
اب تیرا کون انتظار کرے
جو محبت میں کاروبار کرے
اُس پہ اب کون اعتبار کرے
اُس سے امیدِ درگزر کیسی
جو خطائوں کو ہی شمار کرے
ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہم نے
جو ہمیں تجھ سے شرمسار کرے
اِس غمِ ہِجر کے خرابے میں
اب تیرا کون انتظار کرے
کاش تُو بھی حصارِ نفرت کو
توڑ کر غم زدوں سے پیار کرے
زریں منور
