Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بکل دے وچ چور!

December 31, 2016 0 1 min read
Cruel King
Cruel King
Cruel King

تحریر : رقیہ غزل
پرانے وقتوں میں ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کر کے بہت سا خزانہ جمع کیا اور پھر اسے سلطنت سے دور ایک بیابان غار میں چھپا دیا اس خزانے کی صرف دو چابیاں تھیں جو ایک بادشاہ کے پاس اور دوسری وزیر کے پاس رہتی تھی اور ان دونوں کے علاوہ اس خزانے کا کسی کو علم نہیں تھا ۔ایک دن بادشاہ معمول کے مطابق خزانہ دیکھنے نکلا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیاوہ خزانہ دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ اچانک وزیر کا گزر وہاں سے ہوا اور اس نے دروازہ کھلا ہوا دیکھا تو بہت پریشان ہوا پھر خیال آیا کہ رات دیکھنے آیا تھا ضرور دروازہ بند کرنا رہ گیا ہوگا ۔وزیر نے جلدی سے دروازہ باہر سے مقفل کیا اور چلا گیا۔ جب بادشاہ کا دل ہیرے جواہرات اور سونا چاندی دیکھ دیکھ کر بھر گیا تو واپس دروازے پر آیا تو دروازہ بند تھا ۔بادشاہ نے دروازہ پیٹنا اورچلانا شروع کر دیا مگر کوئی وہاں ہوتا تو اس کی آواز سنتا اس کی آواز سننے والاوہاں کوئی نہیں تھا وہ واپس خزانے کی طر ف آگیا کہ اس سے دل بہلا سکے مگر چند ہی لمحوں میں اسے بھوک اور پیاس نے ستانا شروع کر دیا وہ دوبارہ بھاگ کر دروازے کی طرف گیا ۔چیخا ،چلایا مگر دروازہ بدستور ویسے ہی بند رہا اب بادشاہ کی حالت یہ تھی کہ کبھی دروازے کو پیٹتا اور کبھی ہیر ے جواہرات ہاتھوں میں پکڑ کر قہقہے لگاتا اور کہتا مجھے پانی دو۔۔۔مجھے روٹی دو ۔۔۔مجھے پانی دو ۔۔۔ بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے پاگل کر دیا تھا آخرکار بادشاہ چکرا گیا اور اس نے ہیروں کا ایک بستر دیوار کے پاس بنایا اور اس پر لیٹ گیا مگراُس نے دنیا کو ایک پیغام دے دیا اس نے انہی ہیروں سے اپنی انگلی زخمی کی اور بہتے ہوئے خون سے دیوار پر کچھ لکھا اور دم توڑ گیا۔

حکومتی عہدیدار اور عوام بادشاہ کو تلاش کرتے رہے مگر بادشاہ نہ ملا آخر کار ایک دن کئی دن کی بے سود تلاش کے بعد وزیر اسی خزانہ کا معائنہ کرنے آیا تو تو دیکھا کہ بادشاہ ہیروں پر مردہ حالت میں پڑا تھا اور دیوار پر لکھا تھا کہ ”یہ ساری دولت اناج کے ایک دائرے کے برابر بھی نہیں ہے ”۔!افسوس پیغام چھوڑنے والے چھوڑ گئے مگر ان پر عمل کرنے والے ناپید ہوگئے ہیںکہ سبھی کچھ مفادات اور خرافات کی نذر ہو چکا ہے یہ المیہ نہیں تو اورکیا ہے کہ عدالت عالیہ نے یہ کہہ دیا کہ اس ملک کے وزیراعظم اپنے تمام تر الزامات کے ساتھ 2017 میں داخل ہونگے کیونکہ عمران خان یہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں کہ کرپشن ہوئی ہے سوائے متضاد بیانی کے جو کہ اتنی بھی بڑی بات نہیں ہے چلیں کچھ مصلحتیں تو درپیش ہونگی کہ یونہی ایسے فیصلے نہیں آتے مگرمسئلہ جس دولت کا ہے وہ تو ثابت شدہ ہے۔ اب یہ آپ کا ایمان کہ آپ اسے” قطری عنایت” کہیں یا ”فطری کفایت کہیں ”مگر یہ طے ہے کہ جناب آپ نے خزانہ” جمع” کیا ہے یعنی ہر کسی کی لوٹ مارپا کستان کی سیاسی تاریخ میں سیاہ باب رقم کر چکی ہے جس سے رفتہ رفتہ عوام برانگیختہ ہو رہے ہیں افسوس تو اس بات پر ہے کہ عوام نے جس جماعت پر بھی اعتبار کر کے اسے مسند پر بٹھایا اسی جماعت نے عوام کو سوال پوچھنے پر مجبور کیاجبکہ ازخود اپنے کو جوابدہ نہ سمجھا اورثابت کیا کہ بندر بانٹ کی سدا بادشاہی ہے اور یہ مفادات کی دنیا میں بہترین سیاسی حکمت عملی قرار دی جا رہی ہے جو اس حکمت عملی پر عمل نہیں کرتا پرانے پاپی کہتے ہیں کہ وہ سیاست ہی نہیں جانتا یہی وجہ ہے کہ تاوقتیکہ جو سوال کر رہے تھے وہ بھی یو ٹرن لیتے دکھائی دے رہے ہیں کہ دلکش عہدے کسے اچھے نہیں لگتے

اب صورتحال یہ ہے کہ ہم 2017 میں داخل ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کا سیاسی منظرنامہ مذحکہ خیز رخ اختیار کر تا جا رہا ہے کہ اک طرف تو وقت سے پہلے انتخابات کا شور سنائی دے رہا ہے اور دوسری طرف ایک بار پھر دھرنا سیاست کی ہلچل نظر آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی قائدین اور عوام دونوں تذبذ ب کا شکار ہیں پاناما کھٹائی میں پڑ چکا ہے اور خان صاحب نے خود کو متضاد بیانیوں سے خود ہی متنازعہ بنا لیا ہے کمیشن نہ بنا تو لاک ڈائون ہوگا اور اگر کمیشن بنا تو بائیکاٹ ہوگا حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ کمیشن بنا تو کچھ نہیں ہوگا یہی وجہ تھی کہ کئی تجربہ کار جماعتیں بھی کمیشن کے قیام پر زور دیتی رہی ہیں جبکہ در پردہ حکومتی رضا مقصود تھی اس ساری صورتحال میں مسلم لیگ ن وہ واحد جماعت ہے جو متحر ک اور ثابت قدم نظر آتی ہے اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر صف بندیوں میں مشغول ہے بلاشبہ عوامی رابطوں کا فقدان ہے مگر ملکی اداروں ،محکموں ،اعلیٰ عہدوں اور بلدیاتی نمائندوں سمیت ہر جگہ پر تیزی سے بھرتیاں اور پھرتیاں جاری ہیں کہ حاکم خاندانوں کے چشم و چراغ بھی اب میدان میں اتارے چلے جا رہے ہیں یوں اگر دیکھا جائے تو سیاسی بازی پوری طرح مسلم لیگ ن کے ہاتھ میں ہے جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب سے ختم ہو چکی ہے اور باقی صوبوں میں بھی عوامی رابطوں اور پارٹی استحکام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔

Zardari
Zardari

حالانکہ جناب آصف زرداری اس کا عندیہ دے چکے ہیں کہ میں اپنی باری لینے آریا ہوں حالانکہ ان کے ووٹر کوئی باہر سے نہیں آگئے وہی پہلے والے ہی ہیں دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کو یو ٹرن نے بوکھلا کر رکھ دیا ہے وہ اس زعم میں تھے کہ انھیں جو اہمیت حاصل ہو گئی ہے اس کی موجودگی میں اب کسی رابطہ کاری یا عوامی مینڈیٹ کی ضرورت نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنا عرصہ اقتدار دھرنوں اور بیانات کی سیاست میں ضائع کر دیا ہے اور یوں ایک بڑی تعداد ان سے بیزار اور ان کی سیاست سے خائف ہو چکی ہے اور رہی سہی کسر ان کے حلیفوں کے جوڑ توڑ نے نکال دی ہے ویسے ان کا قصور نہیں کہ وہ اپنے ہم رکاب سیاسیوں سے مات کھا جاتے ہیں رہ گئی جماعت اسلامی تو دوہرے معیار نے ان کے منشورکو” مشکوک ”کر دیا ہے جوکہ نئی بات نہیں پھر بھی اب ان کی پرانی فنکاری اور موقع پرستی کھل کر سامنے آچکی ہے کہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ حکومت گرانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف دوسرا بیان دے دیتے ہیں کہ عوام لٹیروں اور کرپشن کرنے والوں کو معاف نہیں کریں گے یعنی مسلم لیگ ن سیاسی بساط پر چھا چکی ہے اگر مخالف ہوا نہ چلے اور آنکھوں میںمقدر کی ریت نہ پڑے تو الیکشن جلد ہوں یا بدیر مسلم لیگ ن کی بھاری اکثریت سے کامیابی متوقع ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسلم لیگ ن نے پاپولر پالیٹکس کو ہمیشہ سے اپنایاہے درحقیقت پاکستان کی ترقی کی شاہراہ میں بہت سے سپیڈ بریکر ہیں لیکن جہاںوائی فائی کی سہولت مہیا ہو جائے وہ جگہ اور وہ ادارہ ترقی کی شاہراہ پر دوڑنے لگتا ہے اور جب ترقیاتی منصوبوں کے نام پر قومی وسائل کی لوٹ مار منظر عام پرآتی ہے تو ریکارڈ کو خاکستر بنا دیاجاتا ہے کہ” نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری ”کے مصداق قصہ پاک، دامن صاف ۔! گذشتہ چار سال قلم دانوں نے لکھ لکھ کر صفحے سیاہ کر دئیے کہ عوام کو بنیادی سہولیات چاہیئے مگر افسوس کہ ایسا کہنے والے کو غدار وطن کہا گیا جبکہ ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ بیانات داغتے چلے گئے کہ ترقی کا سفر جاری رہے گا ڈکٹیٹر کے دور میں صرف جیبیں بھری گئی ہیں مگر عوام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے جبکہ ہم نے عوام کو ترقیاتی منصوبے دئیے ہیں ۔ویسے منصوبے دینے سے مجھے یاد آگیا ابھی چند دن قبل ہی وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا اور اس پر وزیر اطلاعات و نشریات کا بیان سامنے آیا کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے اور تنخواہوں میں گزارا مشکل ہے اس لیے اضافہ کیا گیا ہے اور دو دن قبل محترمہ مریم اورنگ زیب کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ممکن ہے تقریر لکھنے والوں سے غلطی ہوگئی ہو کیونکہ ابھی دو دن پہلے ہی میاں صاحب سے بھی اپنی تقریر میں غلطی ہو گئی تھی۔

گذشتہ مالی سال میں پاکستان کی برآمدات 12فیصد گھٹ کر ساڑھے اکیس ارب ڈالر رہی جبکہ مسلم لیگ حکومت نے جب 2013میں حکومت سنبھالی تھی اس وقت سالانہ ایکسپورٹ 25ارب ڈالر تھی یعنی پچھلے چار سال میں برآمدات میں 14 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان نے صرف 4 ہفتوں کے اعدادو شمار دبتا دئیے جبکہ 4 سال کے اعدادو شمار چھپا لیے گئے جبکہ حالیہ خبروں کے مطابق پاکستان کی برآمدات مسلسل گر رہی ہیں جبکہ اپنی الیکشن مہم کے دوران میاں صاحب نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ برآمداد کو 100 ارب ڈالر تک لے جائیں گے مگر یہ وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا ۔یہ حال تو معاشی ترقی کا ہے اور باقی احوال اس سے بھی بھیانک اور حیرت انگیز ہیں کہ نہ گیس ہے ،نہ بجلی نہ پانی آتا ہے اورمہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اس پر ستم یہ کہ ادویات بھی جعلی اور خوراک بھی ملاوٹ شدہ ہے ۔روزانہ بچے بھوکے سکول جاتے ہیں مگر اس پر کوئی بھی ایکشن لینا تو درکنار کسی نمائندے کے منہ سے اعتراف بھی سننے کو نہیں ملا پورے ملک میںدودھ ،دہی ،گھی اور ان سے تیار شدہ اشیا ء اصل کی بجائے نقل سے بھی زیادہ مضر صحت ہیںاور یہ بنیادی غذائی اشیاء سرعام کھلم کھلا بکتی ہیںمگر فوڈ اتھارٹی ڈرامے بنا کر ٹی وی پروگراموں کا حصہ بنے رہتے ہیں۔

Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

بہرحال اس دفعہ میاں صاحبان کے پاس ٹھوس جواز موجود ہے کہ حکومت کو آغاز سے ہی دھرنا سیاست کا سامنا تھا اور ادارے تباہی کے دہانے پر تھے پھر بھی ہم نے لاہور کو بدل کر رکھ دیا ہے اور شہروں میں میٹرو کا جال بچھا رہے ہیں جبکہ اگر آپ دیکھیں تو خان صاحب شیروانی چاہتے تھے اور اس نشہ میں وہ پاگل ہو چکے تھے انھوں نے خیبر پخوتخواہ میں سب کچھ بگاڑ دیا جبکہ ہم تو ایسی سیاست کو مقدس مشن سمجھتے ہیں ۔یہ وہ بیانات ہیں جو چند دنوں تک ہر چینل سے حکومتی ترجمان دہرائیں گے اور بیچارے عوام ان بیانات کی بھول بھلیوں میں الجھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ چلو کچھ تو سہی ۔پاکستان کا یہ المیہ بھی ہے کہ یہاں کامیابی کا مقابلہ نہیں ہوتا یہاں ناکامیوں کو گنوایا جاتا ہے کہ وہ حکمران اتنا ناکام ہوا جبکہ ہم اتنے ناکام ہوئے ہیں جبکہ اس نے تو وعدے اور دعوی ہی بڑے بڑے کئے تھے اور اگر زیادہ بات بڑھے تو عوام تک آجاتی ہے کہ انھیں منتخب کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا یہ حکمرانوں کو منتخب کرنے کا معاملہ بھی کافی گھمبیر ہے کہ ووٹ کسی کو دیا جاتا ہے اور نکلتا کسی اور ہی ڈبے سے ہے ایک آدمی نے ایک سیانے سے پوچھا کہ حکمرانوں کو کیسے چننا چاہیئے تو انھوںنے مسکراتے ہوئے کہا جیسے بادشاہ اکبر نے انار کلی کو چنا تھا۔

حقیقت یہی ہے کہ موجودہ سیاستدانوں کے حالات دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ جیسے اندرون شہر کے محلہ مکین تھڑے باز سیاست میں مشغول ہیں اور اس کا مظاہرہ پارلیمینٹ میں کسی سنسسر پالیسی کے بغیر دیکھنے کو ملتا ہے جو لوگ عوامی مسائل حل کرنے کی جگہ پربھی ذاتیات کو ترجیح دیتے ہیں اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے ہیں وہ ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کے خواب کیسے دکھا سکتے ہیں ؟ جب حقائق سامنے آتے ہیں تو ٹسوے بہاتے ہیں اور جب الزام لگیں تو باتیں سناتے ہیںدکھ یہ ہے کہ خوف خدا نہیں کرتے حالانکہ سبھی ڈھٹائی سے کھاتے ہیں خواجہ حنیف تمنا نے کیا خوب کہا ہے کہ
کبھی اقرار ہے جاناں ، کبھی انکار ہے جاناں
کبھی شہ زور لگتے ہو ،کبھی کمزور لگتے ہو
کہو یہ کیا وفا ہے تم بدلتے ہو بیاں ہر دم
مجھے تو تم محبت کے پناما چور لگتے ہو

بہر کیف انہی گھمبیر حالات میں ہم 2017 میں داخل ہو جائیں گے کیونکہ یہ سب کچھ بھی نیا نہیں ہے کیونکہ ہر صف اکثریتی طور پر چور موجود ہیں اور اس بات کو سبھی تسلیم کر رہے ہیں کہ” بُکل دے وچ چو ر نی میری بکل دے وچ چور ” لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ ہمارا بھی احتساب ہو جبتک ضمیر کی خود احتسابی کا عمل شروع نہیں ہوگا احتساب کا عمل بے معنی ہے اور دکھ تو یہی ہے کہ یہاں ضمیر نہیں کانپتے زمین کانپ جاتی ہے۔

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
King Theft Treasury violence بادشاہ پریشان چور خزانے روٹی ظلم
Seminar
Previous Post اردو کے فروغ کے لیے عوامی بیداری ضروری ہے: امتیاز احمد کریمی
Next Post ضلع کلکٹریٹ حاجی پور کی طرف سے مشاعرہ کا انعقاد
Hajipur Mushaira

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close