Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

وزیرستان عسکریت پسندی سے امن کی دہلیز تک

February 3, 2019 0 1 min read
Waziristan Militants
Waziristan Militants
Waziristan Militants

تحریر : قادر خان یوسف زئی

پاکستان کے سب سے حساس علاقے وزیر ستان کو پاکستانی عوام سمیت دنیا بھر کے تمام ذرائع ابلاغ کے لئے بھی کھول دیا ہے۔شمالی وزیرستان خیبر پختونخوا کا ضلع اور بنوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کا صدرمقام میران شاہ ہے۔وزیر اور داوڑ قبائل یہاں کے بڑے قبائل شمار ہوتے ہیں۔ جب کہ جنوبی وزیرستان کا صدرمقام وانا ہے ۔محسود قبیلہ یہاں کا سب سے بڑا قبیلہ ہے۔ اس کے علاوہ وزیر قبیلہ بھی اہم ہے۔ وزیرستان کا علاقہ 1500مربع کلومٹر پر محیط ہے۔ وزیرستان کے شمال میں دریائے ٹوچی اور جنوب میں دریائے گومل تک پھیلا ہوا ہے جبکہ مشرق میں ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان اور ایف آر ٹانک جبکہ شمال مغرب میں افغانستان کے صوبے خوست اور پکتیکا واقع ہیں۔ 1893 تک وزیرستان انگریز حکومت سے الگ ایک آزاد قبائلی علاقے کے طورپر شمار ہوتا تھا۔1947میں جب پاکستان وجود میں آیا تو وزیرستان بھی اس میں ضم ہوا۔

پڑوسی ملک افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت کے بعد خطے میں جنگ چھیڑ گئی اور عالمی قوتوں نے افغانستان میں بالادستی کی جنگ شروع کردی۔ پاکستان نے سوویت یونین کو اپنی مملکت سے دور رکھنے کے لئے امریکا کا ساتھ دیا اور پھر افغان طالبان وجود میں آئے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرحدوں کی حفاظت کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔ قبائل پاکستان اور افغانستان میں مل جل کر رہتے آئے ہیں ۔ تاہم جب سوویت یونین کو شکست کا سامنا ہوا اور افغانستان سے انخلا ہوا تو افغانستان میں اقتدار کے لئے جنگجو گروپوں میں خانہ جنگی شروع ہوگئی ۔ مختلف گروپ بن گئے ۔ جس سے پاکستان براہ راست متاثر ہوا۔ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بعض جنگجو گروپ واپس پاکستان آگئے اور انہوں نے وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں اپنے بیس کیمپ بنا لئے۔ اس دوران نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا اور امریکا ، افغانستان پر حملہ آور ہوگیا ۔

پاکستان نے نیٹو افواج کو سہولت فراہم کی ۔سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے2016 کے آخر میںافغانستان سے انخلا کا اعلان کردیا لیکن صدر ٹرمپ وعدے پر مکمل عمل درآمد نہ کرسکا۔ عبوری حکومت کو افغان طالبان نے تسلیم نہیں کیا اور 17برس سے افغانستان امریکی جنگ کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے ۔

پاکستان میں عسکریت پسندوں نے افغان طالبان کے منشور سے ہٹ کر پاکستان میں شدت پسندی کی کاروائیاں شروع کردیں اور دنیا کو یہ تاثر دیئے جانے لگا کہ پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان ، افغانستان کی باقاعدہ شاخ ہے ۔ لیکن افغان طالبان نے کالعدم تحریک کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات اور عام عوام و مقامات کو نشانہ بنانے اور پاکستانی فورسز کے خلاف کاروائیوں پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو علیحدہ تنظیم قرار دیا اور بازار ، مدارس ، عوامی مقامات پر حملوں اور خودکش دھماکوں کی مذمت کی کہ امارات اسلامیہ اسے عوامل کی حمایت نہیںکرتی ہے۔ پاکستانی حکومت نے پاکستان عسکریت پسندوںسے مذاکرات کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن وزیر ستان میں شدت پسندوں نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں تھی ، جس کے سبب پاکستان کا کوئی علاقہ شدت پسندوں کی زد سے محفوظ نہ رہا تھا ۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں کئی آپریشن کئے اور شدت پسندوں کو پسپا کیا لیکن شدت پسند جنوبی و شمالی وزیر ستان میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے جس کے بعد ضروری ہوگیا تھا کہ ایک بڑا اور جامع آپریشن کیا جائے۔ جس کے بعد لاکھوں قبائلی عوام نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کا ساتھ دیا ، اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے اور پھر مختصر عرصے میں سیکورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کرکے وزیرستان کو عسکریت پسندوں کے چنگل سے آزاد کراکر کر ملاکنڈ ڈویژن کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ریاست کی رٹ قائم کردی جس میں جنوبی و شمالی وزیر ستان بھی شامل ہیں۔

عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کے بعد اب عام عوام بغیر سیکورٹی لئے جنوبی و شمالی وزیر ستان کے کسی بھی حصے میں جا سکتے ہیں ۔ وزیر ستان میں محسود اور وزیر قبائل سمیت دوتائی قبیلے کے افراد بھی آباد ہیں۔67برس بعد اقلیتی برادری کو ڈومی سائل کا حق ملا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں وزیر ستان کو جنوبی وزیر ستان اور شمالی وزیرستان کے نام سے جاناجاتا ہے۔ میران شاہ اور وانا کی پہچان ، شدت پسندی کے حوالے معروف رہی ، کالعدم تنظیموں کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کے اندوہناک واقعات کا ہونا معمول بن چکا تھا ۔ شدت پسندی و انتہا پسندی وزیر ستان کی پُرامن عوام کی پہچان کہلاتی تھی۔

امریکا کی جانب سے وزیر ستان کے علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی و پناہ گاہوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔ پاکستان نے وزیر ستان میں امن قائم کرنے کا جو عزم کیا تھا اُسے پاکستان کے ذرائع ابلاغ ہی نہیں بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ خود مشاہدہ کررہے ہیں۔ عام افراد سے انٹرویو کررہے ہیں اور جہاں جانا چاہتے ہیں انہیں کوریج کے لئے نہیں روکا جاتا۔ حالیہ انتخابات میں سیاسی سرگرمیاں بھی بحال ہوئیں اور قومی اسمبلی میںوزیر ستان کے نمائندے پارلیمانی رکن منتخب ہوئے۔ وزیر ستان میں امن کے پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دیں ہیں ۔ خاص طور پر وزیرستان کی عام عوام نے سیکورٹی اداروں کا ساتھ دے کر قربانی کی تاریخ رقم کی ہے۔

یہ غیر معمولی کارنامہ ہے۔ سیکورٹی فورسز نے جہاں شدت پسندوں کو وطن عزیز سے پاک کیا تو دوسری جانب عالمی برداری کے لئے وزیر ستان کے دروازے کھول دیئے کہ جہاں پاکستان کا کوئی عام شہری جانے کا تصور نہیں کرسکتا تھا آج وہاں امن کا دور دورہ ہے۔پاکستانی الیکٹرونک میڈیا اور عالمی ذرایع ابلاغ وزیرستان کا وہ چہرہ دکھا رہے ہیں جو عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے بعد پُر امن وزیر ستان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

گو کہ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے آپریشنز سے وزیرستان کے انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے جیسے بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بڑی حد تک ازالے کے لئے ایک بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے جو پاکستان اپنے وسائل سے پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ وزیر ستان میں جہاں انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور عام مکینوں کو خوف و دہشت کی فضا سے نکالنے کے لئے مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کیا جارہا ہے ۔تاہم اب بھی نقصانات کا مکمل ازالہ ممکن نہیں ہوسکا ہے ۔

یہاں پہلے امن کی ضرورت تھی ، عسکریت پسندوں کو شکست دینا کا مقصد تھا۔ جس میں سیکورٹی فورسز کو کامیابی ملی ۔ اس کے بعد لاکھوں آئی ڈی پیز کی باحفاظت واپسی اور بحالی سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا اور اس بڑے انسانی المیے کو بھی بڑی کامیابی اور برد باری سے مکمل کیا گیا ۔ اب یہاں تجارتی سرگرمیوں اور انفراسٹراکچر کی بحالی کی بات کی جاتی ، امن و امان کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا جاتا ہے۔

وزیر ستان سے عسکریت پسندوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز اور عام افراد و عوامی مقامات کو نشانہ بنایا جاتا تھابیت اللہ محسود عسکریت پسند تنظیم کا سربراہ تھا ۔ میراں شاہ میں 2008میں مکین نامی علاقے میں ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن بیت اللہ محسود اس حملے میں محفوظ رہا ۔بیت اللہ محسود نے پاکستان میں خودکش حملوں میں اضافہ کیا ، یہاں تک بے نظیر بھٹو پر حملے میں سابق وزیر اعظم کی شہادت بھی بیت اللہ محسود کی سازش کا ماسٹر مائند قرار دیا گیا ۔ حکومت نے وزیر ستان میں امن کے قیام کے لئے کوششوں کرنا شروع کردی تھی کیونکہ2003سے پاکستان میں ہر دہشت گردی کے واقعات کے جڑیں وزیرستان سے ملتی تھی ۔جون2008میں بیت اللہ محسود نے جنڈالہ کے مقام سے40افراد کو اغوا کرلیا او ر ان میں سے28افراد کو ہلاک کردیا۔

جولائی2008میں القاعدہ کے رہنمامرہت مرصیالسیّد کو ڈرون حملے میں ہلاک ہوا ۔ امریکا نے اس کے سر کی قیمت پانچ لاکھ ڈالر رکھی ہوئی تھی ۔نومبر 2008تک امریکا وزیرستان میں 76ڈرون حملے کرچکا تھا ۔واضح رہے کہ2004سے2017تک 429ڈرون حملے کئے گئے ۔ بش انتظامیہ کے دور میں51،اوبامہ انتظامیہ کے دور میں373 اور ٹرمپ انتظامیہ دور میں پانچ ڈروں حملے کئے گئے۔ 2010میں سب سے زیادہ122ڈرون حملے کئے گئے۔ ڈرون حملوں سے بے گناہ قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا اور دوسری جانب امریکا حقانی نیٹ ورک سمیت مختلف مطلوب شخصیات کو ڈرون حملے میں کامیابی کے دعوے کرتا ، کیونکہ وزیر ستان کے حوالے سے عام تاثر بن چکا تھا کہ القاعدہ سمیت شدت پسندوں کے کئی دھڑے موجود ہیں۔ شمالی وزیر ستان میں امریکی ڈرون حملوں میں تیزی آتی چلی گئی جس کے خلاف قبائلی عوام نے 2011میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ۔

ڈرون حملوں سے نشانہ بننے والوں میں بڑی تعداد بے گناہ افراد و خواتین و بچوں کی تھی ۔ ڈروں حملوں کی وجہ سے کالعدم تنظیموں کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوجاتے اور دہشت گردی کی کاروائی میں اضافہ ہوجاتا ۔حکومت جب کسی ایک گروپ سے مذاکرات کرتی تو دوسرا گروپ ماننے سے انکار کردیتا ۔فروری 2009میں اُس وقت کی سرحد حکومت اور تحریک نفاذ شریعت و کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا۔ لیکن وہ پائیدار نہ رہ سکا اور پاکستان مسلسل دہشت گردی کا شکار رہنے لگا ۔اپریل2009میں سوات میں فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ۔ لاکھوں افراد اپنوں گھروں سے بے گھر ہوئے تاہم سیکورٹی فورسز نے ریکارڈ وقت میں وادی سوات ملاکنڈ ڈویژن میں ریاست کی رٹ قائم کرکے آئی ڈی پیز کو بھی بحال کردیا ۔2009میں صوبہ پنجاب بھی عسکریت پسندوں کی آجامگاہ بنا ۔

کئی کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کا تعلق پنجاب سے رہا ہے۔ 2009میں عسکریت پسندوں نے مناواں لاہور پولیس اکیڈمی اور اسلام آباد میں ایف سی پر حملہ کیا جس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ان حملوں کی ذمے داری بیت اللہ محسود نے قبول کی ۔ جس کے سر کی قیمت امریکا 50لاکھ ڈالر مقرر کرچکا تھا ۔جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں کمانڈر بیت اللہ محسود کے گروپ کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کو ”آپریشن راہ نجات ”کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا باقاعدہ آغازپاک فوج کے جنرل ہیڈکواٹرز پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ہوا ۔ اگست 2009میں بیت اللہ محسود ، اس کی اہلیہ اور بھائی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے ۔

اکتوبر2009میںپاکستانی سیکورٹی فورسز نے زمینی کاروائی کا آغاز کیا تو جنوبی وزیرستان سے ہزاروں خاندانوںنے نقل مکانی کی۔ سیکورٹی فورسز نے جنوبی وزیر ستان میں شدت پسند کے خلاف کاروائی شروع کرکے کامیابی کے اہداف حاصل کئے۔عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جنگ سے قبائلی علاقوں کا انفرا اسٹرکچر بُری طرح تباہ ہوگیا ۔ ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اور اربوں ڈالرز کا مالی نقصان ہوا ۔ آئی ڈی پیز کو تکالیف کا سامنا ہوا اور اپنوں گھر سے بے گھر ہونے والوں شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ اُدھرشمالی بیت اللہ محسود کے بعد حکیم اللہ محسود نے شمالی وزیر ستان سے کالعدم تحریک نے نہتے اور عوامی مقامات سمیت سیکورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی لائی ۔ شمالی وزیر ستان عسکریت پسندوں کا خطرناک ترین گڑھ بن چکا تھا ۔

پاکستانی عوام کو مدارس ، مساجد ، جلوسوں ، بازاروں ، مزاروں اور عوامی مقامات میں خود کش حملوں میں نشانہ بنانے کا بھیانک سلسلہ بڑھتا جارہا تھا ۔اور قیمتی جانوں کا نقصان بے پناہ ہونے لگا ۔حکیم اللہ محسود نے پاکستان میں دہشت پھیلا دی تھی ۔ شمالی وزیر ستان کا علاقہ کالعدم تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا تھا ۔ شمالی وزیر ستان کے گنجلک و دشوار گذار علاقے میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن کا فیصلہ مشکل ترین تھا ۔ وہ بھی اُس صورتحال میں کہ پاکستان کو اپنے وسائل کے تحت ہی آپریشن کرنا تھا کوئی بیرونی امداد و کمک نہیں ملنا تھی۔2011میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن میں ہلاکت کے بعد پاکستان کے حالات مزید خراب ہوچکے تھے۔قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوچکا تھا ۔

2013میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ عسکریت پسند تنظیم کا سربراہ بن گیا۔ جو سوات میں آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ حق میں شکست کے بعد فرار ہوکر افغانستان روپوش ہوچکا تھا۔افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی واقعات میں شدت آتی چلی گئی۔ 2014میں حکومت اور کالعدم جماعت کے درمیان خفیہ مقام پر مذاکرات بھی ہوئے لیکن مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔مئی2014میںآپریشن ضرب عضب کے نام سے شمالی وزیر ستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف زمینی کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا ۔کراچی ائیر پورٹ حملہ، اے پی ایس پشاور سانحات کے بعد شمالی وزیر ستان میں آپریشن کا مطالبہ زور پکڑ چکا تھا ۔آپریشن ضرب عضب کا جامع آپریشن شروع کردیا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد جنوبی و شمالی وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں میں آپریشن راہ حق 1۔2۔3، آپریشن راجگال کے بعد متاثرین کی بحالی و انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کا سلسلہ شر وع ہوا۔ حکام کے مطابق 95فیصد آئی ڈی پیز اپنے گھروں میں واپس آچکے ہیں۔ آپریشن رد الفساد میں اُن شدت پسندوں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر پیمانے پر کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا اس کے ساتھ ہی بارڈر پر خار دار باڑ اور سرحدوں میں دہشت گردوں کی آزادنہ نقل و حرکت کو ختم کرنے کے لئے 2600کلو میٹر طویل باڑ لگانے کا آغاز کردیا گیا جو اس برس کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا۔پاک ۔ افغان سرحد پر 900کلومیٹر خاردار باڑ لگائی جاچکی ہے ۔ جبکہ حکام کے مطابق جنوبی وزیر ستان میںسرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے اور 109 کلومیٹر کے علاقے میں 22 قلعے بنائے گئے ہیں وہاں جدید مانیٹرنگ سسٹم لگایا جا رہا ہے۔80 تعلیمی ادارے بنائے گئے ہیں اور ہیلتھ کے لیے 59 یونٹس اور 300 سے زیادہ سولر پلانٹس لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے لیے 41 سپورٹس گراؤنڈز بھی بنائے گئے ہیں۔

شمالی وزیر ستان میں ترقیاتی کام کئے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیر ستان میں 70 فیصد سروے مکمل ہو چکا ہے اور 25 ہزار گھرانوں کو رقم کی فراہمی ہو چکی ہے جبکہ اندازہ ہے کہ 15 سے 20 ہزار گھر ابھی رہتے ہیں۔ مکین مارکیٹ میں 728 دکانوں پر مشتمل اس وسیع مارکیٹ کو جو پہلے رہائشی علاقہ تھا سات سال کی لیز پر دکانداروں کو دیا گیا ہے جس کا انتظام فوج کے پاس نہیں بلکہ اسے ایک مقامی کمیٹی چلاتی ہے اور سہولیات کی ذمہ داری انتظامیہ کی ہے۔فوج کی جانب سے وانا میں 350 ایکٹر رقبے پر قائم ایگری کلچر پارک بنانے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہاں 168 دکانیں اور 75 گوداموں کے علاوہ کولڈ سٹوریج اور یہاں پیدا ہونے والے چلغوزے کی صفائی کے لیے ایک بڑا پلانٹ لگایا گیا ہے۔وزیر ستان کے رہائشیوں کو امدادی رقوم سست اور نقصانات کے ازالے کے وعدے پورے نہ ہونے کی بھی شکایت ہے تاہم حکام کے مطابق انہیں جس طرح حکومت سے فنڈ ملتے رہیں گے جلد ازجلد ان کے نقصانات کا ازالہ کردیا جائے گا۔ ایگری کلچر پارک میں دکانوں و گودام کی الاٹمنٹ کے سلسلے میں سول انتظامیہ کے خلاف گذشتہ دنوں مظاہرہ بھی کیا گیا اور سول انتظامیہ کی جانب سے الاٹمنٹ میں بے ضابطگی کی شکایت و تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔

اس وقت سرحدوں پر بارودی سرنگوں کا مسئلہ موجود ہے تاہم حکام نے عوامی آگاہی کے لئے جگہ جگہ بورڈ لگائے ہوئے ہیں جس میں انہیں مائن کی موجودگی کے ایریے کا بتایا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ نے پہلی مرتبہ شمالی وزیرستان کا دورہ کیا ۔ یہ پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا پہلا دورہ تھا ۔اس سے قبل پاکستانی میڈیا نے بھی شمالی وزیر ستان نہیں دیکھا تھا ۔ مجموعی طور پر وزیر ستان میںعوام کا اعتماد بھی بحال کیا جارہا ہے ۔ برسوں برس دہشت گردوں کی موجودگی اور برے آپریشنز کے بعد علاقوں میں جلد بحالی میں وقت درکار ہوگا ۔ قبائلی علاقوں کا اب صوبہ خیبر پختونخوا سے انضمام تو کردیا گیا ہے تاہم ایف سی آر جیسے کالے قانون سے آزادی کے بعد بتدریج نئے اضلاع میں ریاست کی جانب سے سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آپریشن سے متاثرہ عوام جلد ازجلد ازالہ چاہتے ہیں ۔

ریاست کو اس بات پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے کہ قبائلی اضلاع کے عوام کے تحفظات و نقصانات کا جلد از جلد ازالہ کرنے کی کوشش کرے ۔ شمالی مغربی سرحدی علاقوں پر رہنے والے پاکستانیوں نے اپنی مملکت کے لئے بڑی قربانیاں دیں ہیں ، انہیں پاکستان کے دیگر اضلاع کی طرح ریاست کے دائرے میں وہ تمام قانونی حقوق جلد از جلد دیئے جائیں جو سب پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے۔وفاق ، صوبہ خیبر پختونخوا میںسابق فاٹا علاقوں کی حلقہ بندی میں عوام و سیاسی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرے ۔ صوبائی و قومی حلقے کے حدود میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات سامنے آئے ہیں ، لہذا الیکشن کمیشن پاکستان حلقہ بندیوں میں عوامی نمائندگی کے حقوق کا خیال رکھے ۔ خیبر پختونخوا ، سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اسی برس ملک بھر میں ہونے والے ممکنہ بلدیاتی انتخابات کے ساتھ ممکن بنائے ۔ نئے اضلاع کو این اف سی ایوارڈ کے علاوہ خصوصی فنڈز فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرے۔

ایف سی آر کے خاتمے کے بعد عدالتی نظام کی بحالی اور دیگر قانونی انتظامات کی فراہمی کے لئے سنجیدگی کے ساتھ مسائل کو حل کرنے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔ وزیر ستان سیاحتی حوالے سے بھی بڑا خوبصورت علاقہ ہے نیز چلغوزے کے علاوہ معدنی و قدرتی وسائل سے مالا مال علاقے پر خصوصی توجہ سے مقامی آبادی کے نقصانات کا ازالہ جلد ممکن ہوجائے گا ۔ انسانی بنیادی حقوق کی فراہمی لئے اٹھانے جانے والے اقدامات کی درست سمت سے عوام کا اعتماد ریاست پر بڑھے گا ۔ اور ریاست کے خلاف ملک دشمن عناصر کے منصوبے ناکامی کا شکار ہونگے ۔ وزیر ستان کی عوام کو یقیناََ یاد ہوگا کہ شمالی وزیرستان کے فوجی آپریشن سے ایک ہفتے قبل سینکڑوں شدت پسند اپنے بال اور داڑھیاں منڈوا کر فرار ہو گئے تھے۔انہیں اپنے تلخ تجربات کی بنا پر ایسے عناصر کو دوبارہ پیر جمانے کا موقع نہیں دینا چاہیے جس کی وجہ سے انہیں اور ان کے خاندان کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ 70فیصد بچوں کو تعلیم سے محروم ہونا پڑا۔لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔اب انہیں دوبارہ اپنی نظریاتی و ملکی سرحدوں کا دفاع کرکے مایوس ملک دشمن عناصر کے سازشی منصوبوں و منفی پروپیگنڈوں کو ناکام بنانا ہو گا۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
Afghan Taliban afghanistan Militancy pakistan Peace Qadir Khan Yousafzai waziristan افغان طالبان افغانستان امن پاکستان عسکریت پسندی وزیرستان
USA-China-Handelskrieg
Previous Post چین کے ساتھ مسابقت اب نظریات کا ٹکراؤ ہے، امریکی خفیہ ادارے
Next Post ظلم و بربریت کے سائے میں سلگتی وادی
Solidarity with Kashmiris

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close