
کراچی (جیوڈیسک) کوچ ہنٹ کمیٹی میں شامل سابق کپتان وسیم اکرم ’’دیسی کوچ‘‘ کے لیے آواز اٹھانے لگے۔
انھوں نے کہا کہ نیا کوچ ایسا پاکستانی ہونا چاہیئے جو سینئرز کے ساتھ جونیئرز کو بھی وقت دے سکے، اس کے پاس ورلڈکپ 2015 تک کا واضح اور موثر منصوبہ بھی ہونا چاہیے۔
کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ بورڈ نے 2 روز قبل مجھ سے رجوع کر کے نئے کوچ کی تقرری کے لیے کمیٹی میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی، جسے میں نے قبول کر لیا۔
انھوں نے کہا کہ میں ایسے کوچ کی تقرری کے حق میں ہوں جس کا تعلق پاکستان ہی سے ہو لیول تھری کوچنگ کورس کی شرط ختم کرنے کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ 250 سے زائد ٹیسٹ اور 150 کے لگ بھگ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ کھیلنے والے کرکٹر کوکسی کورس کی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ نیا کوچ صلاحیتوں کا حامل ہونا چاہیے۔
