Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شہدائے وطن میڈیا سیل کا میجر محمد کاظم شہید سیمینار

August 19, 2020 0 1 min read
Major Muhammad Kazim
Major Muhammad Kazim
Major Muhammad Kazim

تحریر : آغا سفیر حسین کاظمی

ایک محاورہ ہے ،نیت صاف ،منزل آسان ،مادر وطن کی محافظ مسلح افواج پاکستان کی جمعیت جہاں دشمنوں کیلئے نیندیں اُڑانے کی سبب ہے ،وہیں وطن دوستوں وخیرخواہوں کیلئے تحفظ جان و مال ،عزت و آبروکے احساس سے لبریز ہے ۔اور اطمینان قلب کاباعث بھی ۔بارہ سال پہلے جب شہدائے وطن میڈیا سیل قائم کیا تب سوشل میڈیا اس قدر ”بے قابو”نے ہوا تھا ۔کہ ملک و قوم کے اتجماعی و اہم نوعیت کے اُمور کو یوں اُچھالا اور شکلیں بگاڑکر پیش کیا جانا کوئی معمہ نہ ہوتا۔تب پھربھی کچھ احساس ،کچھ لحاظ باقی تھا۔ٹیلفون وفیکس کا دور تھا ۔اور سوشل میڈیا پر فیس بُک سمیت دیگر ذرائع بھی تب آزمائش کی شکل میں ڈھلے نہیں تھے ۔البتہ اکا دکا واقعات کی باز گشت ضرور سنائی دیتی تھی۔مجھے محسوس ہورہا تھا کہ آگے چل کر ”سوشل میڈیا”قومی رائے عامہ کیلئے کتنا بڑا چیلنج بن جائیگا۔چنانچہ شہدائے وطن میڈیا سیل اے کے زون کے تحت مادر وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیوں سے نئی نسل کو روشناس کرانے کیلئے موجودہ نسل کے بڑوں(اقتدارواختیارات کے حاملین) کو اُنکے حقیقی فرض کی جانب متوجہ کرنے کا ارادہ کیا۔اس ضمن میں ابتداء میں شہید وطن نائیک سید محمد حسین شاہ تیموری بٹالین آزادکشمیررجمنٹ کے نام سرکاری تعلیمی ادارہ منسوبی کیلئے فائل وزیراعظم وقت سردار یعقوب خان کو اُسوقت دی ۔جب اُنھوں نے صحافیوں کے اعزازمیں عشائیہ کا اہتما کیا ہوا تھا۔جوکہ ایک طرح سے تعاورفی نشست بھی تھی۔وزیراعظم وقت فائل پر کام نہ کرسکے ۔

کہ تب ریاست میں وزیراعطم وزیراعظم کا کھیل چل رہا تھا۔جسکے اختتام تک پانچ سالہ مدت میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے تھے ۔بہرحال شہدائے وطن کے ناموں سے سرکاری تعلیمی ادارء منسوبیت کو ترجیح دینے کا واحد مقصد یہ تھا ۔کہ ابتداء سے نئی نسل کو ”انتخابی سیاست”کی نحوست سے بچاتے ہوئے مسلمہ اجتماعی قومی نظریہ کی جانب راغب کیا جائے ۔خاص کر مسلح افواج پاکستان کیساتھ ذہنی و فکری ہم آہنگی پیدا ہو۔تاکہ ازلی دشمن ہندوستان مستقبل مین جب کبھی کوئی ایسی سازش چلنے لگے جس سے ایک بار پھرمشرقی پاکستان والانسخہ(مکتی باہنی)استعمال کرنا چاہے تو اُسے ہماری نئی نسل کو ورغلانے ،بہکانے میںسخت مشکل کا سامنا کرنا پڑے ۔اور پھر ناکامی بھی دشمن کا مقدر بنے ۔اس حوالے سے ذاتی طور پر یہ خیال تھاکہ سرکاری تعلیمی ادارے میں جب کسی شہید کاتعارف ، کرداروکارنامے بمعہ تصویربڑے سائن بورڈ لہ شکل میں آویزاں ہونگے تو زیرتعلیم طلبہ و طالبات میں فوج ،شہداء (وردی)سے اُنس پیدا ہوگا۔

جب شہید سے منسوب تعلیمی ادارے میں قومی /ریاستی اہمیت کے دنوں (جیسے یوم پاکستان ،یوم آزادی ،یوم دفاع ،یوم شہدائے جموں ،یوم قرادادالحاق پاکستان وغیرہ)پر خصوصی تقریبات کاتسلسل سے اہتمام ہوگا ۔تو نئی نسل کو فکری و نظریاتی تربیت ملے گی ۔اور نئی نسل میںمادر وطن کے سپوتوں جیسا کردار اُبھرے گا ،نکھرے گا۔اور جب سپاہیانہ کردار شخصیت کا حصہ بن گیا ۔پھر ہندوستان ہی نہیں دُنیا کی کوئی بھی طاقت ہماری نئی نسل کو زندگی کے کسی مرحلہ پر دبا اور مٹانہیں سکے گی ۔نہ ہی ورغلا ،بہکاسکے گی۔۔۔۔۔بہرحال نیت صاف ،منزل آسان والا محاورہ صادق آیا ۔اور پھرپاک افواج نے ملک کے اندر غیرواضع شکل والے دشمن کیخلاف جنگ لڑنا شروع کی ۔تو یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ ”شہدائے وطن ”کے حوالے سے ایک دن مخصوص کردیا جائے ۔جس دن پاک فوج شہیدوں کے لواحقین و متعلقین سکو مدعو کرے ۔اور سول و فوجی قیادت ،نمائندہ و سرکردہ عوامی شخصیات بھی تقریبات میں آئیں ۔جہاں شہداء کو خراض عقیدت پیش کیا جائے ۔جونہی 30اپریل2012کو پہلا یوم شہداء منایا گیا۔تو راقم نے عسکری قیادت کو دستیاب ذرائع سے مشورہ دیا کہ کرگل و گیاری سے پہلے والے شہیدوں کے لواحقین کو بھی بلایا جانا چاہیے ۔(جنہیں ابتدائی طور پر نہیں بلایا گیاتھا)30اپریل2013میں یوم شہداء پربطورجرنلسٹ شرکت کی دعوت ملی ۔تب میجرفضل نامی ایک باکمال افسرمظفرآبادمیں پوسٹ تھے ۔جنہوں نے آئی ایس پی آرکی ترجیح کیمطابق بہت کم عرصہ میں ریاستی میڈیا کیساتھ بہترین تعلقات بنالئے ۔

وہ بھلا افسر صحافیوں کیساتھ ممکنہ حد تک تعاون کیلئے بہت مستعد رہا۔اُس بار بھی لواحقین شہداء دیگر شرکائے تقریب کی طرح پہلے ہی بیٹھا دئیے گئے تھے ۔جسکے بعدجی او سی میجرجنرل سید نجم الحسن اور مہمان خصوصی وزیراعظم وقت چوہدری عبدالمجید نے آمد کے بعد لواحقین شہداء کیلئے مخصوص نشستوں پر جاکر حال احوال دریافت کیا۔جی او سی مری مہمانوں کی پہلی صف کی جانب آئے سب سے مصافحہ کیا ۔آئی ایس پی آر کے انچارج افسر میجرفضل نے پہلی صف میں جناب سلیم اختر پروانہ ،سرداردل پذیرعباسی صاحب اور راقم سے فرداََفرداََتعارف کروایا۔ جب اُنھیں بتایا کہ مجھے لواحقین شہداء والی طرف ہونا چاہیے تھا۔تو میجرفضل کہنے لگے ۔ہمیں معلوم نہ تھا ۔آئندہ خیال رہے گا۔۔۔اس طرح 2013میں ہی یوم دفاع ّچھ ستمبرپر اسٹیشن ہیڈکوارٹرزآدیٹوریم میں منعقد ہ تقریب میں شرکت کی خصوصی دعوت ملی ۔جبکہ میرے علاوہ سردارذوالفقار علی ،امتیاز اعوان ،عارف عرفی اسلم میرودیگرکوریج کیلئے مدعوتھے ۔ مجھے وہاں اظہار خیال کاموقع دیا گیا۔اسٹیشن کمانڈر برگیڈئیراعجاز الرحمان تنویر،کرنل نوید وڑائچ(آئی ایس پی آر)کرنل زاہد عارف عباسی ،میجراحمد(بعد میں کرنل)سمیت شرکاء نے بہت سراہا ۔اسٹیشن کمانڈر برگیڈئیراعجاز الرحمان تنویرنے شہدائے وطن کے ناموں سے سرکاری تعلیمی ادارے منسوبیت کی فائیلوں پر کام کی سست روی کی نشاندہی پر اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔

اسی طرح جی او سی میجرجنرل سید نجم الحسن سے براہ راست رابطے سے شہدائے وطن سے متعلق اُمور پر حوصلہ افزا پیش رفت ہوتی رہی۔آج جبکہ آزادکشمیرمیں درجنوں تعلیمی ادارے شہداء کے ناموں سے منسوب ہیں ۔بے شک کام کی رفتار دم توڑتی محسوس ہوتی ہے ۔کہ ”انتخابی سیاست”میں وطن اور دفاع کو وہ اہمیت حاصل نہیں رہتی ۔جوکہ ہونی چاہیے ۔پھر بھی بہتری کی اُمید رکھنی چاہیے ۔2015کے بعد یوم شہدائے پاکستان میں حسب سابق مدعو کیا جاتا رہا۔تاہم جن فہرستوں کے تحت ہرسال دعوت دی جاتی رہی اُن کی صحت اب تک غیرتسلی بخش رہی ۔اب جبکہ آزادکشمیرمیں قابل ذکرادارے منسوب ہیں ۔وہاں محکمہ تعلیم کا کردار قابل احتساب بھی ہے کہ شہیدوں کے ناموں سے ادارے منسوب ہونے کے باوجود وہ مقاصد پورے نہیں ہورہے جنکے لئے یہ کوششیں کی گئیں ۔یعنی قومی سوچ و نظریہ کا پرچار و اولیت کا اظہار۔۔۔۔گذشتہ تین سال سے برگیڈئیرنجم سلیم شہید کی خدمات و قربانی کی یاد میں دارالحکومت کا کوئی اہم مرکز منسوب کرنیکا پر متوجہ کررہے ہیں۔کہ شہریوں کی اکچریت برگیڈئیرنجم سلیم کو فقظ اس حوالے سے جانتی ہے کہ شوکت لائنزکی جانب آتے جاتے ایک مقام پر چھوٹا سا بورڈ لگا ہے ۔جس پر اس شہید کا نام لکھا ۔اللہ اللہ خیرصلہ۔۔۔۔اس بار ایک منظم سرگرمی کے ذریعے بھی مطالبہ کیا ہے ۔جسکے ابھی تک پذیرائی نہیں ملی ۔کہ اللہ نے توفیق دی کہ ایک اور شہید وطن میجرمحمد کاظم شہید (ستارہ جرأت)کی یاد میں13اگست کو سیمینارکا انعقادکرکے آزادحکومت سے، دارالحکومت میں سرکاری تعلیمی ادارہ شہید کے نام منسوب کرنیکا مطالبہ کردیا ہے ۔اس سرگرمی کے مہمان خصوصی چیئرمین وزیراعظم معائینہ و عملددرآمد کمیشن جناب زاہد امین تھے۔

اُنھوں نے یقین دلایا کہ وزیراعظم سے بات کرونگا،جلد شہید میجرکاظم کے نام سرکاری تعلیمی ادارہ منسوب ہوجائیگا۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے شہدا کے جسد خاکی آنے پراُنھیں آزادحکومت/انتظامیہ کی سطع پرباوقار انداز میں وصول کرنے کی روایتی نہ ہونے پر دُکھ کا اظہار بھی کیا۔اور اسے انتخابی حلقہ جات کے منتخب حکومتی نمائندوں کی عدم دلچسپی لمحہ فکریہ قراردی ۔اور کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان شہداء کے وارث ہیں، اس لئے جلد کسی ایک معتبر تعلیمی ادارے کو شہید میجر محمد کاظم کے نام سے منسوب کریں گے، کشمیر کی آزادی مضبوط و مستحکم پاکستان سے ہے، شہداء کے گھرانوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، میجر محمد کاظم سمیت تمام شہداء ہمارا فخر ہیں، سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے شہدائے وطن میڈیا سیل کے چیئرمین نے میجرمحمد کاظم شہید کی خدمات و قربانی سے متعلق مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی ۔اوربہادری شجاعت کے اعتراف اُنھیں وقت کے صدرجنرل ایوب خان نے اپنے ہاتھوں ستارہ جرأت سے نوازے جانے کو ایک منفرد اور قابل فخر تاریخ قرار دیا ۔ اور بتایا 1971میں مشرقی پاکستان میں خدمات کی انجام دہی کررہے تھے ۔جب مکتی باہنی کے ذریعے پاکستان توڑنے کی سازش پر عمل جاری تھا ۔ایسے وقت میں میجرمحمد کاظم نے آخری سانس تک لڑنے کا ارادہ کیا ۔اور دشمن کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔جسکے اعتراف میں پاکستان نے دوسری بار بعد ازشہادت بھی ستارہ جرات سے نواز اگیا۔جبکہ اسوقت آزادکشمیررجمنٹل سنٹرمیں شہید کے نام آڈیٹوریم منسوب ہے۔

قارئن! زاہدامین واقعی ہی بڑے انسان ہیں جنہوں نے میجرمحمد کاظم شہید کی یادمیں منعقدہ سیمینارمیں فراخ دلی سے شہدائے وطن میڈیا سیل اے کے زون کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایاکہ کسطرح آغا سفیرحسین کاظمی(راقم) نے شہداء کے خاندانوں تک ہمیں پہنچانے میں کردار ادا کیا وہ لائق تحسین ہے۔اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ شہدائے وطن کے بچوں کو سرکاری نوکری دینی چاہیے ۔ اوربتایا نوکریوں کے لیے کوٹہ مقرر کروانے کے لیے تحریک کر رہے ہیں۔شہداء کے مزارات تک پکی سڑکوں کی تعمیر کے لئے لوکل گورنمنٹ مخصوص فنڈ مختص کرے ۔جناب زاہد امین کی سیمینارسے خطاب میں کہی باتیں جہاں وزیراعظم راجا فاروق حیدرخان کی نیک نامی کاایک سبب بن رہی تھیں ۔وہیں ایک مُحب وطن اور باوقار شخصیت کی عکاس تھیں۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم راجا فاروق حیدرخانکب برگیڈئیرنجم سلیم شہید ،میجرمحمدکاظم ‘شہید”کے نام تعلیمی ادارے منسوب کرتے ہیں۔رواں دورحکومت میں شہداء کے ناموں سے کئی مقامات پرتعلیمی ادارے منسوب ہوئے ۔پھر سکوت ۔لیکن ایک کریڈٹ تو وزیراعظم کے حصے میں آیا ہے جو پہلے کسی اور کا نہیں جب سے آزادکشمیرمیں پاک فوج کے شہیدوں کی قبروں پرآرمی چیف اور دیگرکمانڈرزکی جانب سے پھولوں کی چادریں چڑھانے کی روایت چل رہی ہے ۔وہاں آزادحکومت کی جانب سے پھولوں کی چادرموجود نہیں ہوتی تھی ۔لیکن جناب زاہد امین نے چیئرمین وزیراعظم معائینہ و عملدرآمد کمیشن کے طور پر شہدائے وطن کے حوالے سے جس مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اور آج ہر شہید کی قبرپر چادر پہنچتی ہے تو یہ کریڈٹ وزیراعظم کا ہے ۔جنہوں نے چیئرمین کمیشن کے صوابدیدی منصب کو پہلی بار زاہد امین صاحب کی شکل میں وقار بخشا ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم کی جتنی نیک نامی مذکورہ صوابدیدی عہدے پر فائز شخصیت کیوجہ سے نصیب ہوئی ہے ۔کسی دوسرے صوابدیدی عہدے بارے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔مگر بات وہی ہے نیت صاف ،منزل آسان ۔۔۔اور ہماری منزل قربانیاں دینے والی کی عزت کرنا سیکھنا ہے ۔اور یہ منزل مل کررہیگی ۔انشاء اللہ ۔۔۔جس طرح میجرمحمد کاظم شہید نے ااخری سانس تک جنگ لڑنے کا سپاہیانہ فیصلہ کیا ۔ہم بھی اسی فیصلہ کی تقلید کرتے ہوئے منزل کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے ۔بے شک کوئی کاریگر خفا ہی کیوں نہ ہو۔

Agha Safeer Hussain Kazmi
Agha Safeer Hussain Kazmi

تحریر : آغا سفیر حسین کاظمی

Share this:
Tags:
journalists Major Muhammad Kazim Media Cell Seminar Watan سیمینار صحافیوں میجر محمد کاظم میڈیا سیل وطن
Moeed Anwar
Previous Post چئیرمین ڈی ایم سی ایسٹ معید انور کا محرم الحرام کے حوالے سے انتظام کا جائزہ
Next Post پاک سعودی تعلقات اور بے بنیاد پروپیگنڈا
Pak-Saudi Relations

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close