Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کالا پانی کی سزا 1857 سے1947

February 17, 2016February 17, 2016 0 1 min read
Violence in Jail Prison
Violence on Jail Prison
Violence on Jail Prison

تحریر: شہزاد حسین بھٹی
قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی روایت تو بہت قدیم ہے۔ مگر انگریزوں کے قید خانوں کی داستانوں میں سب سے بھیانک ”کالے پانی کی سزا” یعنی ایڈیمان کے جزیرہ میں قیدکی روایت ہے جس کا تسلسل گوئن ٹانا موبے کے جزیرے تک پھیلا ہواہے۔ جزیرہ ایڈیمان کی بندرگاہ کا نام اْس زمانے سے بلیئر پورٹ چلاآرہاہے۔یہ نام آر چی نالٹ بلیئر کے نام پر رکھ گیا تھا جس نے1782ء میں پہلی بار اس جزیرہ پر قبضہ کیاتھا۔لیکن غیر صحت مندانہ فضا اور سانپوں اور بچھوؤں کی کثرت کی وجہ سے 1796 ء میں اس جزیرے کوآزاد کردیا تھامگر 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے اس جزیرے کی ضرورت کو محسوس کیا اور 1858 ء میں دوبارہ اس پر قبضہ کرکے اسے انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک جیل میں تبدیل کر دیا۔ جہاں سے زندہ واپس آنے کا تصور بھی نہیں تھا۔

جب 1957 ء میں جنگ آزادی کی یاد میں انڈیا اور پاکستان میں سو سالہ تقریبات ہوئی تھیں تو ساحر لدھیانوی نے کہا تھا۔ برطانیہ کوجنگ آزادی کے قتل عام پر نہ سہی لیکن کالے پانی کے مظالم پربرصغیر کے لوگوں سے ضرور معافی مانگنی چاہئے۔کہا جاتا ہے کہ کالے پانی کا انچارج جی پی واکر قیدیوں کے ساتھ تقریباً وہی سلوک کرتا تھاجو مغربی تہذیب کے سپوتوں نے عراق کے سیولین قیدیوں کے ساتھ کیا۔اور وہاں کے قوانین بھی ویسے ہی تھے جیسے گوئن ٹا ناموبے کے ہیں۔1945ء میں جب کالے پانی کی جیل کی عمارت کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے تو آزادی کی متوالونے کہا “نہیں ظلم کی یہ علامت گرائی نہیں جا سکتی یہ تو آنے والی نسلوں کو اس بات کی خبر دے گی کہ ظلم کی کس تاریک رات سے گزر کر ہم یہاں تک آئے ہیں”۔

کالے پانی کے پس منظر میں کئی افسانے بھی لکھے گئے ہیں جن میں سلیم شہزاد کا افسانہ”سفید رنگت کا کالاپانی ”بہت اہم ہے اس کی کہانی صرف اتنی ہے کہ ایک بہت بڑے عالم دین اور مجاہد کو جب کالے پانی کی سزا ہوئی تو جیلر نے دیکھا کہ تمام ترظلم و ستم کے باوجود اس شخص کے چہرے پر کسی طرح کے کوئی پریشانی نہیں دکھائی دیتی۔تو اس نے اس کے مذہبی جذبات سے کھیلنا شروع کیا اس کی داڑھی منڈوادی۔ مگر پھر بھی وہ مطمئن دکھائی دیتا تھا حالانکہ اسے کھانے کیلئے صرف ایک وقت گھاس ابال کر دی جاتی تھی اور بھاری آہنی زنجیریں پہنا کر اس سے دن بھر انتہائی سخت مشقت لیجاتی تھی۔جیلر نے ایک دن ایک فاحشہ عورت بلا کرنیم برہنہ حالت میں اس کے ساتھ اس کی کوٹھری میں بند کردیا مگر جب جیلر کو ایک سپاہی نے آکر بتایا کہ وہ عورت تو اس کوٹھری میں نماز پڑھ رہی ہے تو اسنے دونوں کو قتل کرادیا۔

Prisoner
Prisoner

انگریز حکومت ، خطرناک مجرموں کو ملک بدر کر کے ، ساری عمر کے لئے جزائر انڈیمان میں جیل (کالا پانی)بھیج دیتی تھی جہاں پینل کوڈ میں درج کئیے جانے والے 511 جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو قید کر دیا جاتا تھا۔ کالا پانی جیل کا عملہ انگریزکی خواہش کے مطابق مقرر کیا جاتا تھا ۔ ا ُس دور میںکچھ قیدی وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے ، بہت سے بھاگنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار تے تھے۔اُس جیل میں ملاوٹ شدہ خوراک ، جھوٹ ، رشوت خوری ، قتل ، زنا بالجبر، اغوا ، حرام کاری ، حرام خوری سے لے کر زندہ اور مردہ انسانوں کی عزت لوٹنے کا جرم کرنے والے تقریباً اٹھارہ کروڑ مجرم ، ساری عمرکے لئے قیدکئے جاتے تھے تا کہ باقی انسانیت کو محفوظ رکھا جا سکے

جزائر انڈمان نکو بار بحرِ ہند میں واقع ہیں۔ ہندوستان سے جزائر انڈمان نکو بار کی غیر معمولی دُوری کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ انڈومان کی جنوبی سرحد سے ملیشیا صرف ایک سو کلومیٹر دور ہے ،اسی طرح اس کی سرحد کی لمبائی کا اندازہ صرف اس سے ہوتاہے کہ اس کی شمالی سرحد سے برما صرف ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ،انڈومان پوری دنیا میں اس اعتبار سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے کہ وسطی انڈومان میں تقریباً ساڑھے چھ سو مربع کلومیٹر کے جزیروں میں پتھروں اور فولاد کے زمانہ کے تہذیب وتمدن سے عاری وحشی قسم کے لوگ آج بھی موجود ہیں جو ہمیشہ برہنہ رہتے ہیں ،پوری دنیامیں ان کی زبان کوئی نہیں سمجھ سکتا ،وہ مہذب انسانوں سے دور بھاگتے ہیں ،زندگی بھر جنگلوں سے باہر نہیں نکلتے ،ان کے سر گول ہیں اور آنکھیں باہر نکلی ہوئی

لیکن ان کے دانت نہایت چمکیلے وسفید اور بال گھنگریالے ہیں ،ان کی غذا کیڑے مکوڑے ، سمندری کیچوے اور جنگلی پھل ہیں،آج بھی وہ ماچس کے بجائے پتھر رگڑ کر آگ جلاتے ہیں ،ان کے مکانات اور رہن سہن کو دیکھ کر ہر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ حضرت آدم کے زمانہ کے قرن اول کے لوگ ہیں ۔ زمانہ میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعہ یا زمین پر ہونے والے کسی بھی حادثہ کا نہ ان کو علم ہے نہ اس سے کوئی واسطہ ،حکومت کا کوئی قانون ان پر نافذ نہیں ہوتا، یہ لوگ شہری اور مہذب انسانوں سے وحشت کرتے ہیں اور ان سے دور بھاگتے ہیں یا پھر ان پر حملہ کرتے ہیں ،ان کے علاقوں کو حکومت نے محفوظ قرار دے کر اس کے آس پاس پہرہ بٹھا دیا ہے ،سرکاری اجازت کے بغیر کوئی وہاں نہیں جاسکتا،آج بھی ان وحشی انسانوں کی تعداد کا صحیح علم نہ حکومت کو ہے اور نہ کسی اور کو۔ انڈومان کے یہ جزائر یوں تو صدیوں سے آباد ہیں اور وہاں کے قریب سے ہمیشہ تجارتی وسیاحتی قافلے گزرتے رہے لیکن وہاں رک کر مستقل آباد ہونے کی ان وحشی انسانوں سے ڈر کی وجہ سے کسی کی ہمت نہیں ہوئی پہلی دفعہ 1759 ء میں سبز قدم انگریز قیدیوں کی مستقل کالونی بنانے کے لیے اس کالونی پر وارد ہوئے تو یہاں کے غیرمہذب وحشیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اور ایک خوں ریز جنگ کے بعد یہاں کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت فرنگی لشکری یہاں اپنے200قیدیوں کو لے کر اس زمین پر قابض ہونے آئے تھے۔

Cellular
Cellular

آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کسی قیدی کو انڈمان بھیجنے کے لیے ”کالا پانی” لفظ کا استعمال کیوں کیا جاتا تھا۔ ممکن ہے اس کا مطلب ”سمندر پار” بھیجنا رہا ہو جو ہندوستان سے ہزاروں کوسوں دور واقع تھا، اور ہندوستانی محاورے میں طویل فاصلے کے لیے ”کالے کوس” جیسے الفاظ پہلے ہی سے رائج تھے۔کالا پانی کی سزا ایسے باغیوں اور مجرموں کو دی جاتی تھی جنھیں سزاے موت کی بجاے عمر قید کی سزا دینی ہوتی تھی۔ لیکن بیسویں صدی کی ابتدا میں یہ سزا انھیں بھی دی جانے لگی جنھیں برطانوی نوآبادیاتی نظام اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔

کالا پانی کو ایک طرح سے ملک بدر کی سزا سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں کے دور میں کبھی اس طرح کی سزا کسی ہندوستانی کو نہیں دی گئی، غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندو دھرم کے لوگ سمندر پار جانے کو ”گناہِ عظیم ”تصور کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ سمندر پار کرنے سے ان کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ذات کھو دیتے ہیں۔ہندوستان کے مسلم حکمرانوں نے ان کی اس فکر کا سیاسی طور پر احترام کیا اور کبھی کسی غیر مسلم کو براہِ سمندر ملک بدر کرنے کی سزا نہیں دی۔یہ روایت بلا شبہہ انگریزاپنے ساتھ لائے۔

کالا پانی کا نام سنتے ہی ذہن میں اس جیل خانے کا نقشہ ابھر آتا ہے کہ جہاں جو بھی ایک مرتبہ گیا وہ شاذ ہی زندہ واپس لوٹا بلکہ اس کی لاش کو بھی اپنے وطن کی مٹی نصیب نہ ہوئی۔ کرہ ارض پر یوں توکئی اور جیلیں بھی موجود ہیں امریکہ نے القاعدہ اور طالبان قیدیوں کیلئے گوانتاناموبے جیسی اذیت ناک جیل بنائی ہے مگر کالا پانی کی جیل اس سے بھی بدتر تھی۔ اس جیل میں قیدی اگر سخت جسمانی مشقت سے نہ مرتے تو ملیریا سے ضرور مر جاتے کیوں کہ جس جزیرے پر وہ بنائی گئی تھی وہاں ملیریا کی بیماری عام تھی اور اس کا علاج نہ ہونے کے برابر۔ جو قیدی خوش قسمتی سے1947میں آزادی ہند کے موقع پر وہاں سے رہا ہو کر واپس آئے ان کی زبانی اس قید خانے میں ان کے ساتھ جو ذلت آمیز سلوک کیا گیا تھا اس کی روداد سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

Arrest
Arrest

جب ہندوستان میں جنگ آزادی کی آگ بھی بھڑک اٹھی اور ہزاروں آزادی کے متوالوں کو گرفتار کیا گیا جن کو محفوظ جیلوں میں رکھنا مقصود تھا چناں چہ ان کو بطور سزا ان دلدلی جزیروں میں بھجوایا گیا اور ان کو جبری مشقت پر مجبور کرکے ان سے وہاں جیل کی تعمیر میں مزدوری کرائی۔ اس جیل کی تعمیر1906ء میں سلطنتِ انگلشیہ کے باغیوں کو اذیت دینے کے لیے کی گئی تھی۔ چوں کہ اس جیل کی اندرونی ساخت سیل(کوٹھری) جیسے ہے ، اس لیے اس کا نام سیلولر جیل رکھا گیا۔ تعمیری لحاظ سے دیکھا جائے تو اس جیل کے درمیان میں ایک ٹاور بنا ہے، جس سے سات شاخیں پھوٹتی ہیں۔

یہاں سے قیدیوں کی سخت نگرانی کی جاتی تھی۔یہاں ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے مجاہدینِ آزادی کو رکھا جاتا تھا، انھیں سخت اذیتیں دی جاتی تھیں جن میں چکی پیسنا ، تیل نکالنا، پتھر توڑنا، لکڑی کاٹنا، ایک ایک ہفتے تک ہتھکڑیاں باندھے کھڑے رہنا، تنہائی کے دن گزارنا، چار چار دن تک بھوکے رکھنا، دس دس دنوں تک کراس بار کی حالت میں رہنا وغیرہ شامل تھے۔ تیل نکالنے کی مل میں کام کرنا تو اور بھی درد ناک تھا۔ عموماً یہاں سانس لینا بہت دشوار ہوتا تھا ، زبان سوکھ جاتی تھی، دماغ سن ہو جاتے تھے، ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے تھے۔

کئی قیدیوں کی اس میں جان بھی جا چکی تھی۔ ان کا جرم محض یہ تھا کہ انھوں نے مادرِ وطن سے محبت کی تھی اور اسے انگریزوں کے پنجہِ استبداد سے نجات دلانا چاہتے تھے۔30دسمبر 1943ء کو یہاں نیتا جی سباش چندر بوس نے ہندوستانی پرچم لہرایا، دوسری جنگ عظیم کے سبب اب یہاں قیدیوں کو لانا ممکن نہیں رہ گیاتھا اس لیے برطانوی حکومت نے اس قید خانے کا استعمال ترک کر دیا۔1947 میں آزادیِ ہند کے ساتھ ہی یہ جیل ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئی جزائر انڈیماں اورنکور بار پر اب انڈیا کا کنڑول ہے اور کالا پانی جیل میں اب ایک پانچ سو بستروں کا ہسپتال اور میوزیم قائم ہے۔

Shahzad Hussain
Shahzad Hussain

تحریر: شہزاد حسین بھٹی

Violence in Jail Prison
Violence in Jail Prison
Share this:
Tags:
Captured old prison prisoners punishment story treatment Water انگریزوں پانی جیل داستان سزا سلوک قبضہ قدیم قیدی
Ikhlaq
Previous Post خلق مروت کی ضرورت
Next Post مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کر اختیار نہ دے کر سندھ حکومت ہٹ دھرمی کی مرتکب ہورہی ہے ۔نعیم کھو کھر
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close