Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پانی: ضمانت حیات

March 21, 2021March 21, 2021 0 1 min read
Water
Water
Water

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

‘
‘پانی”اﷲتعالی کی بہت بڑی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اﷲ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ” وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ اَفَلَا یَؤْمِنُوْنَ” (٢١:٣٠) ترجمہ: اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی ، کیا وہ (ہماری اس خلاقی کو) نہیں مانتے؟”پانی سے پیدائش اور پانی سے ہی بقائے حیات ہے۔بچہ ماں کے پیٹ میں پانی میں ہی تیرتا رہتا ہے اور پھراس دنیامیں وارد ہوتا ہے۔زمین سے اگنے والی کل نباتات پانی سے تخلیق ہوتی ہیں، اگر پانی میسر نہ آئے تو زراعت تو دم ہی توڑ دے۔قدرت نے زمین اور اہل زمن کے لیے پانی کی فراہمی کاایک شاندارنظام تخلیق کیاہے اور اسے اس طرح خود کار طریقے سے چلادیاہے کہ دیکھنے والے کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔سچ ہے کہ اللہ تعالی بہترین خلاق ہے۔ تیزدھوپ کی تمازت سے سمندروں سے پانی کے بخارات بنتے ہیں،اپنے ہلکے وزن کے باعث ہوائیں انہیں اپنے کندھوں پراٹھالیتی ہیں۔یہ بخارات جمع ہوتے ہوتے کچھ وقت میں گھن گھور گھٹاؤں کی شکل اختیارکرلیتی ہیں۔قدرت ان کے اند ر گھن گھرج بھی ڈالتی ہے اور یہ گرجتی ہوئی اورشورمچاتی ہوئی بجلیاں اللہ تعالی کے حکم سے اپنے سفر کا آغازکردیتی ہیں۔اللہ تعالی کے حکم سے یہ گھنے بادل روئی کے گالوں کی طرح آسمان پرنمودارہوتے ہیںاور اکٹھے ہو کر امڈتے ہی چلے آتے ہیں۔سمندروں سے پہاڑوں تک کاسفر یہ اللہ تعالی کے حکم سے دنوں دنوں میں طے کر لیتے ہیں۔اللہ تعالی کی شان ہے کہ پانی سے بھرے ان بادلوں کی منزل کے لیے اس جگہ پر خلا پیداکردیاجاتاہے۔اس خلا کوپر کرنے کے لیے یہ بادلوں کے قافلے جوق درجوق محوسفرہوجاتے ہیں۔ان بادلوں کے راستے میں اونچے اونچے ،بلندقامت اور دیوہیکل پہاڑی سلسلے آجاتے ہیں،جوان کے بہاؤ میں سدراہ بنتے ہیں اور یوں قدرت ان بادلوں کونچوڑ کر پہاڑوں کو سیراب کردیتی ہے۔یہاں تک پانی کے سفرکاپہلا مرحلہ مکمل ہوچکتاہے۔پانی کایہ پہلا مرحلہ مائع سے ہوائی شکل اور پھرٹھوس شکل میں پانی کی موجودگی پرمنتج ہوجاتاہے۔

دوسرے مرحلے میں پہاڑوں پربرسنے والا بارش کاپانی ایک خاص مدت تک برف کی شکل میں جمارہتاہے۔برف کے بڑے بڑے تودوں کی شکل میں پانی کایہ کردار اس کرہ ارض پردرجہ حرارت کو قابومیں رکھنے کاباعث بنتاہے۔اللہ تعالی نے زمین کے درجہ حرارت کو قابل حیات بنانے کے لیے یہ نظام تشکیل دیاہے کہ برف کے بڑے بڑے پہاڑ،تودے اور برفانی میدان اور برفانی سمندروغیرہ درجہ حرارت کو ایک خاص حدسے بڑھنے نہیں دیتے جس سے مخلوقات کو زندہ رنے کے وافرامکانات میں قابل قدرتسلسل باقی رہ جاتاہے۔اگرزمین کادرجہ حرارت ایک خاص حدسے آگے نکل جائے تو شدت حدت کے باعث پہلے مرحلے میں چھوٹی مخلوق اور پھر بڑی مخلوق بھی درجہ بدرجہ موت کے منہ میں جانے لگے جبکہ نباتات بھی اس بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی تاب نہ لا سکیں اوریہ سب پانی جیسی نعمت کے باعث ممکن ہوا۔سال کے جس دورانیے میں سورج کا طواف کرنے والی زمین سورج کے بہت قریب ہوجاتی ہے تو برف کے یہ ذخیرے پگھنے لگتے ہیں۔قطرہ قطرہ پانی بلآخردریاؤں کی شکل اختیارکرلیتاہے۔

یہ دریائی بہاؤ پہلے پہاڑی راستوں سے ہوتا ہوا، شور مچاتا، اچھلتا،چھلانگتا،پھلانگتااور آبشاریں بناتا،جھیلوں اور کاریزسے گزرتاہوااور چٹانوں سے سر ٹکراتاہوا میدانی علاقوں میں پہنچ جاتاہے۔اب یہ پانی انسانی بستیوں کے لیے وجہ ووسیلہ حیات بن چکاہے۔میدانی علاقوں میں اس پانی کو بڑے بڑے ذخیروں میں جمع کرلیاجاتاہے ،اس کی قوت بہاؤ سے کارخانوں کا پہیہ چلایاجاتاہے اور دانے پیس کر آٹابنانے سے لے کر بجلی بنانے اور بڑی بڑی مشینوں کو ٹھنڈاکرنے تک کاکام بھی اس پانی سے لیاجاتاہے۔میدانی علاقے میں دریائی پانی پر بندبناکراس سے نہریں نکالی جاتی ہیں اور نہری نظام سے پھر زرعی زمین کی سیرابی اوربنجرزمینوں کی آبادکاری جیساکام بھی اس پانی کے ذمے ہے۔جہاں جہاں سے دریاگزرتے ہیں وہاں پر زیرزمین پانی کی سطح بھی انسانی دسترس تک پہنچ جاتی ہے اور دستی و برقی کوئیں انسانی گھریلو ضروریات پوری کرنے کاباعث بن جاتے ہیں۔انسانی ضروریات سے بچاہوااور دیگر فاضل و ناقابل استعمال پانی ایک بارپھر شمال سے جنوب کی طرف بڑھتاہوادریاؤں میں بہتاہوا سمندرکی گہرائیوں میں پہنچ جاتاہے اوریوں پانی کی گردش کادوسرامرحلہ بھی پوراہونے کے بعد یہ پانی پہلے مرحلے میں باردیگرشمولیت کے لیے تیارہوجاتاہے۔صدیوں اورقرنوں سے قدرت کایہ کارخانہ اللہ تعالی کی نگرانی میں چل رہاہے اور جب تک اللہ تعالی چاہے گا چلتارہے گا۔

پانی کے بارے میں اللہ تعالی کی سنت بعض اوقات دریائی پانی کی بجائے آسمانی پانی سے کھیتوں کی سیرابی ممکن بنادیتی ہے۔اس طرح بادل پہاڑوں پر برسنے کی بجائے میدانی علاقوں پر ہی اپنے قطرے نچھاورکردیتے ہیں۔زمین کے ایک خاص موسم میں جب فصلیں تشنہ کام ہوتی ہیں اورانسان کی بار بارآسمان کی طرف اٹھتی ہوئی نگاہیں رحمت خداوندی کی منتظرہوتی ہیںتب اللہ تعالی اپنی خاص رحمت سے بادلوں کارخ میدانوں کی طرف موڑ دیتاہے اور اپنی قدرت کاملہ سے پیاسی میدانی فصلوں کو سیراب کردیتاہے اور انسانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔بعض اوقات موسم کی شدت اس قدرزیادہ ہوجاتی ہے کہ انسان گرمی سے پگھلنے لگتے ہیں،ایسی صورت میں رحمت خداوندی ایک بار پھر جوش میں آتی ہے بارش کی بوندیں ہوامیں خنکی پیداکر کے موسم کو خوشگواربنادیتی ہیں۔اسی طرح جب کبھی بارش ہوئے ایک مدت گزرجاتی ہے تو زمین سے اٹھنے والا گردوغبارفضاکواس قدر آلودہ کردیتاہے کہ انسانوں کے گلے اس کی تاب نہیں لاسکتے اور بیماریاں پھیلناشروع ہو جاتی ہیں۔

اس صورتحال میں رب رحیم کی رحمت ایک بارپھرجوش میں آتی ہے اوربارش سے زمین کے اس حصے کی فضا پاک صاف ہوجاتی ہے،بارش کی بوندیں اپنے قدرتی دباؤ سے سب میل کچیل کو زمین برد کردیتی ہیںاورانسان بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔آسمان سے برسنے والا پانی اپنی طبی تاثیرمیں زمینی پانی سے بہت مختلف ہوتاہے۔اطباء حضرات اس پانی کوجمع کرتے ہیں اور اسے دوائیوں میں ڈال کر اس کی افادیت سے فیض حاصل کرتے ہیں۔خاص طورپر جب بارش کے ساتھ اولے پڑتے ہیںتو ان برفانی اولوں کاپانی بھی بعض بیماریوں میں اکسیرکادرجہ رکھتاہے۔جولوگ سمندروں میں محوسفرہوتے ہیں ان کے لیے سمندرکاپانی پینے کے قابل نہیں ہوتااور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانابھی ایک مشکل ترمرحلہ ہوتاہے۔ایسے میں جب بارش ہوتی ہے توسمندری جہازوں میں اس برسنے والے پانی کو پینے کے لیے ذخیرہ کرلیاجاتاہے جو قدرت کا مفت تحفہ ہے۔زمین کے بھی چھوٹے بڑے گڑھے جب پانی سے خالی ہو جاتے ہیں تو قریب کے جانور دوردراز ایسے مقامات پر ہجرت کرجاتے ہیں جہاں انہیں پانی آسانی سے میسر ہوجائے۔اورجب بارش کے پانی سے سے وہ خالی گڑھے بڑھ جاتے ہیں تو جنگلی حیات و چرندوپرندمیں بھی خوشی کی لہردوڑجاتی ہے۔اللہ تعالی اس بارش سے مردہ زمین میں زندگی کی لہرپیداکردیتاہے اور گھاس کھانے والے جانور وںکے لیے رزق کے وسیع ذخائرمیسرآجاتے ہیں۔

اللہ تعالی کی سنت ہے کہ شکر کرنے سے نعمت باقی رہتی ہے اور کفرکرنے سے زوال نعمت ہو جاتاہے۔سیکولرازم نے اللہ تعالی کی پانی جیسی اس نعمت کی بری طرح ناقدری کی۔زیرزمین ایٹمی ڈھماکے کیے جس سے سینکڑوں مربع میل کے علاقے میں پانی کے تمام ذخیرے خشک ہوجاتے ہیں اور زیرزمین حیات جل کر مر جاتی ہے۔مسلمانوں نے اس دنیاپر ازشرق تا غرب کم و بیش ایک ہزارسال حکومت کی ہے۔اس کل دورحکومت میں کسی دوقوموں کے درمیان اسلحے کی دوڑ نہیں ہوئی۔مسلمان سائنسدانوں نے روم و یونان کی صدیوں سے جامد سائنسی تحقیق کی تاسیس نوکا حسین فریضہ سرانجام دیا اور ان قدرتی علوم عصریہ کو اوج کمال تک پہنچایا،لیکن کسی مسلمان ماہرعلوم نے آتشیں اسلحہ بناکر انسان دشمنی کا ثبوت نہیں دیااور نہ ہی مسلمان حکمرانوں نے انسانی بستیوں کوکسی طرح کی عالمی جنگ کے الاؤ میں جھونکا۔اس کے مقابلے میں سیکولرازم نے ایسے ایسے ہتھیار انسانی بستیوں پر آزمائے کہ ان کی گرمائش سے پانی کے بڑے بڑے ذخیرے ہوابن کر اڑگئے ۔مغربی دنیامیں بے پناہ کارخانہ سازی سے زمین کادرجہ حرارت خطرناک حدتک بڑھ چکاہے جس کے باعث زیرزمین پانی خشک ہو کر ختم ہوتاچلارہاہے۔

World Water Day
World Water Day

ان کارخانوں سے اٹھنے والا دھواں فضاسے بھی آبی بخارات کی شرح کودن بدن کم سے کم کرتاچلاجارہاہے۔سیکولرازم کا یہ فطرت دشمن رویہ یورپ میں کارخانوں کوکم کرنے کی بجائے ایشیاکے درپے ہے کہ فضائی آلودگی اور آبی قلت کاشورمچاکر یہاں کارخانے لگانابندکروائے جائیں تاکہ یورپ کی ساختہ اشیاء یہاں فروخت ہوں اور ایشیائی عوام یورپی کارخانوں کی منڈی بنی رہیں۔یورپی قیادت کی سرتوڑ کوشش ہے کہ مشرقی دنیامیں کارخانے نہ لگنے پائیں اور کارخانے لگیں بھی توان پر آلودگی ختم کرنے والاایک اوربھاری بھرکم پرزہ لگاکر یہاں کی مصنوعات اتنی مہنگی کردی جائیں کہ عوام یورپ کی بنی ہوئی ارزاں ترچیزیں ہی خریدنے پر مجبورہوجائیں۔اوراس ساری مہم کے لیے آلودگی اورقلت آب کا شور مچایاجاتاہے جب کہ اس آبی کمی کااصل ذمہ دار یورپ خودہے ۔پانی کادن منانے کاتقاضاہے یورپ کی سرزمین سے کارخانوں کے اختتام کی مہم شروع کی جائے تاکہ انسانیت کو کچھ سکون میسرآئے اور پانی کی بچت ہو۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Share this:
Tags:
blessing creation living necessities plants Water پانی تخلیق زندہ ضروریات نباتات نعمت
Khyber Pakhtunkhwa
Previous Post خیبر پختونخواہ میں بھی غیر معمولی تبادلوں کا انکشاف
Next Post پاکستان میں کورونا سے مزید 44 ہلاکتیں، مثبت کیسز کی شرح 8.7 فیصد تک پہنچ گئی
Pakistan Corona Cases

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close