
میں نے لگا دی ہے اس کو پیار کی دیمک
اب وہ اندر ہی اندر گل جائے گا
پہلے ملتا تھا واسطوں سے۔۔۔۔۔۔۔
اب خود ہی واسطوں میں ڈھل جائے گا
عشق کرنا آسان نہیں جاناں۔۔۔۔۔
اب عشق کی بھٹی میں پگھل جائے گا
شہروں کی رونق نہ آئے گی راس اسے
چاک گریباں جنگلوں میں نکل جائے گا
آج کی دنیا دور سے لگتی ہے سراب
بہت ممکن ہے وہ بھی سنبھل جائے گا
ہم چھوڑ چکے اسکو، اسکے حال پر۔۔۔۔
میری دسترس میں آیا تو جل جائے گا
بہت کر لیا میں نے بھی لحاذ اس کا۔۔
اب جیتی بازی ہار میں بدل جائے گا

مسز جمشید خاکوانی
