Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پانی کا عالمی دِن، بھارتی آبی جارحیت اور کالا باغ ڈیم

March 22, 2013March 22, 2013 0 1 min read
Ganga Dam
Springs
Springs

کون نہیں جانتا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور کامیابی کے ساتھ پانی کا قریبی واسطہ ہے ۔بارش ،طوفانوں ،چشموں ،ندی نالوں اور دریائوں کے پانی کو محفوظ کرنے کے بعد اسے آبپاشی اور بجلی بنانے کے لئے استعمال کرکے ملکی ترقی کو دو چند کیا جا سکتا ہے۔جبکہ یہی پانی ہے جو بے قابو ہو کر دنیا میں ہر سال انسانی جانوں ہی نہیںبلکہ اربوں ڈالرکا بھی ضیاع ہو رہا ہے۔

پانی کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 22دسمبر1992ء کو منعقد ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے ہر سال 22مارچ کو دنیا بھر میں پانی کا عالمی دِن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔فیصلہ ہو ا کہ دنیا میں ہر سال پانی کی اہمیت ،اسکی ضرورت ،پانی کے وسائل کی ترقی ،اور اسکو ذخیرہ کرنے کی ضرورت کے بارے میںتحریری لٹریچر،دستاویزی فلموں ،کانفرنسوں اور سیمیناروں کے ذریعے کو شعور و آگہی دی جائے۔اس مقصد کے حصول کے لئے اقوامِ متحدہ کانفرنس اقوامِ متحدہ کانفرنس برائے ماحولیات و ترقی (یو این سی ای ڈی)کے تحت 3جون 1992ء تا 14جون 1992ء منعقد ہونے والے اجلاس میں دستاویز کے باب 18میں نکتہ نمبر 21 شامل کیا گیا۔

جس میں پانی کے متعلق ایک ایک مکمل اور جامعہ پروگرام پر عمل درآمداور نگرانی شامل ہے ۔پانی سے آنے والی آفات اور انکے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور پانی کے ذخیرے کو محفوظ کرکے تباہی کی بجائے ترقی کی طرف بڑھانے کے لئے انٹرنیشنل ہائیڈرولوجیکل پروگرام (آئی ایچ پی )بنایا گیا جو گلوبل ہائیڈرولوجیکل اور بائیو کیمیکل کے باہمی عمل ،زمین پر پیدا ہونے والے نقصانات اور انہیں رکھنے کے لئے ذخیرے بنانے اور زیر زمین پانی کے ذخائرکے محفوظ استعمال جیسے آٹھ نکات پر مشتمل ہے ۔پانی کے عالمی دِن کے موقع پر دنیا بھر میں پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف ملکوں میں کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کئے گئے ۔پاکستان میں بھی ایگری اینڈ واٹر کونسل نے ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے ملک میں آبی منصوبوں کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے پانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انٹرنیشنل ہائیڈرولوجیکل پروگرام کو دیکھا جائے تو اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دنیا پانی کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے پر عمل پیرا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک کے سیاستدان اور بیوروکریسی کی عدم دلچسپی کی بناء پر ہم پانی جیسی قیمتی نعمت کو کھوتے جا رہے ہیں۔کبھی بھارتی آبی جارحیت کے خلاف حکومتی خاموشی کا منظر آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے تو کبھی کالا باغ ڈیم کے مخالفین کے غیر سنجیدہ بیانات نظروں سے گزرتے ہیں،کبھی بگلیہار ڈیم بنانے کی دھمکیاں ملتی ہیں تو کبھی کِشن گنگا ڈیم بنا کر نیلم کا پانی روکنے کے نعرے کانوں کو تکلیف دیتے ہیں لیکن ان سارے نعروں اور باتوں کے باوجود ہمارے ملک کی بیوروکریسی اور سیا ستدانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

Rivers
Rivers

ایک طرف پاکستان کا دوسرا بڑا دُشمن بھارت پاکستانی دریائوں کے پانیوں پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور دوسری جانب ہمارے ملک میں موجود شرپسند عناصر ملکی ترقی کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ہمہء وقت اوچھے ہتھکنڈوں میں مصروف رہتے ہیں۔بہر حال یہاں یہی کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستانی بیوروکریسی اور سیاسی قوتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فی الفور آبی منصوبوں پر کام شروع کرنا چاہئے۔

پانی کے عالمی دِن کے موقع پر قارئین کو بھارتی آبی جارحیت کے بارے میں بھی کچھ آگاہ کرنے کی جسارت حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ دراصل بھارت اُس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو یکم اپریل 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندہ کے پانی کی تقسیم کے سلسلہ میںورلڈ بینک کی ثالثی میں ہوا تھا۔اِس معاہدے کے مطابق ستلج ،بیاس اور راوی کے پانی کے استعمال کا حق بھارت کو دیا گیا تھا جبکہ سندہ،جہلم اور چناب کے پانی کو پاکستان کا حق قرار دیا گیا۔

سندہ طاس کے معاہدہ 1960ء کے بعد ڈیموں اور رابطہ نہروں کی تکمیل کے سبب ہندوستان نے 1970ء میں دریائے ستلج اور دریائے راوی کا پانی مکمل طور پر اپنے استعمال میں لانا شروع کر دیاجس سے پاکستان شدید آبی بحران کا شکار ہو گیااور پاکستان کے دریائوں میں دھول اُڑنے لگی اور اِس آبی بحران کی وجہ سے آب گاہوں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔آبی حیات اور انسانی زندگی بچانے کے لئے اِن دریائوں میں پانی آنا بے حد ضروری ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک کو نہ تو آبی حیات کی زندگی سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی انسانی زندگیوں کی کوئی پرواہ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 2000ء میں اُس وقت تنازعہ شروع ہو گیا جب بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کی تعمیر شروع کر دی۔

2007میں عالمی بینک نے پاکستا ن کے جو تین اعتراضات تسلیم کرتے ہوئے بھارت کو ہدایات جاری کیں تھیں اُن میں سے ایک یہ تھا کہ دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم کی اونچائی ڈیڑہ میٹر کم کی جائے،دوسرا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے عالمی بینک نے ہدائیت کی کہ ڈیم کے ذخیرے کی استعداد پچاس لاکھ کیوبک میٹر کم کی جائے جو ہندوستان کو 37ملین کیوبک میٹر سے کم کر کے 32ملین پر لا نا تھی۔عالمی بینک نے پاکستان کا تیسرا مطالبہ بھی مانا اور ہدائیت کی کہ توانائی حاصل کرنے کے لئے بھارت کو مزید تین میٹر اونچائی سے پانی لینا ہو گا۔ بھارت نے دریائے چناب کا پانی روک کر نہ صرف سندہ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی بلکہ عالمی قوانین کو بھی چیلنج کیا۔

بھارت کے چناب کا پانی بند کرنے کی وجہ سے کپاس اور گنے کی فصلیں بُری طرح متاثرہوئیں اور اگر بھارت نے اپنے یہی عزائم جاری رکھے تو پاکستان کو 35فیصد پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ عالمی قوانین کیا کہتے ہیں؟عالمی قوانین کے مطابق اُن ملکوں پر جہاں سے کوئی دریا شروع ہوکر کسی دوسرے ملک میں بہتا ہوا جاتا ہے اُن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی حدود میں اُن دریائوں کے پانی کا بیجا استعمال نہ کریںجس سے کسی دوسرے ملک میں پانی کی کمی ہو رہی ہو۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ بھارت نے نہ تو عالمی قوانین کی کوئی پرواہ کی ہے اور نہ ہی سندہ طاس معاہدے کی۔

دریائے چناب 1086کلومیٹر لمبا ئی کا حامل یہ دریا بھارتی علاقہ ہماچل پردیش سے نکلتا ہے جس پر پاکستان کی حدود میں مرالہ ،خانکی ،قادرآباداور تریمو بیراجز واقع ہیں جِن سے نکلنے والی ہزاروں میل لمبی نہریں لاکھوں ایکڑ رقبے کو سیراب کر رہی ہیں۔ دریائے چناب کا پانی روک کر بھارت نے زبر دست قحط اور غذائی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اگر بھارت نے دوبارہ معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مرالہ راوی لنک کینال ،اپر چناب کینال،اپر گوگیرہ برانچ کینال،لوئر گوگیرہ برانچ کینال،رکھ برانچ کینال،جھنگ برانچ کینال،برالہ مین کینال،میانوالی مین کینال(ایل سی سی ایسٹ)، اور سینکڑوں ڈسٹری بیوٹریز کا پانی استعمال کرنے والے کاشتکار بے حد متاثر ہونگے۔اورپنجاب کے اضلاع سیالکوٹ،گوجرانوالہ،لاہور،شیخوپورہ،حافظ آباد،ننکانہ صاحب،فیصل آباد،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،جھنگ،ساہیوال،اوکاڑہ، اور دیگر علاقوں کا ہزاروں ایکڑ رقبہ بنجر ہونے کا خطرہ ہے۔

Ganga Dam
Ganga Dam

پاکستان نے اِس ایشو پر بار بار احتجاج کیا لیکن بھارت نے سُنی اَن سُنی کر دی ہے جبکہ پاکستانی کسان ورلڈ بینک اور اقوامِ متحدہ سے یہی مطالبہ کر تے رہے کہ بھارتی حکومت کے عزائم کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کروایا جائے بھارت کی اِس حرکت کی وجہ سے پاکستان کو روزانہ 30ہزار کیوسک سے زائد پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان ابھی بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے غصے سے باہر نہیں نکلا تھا کہ ہمیں کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے بارے میں بھی سرخ جھنڈی دکھا دی گئی اور عوام غم و غصے کا اظہار کرنے لگے لیکن حُکمران اپنی کرسیاں اور سیاسی پارٹیاں مستحکم کرنے کے درپے ہو گئے۔اقوامِ متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بھارت پر زور دے کہ وہ آئندہ سندہ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ پاکستانی حکومت کو بھی چاہئے کہ آئندہ برٹش ماہرین کا سہارا لینے کی بجائے ملک میں انٹر نیشنل واٹر لاء کے ماہرین تیار کئے جائیں۔

ہم نے ماضی میں بھی انٹرنیشنل واٹر لاء سے متعلقہ برٹش ماہرین کی خدمات حاصل کیں تھیںاور موجودہ حالات اور وقت ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم بین الاقوامی عدالتوں میں اپنے موقف بیان کرنے کے لئے سہارے ڈھونڈتے پھریں۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج اگر ہمیںواٹر ایشو پر کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جانا پڑے تو ہمارے پاس انٹر نیشنل واٹر لاء کے ماہرین موجود نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ارسا(IRSA) نے بھی انٹر نیشنل واٹر لاء کے ماہرین تیار کرنے کی تجویز دی تھی لیکن ابھی تک اُس تجویز پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔حکومتِ وقت کو چاہئے کہ وہ پانی کی صورت حال کو غور سے دیکھتے ہوئے دور اندیشی سے سوچے کہ ہم نے اپنے ملک کے اثاثوں اور سرحدوں کا تحفظ خود کرنا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کو بچانے کے لئے ہمیں چاہئے کہ تمام اختلافات بھول کر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو عملی جامہ پہنا دیں ورنہ یہاں صومالیہ اور ایتھوپیا جیسی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔اِس تمام تر صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کی آبی ضرورت اِس امر کی متقاضی ہے ہمیں دستیاب پانی کے ایک ایک قطرے کو زرعی اور اقتصادی استحکام کی خاطر بروئے کار لانے کے لئے فوری طور پر طویل المعیاد آبی منصوبے شروع کرنے چاہئیںلیکن بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بڑھکیں تو بہت ماری گئیں کہ ہم کالا باغ ڈیم اور دوسرے ڈیم ضرور بنائیں گے لیکن یہ بڑھکیں صرف اخباری بیانات کی حد تک رہیں۔

دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہم ابھی اسی جھگڑے سے باہر نہیں نکلے کہ ” کالاباغ ڈیم بننا چاہئے/کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے” ۔پاکستان کے کروڑوں لوگ چیخ چلا رہے ہیں کہ ملکی ترقی کی خاطر آبی منصوبوں بالخصوص کا لا باغ ڈیم کی اشد ضرورت ہے لیکن اُن کروڑوں لوگوں کی اس پکار کو کوئی نہیں سُن رہا بلکہ اُن چند جاگیرداروں کی آواز حکمرانوں کے کانوں میں فوراً پڑتی ہے جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے اور انکی اس بات کو بنیاد بنا کر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ چاروں صوبوں کو اعتماد میں لینے کے بعد کالا باغ کی تعمیر شروع کی جائے گی اور بعد میں اعتماد میں تو کیا اس منصوبے کا خاتمے کا ہی اعلان کر دیا جاتا ہے۔میںحکومتِ وقت سے صرف ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا اگر پاکستان کی سالمیت خطرے میں ہو تو کوئی بھی اقدام کرنے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے گا یا حکومت اپنی مرضی سے اقدام اُٹھائے گی؟۔اگر حکومت اپنی مرضی سے فوری اقدام ضروری سمجھے گی تو حکومتِ وقت کو یہ جا ن لینا چاہئے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بغیر پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

Devastated Economy
Devastated Economy

کیونکہ قحط ذدہ ملکوں کے لوگ اپنے ملک کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کرتے ہیں اور ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر پاکستان میںفوری طور پر نئے آبی ذخائر کی تعمیر یقینی نہ بنائی گئی تو چند سال تک یہاں کی عوام بھی پانی کی بوند کو ترسے گی کیونکہ ہمارا ہمسایہ ملک ہماری معیشت تباہ کرنے کے لئے مکمل منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے اور ہماری طرف آنے والے دریائوں کا پانی روکنے کے لئے منصوبے پایہء تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔بہر حال میں حکومتِ وقت سے یہی اپیل کرتا ہوں کہ خدا
راہمارے ملک کو بچائیں اور ملکی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لئے کالا باغ ڈیم کی فوری تعمیر کا آغاز کر دیں۔دوسر ی جانب میں چاروں صوبوں کے عوام سے بھی ایک مئودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ میرے پیارے پاکستان کو بچا سکتے ہیں تو بچا لیں کیونکہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہے تو باہر سے کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آئے گا۔

یہ صوبائی تعصب ختم کرکے پاکستان کے مفاد کی خاطر یک جان ہو جائیں کیونکہ ہم جب تک ایک قوم کی شکل اختیار نہیں کریں گے تب تک ہمارے ملک کو بیک گئیر لگا رہے گا۔کہتے ہیں ہمسائے کا منہ سرخ ہو تو بعض لوگ تھپڑ مار کر اپنا منہ سرخ کر لیتے ہیںپس ہمیں بھی اسی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا اور اپنے ہمسائے ملک چین کو مثال بناتے ہوئے اپنے پاکستان کو بھی ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہوگا۔آئیے ہم سب مل کر پاکستان کوقحط سے بچائیں۔
تحریر : محمد اکرم خان فریدی
email#akramkhanfaridi@gmail.com

Share this:
Tags:
aggression Indian Water بھارتی پانی جارحیت کالا باغ
Ranbir
Previous Post دیپیکا کیساتھ کام کرتے مشکل محسوس نہیں کرتا: رنبیر
Next Post کراچی : ناظم آباد اور تین ہٹی سے خاتون سمیت 4 افراد کی لاشیں برآمد
Karachi Dead Body

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close