کراچی : اربن ڈیمو کریٹک فرنٹ (UDF)کے بانی وچیئرمین ناہید حسین نے کہا ہے کہ کراچی شہربیروت کو پیچھے چھوڑ چکاہے کیونکہ اب کراچی کے مقابلے میں بیروت شانت ہو چکا ہے کچھ ممالک نے ایک طویل عرصے سے پاکستان خصوصاً کراچی، کوئٹہ اور پشاور کو اپنا دنگل بنا رکھا ہے کیونکہ پاکستان میں کرائے کے قاتل وافر مقدار میں مل جاتے ہیں ایک لابی کسی کو کافر قرار دے کر قتل کراتی ہے تو دوسری لابی قتل کئے گئے مقتولین کابدلہ لینے کے عوض معاوضہ دیتی ہے یعنی حرف عام میں اسے مرغے لڑانا کہا جاتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا پر سن سے کئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب سے گینگ وار سیاستدانوں نے اپنے مبارک قدم ایوانِ اقتدار میں رکھے اس وقت سے پورا ملک میں دہشت گردی اور امن وامان کے عذاب میں مبتلا ہے خاص طور پر شہر کراچی کی حالت زار ابتر ہو چکی ہے جس شہر کراچی کو ترقی یافتہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا تھا آج اس شہر کو موجودہ خود ساختہ جمہوریت نے تاراج کر دیا ہے آج اس شہر میں بھتہ مافیا، اسٹریٹ کرائم اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں پراسرار طور پر اضافہ ہو گیا ہے قتل وغارت گری اور خونہ ریزی سے بھرپور وارداتیں اب شہر کراچی والوں کی تقدیر بن چکی ہیں۔
جس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی اداکاروں نے اس شہر کونشانِ عبرت بنا دیا ہے ناہید حسین نے مزید کہا کہ کمزور، بزدل اور اپنا بھرم رکھنے والے وہ ممالک جو امریکہ کی نظروں میں خود کو معتبر بھی رکھنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ، وہ اس سے بدلہ بھی لینا چاہتے ہیں لہٰذا انہوں نے مختلف کالعدم تنظیموں کو پاکستان میں فعال رکھاہے روپیہ اور اسلحہ وہیں سے مختلف انداز میں فراہم کیا جاتا ہے جیساکہ تحریک طالبان پاکستان یا پھررا، موساد، سی آئی اے اور انتہا پسندوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے اس قسم کی خدمات جرائم پیشہ بھی انجام دیتے ہیں جس کے نظارے حالیہ دنوں میں کراچی میں دیکھے جارہے ہیں۔
یعنی ایک سنی، ایک اہل تشیع، ایک مہاجر، کچھ پشتوں بولنے والے، کچھ سندھ سے تعلق رکھنے والے اور انہی میں بلوچ بھی شامل ہیں اس سے اندازہ ہوتاہے کہ شہر کراچی کوبیک وقت کئی غیر ملکی دشمن قوتوں نے گھیر لیا ہے جو وقفے وقفے یا پھر تو اتر کے ساتھ خونی وارداتیں کراتے ہیں اور پل بھر میں غائب اور نامعلوم ہوجاتے ہیں انہوں نے کہاکہ پوری دنیامیں جہاد کا ٹھیکہ لینے والوں نے آج خود ہمارے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے فلسطین کے لئے لڑنے ،مرنے والے خود خاموش ہیں جبکہ عوام چارہ بن چکے ہیں ۔ہم نے معاشی ترقی کی طرف کبھی توجہ نہیں دی بس سب چھوڑ چھاڑ کر زمانہ قدیم کی طرح جہاد کے لئے ہتھیار اٹھا لیا ہے اوریہ ہتھیار کسی کافر کے لئے نہیں صرف اور صرف اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لئے ہے۔
جسے تنگ نظری کی بناء پرمحض اس لئے قتل کر دیا جاتا ہے کہ مقتول قاتلوں سے نظریاتی اختلاف رکھتا تھا انہوں نے کہا کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟؟اسلام نے کبھی ایسی فرسودہ اور گھٹیا تعلیمات نہیں دیں چار لفظ پڑھ کر اپنے علاوہ دوسروں کودائرے اسلام سے خارج قرار دے کرانہیں قتل کردیناسب سے بڑی جہالت ہے مگر آج ہمارا ملک بڑی تیزی سے زمانہ قدیم کی فرسودہ روایات بنتا جا رہا ہے۔ ناہید حسین نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ موجودہ دورمیں اصل جنگ صرف غربت کے خلاف لڑی جاتی ہے جبکہ ہم پیسوں کے عوض اس جنگ کوخود اپنی خوشحالی کے خلاف لڑرہے ہیں خطے میں ہم سے زیادہ بیوقوف قوم کوئی اور نہیں ہوسکتی جو اپنے پائوں پرآپ کلہاڑی مارنے کی ماہرہو انہوں نے آخر میں کہاکہ ایسی صورت میں بھارت کو یا پھر کسی ملک کو ہم پر حملہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہم خود ان کا منصوبہ اپنی نادانی کی وجہ سے پورا کر رہے ہیں۔
