
نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بی جے پی کے رہنما وجے پنڈت کو قتل کر دیا، پولیس نے چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی،واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑے ، مشتعل افراد نے 16 گاڑیوں کو آگ لگادی۔
جھڑپوں میں پولیس سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے، پولیس نے امن وامان برقرار رکھنے کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی جبکہ شہرمیں ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کر دیا گیا، بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ اتر پردیش میں ان کے رہنماؤں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ اتوار کو بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے۔
کہ وجے پنڈت کو چار موٹر سائیکل سوار نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ ہفتہ کی رات ساڑھے آٹھ بجے اپنے بھائی کی دکان سے واپس آرہے تھے۔بی جے پی رہنما وجے پنڈت کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی گریٹر نوئیڈا کے علاقے دادری میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور مشتعل افراد نے 16 گاڑیوں کو آگ لگادی۔
جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے امن وامان برقراررکھنے کیلئے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کردی ہے۔ نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، شہرمیں ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کردیا گیا ہے۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ اتر پردیش میں ان کے رہنماؤں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔
مقتول رہنما وجے پنڈت کے بھائی لوکیش پنڈت نے اتر پردیش حکومت اور پولیس کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی بی آئی سے قتل کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لوکیش پنڈت کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی وجے پنڈت کو الیکشن کے دوران دھمکیاں موصول ہوتی رہی تھیں جس کے خلاف شکایت بھی کی تاہم اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ پولیس نے وجے پنڈت کے قتل کے الزام میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔
