
لاہور : پنجاب اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (پیڈا) کے جنرل مینجر افضل انجم طور نے کہا ہے کہ پانی چوری کی موثر روک تھام کے لئے محکمہ آبپاشی کے افسران کا مروجہ قوانین پر مکمل عبور ناگزیر ہے کیونکہ قانونی طریقہ کار سے مکمل واقفیت کے بغیر قانون شکنی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
یہ بات انہوں نے آج گورنمنٹ انجینئرنگ اکیڈمی ٹھوکر نیاز بیگ میں سب ڈویژنل کینال آفیسرز اور ایگزیکٹو انجینئرز کے لئے منعقدہ ٹریننگ ورکشاپ میں لیکچرکے دوران کہی۔ اس موقع پر لاہور زون میں تعینات ایگزیکٹو انجینئرز اور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز کے علاوہ محکمہ آبپاشی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
ورکشاپ میں شرکاء کو کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ 1873 کی دفعہ 70 کے تحت پانی چوری کی روک تھام کے لئے کینال افسران کو حاصل اختیارات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ ورکشاپ میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل مینجر پیڈا نے بتایا کہ کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ کے تحت پانی چوری کے مجر م کو ایک سال قید اور پندرہ ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے افسران کو مذکورہ ایکٹ میں وقتاً فوقتاً ہونے والی ترامیم کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا اور قواعد و ضوابط پر موثر عمل درآمد کے طریقے اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں بتائے۔ اس موقع پر انہوں نے شرکاء کو مختلف قسم کے ہینڈ آؤٹ اور معلوماتی مواد بھی فراہم کیا جسکی مدد سرکاری فرائض کی انجام دہی کو بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ورکشاپ میں شرکاء نے جنرل مینجر پیڈا سے موضوع سے متعلق کئی سوالات کئے جن کے نہایت مد لّل جوابات دیئے گئے۔
واضح رہے کہ سیکرٹری آبپاشی نے ہدایت کی تھی کہ صوبہ بھر کے تمام کینال زونز میں فیلڈ افسران کے لئے پانی چوری کی روک تھام کے لئے ورکشاپس منعقد کروائی جائیں تا کہ افسران ضروری معلومات حاصل کر کے سروس ڈیلیوری کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس سلسلے میں ہر کینال زون میں ایک ورکشاپ منعقد کروائی گئی ہے۔
