Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اردو ادب میں حقیقت نگاری (Realism)

October 9, 2017 0 1 min read
Urdu literature
Urdu literature
Urdu literature

تحریر : سلیم سرمد
حقیقت نگاری (Realism) کی تحریک انیسویں صدی عیسوی میں فرانس میں شروع ہوئی۔جس نے نا صرف مغربی ادب کو متاثر کیا بلکہ مشرقی ادب( اردوادب)پر بھی اس نے اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔حقیقت نگاری سے مراد کسی شے یاحالات و واقعات کو اس کے حقیقی خدو خال کے ساتھ پیش کرنا یا ظاہر کرنا۔یعنی ادب میں حقائق کو قارئین یا ناظرین کے سامنے اس طرح پیش کرناجیسے کہ وہ درحقیقت وقوع ہوتے ہیں، خواہ وہ حقائق کتنے ہی تلخ اور ناگوار کیوں نہ ہوں۔حقیقت نگاری کی ابتداء تو فرانس سے ہوئی مگر اس کا باضابطہ آغاز کس مصنف نے کیا اس بارے میں محققین کسی ایک نام پر متفق نہیں ۔معروف محقق ڈاکٹر شکیل پتافی اپنی کتاب ” اردو ادب اور مغربی رجحانات”میں لکھتے ہیں کہ حقیقت نگاری کی ابتداء شان فلیوری کی تحریروں سے شروع ہوئی ۔ اس کی قابلِ ذکر تصنیف “Violon Defaience”،1862ء میں شائع ہوئی مگر فرانس میں یہ تحریک بہت جلد فطرت نگاری کی تحریک میں ضم ہو گئی اور مگر شان فلیوری کا بطور مصنف مرتبہ اتنا اونچا نہیں بتایا گیا۔ اسی لیے حقیقت نگاری کے بانی انیسویں صدی عیسوی کے عظیم فرانسیسی ناول نگار فلابیر 1881_1821)ئ(کو مانا گیا۔فلابیر کے شرئہ آفاق ناول” مادام بواری” کی اشاعت 1858ء کے بعد فلابیر کو حقیقت نگاری کا مفسرِ خاص مانا گیا۔

ارشد عزیز اور دیگر محققین کے مطابق حقیقت نگاری کی ابتدائHondre Blazerکے ہاتھوں 1850ء کے آس پاس فرانس میں ہوئی۔اُس نے پہلی بار ادب کی تاریخ میں اپنے ناول “Lacomedie Humaine”کے ذریعے فرانس کی سماجی زندگی کاحقیقی عکس پیش کیا۔اس کے بعد اُس کی روایت سے متاثر ہو کر بہت سارے مصنفوں اور ناول نگاروں نے اس روایت کو مضبوط کیا۔جن میں Gustava Flaubert، Feredick Angles، Eric Rohiner، Charles Dickens، اور Emile Zola وغیرہ کا نام قابلِ ذکر ہیں۔Charles Dickens نے اپنے نالوں میں غریبوں’ محتاجوں اورلاچاروں پر سرمایہ دارانہ’ استعماری قوتوں ‘ اور مقتدر و مسلط طبقے کی طرف سے کیے گئے مظالم اور استحصال کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا۔مغرب میں یہ دور چونکہ صنعتی انقلابی دور تھا لہٰذہ اس کے علاوہ بھی انھوں نے اپنی تحریروں میں صنعتی انقلاب سے پیدا ہونیوالی بیروزگاری اور لاچاری کو دلدوز انداز میں بیان کیا۔اُن کے ناول”David Copperfield”کا مرکزی کردار پورے دن کام کرتارہتا ہے لیکن اسے اس کے کام کی اجرت بہت ہی کم دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نجانے دن میں کتنی بار اسے جسمانی سزا دی جاتی ہے ،مارا پیٹا جاتا ہے۔

مذکورہ بالا ناموں کے علاوہ دیگر مصنفین نے بھی اپنی تحریوں کے ذریعے حقیقت نگاری کو بامِ عروج تک پہنچایاجن کے نام مضمون کی طوالت سے بچتے ہوئے نہیں لکھے جا رہے البتہ ان میں سے کچھ نام یہ ہیں۔ ”ولیم بلیک”جن کی شاعری حقیقت نگاری کے اجزاء پائے جاتے ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری کو بطور آلہ کے استعمال کرتے ہوئے سماجی خرافات ‘ اور مذہبی پادریوں کے کیے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز اُٹھائی ، اس حوالے سے اُن کی نظمیں کافی مشہور ہیں۔معروف مصنف” موپساں ” اور Gerrge Eliaot کا کردار بھی حقیقت نگاری کے حوالے سے کلیدی مانا جاتا ہے۔ ان دونوں نے خاص طور پر دیہی زندگی کو اجاگر کیااور اپنی تحریروں میں دکھایا کہ عورت کومحبت اور سماجی بندشوں کے نام پرکتنی مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مغرب میں حقیقت نگاری صرف شاعری اور ناول نگاری تک محدود نہ رہی بلکہ آرٹ کی دیگر جہتوں ڈرامہ اور فنِ مصوری میں بھی فروغ کا رجحان پایا۔یہ تو تھا حقیقت نگاری کا مغرب کے ساتھ تعلق اور تعارف۔مگر حقیقت نگاری کا باقاعدہ آغاز کس مصنف نے کیا اس بارے فیصلہ کرنا کچھ مشکل ہے۔

مشرق ( ہندوستان)چونکہ اس وقت مغربی قوتوں اور برطانوی تخت کے زیرِ تسلط تھااس لیے مغرب کے مشرق میں وارد ہونے والے دیگر رجحانات کی طرح ادب و ثقافت اور مغربی ادب کے اثرات بھی ہندوستانی سماج اور ادب پر پڑے۔مغربی ادب کے انگریزی سے اردو میںتراجم ہونے لگے۔اور اس لیے مغربی ادبی تحاریک اور رجحانات مثلاً ترقی پسند تحریک۔ وجودیت۔ ڈاڈازم۔سرئیلزم۔ فطرت نگاری۔ علامت نگاری اور حقیقت نگاری کے اثرات بھی ہندوستانی ادب( اردو ادب) پر بہت گہرے پڑے۔جہاں تک اُردو ادب میں حقیقت نگاری کا تعلق ہے تو یہاں بھی اسے نمودار کرنے کے حوالے سے محققین کسی ایک نام پرمتفق نہیں۔کچھ محقق اس کی رونمائی پریم چند کے قلم سے منسوب کرتے ہیں تو کچھ اس کی ابتداء سر سیّد احمد خان کے ہاتھوں سمجھتے ہیں۔

اردو ادب میں بعض محققین اوّلین حقیقیت نگاروں میں سر سیّد احمد خان کو قابلِ ذکر ٹھہراتے ہیں اور اُن کی تحریک علی گڑھ کو حقیقت نگاری کی اساس قرار دیتے ہیں۔چونکہ رومانی تحریک نے ادب اور شاعری کی دنیا میں جو انقلاب بپا کیا تھااُس نے زندگی کے مادی بوجھ سے کسی حد تک نجات حاصل کر کے آسمانی رفعتوں میں پرواز کا رجحان تو پیدا کیا، مگر حقیقت نگاری رومانی تحریک کے پہلو بہ پہلو بر عمل نظر آئی۔ایک لحاظ سے حقیقت نگاری رومانی تحریک کی ضد تھی اور بجائے قیاس اور تصوّر کے زندگی کو اس کے اصل رنگ و روپ میں پیش کرنے کی سعی میں نظر آ رہی تھی’ دراصل حقیقت نگاری کا جزوِ خاص ہی زندگی کو اس کے اصل رنگوں میں پیش کرنا ہے۔

اگر ہم پریم چند کے بجائے علی گڑھ کی تحریک کو حقیقت نگاری کی ابتداء سمجھیں تو اس کے لیے مندرجہ ذیل وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جس میں برصغیر کے مسلمانوں کے ذہنوں پر انتہائی قدامت پسندی کاغلبہ تھا۔معاشی تزلزل اور سیاسی ابتری نے مسلمانوں کو ذہنی امراض سے دو چار کردیا تھا۔وہ بد دل ہو کر روشن خیالی اور ترقی سے آنکھیں چرانے لگے تھے۔اس زمانے میں وہاںکی ادبی روایت بھی کچھ صحت مند بنیادوں پر استوار نہ تھی جس کی بدولت وہ صحت مند افکار کی تبلیغ وتشہیر سے قاصر تھی۔ان حالات میں سر سیّد احمد خان نے ادب کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی افادیت کو برتاجس کے نتیجے میں انہوں نے اردو ادب کو رومانیت کے تخیل و تصور کے بجائے حقیقت نگاری کا طرز دیا۔

مگر حقیقت نگاری کے حوالے سے جو پختہ اور صحت افزاء ادب پریم چند نے تخلیق کیا وہ یقینا اپنی مثال آپ ہے۔پریم چند سے پہلے اردو ادب کا محور رومانیت کے گرد گھومتا تھا مگرلیکن پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں گاؤں اور شہر کی زندگی کے حقیقی عکس پیش کیے۔ بطور حقیقت نگار پریم چند کی انفرادیت یہ کہ انہوں نے بجائے کسی ایک قوم،ذات ‘ فرقہ دھرم اور مذہب کے تمام انسانوں اور معاشرے سے جڑے ہر فرد اور تمام انسانوں کو در پیش مسائل اور سماجی برائیوں کی نشاندہی کی۔درحقیقت پریم چند نے دیہی معاشرے اور شہروں میں پھیلے صنعتی نظام کے تضاد اوراس عہد میںپھیلی سماجی برائیوں اور سیاسی، معاشی اورسماجی زندگی کے آشوب اور عوامی جدو جہد کو حقیقت پسندانہ ڈھنگ سے پیش کیا۔

اپنے کئی شہرئہ آفاق ناولوں اور افسانوں میں پریم چند نے دیہی زندگی کے بنیادی،سماجی مسائل کوموضوع بنایا اور جاگیردارانہ ، سرمایادارانہ نظام کے ظلم و ستم اور مذہب، دھرم اور ذات پات سے پیدا ہونے والے مسائل اور برائیوں کو حقیقت نگاری کا چولہ پہنا کر قارئین کے سامنے لے آئے۔پریم چند کے حقیقت نگاری کے رنگ میں ڈوبے کچھ شاہکار افسانے درج ذیل ہیں۔نمک کا داروغہ۔کفن۔ عید گاہ۔ دو بہنیں۔ پگلی۔ تصویرِ حسرت۔ تصویرِ خودداری۔دینداری۔ انسان کی قیمت۔غریبی کا انعام۔ وہ محبت کی پتلی۔انسان نما حیوان۔شطرنج کے کھلاڑی۔کفّارہ۔ منتر اور نجات قابلِ ذکر ہیں۔اس کے علاوہ پریم چند نے ہندوستان کی عورت کے دکھ درد اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے بیہمانہ سلوک کو اپنے نالوں اور افسانوں کا موضوع بنایا۔ پریم چند کے یہ ناول اورافسانے حقیقت نگاری کی عمدہ اور بے نظیر مثالیں ہیں۔

اردو ادب میں پریم چند کے علاوہ اور بھی کئی نام قابلِ ذکر ہیںجن کا حقیقت نگاری کے حوالے سے کردار اہمیت کا حامل ہے ان میں منٹو اور دیگر بھی کئی نام ہیں مگر منٹوکا نام حقیقت نگاری کے حوالے سے پریم چند کے بعد لیا جا سکتا ہے۔منٹو کے افسانوں میں بھی بہت سے ایسے کردار ملتے ہیں جو سماجی اور معاشی ناہمواریوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔منٹو کی تحریروں میں جہاں جنسی برائیوں کی نشاندہی کی گئی وہیں انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ بھی ملتا ہے۔منٹو کے ہاں بھی سماجی اورمعاشی ناہمواری کے اثرات، جنسی کوڑھ، مذہبی تفریق اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیمِ ہند کے دوران پیدا ہونے والے المیوں نے منٹو کو اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری کے انتہائی تلخ رنگ بھرنے پر مجبور کردیا۔

اُردو نثر کے علاوہ اُردوشاعری میں بھی بہت سے نام ایسے ہیںجو حقیقت نگاری سے جڑے ہو ئے ہیں ۔اس سلسلے میں نظیر اکبر آبادی کو محققین نے خاص اہمیت دی۔بقول نظیر صدیقی: ”اٹھارہویں صدی عیسوی میں نظیر اکبر آبادی حقیقت نگاری کی ایک مستثنیٰ مثال نظر آتے ہیں”)بحوالہ:اردو ادب اور مغربی رجحانات)۔ ڈاکٹر شکیل پتافی اپنی تحقیق” اردو ادب اور مغربی رجحانات ”میں لکھتے ہیں کہ: ”نظیر اکبر آبادی کے علی گڑھ تحریک کے شعراء کے علاوہ اقبال نے اردو ادب میں شاعری کو سچ بولنا سکھایااور اشعار کے پردوں میں کئی جیتے جاگتے پیکر تراشے جو اُردو ادب میں حقیقت نگاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔اقبال نے ایک عام آدمی کو شدید احساسِ کمتری سے نجات دلا کر اُس میں خود داری و خود اعتمادی اور خود شناسی کا جوہر پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ ساتھ ہی زندگی کے حقائق کو اس انداز میں پیش کیا کہ زندگی حقیقت بن کر اُبھر آئی۔اقبال کا یہ اقدام فرد کی انفرادیت کو منظرِ عام پر لانے کی ایک کاوش تھی” قارئین! حقیقت نگاری نے ناصرف قدیم ادب کو ترقی دیتے ہوئے معاشرے کی تعمیر کی دی بلکہ اس کی اہمیت کی حامل واضح مثالیں موجودہ ادب میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ در حقیقت ، حقیقت نگاری نے زندگی کے فلسفے کو سمجھنے میں آسانی فراہم کی ۔حقیقت نگاری نے اُن انسانی، اخلاقی قدروں کی پامالی کی طرف معاشرے کے فرد کی توجہ دلائی جن کے بارے میںعام طور پر فرد سنجیدہ نہ تھا،اور گردن تک سماجی برائیوں میں دھنسا ہوا تھا۔ بلاشبہ حقیقت نگاری ادب میں آئینہء خانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

Saleem Sarmad
Saleem Sarmad

تحریر : سلیم سرمد
Contact Number(03326209296)
Email Address:saleemsarmad418@gmail.com

Share this:
Tags:
book fact reality Saleem Sarmad Urdu literature اردو ادب حقائق کتاب
Kamalia
Previous Post کمالیہ کی خبریں 9/10/2017
Next Post پیرمحل کی خبریں 9/10/2017
Pir Mahal

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close