رشتۂ اخوت اور اتحاد امت کو مضبوط بنانے کے لئے قرآن کریم جابجا ارشاد فرماتا ہے :وَاْعَتَصِمُوْ ابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْص وَذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہ اِخْوَانًا۔”اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ پڑو اور اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کرو جو اُس نے تم پرکیا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ ڈال دیا اور تم آپس میں بھائی بن گئے۔”

اب ذرا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیجئے ! حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان والوں کا تعلق دوسرے ایمان والوں کے ساتھ ایک مضبوط عمارت کا ہونا چاہیے کہ وہ باہم ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں پھر آپ نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال دیں ۔یہی وہ مضبوط تعلق تھا ۔یہ وہ نظریہ تھا اور اسی کی بنیاد پر یہ جذبہ ایثار کار فرما تھا کہ ہجرت مدینہ کے موقعہ پر مدینہ کے میزبانوں نے مکہ کے مہمانوں کو گلے لگالیا ۔اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں حاضر کر دیا ۔ایک مدنی صحابی نے اپنے مکی بھائی سے عرض کی کہ میری دو بیویاں ہیں ۔ایک کو طلا ق دے دیتا ہوں اس سے تم نکاح کر لو ۔یہ ہے مواخات مدینہ کا وہ منظر اور یہ ہے ملی یک جہتی کی وہ مثال کہ جس کی کوئی مثال نہیں ۔ کو ئی شک نہیں کہ اسلام نے فرد کی حیثیت کو بہت ممتاز کیا ہے ۔فرد ہی اس کا ابتدائی اور حقیقی مخاطب ہے جس طرح وہ تنہا پیدا ہوا ہے اسی طرح اللہ کے احکام پر چل کر اپنی زندگی کو کامیاب بنانا بھی اس کی اپنی انفرادی ذمہ داری ہے اور کل بارگاہ رب العزت میں اپنے عمل کی جواب دہی کے لئے اسے اکیلے ہی حاضر ہونا ہے ۔لیکن روح اسلام کو ایک نظردیکھئے تو آپ یقین کی منزل پر پہنچ کر پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکیں گے کہ اسلام فرد کی اصلاح کے ساتھ ایک صالح اور اسلامی فلاحی معاشرے کا قیام بھی عمل میں لانا چاہتا ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داریوں کو ادا کرے اور منشائے الہٰی کی تعمیل کے لئے منظم اور مجتمع ہو کر باطل قوتوں سے بر سر پیکار ہو۔ انسانی زندگی کا وہ شعبہ جسے عرف عام کے لحاظ سے عبادتی شعبہ کہنا چاہیے ایک ایسا شعبہ ہے جہاں اجتماعیت کی رسائی کا تصور بھی مشکل سے کیا جا سکتا ہے عبادت الہٰی کا نام لیجئے ،آپ گوشوں اور تنہائیوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔انسان چاہتا ہے کہ تمام علائق دنیا سے آزاد ہو کر گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر وہ اپنے معبود کی عبادت بجا لائے لیکن اسلام نے عبادت کے اندر بھی اجتماعیت کا رنگ پیدا کیا ۔نماز جسے دین کے ستون کا نام دیا گیا اور جسے کفر اور اسلام کا مابہ الامتیاز قرار دیا گیا اس کے لئے اتنا ہی کافی نہیں کہ اکٹھے مل کر اور با جماعت ادا کر لی جائے بلکہ بخاری شریف کی حدیث کے مطابق ضروری ہے کہ لوگ صفیں باندھ کر اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور صفیں تیر کی طرح سیدھی ہو ںروزہ کو لیجئے !اس میں اجتماعی شان دیکھئے ! ایک ہی دن شروع کرنا اور ایک ہی دن عید منانا ۔ایک ہی وقت شروع کرنا اور ایک ہی وقت افطار کرنا ۔یہ مسلمان ملک میں اجتماع اور نظم و ضبط کی تعلیم نہیں تو اور کیا مقصود ہے اور حج تو اپنے اندر اجتماعیت کی وہ شان رکھتا ہے کہ کسی بھی مذہب کی تاریخ اس کی نظیر پیش نہ کر سکے گی ۔مختلف رنگوں ،نسلوں اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی لباس میں ملبوس ،ایک ہی معبود حقیقی کی پرستش میں مصروف نظر آتے ہیں اور سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری ہوتا ہے ۔ لبیک اللّٰہم لبیک ۔۔۔۔الخ یہ ان احکام کا مجمل خلاصہ ہے جو اجتماعی نظم اور ملی اتحاد کے بارے میں اسلام نے اپنے پیر و کاروں کو دے رکھے ہیں ،اگر ان ہی چند ارشادات کو غور سے دیکھ لیا جائے تو اجتماعیت کی وہ قدر و قیمت جو اسے اسلام میں حاصل ہے بڑی حد تک واضح نظر آئے گی۔

ALLAH
ALLAH

ارشاد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔” جماعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہو اور انتشار سے پوری طرح الگ رہو ۔” اگر تمام اہل ایمان کا ایک خاص شیرازے میں بندھا رہنا اور”تفرقہ” سے دوررہنا ضروری ہے ،اگر جماعت سے بالشت بھر کی علیحدہ گی بھی مومن کی گردن کو اسلام کے حلقے سے محروم کر دیتی ہے اگر ملت کے اتحاد میں رخنے ڈالنے والے کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں ،اگر ملت کے اجتماعی نظام کی حفاظت سے بڑی کوئی عبادت نہیں تو سوچئے وہ کون سا مقام ہے جو اجتماعیت کو ملنا چاہیے تھا ۔ غور فرمائیے !کہ جس دین کی یہ تعلیم ہو اور جس دین کے داعی کا اُسوہ حسنہ ایسا مبارک ہو ۔اس دین کے پیرو کار آج کس خلفشار کا شکار ہیں ۔اس کا شیرازہ کس حد تک منتشر ہو چکا ہے ۔آج عرب و عجم کی تفریقات پھر پیدا ہو چکی ہیں ۔آج نسل و زبان کے فتنے کی آگ پوری طرح بھڑک چکی ہے ۔مسلمان کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگین ہیں ۔مسلمان کی آبرو مسلمان کے ہاتھوں محفوظ نہیں ۔ان ہی جغرافیائی ،نسل اور لسانی تنازعات کے سبب مسلمانوں کی واحد نظریاتی مملکت د ولخت ہو گئی اور آج پھر مسلمان قائدین کے خون کی سرخی یہاں کی عمارتوں پر گولیوں کے نشانات اس امر کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ ہم پھر زمانہ جاہلیت میں جا پہنچے ہیں ۔ وہی عصبیتیں ہم میں پھر عود کر آئی ہیں ۔ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک کتاب پر ایمان لانے والی امت نسل ،رنگ ،زبان اور علاقائی عصبیتوں کے مختلف خانوں میں بٹ چکی ہے ۔ہمارے مسلمان بھائی جو مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے ناپاک عزائم میں ملوث ہیں ان کی نظروں سے شاید یہ ارشاد رسالت مآب پوشیدہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:”جو شخص اس جماعت کو جب تک کہ وہ متحد ہو ،پر اگندہ کرنا چاہے اسے بدرجہ آخر تلوار پر رکھ لو خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔” دوسری حدیث طیبہ میں ارشاد ہے:”نہیں ہے وہ ہم میں سے جس نے لوگوں کو کسی عصبیت کی طرف بلایا ۔” یعنی اسلام کی خالص عقل اور اعتقادی بنائے اجتماع کو چھوڑ کر مسلمانوں کو ان نسلی یاو طنی ،لسانی یالَونی تعصبات میں سے کسی تعصب پر جمع کرنے کی کوشش کی جانی جن پر خدا فراموش اور مادیت کی غلام قومیں بالعموم جمع ہوا کرتی ہیں ۔نہایت ظلم ہے جس پر خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی یقینی ہے ۔درحقیقت ان مغرب والوں اور مادہ پرستوں کے پاس ایسا ٹھوس اور مستحکم نظریہ تھا ہی نہیں جو قومیت کی صحیح بنیاد قرار پاتا ،چنانچہ انہوں نے رنگ و نسل اور زبان و وطن کے معیار کو قومیت ٹھہرایا ،ہم نے بھی نقالی کرتے ہوئے ایک مسلم قوم میں کئی قومیں بنا لیں اور یہ نہ سمجھ پائے کہ جو فلسفہ حیات مغرب والوں کے لئے آب حیات ہے وہ ہمارے لئے زہر قاتل ہے ۔علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ اسی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں ۔قیاس اپنی ملت کو اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوم مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری دین اسلام سراسر دین رحمت اور دین وحدت ہے ،شیوۂ رحمت غیروں کو اپنا بنانا اور نظریہ وحدت عالم انسانی کو ایک مثبت بنیاد فراہم کرنا ہے ،پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحمت کے رویے سے اپنوں اور غیروں کو متاثر کیا اور اصول وحدت کے ذریعے سے انسانی دنیا کو اسلامی برادری کا نمونہ عطا کیا ،اگر چہ لوگوں میں کالے اور گورے ،عربی اور عجمی ،بدوی اور شہری اور ایشیائی اور افریقی وغیرہ کے تشخصات موجود رہے لیکن محض شناخت کے لئے ورنہ ان سب میں ایک جوہری وحدت پیدا کر کے ذہنوں اور دلوں کے فاصلے سمیٹ دئیے اور یوں مراکش کا باشندہ جزائر شرق الہند والوں کا بھائی بن گیا اور افریقی صحرائوں اور جنگلوں کے باسی یورپ کے محل نشینوں کی برادری میں شامل ہو گئے۔ یہ سب کچھ اس جوہر وحدت کے طفیل ہو گیا جسے کلمۂ توحید کہا جاتا ہے۔

ہر چند کہ ایک طویل مدت سے بعض سیاسی کچھ ثقافتی اور چند تاریخی اختلافات کے باعث اہل اسلام مختلف جماعتوں ،گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے مگر ان کے درمیان بنائے وحدت روز اول سے موجود رہی اور موجود ہے ۔بعض امور میں کھلے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی بنائے وحدت مسمار اور معدوم نہیں ہوئی ۔اور آج اسی اصل و اساس کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے ۔ اختلاف بری بات نہیں تا آنکہ وہ افتراق کی حدوں کو نہ چھونے پائے ۔اختلاف رنگ میں ہوتا ہے نسل اور زبان میں ہوتا ہے ،ذوق لباس و طعام میں ہوتا ہے ،عادات و اطوار میں ہوتا ہے غرضیکہ کوئی انسان دوسرے انسان سے کلیةً ہم رنگ وہم آہنگ نہیں ہوتا اور کسی سے اس کی توقع رکھنا بھی تقاضائے فطرت کے منافی ہے ۔لیکن اسی اختلاف رنگ و بو سے گلشن حیات کی زینت اور رونق ہے ،کچھ ایسا ہی تعبیر و تشریح کا اختلاف دو یا دو سے زائد مکاتب فکر میں ہو سکتا ہے اور فی الواقع ہوتا ہے مگر وہ اپنے حدود میں رہ کر باعث رحمت بنتا ہے کیونکہ اسی اختلاف فکر و نظر سے اجتہاد کا ذوق پیدا ہوتا ہے ،ذوق سلیم کی آبیاری ہوتی ہے ۔مادۂ تحقیق بڑھتا ہے۔ زاویہ نظر وسیع ہوتا ہے ،فکر کا افق بلند ہوتا ہے اور یوں پیداواری اور تخلیقی صلاحیتیں اپنے جوہر دکھانے کے قابل بنتی ہیں ،اگر یہ ذرا سا اختلاف بھی نہ ہو تو پوری انسانی دنیا گویا خود کلامی کی مریض بن کر رہ جائے اور اکتشاف و انکشاف ،اکتساب و احتساب کی دولت سے محروم ہو جائے تاہم دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال ،روز افزوں عالمی کشیدگی ،اردگرد کی پیچیدہ صورت حالات ،عالم اسلام کی زبوں حالی، استعماری طاقتوں کا اسلام اور اہل اسلام کے خلاف خفیہ اتحاد اور سب سے بڑھ کر عالم اسلامی کے داخلی تضادات اور اختلافات کی تباہ کاریاں ہم مسلمانوں کو اس موڑ پر لے آئی ہیں کہ مسلمانوں کے تمام حکومتی ،سیاسی ،مذہبی اور علمی طبقات اپنے درمیان موجودکم سے کم مشترکہ نکات میں جوہری وحدت کے اصول پر مفاہمت اور اتحاد کر لیں تاکہ عالم اسلام کی روحانی ، افرادی ،سیاسی ،جغرافیائی ،معاشی اور علمی طاقت الحاد ،نفس پرستی ،استعمار ،کمیونزم ،سرمایہ داری اور دیگر اخلاقی و معاشرتی خرابیوں کے خلاف استعمال ہو سکے ۔ میں بالخصوص یہاں مذہبی طبقات کو اپنا مخاطب قرار دے کر ان سے اس کی توقع رکھتا ہوں کیونکہ عالم اسلام کا معاشرتی ڈھانچہ سربسر مذہبی بنیادوں پر استوار ہے ،دنیا کی دیگر اقوام کے اتحاد و اشتراک کے متعدد اور مختلف عناصر ہیں ۔ مثلاً یورپی برادری ، امریکن بلاک ،سوشلسٹ پروگرام ،تھرڈ ولرڈ ،لیکن عالم اسلام ان میں سے کسی ایک شناخت اور دائرے کا پابند نہیں ۔اسلامی برادری مغربی یورپ ،مشرقی یورپ، براعظم امریکہ ،بر اعظم افریقہ ،برا عظم ایشیاء ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور اس برادری کا نقطہ اشتراک فقط اسلام ہے یہی اس کی داخلی اور خارجی شناخت ہے اس حوالے سے مذہبی عناصر اور طبقات کے درمیان کامل مفاہمت اور ہم آہنگی گویا پوری اسلامی برادری کے اتحاد کی ضمانت بن سکتی ہے ۔اگر حکمران بوجوہ ایسا نہ کرنا چاہیں تو اجماع امت ان کو یاتو کاٹ کر الگ پھینک دے گا یا پھر وہ ایسا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ مذہبی طبقات کا اختلاف بہت اونچی سطح سے لیکر بہت نیچی سطح تک پھیلا ہوا ہے کہ کچھ تاریخی و عمرانی اختلافات بھی ہیں اور بعض فقہی اور کلامی اختلافات بھی !دو چار ثقہ اور چند محض ”زیب داستاں” کے لئے ،باوجودیکہ یہ سب کچھ ہے پھر بھی چند اصولوں کو مد نظر رکھ کر وحدت ملی کو منطقی اور عملی طریقے سے پائیدار بنایا جا سکتا ہے ،اس کے لئے صرف حسن ظن اور خوف آخرت مطلوب ہے ۔1۔ہر مذہبی فریق اپنے آپ کو ایسے سوال کا جواب دینے کا مکلف نہ سمجھے جن کے لئے انہیں خدا و رسول نے تکلیف نہیں دی اور وہ مبنی بر حکمت ہیں اور دانائی و دین داری کا تقاضا ہے کہ انہیں ویسا ہی رہنے دیا جائے ۔2۔ اگر کسی مسئلہ پر اختلاف رائے ہو تو اس کو اسی دائرے تک محدود رہنے دیا جائے تاکہ اس کے حوالے سے تمام تر دینی علمی اور معاشرتی تعلقات کمزور نہ ہوں ۔3۔ تحقیق و اجتہاد کے ضمن میں ہر اختلاف کے اندر ایک جوہری وحدت موجود ہوتی ہے اور اصل اہمیت اس جوہری وحدت کو حاصل ہونی چائیے ۔مثلاً عقائد اسلام کے حوالے سے مختلف مکاتب و مسالک کے درمیان توحید ،رسالت اور آخرت کا عقیدہ جوہری وحدت ہے ۔یہ بنیاد مضبوط رہے تو بڑے سے بڑے اختلاف کو دور کیا جا سکتا ہے۔

Respect
Respect

4۔ اختلاف فکر و نظر کے باوجود ایک دوسرے کے اکابر کا احترام و حدت ملی کا اہم ذریعہ اور زینہ ہے کیونکہ ہر انسان کے مزاج ، افکار اور جذبات پر شخصیتوں کا زبردست اثر ہوتا ہے اور ان سے کچھ ایسی عقیدت وارادت پیدا ہوجاتی ہے کہ ذرا سی ٹھیس بھی اس آبگینے کو چکنا چور کر دیتی ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سابق انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں میں اختلاف کے باوجود ہم ان انبیاء پر ایمان لانے اور ان کا قلبی احترام کرنے کے پابند ہیں ۔اس ضمن میں ذرا سی افراط و تفریط ہمارے ایمان میں خلل ڈال دیتی ہے ، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فقہی اختلاف رہا لیکن کسی بھی صحابی کی توہین شرف انسانی کے منافی ہے ۔فقہائے امت میں اختلاف ایک تاریخی امر ہے اور پانچ بڑے فقہی دبستان قائم ہوئے ۔جعفری ،مالکی ،حنفی ،حنبلی اور شافعی ۔ مگر کسی مسلمان کے دل میں ایک کی تقلید کے باوجود دوسرے کے احترام میں کمی نہیں آتی ،تصوف کے بھی کئی حلقے ہیں قادری ،اویسی ،چشتی ،سہروردی،شطاری اور نقشبندی خاصے مشہور ہیں مگر ان سلاسل کے ہر بزرگ کا احترام سبھی مسلمان کرتے ہیں ۔یہ چند مثالیں اس لئے پیش کی گئی ہیں کہ اگر ہم ایک دوسرے کے اکابر کا احترام اپنا جزو اخلاق بنا لیں تو دو تہائی اختلافات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔5۔ ہم اہل اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق عالیہ کو زینت تقریر و تحریر بناتے ہیں ۔اگر انہی اخلاق فاضلہ کو ہم اپنی سیرت کا حصہ بنالیں تو وحدت و رحمت اور ایثار و اتحاد کے وہ پھول کھلیں گے کہ چمنستان عالم مہک اٹھے گا۔ ہم پڑھتے ،بیان کرتے اور سنتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتھروں کے جواب میں دعائیں دیں ،کانٹوں کے بدلے پھول برسائے ،گندگی کے ٹوکروں کے ردعمل میں ماحول کو عطر بیز بنایا ،قاتلوں کو معافی دی ،ستم رانوں سے شخصی سطح پر مہربانی فرمائی ۔تو کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ؟ بہتر ہوتا کہ آپ کے اخلاق کریمانہ فن تقریر و خطابت کا ہی نہیں بلکہ ہماری سیرت و شخصیت کا حصہ ہوتے ۔6۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بولنے ،لکھنے اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کی صلاحیت سے نوازا ہے وہ اپنا زور تقریر و تحریر ایمانیات، اخلاقیات ،عبادات اور معاملات پر صرف کریں ۔باقی فروعی باتوں کو خیر سگالی اور حسن ظن کے جذبہ سے حل کرنے کی کوشش کریں ۔ مسلمانوں کے مختلف مذہبی طبقات کے درمیان گونگوں اختلافات کے باوجود ایسی مشترکہ اقدار اور متفق علیہ اصول موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر اتحاد کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے ،ہر ریب اور شک سے بالا توحید باری تعالیٰ ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت عامہ و تامہ حواشی اور تفاسیر سے ہٹ کر متن قرآن ایک متفقہ دستاویز اور کعبہ معظمہ اہل اسلام کی وحدت کا زندہ اور مشہور نشان ۔یہ سب فکر و عمل کی وحدت کا سامان ہیں ،تو کیوں نہ امت کو ایک خدا ،ایک رسول ایک کعبہ اور ایک قرآن کی بنیاد پر متحد و مستحکم کر دیا جائے۔

مزید بر آں وحدت ملی کے لئے محض خوش کن نعرے اور جذباتی فقرے کافی نہیں بلکہ اس کے لئے ٹھوس فکری مواد کی بہم دستیابی اور علمی کام کی ضرورت ہے ۔ جس کے لئے کئی جہتیں دریافت ہو سکتی ہیں ،ہر چند کہ یہ اختلافات بادی النظر میںہلکے پھلکے نظر آتے ہیں لیکن طویل عرصہ گزرنے اور ان کی پشت پر فقہی حوالوں کی موجودگی کے باعث کافی گمبھیر اور سنگین ہو گئے ہیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ذہنی تطہیر کا عمل بہت ضروری ہے ۔ البتہ ہر با شعور اور دردمند مسلمان عالمی سامراج کی سازشوں سے آگاہ ہے اس کی ہر سازش کا تانا بانا” لڑائو اور حکومت کرو” کے اصول سے تیار ہوتا ہے ۔چنانچہ دنیا کے ہر خطے میں سامراج نے وہاں کے تضادات کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے وہ اپنے شیطانی اقتدار کے لئے لڑنے بھڑنے کے ماحول کو اپنے حق میں انتہائی سود مند سمجھتا ہے۔وہاں وہ اپنی فوجیں اتارنے کی بجائے معاشرے کی اندرونی کمزوریوں کو اپنے تسلط کی سیڑھی بناتا ہے ۔کالے اور گورے کا فساد ،یورپی اور ایشیائی کی کشمکش ،لسانی اور صوبائی تعصب ،سیاسی اور علاقائی مخاصمت یہ سب اس کی شش جہات سازش کے مختلف رخ ہیں ۔ ان سب سے بڑھ کر مذہبی منافرت اور مخاصمت کا ماحول پیدا کرنا اس کا کارگر اور مہلک حملہ ہے جس سے جسد ملی گھائل ہو کر اس کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے ۔پھر وہ سامراج ،ثقافت ،معیشت ،سیاست ،ادب اور فن کی زنجیریں لیکر اسے پابند بنا دیتا ہے ۔ عالمی طاقتوں کی سیاسی ،ثقافتی ،فوجی اور سائنسی حکمت عملی کا کامیاب عنصر یہ ہے کہ مسلمان ملت واحدہ کی حیثیت اختیار نہ کرنے پائیں ۔ورنہ اس کے لئے سونا اگلنے والی منڈیاں بند ہو جائیں گی۔ اگر حالات کی یہ نزاکت اور سنگینی عالم اسلام کے ارباب مذہب کے مد نظر رہے تو وہ بڑے سے بڑے فقہی و کلامی حریف کو اپنا حلیف بنانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کریں گے ۔ ایک ارب سے زائد مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں ،ان کی سوچ یکساں ہو، ان کی آواز ہم آہنگ ہو ،ان کا لائحہ عمل متفقہ ہو تو پوری دنیا کی طاقت کا توازن بدل کر اپنے حق میں کرسکتے ہیں ۔ اسلامیان عالم کی کامیابی کا سرنامہ عالم اسلام کا اتحاد ہے اور اس اتحاد کو ملکی ،جغرافیائی ،بر اعظمی ،نسلی ،لسانی اور مذہبی ہر نوع کے اختلاف پر واضح فوقیت حاصل ہونی چاہیے یہ ہیں وحدت ملی کی راہیں اور تدبیریں ہیں۔راہ ڈھونڈھنے کی چیز ہے اور تدبیر کرنے کی ،جو ڈھونڈھے وہ پائے یہ فطرت کا اٹل اصول ہے ۔ گویا مقصد سے آگاہی ا س کی صداقت پر یقین اور پھر عمل کے لئے عزم صمیم ہی وہ قوتیں ہیں جو امت مسلمہ کو پھر سے متفق و متحد اور کانھم بنیان مرصوص۔کا مصداق بنا سکتی ہیں ۔اسی میں ملتِ اسلامیہ کی بقا اور سر بلندیٔ دینِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ۔پھر اغیار شانِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی نہ کر سکیں گے ۔مسلمان کا اجتماعی رعب و دبدبہ اغیار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق اتحاد امت سے سرشار کرے ۔آمین

تحریر : علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی
سجادہ نشین مرکزاویسیاں نارووال
0300-6491308

Share this:
Tags:
Islam man need people time unity اتحاد اسلام اللہ امت انسانیت ضرورت قوم وقت
Shahryar Khan
Previous Post پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی ہوم سیریز رواں سال دسمبر میں کھیلی جائے گی، شہریار خان
Next Post ڈیرہ بگٹی میں فورسز کی کارروائی میں 7 دہشت گرد ہلاک
Forces Action

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close