Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

”میں سپاں دی وی ماں”

June 5, 2014 0 1 min read
Imtiaz Ali Shakir
Allah
Allah

مسلمان کا اچھی، بری تقدیر پر یقین رکھنا۔ ہر اچھے اور برے وقت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی پیشانی خالق کائنات کے سامنے سجدوں میں جھکائے رکھنے کواس کے سچے مسلمان ہونے کی دلیل کہا جا سکتا ہے ۔صحابہ اکرام جب تقدیر کے معاملے میںجھگڑتے تو سرکار دوعالم حضرت محمد ۖان سے بہت خفا ہوجاتے۔حدیث شریف میں آتا ہے ۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔رسول اللہ ۖہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مسئلہ تقدیر میں جھگڑ رہے تھے ”توآپ ۖجلال میں تشریف لے آئے حتیٰ کہ آپ ۖ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا گویا کہ رخساروں میں انار کے دانے نچوڑدئے گیے ہوں ”پھر ارشاد فرمایا کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے ”یامیں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں ”تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلے میں جھگڑے کیے توہلاک ہی ہوگئے ”میں تم پر لازم کرتا ہوں’میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلے میں جھگڑا مت کرو::تقدیر جیسی بھی ہو تقدیر بنانے اور بدلنے کی قدرت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

اس لیے ہمیں تقدیرکو دوش دینے کی بجائے اپنے اعمال درست کرنے چاہیے ۔موجودہ دور میں جب ہم ایک ہی وقت میں بہت سی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔جن میں سودی نظام کی بدولت پھیلی ہوئی دہشتگردی،بے روزگاری ہے ، مہنگائی ،نانصافی اور لاقانیت شامل ہیں۔ تاریخ گواہ ہے جنگیں کبھی بھی کسی بھی مسئلے کاحل نہیں بنیں، بلکہ جنگوں میں اورزیادہ مسائل جنم لیتے ہیں ۔جس کی جیتی جاگتی مثال اس وقت آج ہمارے آنگن میں پھیلی دہشتگردی ہے۔ اور اس قدر بے حس ہوچکے ہیں۔

ہم لوگ دہشتگردی کا نشانہ بننے والے اپنے بہن بھایئوں کی کوئی مدد کرنے کی بجائے ان کی جیبوں سے ان کے پرس ”کلائیوں سے ان گھڑیاں’چوڑیاں اور دیگر قیمتی چیزیں چوری کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔میرے نزدیک جو لوگ دہشتگردی کی واردات کرتے ہیں اور جو لوگ زخمی انسانوں کی مدد کرنے کی بجائے چوریاں کرتے ہیں ۔ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔میرے خیال میں دونوں طرح کے لوگ کسی دوسرے سے نہیں اپنے آپ سے دشمنی کررہے ہیں ۔ حضرت واصف علی واصف صاحب کایہ شعر بڑی خوبصورتی کے ساتھ ہمارے حالات کی ترجمانی کرتا ہے۔

میرے سر تے امبر ڈگیا ،میں تارے چن دی جاں
میں اپنے آپ نوں ڈنگیا ،میں سپاں دی وی ماں

ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔شعور وعقل کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی ۔سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے اپنی اصلاح کرنا ہوگی کیونکہ کسی دوسرے کی نسبت انسان اپنے آپ کو زیادہ قریب سے جانتا ہے اس لیے اگر ہم خود اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں تو کامیابی کے امکان بہت زیادہ ہونگے ۔ زاویہ نگا ہ بدلنے سے منظر بدل جایا کرتے ہیں۔اسی طرح طرز فکر میں تبدیلی سے زندگیاں بدل جایا کرتیں ہیں ۔شعور انسانی جیسے جیسے بیداری کی منازل طے کرتا ہے ”زندگی کی راہیں آسان ہو تی چلی جاتی ہیں ۔مثبت طرز فکر ہمیشہ امن وترقی کی راہیں کھولتا ہے۔جولوگ مسائل میں الجھے بغیر دستیاب وسائل کا بہتر طریقے سے استعمال سیکھ لیتے ہیںزندگی کی راہیں ان کے لیے آسان ہوجایا کرتی ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تودنیا میں ہر شے کچھ بنیادی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔

انسان چاہے کسی رنگ ونسل سے تعلق رکھتا ہو۔کوئی سی بھی زبان بولتا ہو۔وہ معاشرے کااہم حصہ ہوتا ہے ۔انسانی اکائیوں کے مجموعہ کو معاشرہ کہتے ہیں ۔انسانی معاشرہ کو بھی کچھ ایسے اجزاء کا مجموعہ کہا جاسکتا ہے ۔جس میں اگر تمام اجزاء اپنا اپنا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیں تو معاشرے کی گاڑی بڑی کامیابی سے بہتری کے سفر میں رواں دواں رہتی اور کامیابی کی بہت سی منزلیںباآسانی طے کرتی ہے۔آج پاکستان میں بے پناہ قدرتی وسائل دستیاب ہونے کے باوجود پاکستانی عوام فاقہ کشی پر مجبور ہے۔وسائل سے مالامال پاکستان میں 80فیصد سے زیادہ لوگ انتہائی غربت کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

Pakistani People
Pakistani People

ایسا کیوں ہے ؟کیا ہم نے آزادی کے 66برس گزار کر بھی اپنے وسائل کو صحیح طرح سے استعمال کرنا نہیں سیکھا ؟کیا پاکستانی عوام آج بھی با شعور نہیں ہے؟کیا ہمیں آج اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت طرز فکراپنانے کی ضرورت نہیں ہے ؟کیا ہم دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کی بجائے اپنا اپنا کام بہتر طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتے ؟میرے عزیز ہم وطنوں ایسے اور بھی بہت سوالات ہیں ۔جو ہمیں خود سے کرنے ہیں نہ کہ کسی دوسرے سے ۔مثال کے طور پر ملک میں غربت میں کمی کیسے ہوگی؟اس سوال سے ہماری قومی ترقی جڑی ہوئی ہے ۔اس لیے یہ سوال بڑی زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔قوموں کے خوش حال مستقبل کا بچت کے ساتھ بہت گہراتعلق ہوتا ہے۔

سمجھدارلوگ اپنا پیٹ کاٹ کر کچھ نہ کچھ وسائل زندگی میں آنے والے برے وقتوں کے لیے جمع رکھتے ہیں ۔تاکہ مشکل وقت میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے ۔غریبوں کے لیے مکان خریدنا ”کسی بیماری کی صورت میں علاج معالج یا بچوں کی شادیاں کرنا دنیا کے مشکل ترین کام ہیں ۔اس لیے غریب لوگ بچوں کے پیدا ہوتے ہی بچوں کے بہتر مستقبل ”تعلیم وتربیت کے لیے بچت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ بھی ایک مثبت طرز فکر ہے۔

۔ہم بحیثیت قوم بچت کو اپنا شعار بناتے اور مثبت طرز فکر اپناتے تو یقیناآج ہمیں کمرتوڑمہنگائی”بدترین کرپشن”آسمان کو چھوتی ہوئی بدامنی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ناانصافی،اقربای پروری ،’تیزرفتاری سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورلوڈشیڈنگ کے درد ناک عذاب کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔پاکستانی معاشرے کے تمام اجزاء اپنا اپناکام صحیح طریقے سے کرتے توآج ہم بھی دنیامیں ایک مہذب اور باوقارقوم کی حیثیت سے سراٹھاکرزندگی گزار رہے ہوتے ۔بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکااور آج ملک میں فیکٹریاں اورکارخانوںکا پہیہ جام ہوچکا ہے ۔بے روزگاری اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غریب کا چولہا ٹھنڈا ہوچکا ہے ۔بے بسی کے عالم میں بے روزگاری اور تنگ دستی سے مجبور لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

اپنے ہی معصوم بچوں کو بھوک سے تڑپتا دیکھنے کی بجائے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو موت کے سپرد کررہے ہیں ۔حالات اس قدر خراب ہونے کے باوجود بھی ہم در پیش مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ایک دوسرے پر الزامات کی چھریاں چلانے کے سوا ہمیں کوئی کام نہیں آتا۔حکمران عوام کو اور عوام حکمرانوں کو پربرا بھلاکہہ کروقت گزار رہے ہیں ۔کسی معاشرے میں حکمران طبقہ ایمانداری اور نیک نیتی سے اپنے فرائض سرانجام دے تو عوام کو مجبورااپنے معاملات ٹھیک کرنے پڑتے ہیں ۔ حکمران ہی جھوٹ اور ٹال مٹول کی پالیسی پرعمل پیرا ہوجائیں ،عوام کو روٹی کے لالے پڑے ہوں تو پھر مثبت طرزفکر تو دور کی بات ہے مثبت سوچ بھی انسانی ذہن کے قریب سے نہیں گزرتی۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم کائنات کی بہترین قوم یعنی مسلمان اورآزاد پاکستان کے باسی ہو کر بھی ذلت وروسوائی کی دلدل میں روزبہ روز دھنستے چلے جارہے ہیں۔

آج ہمیں یعنی عوام کو حکمرانواں کو برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے اعمال درست کرنے کی اشدضرورت ہے۔جب تک عوام خود کرپشن کرنا نہیں چھوڑتے تب تک ممکن ہی نہیں کہ حکمران کرپشن نہ کریں ۔میرے عزیز ہم وطنوں آج ہم نیک اور پرہیزگاروں کو بھی اپناحکمران چن لیںلیکن خود کو تبدیل نہ کریں تو نیک اور پرہیزگار لوگ بھی حکومت میں آنے کے بعد بے ایمان اور کرپٹ ہوجائیں گے ،بالکل اس مسلمان ریاست کی طرح جس کے حکمران جب عوام پر ظلم کرتے تو عوام اللہ تعالیٰ سے کہتی کہ یا اللہ حکمران ظالم بن گیا ہے۔

یااللہ اس ظالم حکمران کو بدل کرہمیں نیک اور عوام کا درد رکھنے والا حکمران عطا فرما ۔قوم جب بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی وہ قبول ہوتی اور ان کا بادشاہ اگلادن آنے سے پہلے ہی مرجاتا اوراس طرح عوام کو نیا حکمران مل جا تا۔ایک موقع ایسا آیا جب حکمران خاندان کے سب ولی عہد اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے ۔اب قوم کو ریاست کے معاملات چلانے کے لیے ایک صاحب علم شخص کی ضرورت محسوس ہوئی ۔عوام نے ریاست کے سب سے بڑے عالم دین کو ریاست کا بادشاہ مقرر کردیا ۔عالم دین یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اس نے عوام پر ظلم کیاتو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گی جس کے نتیجے میں اس کی موت لازم ہوجائے گی ۔وہ یہ بھی جانتا تھا کہ حکومت کے نشے میں حکمران کا مست ہونا فطری بات ہے۔

اس نے ہمسایہ ریاست جو کہ غیر مسلم تھی سے سور کی کھال کے مشکیزے بنوائے اور اپنی ریاست کے سب پانی بھرنے والوں کو بلا کر ان سے پرانے مشکیزے واپس لے کر ان کو سور کی کھال کے بنے ہوئے نئے مشکیزے دے دیے اور کچھ عرصہ تک بڑی ایمانداری اور نیک نیتی سے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ۔اور پھر جب اس نے محسوس کیا کہ عوام کے رگوں میں حرام سرایت کرچکا ہے تو ان عوام پر ظلم ڈھانے شروع کردیے ۔جب بادشاہ کے ظلم حد سے بڑے تو عوام نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا شروع کردیں لیکن قوم انجانے میں ایک عرصے سے سور کی کھال کی بنی مشکیزے کے ذریعے بھرا پانی پی رہے تھے جو کہ اسلام میں حرام ہے۔ اس لیے اس بار قوم کی دعائیں نہ قبول ہوئیں۔

اس ساری کہانی کو بیان کرنے کا مقصدیہ ہے کہ اگر ایک مسلمان قوم انجانے میں حرام کھاتی ہے جسکا اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے تواس کی دعائیں بارگاہ الہیٰ میں رد ہوجاتیں ہیں ۔توپھر جان بوجھ کرحرام کھانے والوں کی دعائیں کس طرح قبول ہوسکتی ہیں ۔آج ہمیں اپنے گریبان میں جھاکنے کی ضرورت ہے نہ کہ دوسروں کے۔ خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم حرام تو نہیں کھا رہے۔ خود سے یہ جواب ملے کہ ہاں ہم حرام کھارہے ہیں تو پھرمزید وقت ضایع کیے بغیر ہمیں اللہ تعالیٰ سے مافی مانگنے اور سچے دل سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہلال و حرام کی تمیز کرنے کے ساتھ ساتھ آج ہمیں دوسروں کو برا کہنا چھوڑ کر مثبت طرزفکر اپناتے ہوئے اپنی اپنی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے ۔تاکہ ہم بھی خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان اورخوبصورت مسلمان معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔سب سے اہم یہ کہ حکومت پاکستان سودی نظام کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ،عوام ہی اس مسئلے کے خلاف نکلیں تو نکلیں یا پھر علماء اسلام اپناکردار داد کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ راہ حق پر چلنے کی ہمت عطا کرے۔ آمین

Imtiaz Ali Shakir
Imtiaz Ali Shakir

تحریر:امتیاز علی شاکر:کاہنہ :لاہور
imtiazali470@gmail.com.03154174470

Share this:
Tags:
duties people prohibition Water پانی حرام دعائیں شروع فرائض قوم محسوس
Sardar Mohammad Raza
Previous Post جسٹس سردار محمد رضا کا چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ کے عہدے کا حلف
Next Post جوابی کاروائی کا ڈر، امریکا فوجی کی رہائی کیلئے کارروائی نہ کر سکا
America

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close