Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اردو کا معمار افسانہ نگار سعادت حسین منٹو

January 17, 2015 0 1 min read
Saadat Hassan Manto
Saadat Hassan Manto
Saadat Hassan Manto

تحریر : اختر سردار چودھری
سعادت حسین منٹو 11 مئی 1912 کو سمبرالہ (ضلع لدھیانہ) میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام غلام حسن تھا ۔ذات کشمیری ،امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں سے تعلق تھا ابتدائی تعلیم گھر میں شروع ہوئی ،انتہائی نالائق سعادت حسین کو پیار سے ٹامی کہ کر بلایا جاتا تھا ۔آخر 1921 کو اسے جماعت چہارم میں براہ راست داخل کروایا گیا ۔وہاں بھی اس کا شمار نالائق طالب علموں میں ہوتا تھا رینگتے رینگتے میٹرک میں تو سعادت حسین پہنچ گئے مگر میٹرک میں فیل ہو گئے ۔میٹرک میں وہ تین بار فیل ہوئے ،کسے علم تھا کہ یہ اردو میں فیل ہونے والا اردو ادب کا نامور لکھاری بن جائے گا۔ میٹرک سعادت حسین منٹو نے 1931 میں پاس کیا ۔اس کے بعد ہندو سبھا کالج میں داخلہ لیا پھر اسے چھوڑ کر ایم او کالج میں داخلہ لے لیا ۔ان کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے ان معاشی تنگ دستی کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔اس کے پاس کوئی ڈگری نہ تھی اس کا اعتراف وہ خود بھی کرتا ہے ۔ لیکن دنیائے ادب میں اس کا نام اردو کے معمار افسانہ نگار کے طور پر ہوتا ہے ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے ادب و صحافت ،علم و عمل کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ڈگری اور چیز ہے علم کا ہونا اور چیز ہے ۔اسے بجا طور پر بیسویں صدی کا سب سے متنازع ،بدنام اور مشہور ترین افسانہ نویس کہا جا سکتا ہے ۔اس کا قلم جسے معاشرے کا نشتر کہا جاتا ہے ۔منٹو نے اس معاشرے کے پسے ہوئے طبقے ،طوائفوں ،دلالوں اور تقسیم زر کی غیر منصفانہ تقسیم ،معاشرے میں غرباء کے حقوق کی پامالی ،پر کھل کر لکھا ۔ سعادت حسین منٹو نے ان کے بارے میں ہی لکھاجن لوگوں میں وہ رہتا تھا ،ہمارے معاشرے میں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ہیں ،ان کے بارے میں اس نے بناں لگی لپٹی رکھے لکھا ،جو دیکھا ،سمجھا ،سنا اسے سچ سچ بیان کر دیا ۔ایک بات اس کے بارے میں کہی جا سکتی ہے کہ وہ منافق نہیں تھا۔

ہاں شراب نوش تھا اور بلا کا شراب نوش تھا اسی شراب نوشی نے اس کی جان لی یا موت کاسبب بنی (ویسے موت تو اٹل ہے) ۔انہوں نے انسانی نفسیات کو مد نظر رکھ کر افسانے لکھے جن میں انسان کے ،قول و فعل کے تضادات کو کھل کر بیان کیا۔اب تک سعادت حسین منٹو پر سینکڑوں مضامین ،اداریے ،کالم لکھے جا چکے ہیں ۔اور ان کے کئی افسانوں کے مجموعے ،خاکے ،مضامین ،ڈرامے اب تک شائع ہو چکے ہیں ۔ان کو اس جہاں سے کوچ کیے ساٹھ سال گزر گئے ہیں لیکن ان کے افسانے آج بھی ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں ۔ا ن کے افسانے ہندوستان کے رسائل و اخبارات میں شائع ہو رہے تھے لیکن اچھا ،اعلی ،اونچے درجے کا افسانہ نگار بد حالی کا شکار تھا ،مالی پریشانی کا شکار وہ پوری زندگی رہے ۔ان دنوں نذیر احمد نے ان کو “مصور “میں 40 روپے ماہوار پر ملازمت دی اس کے بعد وہ “دی امپریل فلم کمپنی” میں بطور منشی (مکالمہ نگار) کے نوکری کی جب 1948 کو ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اس سے پہلے انڈیا کی فلم انڈسٹری میں ان کا ایک نام بن چکا تھا ۔لیکن وطن سے محبت ان کو پاکستان لے آئی ۔ یہاں بھی غربت نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا ،اسی وجہ سے ان کے افسانوں میں زہر زیادہ ہے اس معاشرے کا زہر ۔ہجرت کے بعد یہاں نیا ملک ،نئی دنیا ،نئے لوگ ،نئے مکان میں منٹو نے نئی زندگی شروع کی تو اس کے جو نئے پڑوسی تھے ان میں معراج خالد جو بعد میں تھوڑے عرصے کے لیے وزیر اعظم بھی بنے ، مستنسر حسین تارڑ (جو اس وقت بچے تھے )جو بعد میں پاکستان کے نامور ادیب بنے اور اب بھی ہیں ،سعادت حسین منٹو کے کزن حامد جلال جو کہ ایک صحافی تھے ،ایک پروفیسر صاحب تھے ان کے پڑوسی مطلب یہاں بھی ان کو ایسا محلہ ملا جہاں علم و ادب سے لگا ئو رکھنے والے موجود تھے۔

تقسیم ہندوستان کے وقت ہونے والے مظالم کو سامنے رکھتے ہوئے ۔انہوں نے ” کھول دو ” نامی افسانہ لکھا جس نے ان پر مشکلات کے دروازے کھول دئیے ۔اس کے بعد جب ان کا افسانہ ” ٹھنڈا گوشت “اخبارات و رسائل میں چھپا تو ان کے خلاف باقاعدہ طور پر ایک گروپ وجود میں آیا جنہوں نے ان کے خلاف مہم چلائی جس کا منٹو کو فائدہ یہ ہوا کہ وہ مشہور ہوئے اور نقصان یہ کہ وہ بدنام ہوئے ۔ان پر رسائل اخبارات کے دروازے بند ہونے لگے ۔اس کے بعد انہوں نے اخبار مشرق پاکستان میں کالم لکھنا شروع کیا جس میں انہوں نے اپنے دور کے مشہور شخصیات کے خاکے لکھے جو بعد میں “گنجے فرشتے “کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئے یہ جو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف جنسی نفسیات پر زیادہ لکھا یہ بات غلط ہے دراصل ان کے ایسے افسانوں پر اعتراضات ہوئے جیسا کہ بتایا گیا ہے مقدمات ہوئے ،جس وجہ سے وہ ان افسانوں کی وجہ سے بدنام ہوئے اور یہ ہی افسانے مشہور ہوئے بو ،کالی شلوار ،دھواں ،ٹھنڈا گوشت،ہتک ،بلائو زر، ،وغیرہ حقیقت میں انہوں نے زیادہ ترمعاشرے کے بارے میں لکھا ،غربت ،افلاس،مزدوری ،سیاست ،معاشرتی بگاڑ ،نا انصافی ،اور بکھرتے انسانی رشتوں کے بارے میں بھی لکھا ۔جو ان کو صرف جنسی نفسیات کا لکھاری کہتے ہیں انہوں نے سعادت حسین منٹو کا پڑھا ہی نہیں ہے۔

Saadat Hassan Manto
Saadat Hassan Manto

ان کو چاہیے کہ وہ ان کے درج ذیل افسانے پڑھیں مثلا ،سو کنڈل پاور کا بلب ،جانکی ،ڈرپوک ،رام کھلاون ،خالی بوتلیں خالی ڈبے ،سڑک کنارے ،نیا قانون ،پری ،نطفہ،صاحب کرامات،ساڑھے تین آنے ،خورشٹ ،موتری ،شادی ،وہ لڑکی ،محمودہ ۔ان کے یہ افسانے افسانوی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہیں ۔کیا انہوں نے صرف جنس زدہ ،عریاں ،فحش ،غیر اخلاقی لکھا تھا ان کو ان کے ان افسانوں پر بھی نظر ڈال لینی چاہیے ،ممی ،سہائے،شاردا،شاہ دولے کا چوہا،سرمہ ،ممد بھائی ،موذیل وغیرہ
وہ خود ہی کہتے تھے(مختصر) کہ میرے افسانوں سے جو فحش ختم کرنا چاہتے ہیں ان کو معاشرے سے فحش ختم کرنا چاہیے جو ایسے افسانوں کا باعث بن رہا ہے ۔ان اسباب کو ختم کریں جو معاشرے کو اس راہ کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔میرے افسانوں میں جو برائیاں ہیں وہ اس معاشرے کی برائیاں ہیں یہ اس عہد کا تعفن ہے ،افسانہ نگار اس وقت قلم اٹھاتا ہے جب اس کے جذبات کو صدمہ پہنچے ۔اس لیے معاشرے سے ان برائیوں کو ختم کریں نا کہ اس کو جو ان کی نشان دہی کر رہا ہے ۔طبقاتی اونچ نیچ ،مکار و مجبور ،ظالم و مظلوم ،رحمدل اور سنگدل یہ دو طرح کے لوگ اس معاشرے کا حصہ ہیں ان میں سعادت حسین منٹو نے سب سے زیادہ اس طبقے کے بارے میں لکھا جو ظلم تو سہتا ہے مگر بغاوت نہیں کرتا ایسا اس لیے نہیں کر سکتا کہ وہ مجبور و لاچار ہوتا ہے ۔لیکن منٹو نے خود اس معاشرے سے بغاوت کی اور ایسی کہانیاں لکھیں

انہوں نے اپنے افسانوں سے شہرت ،ذلت رسوائی خوب کمائی کئی بار ان پر مقدمات ہوئے مگر ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ اس معاشرے میں ہو رہا ہے میں اسے اپنے افسانوں میں پیش کر رہا ہوں اگر میرے افسانے گھنائو نے ہیں تو جس معاشرے میں ہم تم رہتے ہیں وہ گھنائو نا ہے اپنی غربت کی وجہ سے انہوں نے کئی مرتبہ خود کشی کی بھی کوشش کی پھر ہر بار والدہ کا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم جاتا جو ضعیف تھیں اور بیمار بھی سعادت حسین منٹو اسے مزید دکھ نہیں دینا چاہتا تھا ۔سعادت حسین منٹو پہلے ہی فاقوں سے لڑ رہا تھا لیکن 1950 کے بعد ان پر زوال کا دور آیا ان کی طبعیت بھی خراب رہنے لگی چہرے پر زردی ،آنکھوں کے گرد حلقے ،بالوں میں سفیدی ،کمزور جسم اور پھر سستی شراب نے ان کا جگر خراب کر دیا ۔اور آخر کار افسانے سنانے والا خو دافسانہ بن گیا ،ایک مجبور ،لاچار ،فاقہ زدہ،دشمنوں میں گھر ا ،تنہا ،قرض خواہ ، سردیوں کی ایک صبح 18 جنوری کو اس جہاں فانی سے کوچ کر گیا ۔اپنی 43 سالہ زندگی میں انہوں نے 250 سے زائد افسانے لکھے ۔زندگی کے آخری افسانوں میں ،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،اس منجھدار میں ،موذیل ،بابو گوپی ناتھ ،نے بہت شہرت پائی ۔ حکومت پاکستان نے اس کے مرنے کے بعد اس کی 50 ویں برسی پر 5 روپے والی پوسٹل اسٹیمپ جاری کی جس پر سعادت حسین منٹو کی تصویر تھی۔

وہ زندہ تھا تو اس کو گالیاں دی جاتیں تھیں کہا جاتا تھا کہ وہ بے دین ہے ،انقلابی ہے ،ترقی پسند ہے ،جنس زدہ ہے ،وہ اس معاشرے کے سچ بیان کرتا رہا ،گالیاں کھاتا رہا ،فاقے کرتا رہا اس کے مرنے کے بعد اس کے اس طرح مفلسی کی موت مرنے پر بہت افسوس کیا گیا ،کالم لکھے گئے اسے اردو ادب کا معمار کہا گیا اس کی موت پر نوحے لکھے گئے اس کے سچ بولنے کی داد دی گئی اور جب وہ اپنے قلم کے نشتر سے اس معاشری کی جراحی کر رہا تھا تو اس پر مقدمات کیے گئے ،اس کا لکھا کہیں چھپنے نا پائے پابندی لگائی گئی ،اس کو اتنا پریشان کیا گیا کہ وہ خود کشی کا سوچتا رہا ۔اس کے بعض افسانے ایسے ہیں جن میں انسانیت تڑپ اٹھتی ہے یار لوگو نے ان کو لذت کے لیے پڑھا آج بھی اس کا افسانہ کھول دو پڑھیں اور آخری سطروں میں دیکھیں کیسے انسانیت کے منہ پر طمائچہ ہے ۔میں سوچتا ہوں اس نے ایسے بہت سے سچ کس ہمت سے یا سنگدلی سے لکھے ہوں گئے کس کرب سے وہ گزرا ہو گا ۔اور اس کے بعد جو اس کے ساتھ رویہ رکھا گیا وہ کتنا سفاک تھا ۔منٹو نے اس وقت اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کے ناسور کو بیان کیا آج وہ ہمارے سامنے عیاں ہو چکا ہے اب تو اس کو برائی نہیں تفریح سمجھا جاتا ہے ۔منٹو ایسا مستقبل کا آئینہ دیکھانے والا صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے اور بیسویں صدی کاوہ سب سے عظیم لکھاری تھا جو اندھوں کے شہر میں آئینے بیچتا رہا۔

Muhammad Akhtar Sardar
Muhammad Akhtar Sardar

تحریر : اختر سردار چودھری

Share this:
Tags:
architect District kashmir metric Urdu writer اردو افسانہ ضلع کشمیری معمار میٹرک
Electronic Media
Previous Post پاکستانی قومیت کا مقدمہ (قسط اول )
Next Post فٹ بال ٹورنامنٹ میں رحیم محمڈن شاہ فیصل ٹائون نے لعل اسپورٹس ڈالمیا کو ٹھکانے لگا دیا
Football Tournament

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close