Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اردو ناول کے اسالیب پر ایک نظر

May 14, 2014 0 1 min read
Book
Urdu Novel ke Asaleeb
Urdu Novel ke Asaleeb

نام کتاب: اردو ناول کے اسالیب
مصنف : ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی
قیمت: 135روپئے (صرف)
ضخامت: 430 صفحات

اردو فکشن کے جواں سال نقادوں میں ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی کا نام نمایاں ہے۔ بعض جہتوں سے وہ ممتاز و منفرد بھی نظر آتے ہیں۔انہوں نے افسانے کی تنقید میں بھی اپنی جولانئی طبع کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اپنے مخصوص تنقیدی میلان کو ناولوں کے حوالے سے بطور خاص بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے اور اسالیب کے مطالعے تک خود کو محدود رکھاہے۔

اردو ناول کا سفر تقریباً ڈیڑھ صدی پر محیط ہے اور اس ڈیڑھ صدی میں اردو ناول نے نہ صرف مختلف رجحانات و تحریکات سے اثر قبول کیا ہے بلکہ ان کو متاثر بھی کیاہے۔اس کے اثرات کئی سطحوں پر نمایاں بھی ہوئے ہیں لیکن اس کا احساس اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس کی ارتقائی سمت ورفتار پر نظر نہ ڈالی جائے۔چنانچہ پانچ ابواب پر مشتمل ”اردو ناول کے اسالیب”میں شہاب ظفر نے ڈپٹی نذیر احمد سے شاہد اختر تک یعنی آدم سے ایں دم تک کے ناولوں کو سمیٹنے کی کو شش کی ہے۔

یہ کوشش فی الواقع تین ابواب کا احاطہ کر تی ہے یعنی اردو ناول کا سفر دوسرے باب سے شروع ہوکر چوتھے باب پر ختم ہو جاتاہے۔دراصل پہلے باب میں ناول کے حوالے سے اسلوب کی تعریف و تو صیف اور مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور پانچواں باب محاکمے کے لئے وقف کیا گیا ہے۔تجزیے کے لئے جن ناولوں کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ،ان کی درجہ بندی چونکاتی ہے کیونکہ شہاب نے بنیادی طور پر ان ناولوں کے تین ہی ادوار مقرر کئے ہیں۔

یعنی اردو ناول کے اسالیب ترقی پسند تحریک سے پہلے ،ترقی پسند اردو ناول کے اسالیب اور اردو ناول کے اسالیب ترقی پسند تحریک کے بعد۔اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترقی پسند اردو ناول کو انہوں نے مرکزی حیثیت دے دی ہے یا اسے بنیاد بنایاہے۔جب کہ اس کے تحت صرف آٹھ عددناول لئے گئے ہیں۔لندن کی ایک رات(سجاد ظہیر)،گریز اور جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں(عزیز احمد)،شکست،ایک گدھے کی سر گزشت،اور گدھے کی واپسی(کرشن چندر)اور ضدی اور ٹیڑھی لکیر(عصمت چغتائی)۔

اس میں شبہ نہیں کہ ترقی پسند تحریک اردو ادب کی سب سے طاقتور تحریک تھی جس نے ادب کی مختلف اصناف، موضوع اور اسالیب کو متاثر کیا۔ لیکن اس کے رد عمل کے طور پر جو جدیدیت کا رجحان سامنے آیااور جدیدیت کے نام سے ادبی تاریخ کا حصہ بن گیا،اسے کیوں کر فراموش کیا جا سکتاہے؟پھر مابعد جدیدیت جو جدیدیت کے خاتمے کا اعلان کر چکی ہے اور یہ کئی زاویے سے ترقی پسندی اور جدیدیت سے الگ بھی ہے ،اسے یہاں مو ضوع بحث بننے کا موقع ملنا چاہئے تھا۔

Authors
Authors

انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس جو لکھنئو میں ہوئی تھی ،اس کی صدارت منشی پریم چند کے کی تھی ۔انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں بہ انداز دیگر احساس دلایا تھا کہ مصنفین تو ترقی پسند ہوتے ہی ہیں۔حلقئہ ارباب ذوق کے قیام سے جدیدیت کا رجحان عام ہوا۔یہ ترقی پسند تحریک کی توسیع سے متعلق ہو یا اس کے مخالف لیکن آگے چل کر شمس الرحمٰن فاروقی اس کے قاید اور شب خون ،ترجمان بن کر ابھرے اور اس میں شبہ نہیں کہ اس نے دیر تک اور دور تک اپنے اثرات مرتب کئے۔

شمس الرحمٰن فاروقی نے ہر اس ادب کو جدیدیت تسلیم کیا جو بدلتے ہوئے وقت و حالات کے ساتھ اپنی افادیت اور اہمیت برقرار رکھ سکے۔اس کے علاوہ ترقی پسند تحریک اور جدیدیت سے متعلق اہم باتیں یہ بھی ہیں جو ان دونوں کے درمیان وجہ امتیاز بنیں۔ترقی پسند تحریک کی فکری اساس اشتراکیت تھی جب کہ جدیدیت کی فکری اساس وجودیت ۔اول الذکر کا بنیادی میلان اگر اجتماعیت ہے تو موخرالذکر کا انفرادیت ۔ترقی پسند ی خارجیت پسند ہے تو جدیدیت داخلیت پسند ۔ما بعد جدیدیت ہر چند کہ نہ کوئی فلسفہ ہے نہ نظریہ بلکہ اس کے قایدین و مبلغین اسے ایک کھلا ڈلا رویہ قرار دیتے ہیں۔اس کے باوجود پروفیسر وہاب اشرفی کا یہ خیال اہم ہے

مابعد جدیدیت ترقی پسندی اور جدیدیت یعنی خارجیت اور داخلیت کا ادغام چاہتی ہے۔اس کے رویے سے یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ انفرادیت اور اجتماعیت میں ربط معنوی کی جویاہے۔ مقامیت اور مرکزیت میں اتحاد ،یک جہتی اور ہم آہنگی کی موید ہے۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اس منہاج فکرو نظر پر اگر ابواب کا تعین ہوتا تو اس کا خاکہ کچھ یوں ہو سکتا تھا۔اردو ناول تشکیلی دور،اصلاحی تحریک ،ترقی پسند تحریک، جدیدیت اور مابعد جدیدیت۔اور ان تحریکات و رجحانات کے محرکات و عوامل پیش کئے جاتے تو طلبہ خصوصاً یونیورسٹی طلبہ کے لئے یہ کتاب مفید تر ہو سکتی تھی ۔شہاب ظفر اعظمی کا تعلق چونکہ اسے شعبئہ درس و تدریس سے ہے اس لئے وہ میری بات کو اوروں کے مقابلے میں بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

شہاب ظفر نے ”اردو ناو ل کے اسالیب”کے تحت تقریباًتمام ناولوں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ناول اپنے دروبست اور حجم و ضخامت میں دوسری صنفوں کی بہ نسبت زیادہ وسعت رکھتاہے۔کوئی افسانہ تو ایک نشست میں پڑھ لیا جا سکتا ہے لیکن کسی ناول کو ایک نشست میں پڑھ پانا ناممکن ہے۔اور جب تک گہرا اور سنجیدہ مطالعہ نہ ہو تب تک ناول کے کسی ایک فکری یا فنی پہلو پر بھی کچھ لکھنا آسان نہیں۔شہاب نے جن ناولوں کو اپنے مطالعے کا موضوع بنا یا ہے،ان کی فہرست طویل ہے۔

حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اتنے ناول پڑھے کیسے؟اور اس مطالعہ میں کتنا وقت صرف ہوا؟ترقی پسند اردو ناول کے اسالیب پر روشنی ڈالنے سے قبل انہوں نے اس کتاب کے دوسرے باب میں نذیر احمد سے مہدی تسکین تک ستائیس ناول نگاروں کے تقریباًچالیس ناولوں کا مطالعہ پیش کیا ہے اور تیسرے باب میں عزیز احمد سے شاہد اختر تک تینتالیس ناول نگاروں کے ناولوں کو مو ضوع ِمطالعہ قرار دیا ہے۔جب کہ بعض ناول نگاروں کے کئی کئی ناول زیر مطالعہ آئے ہیں۔مثلاً جمیلہ ہاشمی کے ناول تلاش بہاراں اور چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو،قاضی عبدالستار کے ناول داراشکوہ اور خالد بن ولید،انتظارحسین کے ناول بستی اور تذکرہ، جوگندر پال کے ناول نادید اور خواب رو،عبدالصمد کے چار ناول۔

دوگززمین،مہاتما،مہاساگر اور دھمک،حسین الحق کے ناول فرات اور بولو مت چپ رہو،شموئل احمد کے ناول ندی اور مہاماری ،مشرف عالم ذوقی کے تین ناول ،بیان،پوکے مان کی دنیااور پروفیسر ایس کی عجیب داستان۔اقبال مجید کے ناول کسی دن اور نمک،غضنفر کے تین ناول دویہ بانی ،فسوں اور وش منتھن وغیرہ۔ظاہر ہے کہ اتنا وسیع مطالعہ کئی برسوں میں پورا ہوا ہوگا۔ویسے اسلوب کے مطالعے سے متعلق اپنی دلچسپیوں کا اظہارکر تے ہوئے شہاب ظفر اعظمی نے لکھاہے:

”گزشتہ کئی برسوں سے میری دلچسپی اور ادبی مطالعے کا موضوع اسلوب رہا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ میرے خیال میں وہ بات جو ادب کو غیر ادب سے ممتاز کرتی ہے،منجملہ دوسری باتوں کے بڑ ی حد تک وہ مخصوص پیریئہ ادا یا اسلوب بیان ہے جو کسی مصنف نے اپنی تخلیق کے لئے اختیار کیا ۔”(ص ٢٠)
ظاہر ہے کہ اپنی افتاد طبع ،مزاج و میلان اور ذوق وشوق کی بنا پر شہاب نے ناولوں کے اسالیب کو اپنی تنقید کو موضوع بنایا ہے اور اس میں اچھا خاصا وقت صرف کیا ہے۔

انہوں نے اسلوب سے متعلق مروج تصورات و نظریات سے اہم حوالے بھی نقل کئے ہیں اور ان حوالوں کی مدد سے اسلوب کے مفہوم کی وضاحت کی ہے۔اسلوب کی قسمیں بھی ہوتی ہیںچنانچہ انہوں نے دو قسموں کو ہی لائق اعتنا تصور کیا ہے، وضاحتی اسلوبیات (Descriptive stylistics) اور تاریخی اسلوبیات(Historical stylistics) ۔شہاب نے اس مطالعے میں بیشتر سروکار تاریخی اسلوبیات سے رکھاہے۔چنانچہ انہوں نے ناولوں کے سیاق و سباق اور پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔ مثلاً ڈپٹی نذیر احمد کی ناول نگاری کے سلسلے میں لکھتے ہیں: ”نذیر احمد کے تمام ناول اس زمانے کی مختلف سماجی حقیقتوں کو پیش کرتے ہیںاور اس زمانے کے سماجی و مذہبی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے اصلاح و ترغیب کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔”(ص٦٩)

افسانوی ادب میں کوئی نہ کوئی قصہ ہوتاہے جو اس کے کرداروں کے اعمال و افعال اور ان سے متعلق واقعات و واردات اور مسائل حیات و کائنات سے ترتیب پاتاہے۔ظاہر ہے کہ یہ کردار خلا میں نہیں رہتے ،کسی نہ کسی جغرافیائی خطے سے ان کا تعلق ہوتا ہے۔اس جغرافیائی خطے کی تہذیب و ثقافت بھی ہوتی ہے اور اس کا لسانی نظام بھی ہوتا ہے۔مصنف کردار کی علاقائی ،سماجی ،تہذیبی ،معاشی حیثیت کے پیش نظر قصہ ُبنتا ہے اور کرداروں کی زبان سے جو مکالمے ادا کراتا ہے ،اس میں ان کے لسانی رویے کو نظر انداز نہیں کرتا لیکن جہاں وہ راوی کی حیثیت سے اپنا بیان درج کراتا ہے وہاں اپنا لسانی معیار ،لفظیاتی نظام یا اپنا مخصوص اسلوب بر تتا ہے۔اس طرح وہ اسلوب کی سطح پر دوہری ذمہ داریاں نبھاتا ہے

چونکہ کردار مختلف صنفوں اور لسانی سطحوں کے ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں اور ان کرداروں کے منہ میں ناو ل نگار اپنی زبان نہیں ڈال سکتا بلکہ اپنے قلم کی زبان سے ان کی ہی کرداروں کے الفاظ و محاورات اور لہجے میں بولتا ہے،اس لئے کسی ناول کے اسلوب میں یکسانیت کا فقدان عام اور فطری ہوتاہے لیکن یہ اسلوب کی ناہمواری نہیں بلکہ اس کا تنوع ،رنگارنگی اور بو قلمونی ہوتی ہے۔اس کی روشن مثال اردو کے پہلے ناول

نگار ڈپٹی نذیر احمد کے یہاں بھی ملتی ہے۔شہاب معترف ہیں کہ : ”عورتوں کی گفتگو ،ان کے احوال و کوائف کے بیان میں نذیر احمد نے نسوانی انداز تکلم ،طرز گفتگو ،الفاظ و محاورات اور روزمرہ پر کامل دسترس کا ثبوت دیا ہے۔”(ص ٧٦) لیکن شہاب کی زبان میں نصوح کا درج ذیل قول ناہمواری کی نذر ہو گیا ہے:”افسوس کتنی دولت خداداد اس بے ہودہ نمائش اور تکلف و آرائش میں ضائع کی گئی ہے،کیا ہی اچھا ہوتا یہ روپیہ محتاجوں کی امداد اور غریبوں کی کاربراری میں صرف ہوتا۔”(ص٧٦)

اس اقتباس پر شہاب کا تنقیدی ردعمل توجہ طلب ہے: ” عبارت میں زور اور بہائو بے شک ہے لیکن وہ روانی نہیں جو عورتوں کی گفتگو یا ان کے بیان میں پائی جاتی ہے۔ہاں اتنا کہا جاسکتاہے کہ عربی فارسی الفاظ کی بہتات دہلی کی ٹکسالی زبان ،محاوروں اور عوامی کہاوتوں میں چھپ کر زیادہ گراں نہیں گزرتی۔”(ص٧٦) شہاب کے اعتراض کا انداز واسلوب بہت ہی سنجیدہ ،دھیمااور سلجھا ہواہے۔

وہ کھلے لفظوں میں اعتراض نہیں کرتے بلکہ اشارے کنایے میں یا بالواسطہ طورپر اعتراض جتاتے ہیں۔یہی اندازو اسلوب دوسرے ناولوں کے تجزیے میں بھی دکھائی دیتاہے۔مشرف عالم ذوقی کے ناول ”پروفیسر ایس کی عجیب داستان”کے محاکمے میں لکھتے ہیں: ”طوالت ،Documentationاور ذاتیات سے ہٹ کر دیکھا جائے تویہ ذوقی کا ایک اہم ناول ہے۔اس میں عصری تقاضے اور حقائق ہیں اور زبان ،اسلوب اور فکر کا وہ جادو ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔”(ص٣٠٧) ظاہر ہے کہ جس پہلو پر یا جن پہلوئوں پر شہاب معترض ہیں،وہاں انہوں نے اشارے کنایے میں اپنی بات رکھی ہے اور بڑی تیزی سے آگے نکل گئے ہیں۔

Book
Book

لیکن جو پہلو ان کے نزدیک قابل تعریف تھاوہاں وہ ٹھہر ٹھہر سے گئے ہیں۔ان کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ ایک ٹیچر کی حیثیت سے جب میں اس کتاب پر نظر ڈالتاہوں تو طلبہ کے لئے خاص طور سے یونیورسٹی طلبہ کے لئے اسے بہت ہی مفید پاتاہوں لیکن ایک کمی پھر بھی کھٹکتی ہے۔اگر ہر ناول کے قصے کا خلاصہ مختصر طور پر بیان کر دیا جاتاتو یہ کتاب مفید تر ہوگئی ہوتی ۔لیکن شہاب نے جس زاویے سے ناولوں کی مطالعہ پیش کیاہے ،وہ ان کے مخصوص دائرئہ کار سے متعلق ہے اور اس دائرئہ کار میں وہ کامیاب و کامران نظر آتے ہیں

تحریر:ڈاکٹر منظر اعجاز

Share this:
Tags:
successful teacher university words الفاظ ٹیچر کامیاب کتاب متعلق یونیورسٹی
Peshawar
Previous Post پشاور: اے این پی کے مقامی رہنما قتل
Next Post سندھ بھر میں اسکول وین میں ایل پی جی کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی
School Van

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close