
صبح آزادی کو ترستی ہوئی وادی کشمیر
نقشہ عالم پہ ہے تو لاچاری کی تصویر
اے وادی کشمیر
تیرے پہاڑوں نے اٹھا رکھا ہے اسلام کا جھنڈا
کفر دبا نہ سکا کبھی بھی تیرا نعراہ تکبیر
اے وادی کشمیر
نہ بنا سکا کبھی غاصب تجھ اپنا حصہ
تیرے شھیدوں نے اپنے لہو سے کھینچ دی لکیر
اے وادی کشمیر
بے نور کر دیا سفاکی سے جوانوں کو
بجھ نہ سکی جو سینوں میں روشن تھی لوح بصیر
اے وادی کشمیر
قبضہ ہو نہیں سکتا دلوں پر جابرانہ
تجھ کو اپنانے کی رائیگاں ہو گئ ہر فوجی تدبیر
اے وادی کشمیر
سرسبز کر دیتے ہیں تیرے جھرنے
بنجر میدانوں کو
یہ زمیں الللہ کی ہے نہیں کسی کی جاگیر
اے وادی کشمیر
اے کوہساروں کی شہزادی تیری آن بان کے آگے
سامراجیت کے ہر تکبر کی ہو گئ تحقیر
اے وادی کشمیر
یوم کشمیر پر ہوتی ہے تجھ سے وفا کی تجدید
ورنہ شہناز کو ہر دم ہے تیری فکر دامن گیر
اے وادی کشمیر
منجانب ؛ ڈاکٹر محمد ریاضُ چوہدری
مرکزی صدر،
حلقہ فکروفن ، ریاض ، سعودی عرب
