Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تشدد، تعصب اور نفرت کی فضا

October 6, 2015 0 1 min read
Uttar Pradesh ,Violent Incident
Uttar Pradesh ,Violent Incident
Uttar Pradesh ,Violent Incident

تحریر: محمد آصف اقبال
تشدد کسی بھی سماج کی بقا و استحکام کے لیے حد درجہ نقصان دہ چیز ہے۔اس کے با وجود سماج میں جس تیزی سے گزشتہ چند دہائیوں میں یہ عام ہوا ہے یافروغ دیا جا رہا ہے، مستقبل قریب میں ملک و معاشرہ ہر دوو سطح پر انتشار و افتراق میں اضافہ کرے گا۔اس کے باوجود وہ مواقع برقرار ہیں جن کی روشنی میں مسائل کے حل تلاش کیے جا سکیں اور تشدد کے واقعات میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے لیکن اگر سماج کے سوچنے سمجھے والے افراد اس جانب توجہ نہیں دیتے تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ملک کے دو بڑے طبقات مکمل طور پر دوریاں اختیار کر لیں۔

دوری کی ابتدا مذاہب اور ان کے ماننے والوں کی الگ الگ بستیوں کا بسایا جانا ہے تو وہیں انتہا انسانی بنیادوں پر خوشی و غم کے مواقع میں ایک دوسرے سے قطع تعلق ہے۔اوراگرخدا نہ خواستہ یہ صورتحال رونما ہوتی ہے تو نہ صرف ملک کی شبیہ خراب ہوگی بلکہ کثرت میں وحدت کے نظریہ کوبھی ٹھیس پہنچے گی۔دوسری طرف اطمینان کی بات یہ ہے کہ تشدد گرچہ بڑھ رہا ہے اس کے باوجودبہت حد تک حالات قابو میں ہیں اور وہ صورتحال ابھی پیدا نہیں ہوئی کہ ایک ہی بستی یا محلے کے افراد مل جل کر نہ رہ سکیں۔وہیں تسلسل کے ساتھ ایسے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں،جن کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کیا جارہا ہے، افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ،غلط فہمیاں قائم کی جا رہی ہیں اور پھوٹ ڈال کر ملک کی بقا و سا لمیت کو خطرہ لاحق ہے۔

تشدد کا حالیہ واقعہ ریاست اتر پردیش میں گریٹر نوئیڈا سے متصل علاقہ دادری کا ہے۔جہاں گائے کا گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص کو مار مار کر ہلاک کیا گیا ساتھ ہی اس کے بیٹے کو بھی شدید زخمی کیا۔نوئیڈا پولیس کے ترجمان کے مطابق بسراڑا گاؤں میں ایسی افواہ پھیل گئی تھی کہ کچھ لوگ گوشت کھا رہے ہیں۔جس کے بعد لوگوں کی مشتعل بھیڑ نے 50 سالہ شخص اخلاق احمد کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ حملے میں اخلاق احمد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے 22 سالہ بیٹے کو زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کیاگیا۔پولیس نے اس معاملے میں دس افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے جن میں سے چھ کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد ہے اور یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ ریاست اترپردیش بھی اُن ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں گائے کا گوشت کا استعمال ممنوع ہے۔اطلاعات کے مطابق اخلاق کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر کے فریج میں بکرے کا گوشت تھا گائے کا نہیں۔وہیں پولیس نے گوشت کو اپنے قبضے میں لے کرجانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔

Violence in Uttar Pradesh
Violence in Uttar Pradesh

سینیئر پولیس اہلکار این پی سنگھ نے انگلش اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا ہے کہ علاقے کے بعض لوگوں نے یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ اخلاق گائے ذبح کرنے میں شامل ہوئے اور ان کے گھر میں گوشت رکھا ہوا ہے۔ افواہ کی بنیاد پر حملہ کیا اور اخلاقکو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہیں اس کا جوان بیٹا حد درجہ زخمی حالت میں ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ معاملہ اس مقام پر ہوا ہے جو ملک کی راجدھانی دہلی سے محض پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔اخلاق کی اٹھارہ سالہ بیٹی ساجدہ نے اخباری نمائندے کو بتایا کہ گاؤں کے تقریباً سو افراد پر مشتمل ایک گروپ پیر کی رات کو ان کے مکان پر پہنچا۔انھوں نے ہم پر گائے کا گوشت رکھنے کا الزام عائد کیا۔ دروازہ توڑ دیا اور ہمارے والد اور بھائی کو مارنا شروع کر دیا۔ میرے والد کو گھسیٹ کر گھر سے باہر نکال لے گئے اور وہاں اینٹوں سے مارا۔بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ایک مندر سے ہمارے بیف کھانے کے متعلق اعلان کیا گیا تھا۔ فریج میں مٹن تھا جسے پولیس جانچ کے لیے اٹھا کر لے گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق گاؤں والوں نے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں جس میںکئی گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔

معاملہ گرچہ حساس ہے،عقیدت اور آستھا کا ہے اس کے باوجود ایک شخص کی موت،اس کے جوان بیٹے کا حددرجہ زخمی ہونا،گھر کے پورے نظام کا درہم برہم ہوجانا۔متوجہ کرتا ہے کہ ہم سوچیں اور غور کریں کہ ریاست میں قانونی صورتحال کس حد تک کمزور ہوچکی ہے ؟پھر یہ سوال بھی لازماًاٹھنا ہی چاہیے کہ واقعہ کے پس منظر میں کیونکر عوام یا ان کے ایک گروہ کو یہ حوصلہ ملا کہ شک کی بنیاد پر ایک شہری جو گرچہ ان کے مطابق ملز م تھا،کے بالمقابل قانون اپنے ہاتھ میں لے کر نہ صرف اس پر حملہ کریں ،ماریں پیٹیں،زخمی کریں ،یہاں تک کہ مار ہی ڈالیں؟معاملہ افواہ کا ہ،لیکن اگر مان لیا جائے کہ یہ افواہ نہیں بلکہ سچائی تھی تب بھی کیا عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ قانونی چارہ جوئی کی بجائے ملزم یا مجرم کو ہلاک کیا جائے؟ریاستی حکومت نے معاملہ پر کارروائی کرتے ہوئے چند افراد کو گرفتار کیا ہے،معاملہ کی جانچ ہو رہی ہے اور ہلاک کرنے والوں میں دیگر کی تلاش بھی جاری ہے۔اس کے باوجود توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ عوام اس قدر کیونکر مشتعل ہوئے؟اُنہیں کیوں نہ سوجھا کہ قانون اپنے ہاتھ میںنہیںلینا چاہیے؟کیا یہ محض اتفاق تھا کہ عوام اچانک ہی مشتعل ہو گئے یا یہفضا پروان چڑھائی گئی ؟اگر یہ فضا منصوبہ بند اور منظم تھی تو اس کی پشت پرکون لوگ ہیں؟کیوں ایسے افراد و گروہ پر ریاستی نظام قابو پانے میں ناکام ہے جو عوام کو منتشر کرتے ہیں، ان کے درمیان دوریاں پیدا کرتے ہیں،محلہ ، علاقہ، شہر اور ملک کے حالات کوتشویشناک بناتے ہیں،اورخوف وہراس کا ماحول پروان چڑھاکر امن و امان میں خلل ڈالتے ہیں۔غور کیجیے کیا آج ایسا ماحول نہیں بنتا جا رہا ہے جہان ایک شخص کو دوسرے پر بھروسہ نہیں،ہرشخص خو د کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے،حالات نظم و نسق اور انتظامیہ کے قابوسے باہر ہیں ۔اور یہ معاملہ خصوصاً سماج کے ان کمزور طبقات یا اقلیتوں کے تعلق سے ہے جن کی بقا و استحکام پر حکومت کو مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مرحوم اخلاق کے واقعہ کا پس منظر یہ بھی ہے کہ آج کل وطن عزیز میںبی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں اور میونسپلٹیوں میں گوشت کی فروخت پر پابندی لگانے کی ریس چل رہی ہے۔سب سے پہلے یہ پابندی مہاراشٹر میں لگائی گئی۔ اس کے بعد راجستھان، چھتیس گڑھ ،گجرات اور پنجاب کے بعض شہروں میں گوشت پر آٹھ دن کے لیے پابندی لگائی گئی ہے۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بی جے پی کی اقتدار والی دہلی کی تین میونسپلٹیوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہاں بھی 17 اکتوبر تک گوشت پر پابندی لگائی جائے۔ دوسری جانب ہندوستان میں گذشتہ چند سالوں سے گوشت خوری کے خلاف ہندو پرست تنظمیوں کی مہم میں شدت آئی ہے۔ گوشت کے خلاف مہم میں ایک دبے ہوئے مذہبی اختلاف کا پہلو بھی شامل ہے۔ عموماً سبزی خوری کی حمایت کرنیوالے عناصر اور سیاسی پارٹیاں عام طور پر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ گوشت خورصرف مسلمان ہیں۔برخلاف اس کے واقع یہ ہے کہ ہندوستان کی آبادی کی غالب اکثریت گوشت خور ہیجن میں پچاس کروڑ ہندؤ بھی شامل ہیں۔وہیں دانشوروں کا کہنا ہے کہ گوشت پر پابندی کا سوال نہ گوشت کا ہے اورنہ ہی مذہب کا۔ یہ سوال دراصل انتخاب کی آزادی اور بنیادی حقوق کا ہے۔ کسی جمہوری ملک میں ریاست کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ شہریوں کے لیے یہ طے کرے کہ کون کیا کھائے گا۔ کسی کثیرالمذہبی جمہوری ملک میں کسی ایک مذہب کے تصورات کو کسی درسرے مذہب کے پیروکاروں یا شہریووں پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔جمہوری ملک میں ہر شہری کھانے پینے، مذہب پرعمل کرنے یا نہ کرنے اور اپنے طور طریقے سے رہنے کے لیے آزاد ہے۔وہیں ڈی این جھا ،تاریخ داںاپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ ہندو بھی گائے کھاتے تھے۔لوگوں میں یہ غلط تاثر ہے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی ہیں جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔

یہ بالکل ہی بے بنیاد خیال ہے کیونکہ اس کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں ہے۔قدیم ہندوستان کے ویدک ادب میں ایسے کئی شواہد ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں بھی گائے کے گوشت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ جب یگیہ (ایک مذہبی تقریب) ہوتی تھی تب بھی گائے کو قربان کیا جاتا تھا۔اس وقت یہ بھی رواج تھا کہ اگر مہمان آ جائے یا کوئی خاص شخص آ جائے تو اس کے استقبال میں گائے کوذبحہ کیا جاتا تھا۔شادی بیاہ کے رسم میں یا پھر گھر باس (نئے گھر میں آباد ہونے کی رسم) کے وقت بھی گائے کا گوشت کھلانے کا رواج عام ہوا کرتا تھا۔ یہ عہد گپت (تقریبا 550ـ 320 عیسوی) سے پہلے کی بات ہے۔ گائے ذبح کرنے پر کبھی پابندی نہیں رہی ہے لیکن پانچویں صدی سے چھٹی صدی عیسوی کے آس پاس چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے وجود میں آنے اور زمین عطیہ کرنے کا رواج عام ہوا۔اسی وجہ سے کاشت کاری کے لیے جانوروں کی اہمیت بڑھتی گئی۔ بطور خاص گائے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد کی مذہبی کتابوں یہ باتیں سامنے آئیں کہ گائے کو ذبحہ کیوں نہیں کرنا چاہیے۔رفتہ رفتہ گائے کو نہ مارنا ایک نظریہ بن گیا، برہمنوں کا نظریہ۔پانچویں اور چھٹی صدی تک دلتوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت برہمن مذہبی اصولوں میں یہ بھی ذکر کرنے لگے کہ جو گائے کا گوشت کھائے گا وہ دلت ہے۔اسی دوران اسے قابل تعزیر بنایا گیا یعنی جس نے گائے کو ذبح کیا اسے کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔پھر بھی ایسی سزا نہیں تھی کہ گو کشی کرنے والے کی جان لی جائے۔ جیسا کچھ آج لوگ کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر: محمد آصف اقبال، نئی دہلی
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
country Future hatred issues Mohammad Asif Iqbal prejudice Society violence تشدد تعصب سماج مسائل مستقبل ملک نفرت
Election
Previous Post کانٹے دار مقابلہ ‎
Next Post کوئٹہ: کانگو وائرس سے متاثرہ ایک اور مریض جاں بحق، مجموعی تعداد 3 ہو گئی
Congo Virus Patient

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close