Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یوز اینڈ تھرو : تماشہ مستقل جاری ہے!

February 23, 2015February 23, 2015 0 1 min read
Recyclable Items
Recyclable Items
Recyclable Items

تحریر : محمد آصف اقبال
ایک زمانہ تھا جب چیزیں پائیدار ہوتی تھیں، نمائشی اور وقتی استعمال کا تصور عام نہ تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ اُس زمانہ کے افراد جو کچھ بھی کرتے ، اس میں بھی کہیں نہ کہیں پائیداری کا احساس ہوتاتھا۔یہ پائیداری استعمال میں آنے والی چیزوں ہی تک محدود نہ تھی بلکہ افکار و نظریات اورعملی ریوں میں بھی نظر آتی تھی۔مادیت اور کنزیومرزم نے یوز اینڈ تھرو کے نظریہ کو فروغ دیااور سرمایہ دار انہ نظام جب اِس نظریہ سے منسلک ہوا تو ایک نئی تہذیب وجود میں آئی۔اس کے باوجودپارتھا پراتم چکربرتی( Partha Pratim Chackraborti)جو آئی آئی ٹی کھرگپور کے ڈائیریکڑ ہیں ، کہتے ہیں کہ یوز اینڈ تھرو کلچر ہم ہندوستانیوں کا نہیں بلکہ مغرب کا ہے، ہمارا تصور ہے کہ چیزوں کی مرمت کی جائے اور انہیں استعمال کے لائق بنایا جائے۔چکربرتی صاحب کے جملے میں ایک پورے نظام کی منظر کشی ہوجاتی ہے،جہاں خاندان،معاشرہ، معاشرت، تمدن، سیاست اور وسائل زندگی سب شامل ہیں لیکن چونکہ یوز اینڈ تھرو کلچرمغرب کے علاوہ دیگرممالک میں اور ان ممالک میں بھی جو خود کو مخصوص فکر و نظراور تمدن کا حامل قرار دیتے ہیں ،زندگی کے مختلف شعبہ حیات میںبہت تیزی کے ساتھ اختیار کی جارہی ہے۔لہذا اس کے نتائج بھی ہمیں آئے دن خاندانی،معاشرتی،تمدنی اور سیاسی معاملات میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ایک ایسا ہی ڈرامہ حالیہ دنوں بہار کی سیاسی بساط پر سامنے آیا ۔جس میں جیتن رام مانجھی، نتیش کمار اور بی جے پی،تین بڑے کردار شامل تھے۔

1980کی دہائی میں سیاست سے وابستہ ہونے والے جیتن رام مانچھی پہلی مرتبہ کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر فتح پور،گیاڈسٹرکٹ سے اسمبلی میں کامیاب ہوئے اورچندر شیکھر سنگھ کی گورمنٹ میں ریاستی وزیر رہے۔1985میں دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی۔1980اور1990کے درمیان وزیر مملکت برائے ریاست بہار کی ذمہ داری انجام دی۔1990کی ناکامی کے بعد جنتا دل سے وابستہ ہوگئے۔1996میں جنتا دل تقسیم کے بعد،لالو پرساد یادو کی سربراہی میں نئی سیاسی پارٹی راشڑیہ جنتا دل کے ٹکٹ پر بہرائچ سے کامیاب ہوئے۔2005میں بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ کے اشتراک کے نتیجہ میں آر جے ڈی کو ریاست میں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ساتھ ہی جیتن رام مانجھی بھی آر جے ڈی کو چھوڑ کر جے ڈی یو(جنتا دل یونائیٹڈ) میں شامل ہو گئے نیز آر جے ڈی کی سمتا دیوی کو ہرا کر جے ڈی یو سے کامیابی حاصل کی۔1990میں بی ایڈ ڈگری گھوٹالے (Fake B.Ed. Degree raket)میں جیتن رام مانجھی کا نام سامنے آیا ۔2008میں نتیش کمار کی حکومت میں گھوٹالہ سے وہ بری ہو گئے۔20مئی 2014بہار کے23ویں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے اور گزشتہ چند ماہ سے بی جے پی میں دلچسپی اور نتیش کمار سے دوری کے بعد 20فروری2015وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ دیناپڑا۔6اکتوبر1944میں پیدا ہونے والے مشرقی بہار کے جیتن رام مانجھی کا تعلق مساہر کمیونٹی سے ہے۔بہار واطراف میں لگ بھگ 2.3ملین مساہر بستے ہیں، جن کی حالت انتہائی خستہ حال ہے ۔ان میں سے صرف5فیصد سے بھی کم افراد تعلیم یافتہ ہیں بقیہ مزدور پیشہ ہیں۔ چھوت چھات کے خلاف قانون سازی کے باوجود آج بھی مساہر کمیونٹی کے ساتھ ذلت آمیز سلوک روارکھاجاتا ہے۔ ذلت آمیز سلوک کا تذکرہ بحیثیت وزیر اعلیٰ خود مانجھی نے ایک تقریب کے موقع پر کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ضلع مدھوبنی میں پوجا کی رسومات کے لئے مجھے مدعو کیا گیا،بعض افراد نے خصوصی طور پر اس بات کی دعوت دی کہ میں تقریب کے موقع پر مندر میں مذہبی رسومات میں شریک ہوں ۔لیکن بعد میں بعض اعلیٰ قائدین نے مجھے بتایا کہ میرے واپس ہونے کے بعد پجاریوں نے مندر میں موجود دیوی ،دیوتاؤں کے بتو ں کو دھویا،کیونکہ میرا تعلق ایک نچلی ذات سے ہے مانجھی کے اس درد بھرے واقعہ میں ملک کی مذہبی و تمدنی صورتحال کو بھی باخوبی سمجھا جا سکتا ہے،جہاں طبقاتی کشمکش بڑے پیمانہ پر موجود ہے۔لیکن اگر جیتن رام مانجھی کی نجی زندگی اور سیاسی اتارچڑھائوپر ایک سرسری نگاہ ڈالی جائے تو یہاں خود ان کی زندگی میںبھی “یو ز اینڈ تھرو” باالفاظ دیگر ذاتی مفاد کے پیش نظر سیاسی وابستگیاں اور پھر فائدہ اٹھاکر مخصوص افراد و گروہ سے دوریاں پیدا کرنا،سامنے آتا ہے۔

اس کے باوجود دلت برادری کے مخصوص لیڈران میں ایک اور نام جیتن رام مانجھی کا جڑ گیا ہے۔پٹنہ کی سڑکوں پر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ رام ولاس پاسوان تو ایک کمیونٹی کے رہنما ہیں، لیکن مانجھی تمام دلتوں کے لیڈر بن گئے ہیں۔اب بی جے پی اس بدلتی صورتحال سے لازماًفائدہ اٹھانا چاہے گی۔دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایا وتی نے بی جے پی اور مرکز کی نریندر مودی حکومت پر اقتدار کے لیے بہار میں سیاسی انتشارپیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ایسے ہتھکنڈوں سے پورے ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔مودی حکومت ایک مہا دلت کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔اور اگر اُنہیں مظلوم سماج کی ذرا بھی فکر ہوتی تو وہ مرکزی حکومت کے مختلف سکریٹرئٹ، شعبہ جات اور مرکزی دفاتر میں ریزئوڈ اورخالی شدہ ملازمتوں کو بھرنے کی کوشش کرتے۔جبکہ معاملہ یہ ہے کہ اس تعلق سے کوئی مٹنگ یا اعلان تک نہیں کیا گیا ہے۔

India
India

ہندوستانی سماج بے شمار طبقات اور ذاتوں پر مشتمل سماج ہے۔ ان مختلف طبقات میں مساہر کون ہیں؟آئیے ایک سرسری نظر ان پر بھی ڈالتے چلیں۔موسا (چوہا) اور آہار(کھانا)کو ملانے سے مساہر کہلائے جاتے ہیں یعنی وہ گروہ ،افراد اور کمونٹی جو چوہے کھانے والی ہے۔یہ ایک ایسی پہچان ہے، جس سے وہ چھٹکارا پانا چاہتے ہیں، لیکن ان میں چوہے کھانا کا چلن آج بھی موجود ہے۔بہار میں تقریباً 30لاکھ مساہر ہیں،جوپوری ریاست میں بستے ہیں۔اس کے باوجود گیا ضلع میں ان کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ان کا رہن سہن بالکل ایسا ہی ہے جیسے طبیلے میں جانور رہتے ہوں،یعنی وسائل کے لحاظ سے حد درجہ پرشان حال زندگی۔عموماً یہ لوگ سوروں کے باڑے اور گائے کے بتھان کے قریب رہتے ہیں۔اس وجہ سے ان کے بچوں میں مختلف بیماریاں پیدا ہوجانا ایک عام بات ہے۔گزشتہ دنوں گیا کے ایک اسپتال میں چند ہی دنوں میں مہاماری کے دوران کئی درجن بچوں کی موت ہو گئی۔دوسری طرف اسپتال کے ذمہ داران بتاتے ہیںکہ ایسے بے شمار بچے تھے جنہیں علاج تک میسر نہیں آیا اور وہ چل بسے ۔معلوم ہوا کہ مساہر کمیونٹی تعلیم و روزگار کے علاوہ صحت عامہ کے مسائل سے بھی بری طرح نبرد آزما ہے۔ریاستی حکومت نے جہاں ایک طرف ان کی خستہ حالی کو سامنے رکھتے ہوئے “مہا دلت “کے زمرے میں رکھاہے،اس کے باوجود اُن کے مسائل کے لیے کوئی ٹھوس اقدام و منصوبہ نہیں ہے۔بودھ گیا شہر جہاں مہاتما بدھ کو بقول شخصے”خدائی علم “حاصل ہوا تھا،

سیکڑوںسر منڈائے جاپانی اور یوروپین سیاح بیٹھ کر غیر ملکی لاپسنگ سوچونگ اور ببل چائے کا مزہ لیتے نظر آتے ہیں۔ وہیں 15منٹ کے فاصلہ پر ،پراریہ گائوں ہے ،جہاں300گھروں والی آبادی میں 1200افراد رہتے ہیں۔گائوں میں مٹی سے بنی جھونپڑیوں تک پہنچنے کے لیے پانی اور کیچڑ سے گزرنا ہوتاہے۔ اورگائوں کے مہاسروں کو یادو و ٹھاکروں یا دیگر ذات کے لوگوں کے کھیتوں میں پورے دن کام کرنے کی صرف 15 روپے اجرت ملتی ہے ۔اور اگر وہ مرد نہیں عورت ہے، تو اسے بس تھوڑا سا اناج مل جاتا ہے، روپے نہیں ملتے۔یہ وہ ذلت آمیز اور جسم و روح کو حد درجہ تکلیف پہنچانے والی زندگی ہے،جو آزادملک کے 67سال مکمل ہونے کے باوجود،مسائل کا کوئی پختہ حل نہیں رکھتی۔شاید ان ہی جیسے معاملات پر ڈاکٹر گھُریے کا خیال ہے کہ انڈوآرین نسل کے آباء و اجداد عیسیٰ علیہ السلام کے پانچ ہزار سال قبل یورپ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں پھیلے۔

جب وہ ہندوستان میں آئے تو انہوں نے قبائلی ذاتوں سے بنے شودر ورن سے شادی کرنے پر روک لگائی اور ان کو آریوں کے مذہبی اور سماجی اعمال اختیار کرنے سے محروم کر دیا۔اس طرح انہوں نے علیحدہ طبقات اور ذاتوں کی تخلیق کی(شمبھو رتن ترپاٹھی:بھارتیہ سنسکرتی اور سماج،ص١٤٦)۔حجری کتبات میں بھی اس بات کے ٹھوس ثبوت ملتے ہیں کہ ورن ویوستھا بنائے رکھنا راجا کی ذمہ داری تھی۔قدیم سمرتی مصنفین میں منو نے راجا کے ذریعہ ورن ویوستھا بنائے رکھنے پر پورا زور دیا ہے۔ان کے مطابق حکومت اسی وقت تک ترقی کر سکتی ہے جب تک ورنوں کی پاکیزگی بنی رہتی ہے(رام شرن شرما:پراچین بھارت میں راجنیتک وچارایوم سنستھائیں،ص٧٦)۔آج پھر ورن ویوستھا کے علمبردار نہ صرف برسر اقتدار ہیں بلکہ اپنے موقف پر مضبوطی سے جمے ہوئے بھی نظر آتے ہیں ۔وہیں دوسری طرف اسی ویوستھا سے وابستہ افراد کو یوز اینڈ تھرو کے فارمولہ پر استعمال کرنے کا کھیل بھی جاری ہے۔اس سب کے باوجود متذکرہ کمیونٹی سے وابستہ لیڈران جہاں ایک طرف اپنے مسائل کا رونا روتے ہیں وہیں اپنی ہی کمیونٹی کے لوگوں کے مسائل پر سیاسی بساط پرکھیلتے بھی نظر آتے ہیں۔سیاسی بساط پر وہ دوسروں کو زیر کرتے تو بہتر تھا برخلاف اس کے وہ خود ہر مرتبہ زیر ہورہے ہیں،اور یہ تماشا مستقل جاری ہے!

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
generation life ongoing permanent Society throw use تماشہ جاری زمانہ زندگی مستقل معاشرہ
Previous Post گجرات کی خبروں کی تصویری جھلکیاں
Next Post اکیسویں ترمیم کیخلاف درخواستیں قابل سماعت نہیں، حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب جمع
Supreme Court

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close